لڑائی اور جنگ وجدل کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 34 · 59 hadiths · Page 3 of 3

4332Sunan Abu Dawood

ابن صیاد کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: فَقَدْنَا ابْنَ صَيَّادٍ يَوْمَ الْحَرَّةِ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ ابن صیاد ہم کو یوم حرہ ١ ؎ کو غائب ملا۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : We saw the last of Ibn Sayyad at the battle of the Harrah.

Notes · وضاحت
١ ؎: حرہ وہ واقعہ ہے جو مدینہ منورہ میں یزید کے لشکر کے ہاتھوں پیش آیا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود (صحیح الإسناد) ( راجع الفتح/ الاعتصام: ٢٣، و تحفة الأحوذي: ٦/٤٢٦ )
4333Sunan Abu Dawood

ابن صیاد کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ ثَلَاثُونَ دَجَّالُونَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تیس دجال ظاہر نہ ہوجائیں، وہ سب یہی کہیں گے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: The Last Hour will not come before there come forth thirty Dajjals (fraudulents), everyone presuming himself that he is an Messenger of Allah.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤٠٦٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ٢/٤٥٠، ٤٥٧) (صحیح )
4334Sunan Abu Dawood

ابن صیاد کا بیان

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ ثَلَاثُونَ كَذَّابًا دَجَّالًا كُلُّهُمْ يَكْذِبُ عَلَى اللَّهِ وَعَلَى رَسُولِهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک کہ تیس جھوٹے دجال ظاہر نہ ہوجائیں، اور ان میں سے ہر ایک اللہ اور اس کے رسول پر جھوٹ باندھے گا ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: The Last Hour will not come before there come forth thirty liar Dajjals (fraudulents) lying on Allah and His Messenger.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥١٠٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٥٠، ٥٢٧) (حسن الإسناد )
4335Sunan Abu Dawood

ابن صیاد کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ عُبَيْدَةُ السَّلْمَانِيُّ بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: فَذَكَرَ نَحْوَهُ فَقُلْتُ لَهُ: أَتَرَى هَذَا مِنْهُمْ يَعْنِي الْمُخْتَارَ ؟ فَقَالَ عُبَيْدَةُ: أَمَا إِنَّهُ مِنَ الرُّءُوسِ.

ابراہیم کہتے ہیں: عبیدہ سلمانی نے اسی طرح کی حدیث بیان کی تو میں نے ان سے پوچھا: کیا آپ اسے یعنی مختار (ابن ابی عبید ثقفی) کو بھی انہیں دجالوں میں سے ایک سمجھتے ہیں تو عبیدہ کہنے لگے: وہ تو ان کا سردار ہے۔

A similar tradition has also been transmitted by Ibrahim (al-Nakha’l) through a different chain if narrators. I (Ibrahim) said to Ubaidat al-Salmant: Do you think that his one of them, that is al-Mukhtar (al-Thaqaff)? He said: He is from the leaders.

Takhrij · تخریج
* تخريج: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٨٩٩٩) (ضعیف )
4336Sunan Abu Dawood

امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَوَّلَ مَا دَخَلَ النَّقْصُ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَ الرَّجُلُ يَلْقَى الرَّجُلَ، فَيَقُولُ: يَا هَذَا اتَّقِ اللَّهَ وَدَعْ مَا تَصْنَعُ فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ لَكَ، ثُمَّ يَلْقَاهُ مِنَ الْغَدِ فَلَا يَمْنَعُهُ ذَلِكَ أَنْ يَكُونَ أَكِيلَهُ وَشَرِيبَهُ وَقَعِيدَهُ فَلَمَّا فَعَلُوا ذَلِكَ ضَرَبَ اللَّهُ قُلُوبَ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ، ثُمَّ قَالَ: لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى لِسَانِ دَاوُدَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ إِلَى قَوْلِهِ فَاسِقُونَ سورة المائدة آية 78 ـ 81 ثُمَّ قَالَ: كَلَّا وَاللَّهِ لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ وَلَتَأْخُذُنَّ عَلَى يَدَيِ الظَّالِمِ وَلَتَأْطُرُنَّهُ عَلَى الْحَقِّ أَطْرًا وَلَتَقْصُرُنَّهُ عَلَى الْحَقِّ قَصْرًا.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پہلی خرابی جو بنی اسرائیل میں پیدا ہوئی یہ تھی کہ ایک شخص دوسرے شخص سے ملتا تو کہتا کہ اللہ سے ڈرو اور جو تم کر رہے ہو اس سے باز آجاؤ کیونکہ یہ تمہارے لیے درست نہیں ہے، پھر دوسرے دن اس سے ملتا تو اس کے ساتھ کھانے پینے اور اس کی ہم نشینی اختیار کرنے سے یہ چیزیں (غلط کاریاں) اس کے لیے مانع نہ ہوتیں، تو جب انہوں نے ایسا کیا تو اللہ نے بھی بعضوں کے دل کو بعضوں کے دل کے ساتھ ملا دیا پھر آپ نے آیت کریمہ لعن الذين کفروا من بني إسرائيل على لسان داود وعيسى ابن مريم سے لے کر۔۔۔ اللہ تعالیٰ کے قول فاسقون بنی اسرائیل کے کافروں پر داود (علیہ السلام) اور عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کی زبانی لعنت کی گئی (سورۃ المائدہ: ٧٨) تک کی تلاوت کی، پھر فرمایا: ہرگز ایسا نہیں، قسم اللہ کی! تم ضرور اچھی باتوں کا حکم دو گے، بری باتوں سے روکو گے، ظالم کے ہاتھ پکڑو گے، اور اسے حق کی طرف موڑے رکھو گے اور حق و انصاف ہی پر اسے قائم رکھو گے یعنی زبردستی اسے اس پر مجبور کرتے رہو گے۔

Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: The first defect that permeated Banu Israil was that a man (of them) met another man and said: O so-and-so, fear Allah, and abandon what you are doing, for it is not lawful for you. He then met him the next day and that did not prevent him from eating with him, drinking with him and sitting with him. When they did so. Allah mingled their hearts with each other. He then recited the verse: curses were pronounced on those among the children of Israil who rejected Faith, by the tongue of David and of Jesus the son of Mary. . . up to wrongdoers. He then said: By no means, I swear by Allah, you must enjoin what is good and prohibit what is evil, prevent the wrongdoer, bend him into conformity with what is right, and restrict him to what is right.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/تفسیر القرآن ٦ (٣٠٤٧، ٣٠٤٨)، سنن ابن ماجہ/الفتن ٢٠ (٤٠٠٦)، (تحفة الأشراف: ٩٦١٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٩١) (ضعیف) (ابوعبیدہ اور ان کے والد ابن مسعود کے درمیان انقطاع ہیں )
4337Sunan Abu Dawood

امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا بیان

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ الْحَنَّاطُ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ زَادَ أَوْ لَيَضْرِبَنَّ اللَّهُ بِقُلُوبِ بَعْضِكُمْ عَلَى بَعْضٍ ثُمَّ لَيَلْعَنَنَّكُمْ كَمَا لَعَنَهُمْ: قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ الْمُحَارِبِيُّ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمٍ الْأَفْطَسِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَرَوَاهُ خَالِدٌ الطَّحَّانُ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ.

عبداللہ بن مسعود ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے اس میں یہ اضافہ ہے: اللہ تم میں سے بعض کے دلوں کو بعض کے دلوں سے ملا دے گا، پھر تم پر بھی لعنت کرے گا جیسے ان پر لعنت کی ہے ۔

A similar tradition (to the No. 4322) has also been transmitted by Ibn Masud through a different chain of narrators to the same effect. This version adds: Or Allah will mingle your hearts together and curse you as He cursed them. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by al-Muharibi, from al-Ala bin al-Musayyab, from Abdullah bin Amr bin Murrah, from Salim al-Aftas, from Abu Ubaidah, from Abdullah; and it is been transmitted by Khalid al-Tahhan, from al-Ala, from Amr bin Murrah from Abu Ubaidah.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٩٦١٤) (ضعیف )
4338Sunan Abu Dawood

امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا بیان

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ. ح وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ الْمَعْنَى، عَنْ إِسْمَاعِيل، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَ أَنْ حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ هَذِهِ الْآيَةَ وَتَضَعُونَهَا عَلَى غَيْرِ مَوَاضِعِهَا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ سورة المائدة آية 105 قَالَ: عَنْ خَالِدٍ، وَإِنَّا سَمِعْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوْا الظَّالِمَ فَلَمْ يَأْخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ أَوْشَكَ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ بِعِقَابٍ، وَقَالَ عَمْرٌو، عَنْ هُشَيْمٍ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَا مِنْ قَوْمٍ يُعْمَلُ فِيهِمْ بِالْمَعَاصِي ثُمَّ يَقْدِرُونَ عَلَى أَنْ يُغَيِّرُوا ثُمَّ لَا يُغَيِّرُوا إِلَّا يُوشِكُ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ مِنْهُ بِعِقَابٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ كَمَا قَالَ خَالِدٌ أَبُو أُسَامَةَ، وَجَمَاعَةٌ وَقَالَ شُعْبَةُ فِيهِ مَا مِنْ قَوْمٍ يُعْمَلُ فِيهِمْ بِالْمَعَاصِي هُمْ أَكْثَرُ مِمَّنْ يَعْمَلُهُ.

قیس بن ابی حازم کہتے ہیں کہ ابوبکر ؓ نے اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: لوگو! تم آیت کریمہ عليكم أنفسکم لا يضرکم من ضل إذا اهتديتم اے ایمان والو اپنی فکر کرو جب تم راہ راست پر چل رہے ہو تو جو شخص گمراہ ہے وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا (سورۃ المائدہ: ١٠٥) پڑھتے ہو اور اسے اس کے اصل معنی سے پھیر کر دوسرے معنی پر محمول کردیتے ہو۔ وھب کی روایت جسے انہوں نے خالد سے روایت کیا ہے، میں ہے: ہم نے نبی اکرم ﷺ سے سنا ہے، آپ فرما رہے تھے: لوگ جب ظالم کو ظلم کرتے دیکھیں، اور اس کے ہاتھ نہ پکڑیں تو قریب ہے کہ اللہ سب کو اپنے عذاب میں پکڑ لے ۔ اور عمرو کی حدیث میں جسے انہوں نے ہشیم سے روایت کی ہے مذکور ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جس قوم میں گناہ کے کام کئے جاتے ہوں، پھر وہ اسے روکنے پر قادر ہو اور نہ روکے تو قریب ہے کہ اللہ ان سب کو عذاب میں گرفتار کرلے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسے ابواسامہ اور ایک جماعت نے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے خالد نے کیا ہے۔ شعبہ کہتے ہیں: اس میں یہ بات بھی ہے کہ ایسی کوئی قوم نہیں جس میں گناہ کے کام کئے جاتے ہوں اور زیادہ تر افراد گناہ کے کام میں ملوث ہوں اور ان پر عذاب نہ آئے۔

Narrated Abu Bakr (RA) : You people recite this verse You who believe, care for yourselves; he who goes astray cannot harm you when you are rightly-guided, and put it in its improper place. Khalids version has: We heard the Prophet ﷺ say: When the people see a wrongdoer and do not prevent him, Allah will soon punish them all. Amr ibn Hushayms version has: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: If acts of disobedience are done among any people and do not change them though the are able to do so, Allah will soon punish them all. Adu Dawud said: This tradition has also been transmitted by Abu Usamah and a group transmitters similar to the version narrated by Khalid. The version of Shubah has: If acts of obedience are done among any people who are more numerous than those who do them. . . .

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الفتن ٨ (٢١٦٨)، تفسیر القرآن سورة المائدة ١٩ (٣٠٥٧)، سنن ابن ماجہ/الفتن ٢٠ (٤٠٠٥)، (تحفة الأشراف: ٦٦١٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ١/٢، ٥، ٧، ٩) (صحیح )
4339Sunan Abu Dawood

امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَّدَدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق، أَظُنُّهُ عَنْ ابْنِ جَرِيرٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَا مِنْ رَجُلٍ يَكُونُ فِي قَوْمٍ يُعْمَلُ فِيهِمْ بِالْمَعَاصِي يَقْدِرُونَ عَلَى أَنْ يُغَيِّرُوا عَلَيْهِ فَلَا يُغَيِّرُوا إِلَّا أَصَابَهُمُ اللَّهُ بِعَذَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَمُوتُوا.

