Sunan Abu Dawood 4296

لڑائی اور جنگ وجدل کا بیان

4296Sunan Abu Dawood

پے درپے معرکوں کا بیان

حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي بِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: بَيْنَ الْمَلْحَمَةِ وَفَتْحِ الْمَدِينَةِ سِتُّ سِنِينَ وَيَخْرُجُ الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ فِي السَّابِعَةِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ عِيسَى.

عبداللہ بن بسر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بڑی جنگ اور فتح قسطنطنیہ کے درمیان چھ سال کی مدت ہوگی اور ساتویں سال میں مسیح دجال کا ظہور ہوگا ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ عیسیٰ کی روایت سے زیادہ صحیح ہے۔

Narrated Abdullah ibn Busr (RA) : The Prophet ﷺ said: The time between the great war and the conquest of the city (Constantinople) will be six years, and the Dajjal (Antichrist) will come forth in the seventh. Abu Dawud said: This is sounder than the tradition narrated by Isa (bin Yunus)

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث اوپر والی حدیث کی معارض ہے، اور دونوں ضعیف ہیں، دونوں میں تطبیق اس طرح سے دی جاتی ہے کہ بڑی جنگ کی ابتداء و انتہاء کے درمیان چھ سال کا وقفہ ہوگا، اور بڑی جنگ کا اختتام اور قسطنطنیہ کی فتح اور مسیح دجال کا ظہور یہ تینوں قریب قریب واقع ہوں گے، یعنی سات مہینے کے عرصہ میں واقع ہوجائیں گے، ایک دوسرا جواب وہ ہے جو ابوداود نے دیا ہے کہ دوسری حدیث سند کے اعتبار سے زیادہ صحیح ہے لہٰذا پہلی حدیث اس کے معارض نہیں ہوسکتی کیونکہ تعارض کے لئے یکساں وجوہ ضروری ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الفتن ٣٥ (٥١٩٤)، (تحفة الأشراف: ٥١٩٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ٤/١٨٩) (ضعیف) (سند میں بقیہ بن ولید ضعیف اور ابن ابی بلال لین الحدیث ہیں )