لڑائی اور جنگ وجدل کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 34 · 59 hadiths · Page 2 of 3

4312Sunan Abu Dawood

حبشہ کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا، فَإِذَا طَلَعَتْ وَرَآهَا النَّاسُ آمَنَ مَنْ عَلَيْهَا فَذَاكَ حِينَ لا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا سورة الأنعام آية 158 الْآيَةَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک سورج پچھم سے نہ نکل آئے، تو جب سورج نکلے گا اور لوگ اس کو دیکھ لیں گے تو جو بھی روئے زمین پر ہوگا ایمان لے آئے گا، لیکن یہی وہ وقت ہوگا جب کسی کو بھی جو اس سے پہلے ایمان نہ لے آیا ہو اور اپنے ایمان میں خیر نہ کما لیا ہو اس کا ایمان فائدہ نہ دے گا ۔

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: The last hour will not come before rising of the sun in its place of setting. When it rises (there) and the people see it, those who are on it (the earth) will believe. This is the time of which the Quranic verse says: “. . . no good will it do to a soul to believe in them then, if it believed not before nor earned righteousness through its faith.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر القرآن ٧ (٤٦٣٥)، الرقاق ٤٠ (٦٥٠٦)، الفتن ٢٥ (٧١٢١)، صحیح مسلم/الإیمان ٧٢ (١٥٧)، سنن ابن ماجہ/الفتن ٣١ (٤٠٦٨)، (تحفة الأشراف: ١٤٨٩٧)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/التفسیر ٧ (٣٠٧٢)، مسند احمد ( ٢/٢٣١، ٣١٣، ٣٥٠، ٣٧٢، ٥٣٠) (صحیح )
4313Sunan Abu Dawood

دریائے فرات کا خزانہ کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ السَّكُونِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُوشِكُ الْفُرَاتُ أَنْ يَحْسِرَ عَنْ كَنْزٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَمَنْ حَضَرَهُ فَلَا يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قریب ہے کہ فرات کے اندر سونے کا خزانہ نکلے تو جو کوئی وہاں موجود ہو اس میں سے کچھ نہ لے ۔

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: The Euphrates is soon to uncover a treasure of the gold, but those who are present must not take any of it.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الفتن ٢٤ (٧١١٩)، صحیح مسلم/الفتن ٨ (٢٨٩٤)، سنن الترمذی/صفة الجنة ٢٦ (٢٥٦٩)، (تحفة الأشراف: ١٢٢٦٣)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الفتن ٢٥ (٤٠٤٦)، مسند احمد ( ٢/٢٦١، ٣٣٢، ٣٦٠) (صحیح )
4314Sunan Abu Dawood

دریائے فرات کا خزانہ کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنِي عُقْبَةُ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ إِلَّا، أَنَّهُ قَالَ: يَحْسِرُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ.

ابوہریرہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے مگر اس میں ہے کہ سونے کا پہاڑ ظاہر ہوجائے گا ١ ؎۔

A similar tradition has also been transmitted by Abu Hurairah from the Prophet ﷺ through a different chain of narrators. But this version has: “Uncover a mountain of gold”.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی پانی خشک ہوجائے گا اور سونے کا پہاڑ نظر آنے لگے گا۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٣٧٩٥) (صحیح )
4315Sunan Abu Dawood

دجال کے نکلنے کا بیان

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، قَالَ: اجْتَمَعَ حُذَيْفَةُ، وَأَبُو مَسْعُودٍ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ: لَأَنَا بِمَا مَعَ الدَّجَّالِ أَعْلَمُ مِنْهُ إِنَّ مَعَهُ بَحْرًا مِنْ مَاءٍ وَنَهْرًا مِنْ نَارٍ فَالَّذِي تَرَوْنَ أَنَّهُ نَارٌ مَاءٌ وَالَّذِي تَرَوْنَ أَنَّهُ مَاءٌ نَارٌ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَأَرَادَ الْمَاءَ فَلْيَشْرَبْ مِنَ الَّذِي يَرَى أَنَّهُ نَارٌ فَإِنَّهُ سَيَجِدُهُ مَاءً، قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ الْبَدْرِيُّ: هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ.

ربعی بن حراش کہتے ہیں کہ حذیفہ ؓ اور ابن مسعود ؓ اکٹھا ہوئے تو حذیفہ نے کہا: دجال کے ساتھ جو چیز ہوگی میں اسے خوب جانتا ہوں، اس کے ساتھ ایک نہر پانی کی ہوگی اور ایک آگ کی، جس کو تم آگ سمجھتے ہو گے وہ پانی ہوگا، اور جس کو پانی سمجھتے ہو گے وہ آگ ہوگی، تو جو تم میں سے اسے پائے اور پانی پینا چاہے تو چاہیئے کہ وہ اس میں سے پئے جسے وہ آگ سمجھ رہا ہے کیونکہ وہ اسے پانی پائے گا۔ ابومسعود بدری ؓ کہتے ہیں: اسی طرح میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا۔

Hudhaifa and Abu Masud got together and Hudhaifah said: I know best what the Dajjal (Antichrist) will have with him. He will have with him a sea of water and a river of fire, and what you see as fire will be water and what you sea as water will be fire. If any of you who lives up to that time and desires water, he should drink from what he sees as fire, for he will find it water. Abu Masud al-Badri said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say in this way.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ٥٠ (٣٤٥٠) والفتن ٢٦ (٧١٣٠)، صحیح مسلم/الفتن ٢٠ (٢٩٣٤)، (تحفة الأشراف: ٣٣٠٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٩٥، ٣٩٩) (صحیح )
4316Sunan Abu Dawood

دجال کے نکلنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: مَا بُعِثَ نَبِيٌّ إِلَّا قَدْ أَنْذَرَ أُمَّتَهُ الدَّجَّالَ الْأَعْوَرَ الْكَذَّابَ أَلَا وَإِنَّهُ أَعْوَرُ وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ وَإِنَّ بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَكْتُوبًا كَافِرٌ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کوئی ایسا نبی نہیں بھیجا گیا جس نے اپنی امت کو کانے اور جھوٹے دجال سے ڈرایا نہ ہو، تو خوب سن لو کہ وہ کانا ہوگا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے، اور اس کی دونوں آنکھوں کے بیچ یعنی پیشانی پر کافر لکھا ہوگا ۔

Anas bin Malik (RA) reported the Prophet ﷺ as saying: No prophet was sent who had not warned his people about the one-eyed. Between his eyes will be written “infidel” (kafir).

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الفتن ٢٦ (٧١٣١) التوحید ١٧ (٧٤٠٨)، صحیح مسلم/الفتن ٢٠ (٢٩٣٣)، سنن الترمذی/الفتن ٦٢ (٢٢٤٥)، (تحفة الأشراف: ١٢٤١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٠٣، ١٧٣، ٢٧٦، ٢٩٠) (صحیح )
4317Sunan Abu Dawood

دجال کے نکلنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ كفر،

شعبہ سے ک ف ر مروی ہے۔

Shubah said in his version: “the letters k, f, r” (are on his forehead).

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٢٤١ )
4318Sunan Abu Dawood

دجال کے نکلنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُسْلِمٍ.

انس بن مالک ؓ نبی اکرم ﷺ سے یہی حدیث روایت کرتے ہیں اس میں ہے: اسے ہر مسلمان پڑھ لے گا ۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Anas bin Malik (RA) through a different chain of narrators, This version adds: Every Muslim will read it.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ الفتن ٢٠ (٢٩٣٣)، (تحفة الأشراف: ٩١٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢١١، ٢٤٩) (صحیح )
4319Sunan Abu Dawood

دجال کے نکلنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي الدَّهْمَاءِ، قَالَ: سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ يُحَدِّثُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَمِعَ بِالدَّجَّالِ فَلْيَنْأَ عَنْهُ فَوَاللَّهِ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَأْتِيهِ وَهُوَ يَحْسِبُ أَنَّهُ مُؤْمِنٌ، فَيَتَّبِعُهُ مِمَّا يَبْعَثُ بِهِ مِنَ الشُّبُهَاتِ، أَوْ لِمَا يَبْعَثُ بِهِ مِنَ الشُّبُهَاتِ، هَكَذَا قَالَ.

عمران بن حصین ؓ کو کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو دجال کے متعلق سنے کہ وہ ظاہر ہوچکا ہے تو وہ اس سے دور ہی رہے کیونکہ قسم ہے اللہ کی! آدمی اس کے پاس آئے گا تو یہی سمجھے گا کہ وہ مومن ہے، اور وہ اس کا ان مشتبہ چیزوں کی وجہ سے جن کے ساتھ وہ بھیجا گیا ہوگا تابع ہوجائے گا راوی کو شک ہے کہ مما یبعث بہ کہا ہے یا لما یبعث بہ۔

Narrated Imran ibn Husayn: The Prophet ﷺ said: Let him who hears of the Dajjal (Antichrist) go far from him for I swear by Allah that a man will come to him thinking he is a believer and follow him because of confused ideas roused in him by him.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٠٨٣٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ٤/٤٣١، ٤٤١) (صحیح )
4320Sunan Abu Dawood

دجال کے نکلنے کا بیان

حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنِي بَحِيرٌ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنِّي قَدْ حَدَّثْتُكُمْ عَنِ الدَّجَّالِ حَتَّى خَشِيتُ أَنْ لَا تَعْقِلُوا إِنَّ مَسِيحَ الدَّجَّالِ رَجُلٌ قَصِيرٌ أَفْحَجُ جَعْدٌ أَعْوَرُ مَطْمُوسُ الْعَيْنِ لَيْسَ بِنَاتِئَةٍ وَلَا حَجْرَاءَ فَإِنْ أُلْبِسَ عَلَيْكُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: عَمْرُو بْنُ الْأَسْوَدِ وَلِي الْقَضَاءَ.

عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں دجال کے متعلق تمہیں اتنی باتیں بتاچکا ہوں کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ تم اسے یاد نہ رکھ سکو گے (تو یاد رکھو) مسیح دجال پستہ قد ہوگا، چلنے میں اس کے دونوں پاؤں کے بیچ فاصلہ رہے گا، اس کے بال گھونگھریالے ہوں گے، کانا ہوگا، آنکھ مٹی ہوئی ہوگی، نہ ابھری ہوئی اور نہ اندر گھسی ہوئی، پھر اس پر بھی اگر تمہیں اشتباہ ہوجائے تو یاد رکھو تمہارا رب کانا نہیں ہے ۔

Narrated Ubadah ibn as-Samit: The Prophet ﷺ said: I have told you so much about the Dajjal (Antichrist) that I am afraid you may not understand. The Antichrist is short, hen-toed, woolly-haired, one-eyed, an eye-sightless, and neither protruding nor deep-seated. If you are confused about him, know that your Lord is not one-eyed. Abu Dawud said: Amr bin Al-Aswad was appointed a judge.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٥٠٧٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٢٤) (صحیح )
4321Sunan Abu Dawood

دجال کے نکلنے کا بیان

حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ الدِّمَشْقِيُّ الْمُؤَذِّنُ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ جَابِرٍ الطَّائِيُّ، عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ الْكِلَابِيِّ، قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدَّجَّالَ، فَقَالَ: إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيكُمْ فَأَنَا حَجِيجُهُ دُونَكُمْ، وَإِنْ يَخْرُجْ وَلَسْتُ فِيكُمْ فَامْرُؤٌ حَجِيجُ نَفْسِهِ، وَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ فَمَنْ أَدْرَكَهُ مِنْكُمْ فَلْيَقْرَأْ عَلَيْهِ فَوَاتِحَ سُورَةِ الْكَهْفِ فَإِنَّهَا جِوَارُكُمْ مِنْ فِتْنَتِهِ، قُلْنَا: وَمَا لَبْثُهُ فِي الْأَرْضِ ؟ قَالَ: أَرْبَعُونَ يَوْمًا: يَوْمٌ كَسَنَةٍ، وَيَوْمٌ كَشَهْرٍ، وَيَوْمٌ كَجُمُعَةٍ، وَسَائِرُ أَيَّامِهِ كَأَيَّامِكُمْ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي كَسَنَةٍ أَتَكْفِينَا فِيهِ صَلَاةُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، قَالَ: لَا اقْدُرُوا لَهُ قَدْرَهُ ثُمَّ يَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ شَرْقِيَّ دِمَشْقَ فَيُدْرِكُهُ عِنْدَ بَابِ لُدٍّ فَيَقْتُلُهُ.

نواس بن سمعان کلابی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دجال کا ذکر کیا تو فرمایا: اگر وہ ظاہر ہوا اور میں تم میں موجود رہا تو تمہارے بجائے میں اس سے جھگڑوں گا، اور اگر وہ ظاہر ہوا اور میں تم میں نہیں رہا تو آدمی خود اس سے نپٹے گا، اور اللہ ہی ہر مسلمان کے لیے میرا خلیفہ ہے، پس تم میں سے جو اس کو پائے تو اس پر سورة الکہف کی ابتدائی آیتیں پڑھے کیونکہ یہ تمہیں اس کے فتنے سے بچائیں گی ۔ ہم نے عرض کیا: وہ کتنے دنوں تک زمین پر رہے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: چالیس دن تک، اس کا ایک دن ایک سال کے برابر ہوگا، اور ایک دن ایک مہینہ کے، اور ایک دن ایک ہفتہ کے، اور باقی دن تمہارے اور دنوں کی طرح ہوں گے ۔ تو ہم نے پوچھا: اللہ کے رسول! جو دن ایک سال کے برابر ہوگا، کیا اس میں ایک دن اور رات کی نماز ہمارے لیے کافی ہوں گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، تم اس دن اندازہ کرلینا، اور اسی حساب سے نماز پڑھنا، پھر عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) دمشق کے مشرق میں سفید منارہ کے پاس اتریں گے، اور اسے (یعنی دجال کو) باب لد ١ ؎ کے پاس پائیں گے اور وہیں اسے قتل کردیں گے ۔

Al-nawwas bin Siman al-Kilabi said: The Messenger of Allah ﷺ mentioned the Dajjal (Antichrist) saying: If he comes forth while I am among you I shall be the one who will dispute with him on your behalf, but if he comes forth when I am not among you, a man must dispute on his own behalf, and Allah will take my place in looking after every Muslim. Those of you who live up to his time should recite over him the opening verses of Surat al – Kahf, for they are your protection from his trial. We asked: How long will he remain on the earth ? He replied: Forty days, one like a year, one like a month, one like a week, and rest of his days like yours. We asked: Messenger of Allah, will one day’s prayer suffice us in this day which will be like a year ? He replied: No, you must make an estimate of its extent. Then Jesus son of Marry will descend at the white minaret to the east of Damascus. He will then catch him up at the date of Ludd and kill him.

Notes · وضاحت
١ ؎: بیت المقدس کے پاس ایک شہر کا نام ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الفتن ٢٠ (٢٩٣٧)، سنن الترمذی/الفتن ٥٩ (٢٢٤٠)، سنن ابن ماجہ/ الفتن (٤٠٧٥)، (تحفة الأشراف: ١١٧١١)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ٤/١٨١، ١٨٢) (صحیح )
4322Sunan Abu Dawood

دجال کے نکلنے کا بیان

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ، عَنِ السَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَذَكَرَ الصَّلَوَاتِ مِثْلَ مَعْنَاهُ.

ابوامامہ ؓ نے بھی اسی طرح کی حدیث نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے اور نمازوں کا ذکر سابقہ حدیث کی طرح کیا ہے۔

A similar tradition has been transmitted by Abu Umamah from the prophet ﷺ through a different chain of narrators. In this version he mentioned the prayers to the same effect.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الفتن ٣٣ (٤٠٧٧)، (تحفة الأشراف: ٤٨٩٦) (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
4323Sunan Abu Dawood

دجال کے نکلنے کا بیان

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ حَدِيثِأَبِي الدَّرْدَاءِ يَرْوِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ حَفِظَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ الْكَهْفِ عُصِمَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَا قَالَ هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ مَنْ حَفِظَ مِنْ خَوَاتِيمِ سُورَةِ الْكَهْفِ، وَقَالَ شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ مِنْ آخِرِ الْكَهْفِ.

ابوالدرداء ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے سورة الکہف کی ابتدائی دس آیتیں یاد کرلیں وہ دجال کے فتنہ سے محفوظ رہے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح ہشام دستوائی نے قتادہ سے روایت کیا ہے مگر اس میں ہے: جس نے سورة الکہف کی آخری آیتیں یاد کیں ، شعبہ نے بھی قتادہ سے کہف کے آخر سے کے الفاظ روایت کئے ہیں۔

Abu al-Darda reported the prophet ﷺ as saying: If anyone memorizes ten verses from the beginning of surat al-Kahf, he will be protected from the trial of Dajjal (Antichrist). Abu Dawud said: In this way Hashim al-dastawa’I transmitted it from Qatadah, but he said: “If anyone memorizes the closing verses of surat al-Kahf. ” Shubah narrated from Qatadah the words “from the end of al-Kahf.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٤٤ (٨٠٩)، سنن الترمذی/فضائل القرآن ٦ (٢٨٨٦)، (تحفة الأشراف: ١٠٩٦٣) (صحیح )
4324Sunan Abu Dawood

دجال کے نکلنے کا بیان

حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ آدَمَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ يَعْنِي عِيسَى، وَإِنَّهُ نَازِلٌ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَاعْرِفُوهُ رَجُلٌ مَرْبُوعٌ إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ بَيْنَ مُمَصَّرَتَيْنِ كَأَنَّ رَأْسَهُ يَقْطُرُ، وَإِنْ لَمْ يُصِبْهُ بَلَلٌ، فَيُقَاتِلُ النَّاسَ عَلَى الْإِسْلَامِ فَيَدُقُّ الصَّلِيبَ وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ وَيُهْلِكُ اللَّهُ فِي زَمَانِهِ الْمِلَلَ كُلَّهَا إِلَّا الْإِسْلَامَ وَيُهْلِكُ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ، فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ سَنَةً ثُمَّ يُتَوَفَّى فَيُصَلِّي عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میرے اور ان یعنی عیسیٰ کے درمیان کوئی نبی نہیں، یقیناً وہ اتریں گے، جب تم انہیں دیکھنا تو پہچان لینا، وہ ایک درمیانی قد و قامت کے شخص ہوں گے، ان کا رنگ سرخ و سفید ہوگا، ہلکے زرد رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوں گے، ایسا لگے گا کہ ان کے سر سے پانی ٹپک رہا ہے گو وہ تر نہ ہوں گے، تو وہ لوگوں سے اسلام کے لیے جہاد کریں گے، صلیب توڑیں گے، سور کو قتل کریں گے اور جزیہ معاف کردیں گے، اللہ تعالیٰ ان کے زمانہ میں سوائے اسلام کے سارے مذاہب کو ختم کر دے گا، وہ مسیح دجال کو ہلاک کریں گے، پھر اس کے بعد دنیا میں چالیس سال تک زندہ رہیں گے، پھر ان کی وفات ہوگی تو مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: There is no prophet between me and him, that is, Jesus ﷺ . He will descent (to the earth). When you see him, recognise him: a man of medium height, reddish fair, wearing two light yellow garments, looking as if drops were falling down from his head though it will not be wet. He will fight the people for the cause of Islam. He will break the cross, kill swine, and abolish jizyah. Allah will perish all religions except Islam. He will destroy the Antichrist and will live on the earth for forty years and then he will die. The Muslims will pray over him.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٣٥٨٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٠٦، ٤٣٧) (صحیح )
4325Sunan Abu Dawood

جساسہ کے بیان میں

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ: إِنَّهُ حَبَسَنِي، حَدِيثٌ كَانَ يُحَدِّثُنِيهِ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ، عَنْ رَجُلٍ كَانَ فِي جَزِيرَةٍ مِنْ جَزَائِرِ الْبَحْرِ فَإِذَا أَنَا بِامْرَأَةٍ تَجُرُّ شَعْرَهَا، قَالَ: مَا أَنْتِ ؟ قَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ اذْهَبْ إِلَى ذَلِكَ الْقَصْرِ، فَأَتَيْتُهُ فَإِذَا رَجُلٌ يَجُرُّ شَعْرَهُ مُسَلْسَلٌ فِي الْأَغْلَالِ يَنْزُو فِيمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، فَقُلْتُ: مَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ: أَنَا الدَّجَّالُ خَرَجَ نَبِيُّ الْأُمِّيِّينَ بَعْدُ، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: أَطَاعُوهُ أَمْ عَصَوْهُ ؟ قُلْتُ: بَلْ أَطَاعُوهُ، قَالَ: ذَاكَ خَيْرٌ لَهُمْ.

فاطمہ بنت قیس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک رات عشاء پڑھنے میں دیر کی، پھر نکلے تو فرمایا: مجھے ایک بات نے روک لیا، جسے تمیم داری ایک آدمی کے متعلق بیان کر رہے تھے، تو میں سمندر کے جزیروں میں سے ایک جزیرے میں تھا، تمیم کہتے ہیں کہ ناگاہ میں نے ایک عورت کو دیکھا جو اپنے بال کھینچ رہی ہے، تو میں نے پوچھا: تم کون ہو؟ وہ بولی: میں جساسہ ١ ؎ ہوں، تم اس محل کی طرف جاؤ، تو میں اس محل میں آیا، تو کیا دیکھتا ہوں کہ اس میں ایک شخص ہے جو اپنے بال کھینچ رہا ہے، وہ بیڑیوں میں جکڑا ہوا ہے، اور آسمان و زمین کے درمیان میں اچھلتا ہے، میں نے اس سے پوچھا: تم کون ہو؟ تو اس نے کہا: میں دجال ہوں، کیا امیوں کے نبی کا ظہور ہوگیا؟ میں نے کہا: ہاں (وہ ظاہر ہوچکے ہیں) اس نے پوچھا: لوگوں نے ان کی اطاعت کی ہے یا نافرمانی؟ میں نے کہا: نہیں، بلکہ لوگوں نے ان کی اطاعت کی ہے، تو اس نے کہا: یہ بہتر ہے ان کے لیے ۔

Narrated Fatimah, daughter of Qays: The Messenger of Allah ﷺ once delayed the congregational night prayer. He came out and said: The talk of Tamim ad-Dari detained me. He transmitted it to me from a man who was on of of the islands of the sea. All of a sudden he found a woman who was trailing her hair. He asked: Who are you? She said: I am the Jassasah. Go to that castle. So I came to it and found a man who was trailing his hair, chained in iron collars, and leaping between Heaven and Earth. I asked: Who are you? He replied: I am the Dajjal (Antichrist). Has the Prophet of the unlettered people come forth now? I replied: Yes. He said: Have they obeyed him or disobeyed him? I said: No, they have obeyed him. He said: That is better for them.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جساسہ ایک عورت ہے اور اس کے بعد والی روایت میں ہے کہ وہ ایک دابہ ہے بظاہر دونوں روایتیں متعارض ہیں اس تعارض کو حسب ذیل طریقے سے دفع کیا جاتا ہے: ١۔ ہوسکتا ہے کہ دجال کے پاس دو جساسہ ہوں ایک دابہ ہو اور دوسری عورت ہو، ٢۔ یا وہ شیطانہ ہو جو کبھی دابہ کی شکل میں ظاہر ہوتی رہی ہو اور کبھی عورت کی شکل میں کیونکہ شیطان جو شکل چاہے اپنا سکتا ہے، ٣۔ یا اسے مجازاً دابہ کہا گیا ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے قول وما من دابّ ۃ فی الارض إلا علی اللہ رزقھا میں ہے، اگلی روایت کے الفاظ فرقنا منھا ان تکون شیطان ۃ سے اس کی تائید ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٨٠٣٩) (صحیح )
4326Sunan Abu Dawood

جساسہ کے بیان میں

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ حُسَيْنًا الْمُعَلِّمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ شَرَاحِيلَ الشَّعْبِيُّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، قَالَتْ: سَمِعْتُ مُنَادِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَادِي: أَنِ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ، فَخَرَجْتُ فَصَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَضْحَكُ قَالَ: لِيَلْزَمْ كُلُّ إِنْسَانٍ مُصَلَّاهُ، ثُمَّ قَالَ: هَلْ تَدْرُونَ لِمَ جَمَعْتُكُمْ ؟ قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: إِنِّي مَا جَمَعْتُكُمْ لِرَهْبَةٍ وَلَا رَغْبَةٍ وَلَكِنْ جَمَعْتُكُمْ أَنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ كَانَ رَجُلًا نَصْرَانِيًّا فَجَاءَ فَبَايَعَ وَأَسْلَمَ، وَحَدَّثَنِي حَدِيثًا وَافَقَ الَّذِي حَدَّثْتُكُمْ، عَنِ الدَّجَّالِ حَدَّثَنِي، أَنَّهُ رَكِبَ فِي سَفِينَةٍ بَحْرِيَّةٍ مَعَ ثَلَاثِينَ رَجُلًا مِنْ لَخْمٍ وَجُذَامٍ فَلَعِبَ بِهِمُ الْمَوْجُ شَهْرًا فِي الْبَحْرِ وَأَرْفَئُوا إِلَى جَزِيرَةٍ حِينَ مَغْرِبِ الشَّمْسِ، فَجَلَسُوا فِي أَقْرُبْ السَّفِينَةِ، فَدَخَلُوا الْجَزِيرَةَ، فَلَقِيَتْهُمْ دَابَّةٌ أَهْلَبُ كَثِيرَةُ الشَّعْرِ، قَالُوا: وَيْلَكِ مَا أَنْتِ ؟ قَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ انْطَلِقُوا إِلَى هَذَا الرَّجُلِ فِي هَذَا الدَّيْرَ فَإِنَّهُ إِلَى خَبَرِكُمْ بِالْأَشْوَاقِ، قَالَ: لَمَّا سَمَّتْ لَنَا رَجُلًا فَرِقْنَا مِنْهَا أَنْ تَكُونَ شَيْطَانَةً، فَانْطَلَقْنَا سِرَاعًا حَتَّى دَخَلْنَا الدَّيْرَ فَإِذَا فِيهِ أَعْظَمُ إِنْسَانٍ رَأَيْنَاهُ قَطُّ خَلْقًا وَأَشَدُّهُ وَثَاقًا مَجْمُوعَةٌ يَدَاهُ إِلَى عُنُقِهِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَسَأَلَهُمْ عَنْ نَخْلِ بَيْسَانَ وَعَنْ عَيْنِ زُغَرَ وَعَنِ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ، قَالَ: إِنِّي أَنَا الْمَسِيحُ وَإِنَّهُ يُوشَكُ أَنْ يُؤْذَنَ لِي فِي الْخُرُوجِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَإِنَّهُ فِي بَحْرِ الشَّامِ أَوْ بَحْرِ الْيَمَنِ لَا بَلْ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مَا هُوَ مَرَّتَيْنِ وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ قِبَلَ الْمَشْرِقِ، قَالَتْ: حَفِظْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ.

فاطمہ بنت قیس ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے منادی کو پکارتے سنا: لوگو! نماز کے لیے جمع ہوجاؤ ، تو میں نکلی اور جا کر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز ادا کی، پھر جب آپ نے نماز ختم فرمائی تو ہنستے ہوئے منبر پر جا بیٹھے، اور فرمایا: ہر شخص اپنی جگہ پر بیٹھا رہے پھر فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے میں نے تمہیں کیوں اکٹھا کیا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: میں نے تمہیں جہنم سے ڈرانے اور جنت کا شوق دلانے کے لیے نہیں اکٹھا کیا ہے، بلکہ میں نے تمہیں یہ بتلانے کے لیے اکٹھا کیا ہے کہ تمیم داری نے جو نصرانی شخص تھے آ کر مجھ سے بیعت کی ہے، اور اسلام لے آئے ہیں، انہوں نے مجھ سے ایک واقعہ بیان کیا ہے جو اس بات کے مطابق ہے جو میں نے تمہیں دجال کے متعلق بتائی ہے، انہوں نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ وہ ایک سمندری کشتی پر سوار ہوئے، ان کے ہمراہ قبیلہ لخم اور جذام کے تیس آدمی بھی تھے، تو پورے ایک مہینہ بھر سمندر کی لہریں ان کے ساتھ کھیلتی رہیں پھر سورج ڈوبتے وقت وہ ایک جزیرہ کے پاس جا لگے، وہاں سے چھوٹی چھوٹی کشتیوں میں بیٹھ کر جزیرہ میں داخل ہوئے، وہاں انہیں ایک لمبی دم اور زیادہ بالوں والا ایک دابہ (جانور) ملا، لوگوں نے اس سے کہا: کم بخت تو کیا چیز ہے؟ اس نے جواب دیا: میں جساسہ ہوں، تم اس شخص کے پاس جاؤ جو اس گھر میں ہے، وہ تمہاری خبروں کا بہت مشتاق ہے، جب ہم سے اس نے اس شخص کا نام لیا تو ہم اس جانور سے ڈرے کہ کہیں یہ شیطان نہ ہو، پھر وہاں سے جلدی سے بھاگے اور اس گھر میں جا پہنچے، تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک عظیم الجثہ اور انتہائی طاقتور انسان ہے کہ اس جیسا انسان ہم نے کبھی نہیں دیکھا، جو بیڑیوں میں جکڑا ہوا ہے اور اس کے دونوں ہاتھ گردن سے بندھے ہوئے ہیں، پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی ١ ؎ اور ان سے بیسان ٢ ؎ کے کھجوروں، اور زعر ٣ ؎ کے چشموں کا حال پوچھا، اور نبی امی کے متعلق دریافت کیا، پھر اس نے اپنے متعلق بتایا کہ میں مسیح دجال ہوں، اور قریب ہے کہ مجھے نکلنے کی اجازت دے دی جائے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: وہ شام کے سمندر میں ہے، یا یمن کے سمندر میں، (پھر آپ نے کہا:) نہیں، بلکہ مشرق کی سمت میں ہے اور آپ نے اپنے ہاتھ سے دو بار مشرق کی جانب اشارہ کیا۔ فاطمہ کہتی ہیں: یہ حدیث میں نے رسول اللہ ﷺ سے سن کر یاد کی ہے، اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔

Fatimah, daughter of Qais, said: I heard the crier of the Messenger of Allah ﷺ calling: Assemble for the prayer. I Then came out and prayed along with the Messenger of Allah ﷺ : When the Messenger of Allah ﷺ finished his prayer, he sat on the pulpit laughing, and he said: Everyone should remain where he had said his prayer. He then asked: Do you know why I have assembled you because Tamim al-Dari, a Christian, who came and accepted Islam, told me something which agrees with what I was telling you about Lakhm and judhism and that they were storm-tossed for a month. They drew near to an island when the sun was setting. They sat in a boat nearest to them and entered the island where they were met by a very hairy beast. They said: Woe to you! What can you be ? It repled: I am the Jassasah. Go to this man in the monastery, for he is anxious to get news of you. He said: When it named a man to us we were afraid of it least it should be a she-devil. So we went off quickly and entered the monastery, where we found a man with the hugest and strongest frame we had ever seen with his hand joined to his neck. He then narrated the rest of the tradition. He asked them about the palm-trees of Baisan and the spring of Zughar and about the unlettered prophet. He said: I am the messiah (the Antichrist) and will be soon Syrian sea or the Yemen sea: no, on the contrary, it is towards the east that he is. He said it teice and ponted his hand to the east. She said: I memorized this (tradition) from the Messenger of Allah ﷺ , And she narrated the tradition.

Notes · وضاحت
١ ؎: جس میں ہے کہ اس نے ان سے رسول اللہ ﷺ اور عربوں کا حال پوچھا جیسا کہ مسلم کی روایت میں ہے۔ ٢ ؎: بیسان: شام میں ایک جگہ کا نام ہے۔ ٣ ؎: زعر: یہ بھی شام میں ایک جگہ کا نام ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الفتن ٢٤ (٢٩٤٢)، سنن الترمذی/الفتن ٦٦ (٢٢٥٣)، ق /الفتن ٣٣ (٤٠٧٤) (تحفة الأشراف: ١٨٠٢٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ٦/٣٧٤، ٤١١، ٤١٢، ٤١٣، ٤١٥، ٤١٦، ٤١٨) (صحیح )
4327Sunan Abu Dawood

جساسہ کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صُدْرَانَ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ وَكَانَ لَا يَصْعَدُ عَلَيْهِ إِلَّا يَوْمَ جُمُعَةٍ قَبْلَ يَوْمَئِذٍ ثُمَّ ذَكَرَ هَذِهِ الْقِصَّةَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَابْنُ صُدْرَانَ بَصْرِيٌّ غَرِقَ فِي الْبَحْرِ مَعَ ابْنِ مِسْوَرٍ لَمْ يَسْلَمْ مِنْهُمْ غَيْرُهُ.

فاطمہ بنت قیس ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ظہر پڑھی، پھر آپ منبر پر چڑھے، اس سے پہلے آپ صرف جمعہ ہی کو منبر پر چڑھتے تھے، پھر راوی نے اسی قصہ کا ذکر کیا ہے۔

Fatimah, daughter of Qais, said: The prophet ﷺ offered the noon prayer and ascended the pulpit. Before this day he did not ascend it except on Friday. He then narrated this story. Abu Dawud said: Ibn Sudran belongs to Basrah. He was drowned in the sea along with Ibn Miswar, and no one could escape except him.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٨٠٢٤) (ضعیف) (اس سند میں مجالد ضعیف ہیں )
4328Sunan Abu Dawood

جساسہ کے بیان میں

حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُمَيْعٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى الْمِنْبَرِ: إِنَّهُ بَيْنَمَا أُنَاسٌ يَسِيرُونَ فِي الْبَحْرِ فَنَفِدَ طَعَامُهُمْ، فَرُفِعَتْ لَهُمْ جَزِيرَةٌ، فَخَرَجُوا يُرِيدُونَ الْخُبْزَ فَلَقِيَتْهُمُ الْجَسَّاسَةُ، قُلْتُ لِأَبِي سَلَمَةَ: وَمَا الْجَسَّاسَةُ ؟ قَالَ: امْرَأَةٌ تَجُرُّ شَعْرَ جِلْدِهَا وَرَأْسِهَا قَالَتْ: فِي هَذَا الْقَصْرِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَسَأَلَ عَنْ نَخْلِ بَيْسَانَ، وَعَنْ عَيْنِ زُغَرَ، قَالَ: هُوَ الْمَسِيحُ، فَقَالَ لِي ابْنُ أَبِي سَلَمَةَ: إِنَّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ شَيْئًا مَا حَفِظْتُهُ، قَالَ: شَهِدَ جَابِرٌ أَنَّهُ هُوَ ابْنُ صَيَّادٍ قُلْتُ: فَإِنَّهُ قَدْ مَاتَ قَالَ: وَإِنْ مَاتَ قُلْتُ: فَإِنَّهُ أَسْلَمَ، قَالَ: وَإِنْ أَسْلَمَ، قُلْتُ: فَإِنَّهُ قَدْ دَخَلَ الْمَدِينَةَ، قَالَ: وَإِنْ دَخَلَ الْمَدِينَةَ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن منبر پر فرمایا: کچھ لوگ سمندر میں سفر کر رہے تھے کہ اسی دوران ان کا کھانا ختم ہوگیا تو ان کو ایک جزیرہ نظر آیا اور وہ روٹی کی تلاش میں نکلے، ان کی ملاقات جساسہ سے ہوئی ولید بن عبداللہ کہتے ہیں: میں نے ابوسلمہ سے پوچھا: جساسہ کیا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ ایک عورت تھی جو اپنی کھال اور سر کے بال کھینچ رہی تھی، اس جساسہ نے کہا: اس محل میں (چلو) پھر انہوں نے پوری حدیث ذکر کی اس میں ہے اور دجال نے بیسان کے کھجور کے درختوں، اور زغر کے چشموں کے متعلق دریافت کیا، اس میں ہے یہی مسیح ہے ۔ ولید بن عبداللہ کہتے ہیں: اس پر ابن ابی سلمہ نے مجھ سے کہا: اس حدیث میں کچھ ایسی چیزیں بھی ہیں جو مجھے یاد نہیں ہیں۔ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں: جابر نے پورے وثوق سے کہا: یہی ابن صیاد ١ ؎ ہے، تو میں نے کہا: وہ تو مرچکا ہے، اس پر انہوں نے کہا: مرجانے دو، میں نے کہا: وہ تو مسلمان ہوگیا تھا، کہا: ہوجانے دو، میں نے کہا: وہ مدینہ میں آیا تھا، کہا: آنے دو، اس سے کیا ہوتا ہے۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said one day from the pulpit: When some people were sailing in the sea, their food was finished. An island appeared to them. They went out seeking bread. They were met by the Jassasah (the Antichrists spy). I said to Abu Salamah (RA) : What is the Jassasah? He replied: A woman trailing the hair of her skin and of her head. She said: In this castle. He then narrated the rest of the (No. 4311) tradition. He asked about the palm-trees of Baysan and the spring of Zughar. He said: He is the Antichrist. Ibn Salamah said to me: There is something more in this tradition, which I could not remember. He said: Jabir testified that it was he who was Ibn Sayyad. I said: He died. He said: Let him die. I said: He accepted Islam. He said: Let him accept Islam. I said: He entered Madina. He said: Let him enter Madina.

Notes · وضاحت
١ ؎: حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ صحابہ کرام میں سے بعض حضرات یہ سمجھتے تھے کہ ابن صیاد ہی وہ مسیح دجال ہے جس کے قیامت کے قریب ظہور کا وعدہ کیا گیا ہے، لیکن فاطمہ بنت قیس ؓ کی روایت کی بنا پر اس بات میں کوئی قطعیت نہیں، وہ تو بس ایک چھوٹا دجال ہے، نیز امام بیہقی کہتے ہیں: فاطمہ ؓ کی روایت سے پتہ چلتا ہے کہ دجال اکبر ابن صیاد نہیں بلکہ کوئی اور ہے، ابن صیاد تو ان جھوٹے دجالوں میں سے ایک ہے جن کے ظہور کی رسول اللہ ﷺ نے خبر دی تھی، اور جن میں سے اکثر کا ظہور ہوچکا ہے، جن لوگوں نے ابن صیاد کو وثوق کے ساتھ مسیح دجال قرار دیا ہے انہوں نے تمیم داری ؓ والا واقعہ نہیں سنا ہے، کیونکہ دونوں باتیں ایک پر فٹ نہیں ہوسکتیں، یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جو شخص نبی اکرم ﷺ کے عہد نبوت میں ایک قریب البلوغ لڑکا ہو، آپ سے مل چکا ہو اور آپ سے سوال و جواب کرچکا ہو، وہ آپ کے آخری عمر میں بوڑھا ہوگیا، اور سمندر کے ایک جزیرہ میں بیڑیوں میں جکڑا ہوا پڑا ہو، اور نبی اکرم ﷺ کے متعلق پوچھ رہا ہو کہ آپ کا ظہور ہوا کہ نہیں؟۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣١٦١) (ضعیف الإسناد )
4329Sunan Abu Dawood

ابن صیاد کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ خُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَر، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَرَّ بِابْنِ صَائِدٍ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ وَهُوَ غُلَامٌ فَلَمْ يَشْعُرْ حَتَّى ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَهْرَهُ بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ: أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ قَالَ: فَنَظَرَ إِلَيْهِ ابْنُ صَيَّادٍ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ الْأُمِّيِّينَ، ثُمَّ قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ، ثُمَّ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا يَأْتِيكَ ؟ قَالَ: يَأْتِينِي صَادِقٌ وَكَاذِبٌ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خُلِطَ عَلَيْكَ الْأَمْرُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي قَدْ خَبَّأْتُ لَكَ خَبِيئَةً وَخَبَّأَ لَهُ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ سورة الدخان آية 10، قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ: هُوَ الدُّخُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ يَكُنْ فَلَنْ تُسَلَّطَ عَلَيْهِ يَعْنِي الدَّجَّالَ وَإِلَّا يَكُنْ هُوَ فَلَا خَيْرَ فِي قَتْلِهِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اپنے صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ جس میں عمر بن خطاب ؓ بھی شامل تھے ابن صیاد کے پاس سے گزرے، وہ بنی مغالہ کے ٹیلوں کے پاس بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، وہ ایک کمسن لڑکا تھا تو اسے رسول اللہ ﷺ کی آمد کا احساس اس وقت تک نہ ہوسکا جب تک آپ نے اپنے ہاتھ سے اس کی پشت پر مار نہ دیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ تو ابن صیاد نے آپ کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا، اور بولا: ہاں، میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ امیوں کے رسول ہیں، پھر ابن صیاد نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا: کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ تو آپ نے اس سے فرمایا: میں اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا پھر آپ ﷺ نے اس سے کہا: تیرے پاس کیا چیز آتی ہے؟ وہ بولا: سچی اور جھوٹی باتیں آتی ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تو معاملہ تیرے اوپر مشتبہ ہوگیا ہے پھر آپ ﷺ نے فرمایا: میں نے تیرے لیے ایک بات چھپائی ہے اور آپ نے اپنے دل میں يوم تأتي السماء بدخان مبين (سورۃ الدخان: ١٠) والی آیت چھپالی، تو ابن صیاد نے کہا: وہ چھپی ہوئی چیز دُخ ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ہٹ جا، تو اپنی حد سے آگے نہیں بڑھ سکے گا ، اس پر عمر ؓ بولے: اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجئیے، میں اس کی گردن مار دوں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر یہ (دجال) ہے تو تم اس پر قادر نہ ہو سکو گے، اور اگر وہ نہیں ہے تو پھر اس کے قتل میں کوئی بھلائی نہیں ۔

Ibn Umar said: The prophet ﷺ passed by Ibn Saeed along with some of his companions. Umar bin al-Kattab was among them. He was playing with boys near the fortress of Banu Maghalah. He was near the age of puberty (i. e. a boy). Before he was aware, the Messenger of Allah ﷺ gave him a pat on the back and said: Do you testify that you are the Messenger of Allah Ibn Sayyad then looked at him and said: I testify that you are the Messenger of Gentiles. Ibn Sayyad then said the prophet ﷺ then asked him: What comes to you ? He replied: One who speaks the truth and one who lies come to me. The prophet (may peace upon him) said: You are confused. The Messenger of Allah (may peace upon him) said to him: I have concealed something (in my hand) and he concealed the verse “the day when the sky will bring forth smoke (dukhan) clearly visible Ibn Sayyad said: It is smoke (dukhan). The Messenger of Allah ﷺ said: Away with you, You cannot get farther than your rank. Umar said: “Messenger of Allah, permit me to cut off his head. The Messenger of Allah ﷺ said: If he is the one (the Dajjal), you will not be given power over him, and if he is not, you will not do well in killing him.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٧٩ (١٣٥٤)، الجہاد ١٧٨ (٣٠٥٥)، الأدب ٩٧ (٦٦١٨)، صحیح مسلم/الفتن ١٩ (٢٩٣٠)، سنن الترمذی/الفتن ٦٣ (٢٢٤٩)، (تحفة الأشراف: ٦٩٣٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ٢/١٤٨، ١٤٩) وأعادہ المؤلف فی السنة (٤٧٥٧) (صحیح )
4330Sunan Abu Dawood

ابن صیاد کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَيَقُولُ: وَاللَّهِ مَا أَشُكُّ أَنَّ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ ابْنُ صَيَّادٍ.

نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر ؓ کہتے تھے: قسم اللہ کی مجھے اس میں شک نہیں کہ مسیح دجال ابن صیاد ہے۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : Nafi told that Ibn Umar used to say: I swear by Allah that I do not doubt that Antichrist is Ibn Sayyad.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف:) (صحیح الإسناد )
4331Sunan Abu Dawood

ابن صیاد کا بیان

حَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: رَأَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَحْلِفُ بِاللَّهِ أَنَّ ابْنَ صَائِدٍ الدَّجَّالُ، فَقُلْتُ: تَحْلِفُ بِاللَّهِ ؟ فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ يَحْلِفُ عَلَى ذَلِكَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُنْكِرْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

محمد بن منکدر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ ؓ کو دیکھا کہ وہ اللہ کی قسم کھا کر کہہ رہے تھے کہ ابن صیاد دجال ہے، میں نے کہا: آپ اللہ کی قسم کھا رہے ہیں؟ تو بولے: میں نے عمر ؓ کو اس بات پر رسول اللہ ﷺ کے پاس قسم کھاتے سنا ہے، لیکن رسول اللہ ﷺ نے اس پر ان پر کوئی نکیر نہیں فرمائی ١ ؎۔

Muhammad ibn al-Munkadir told that he saw Jabir ibn Abdullah swearing by Allah that Ibn as-Saeed was the Dajjal (Antichrist). I expressed my surprise by saying: You swear by Allah! He said: I heard Umar swearing to that in the presence of the Messenger of Allah ﷺ , but the Messenger of Allah ﷺ did not make any objection to it.

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ تمیم داری ؓ والے واقعہ کے رسول اللہ ﷺ کے علم میں آنے سے پہلے کی بات ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الاعتصام ٢٣ (٧٣٥٥)، صحیح مسلم/الفتن ١٩ (٢٩٢٩)، (تحفة الأشراف: ٣٠١٩) (صحیح )