جریر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جو آدمی کسی ایسی قوم میں ہو جس میں گناہ کے کام کئے جاتے ہوں اور وہ اسے روکنے پر قدرت رکھتا ہو اور نہ روکے تو اللہ اسے مرنے سے پہلے ضرور کسی نہ کسی عذاب میں مبتلا کردیتا ہے ۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ said: If any man is among a people in whose midst he does acts of disobedience, and, though they are able to make him change (his acts), they do not change, Allah will smite them with punishment before they die.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٢٤٢)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الفتن ٢٠ (٤٠٠٩) (حسن )
4340Sunan Abu Dawood

امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ،وَعَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ رَأَى مُنْكَرًا فَاسْتَطَاعَ أَنْ يُغَيِّرَهُ بِيَدِهِ فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، وَقَطَعَ هَنَّادٌ بَقِيَّةَ الْحَدِيثِ وَفَّاهُ ابْنُ الْعَلَاءِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ بِلِسَانِهِ فَبِقَلْبِهِ وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جو کوئی منکر دیکھے، اور اپنے ہاتھ سے اسے روک سکتا ہو تو چاہیئے کہ اسے اپنے ہاتھ سے روک دے، اگر وہ ہاتھ سے نہ روک سکے تو اپنی زبان سے روکے، اور اگر اپنی زبان سے بھی نہ روک سکے تو اپنے دل میں اسے برا جانے اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے ۔

Abu Saeed Al-Khudri said: I head the Messenger of Allah ﷺ say: If any one you sees something objectionable, he should change it with his hand if he can change it with his hand. (The narrator Hammad broke the rest of the tradition which was completed by Ibn al-Ala.) But if he cannot (do so), he should do it with his tongue, and if he cannot (do so with) his tongue he should do it in his heart, that being the weakest form of faith.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم:(١١٤٠)، (تحفة الأشراف: ٤٠٨٥) (صحیح )
4341Sunan Abu Dawood

امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ جَارِيَةَ اللَّخْمِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو أُمَيَّةَ الشَّعْبَانِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا ثَعْلَبَةَ كَيْفَ تَقُولُ فِي هَذِهِ الْآيَةِ عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ سورة المائدة آية 105، قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْهَا خَبِيرًا سَأَلْتُ عَنْهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: بَلِ ائْتَمِرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَتَنَاهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ حَتَّى إِذَا رَأَيْتَ شُحًّا مُطَاعًا وَهَوًى مُتَّبَعًا وَدُنْيَا مُؤْثَرَةً وَإِعْجَابَ كُلِّ ذِي رَأْيٍ بِرَأْيِهِ، فَعَلَيْكَ يَعْنِي بِنَفْسِكَ وَدَعْ عَنْكَ الْعَوَامَّ فَإِنَّ مِنْ وَرَائِكُمْ أَيَّامَ الصَّبْرِ الصَّبْرُ فِيهِ مِثْلُ قَبْضٍ عَلَى الْجَمْرِ لِلْعَامِلِ فِيهِمْ مِثْلُ أَجْرِ خَمْسِينَ رَجُلًا يَعْمَلُونَ مِثْلَ عَمَلِهِ وَزَادَنِي غَيْرُهُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَجْرُ خَمْسِينَ مِنْهُمْ قَالَ: أَجْرُ خَمْسِينَ مِنْكُمْ.

ابوامیہ شعبانی کہتے ہیں کہ میں نے ابوثعلبہ خشنی ؓ سے پوچھا: ابوثعلبہ! آپ آیت کریمہ عليكم أنفسکم کے متعلق کیا کہتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: قسم اللہ کی! تم نے اس کے متعلق ایک جانکار شخص سے سوال کیا ہے، میں نے اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے پوچھا (کہ کیا اس آیت کی رو سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ضرورت باقی نہیں رہی؟ ) تو آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم بھلی بات کا حکم دو، اور بری بات سے روکو، یہاں تک کہ تم یہ نہ دیکھ لو کہ بخیلی کی تابعداری ہو رہی ہو اور خواہش نفس کی پیروی کی جاتی ہو اور دنیا کو ترجیح دیا جاتا ہو اور ہر صاحب رائے کا اپنی رائے میں مگن ہونا دیکھ لو، تو اس وقت تم اپنی ذات کو لازم پکڑنا اور عوام کو چھوڑ دینا کیونکہ اس کے بعد صبر کے دن ہوں گے ان میں صبر کرنا ایسے ہی ہوگا جیسے چنگاری ہاتھ میں لینا، ان دنوں میں عمل کرنے والے کو پچاس آدمیوں کے برابر جو اسی جیسا عمل کرتے ہوں ثواب ملے گا اور ان کے علاوہ نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے کہ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا یہ ثواب ایسے پچاس شخصوں کا ہوگا جو انہیں میں سے ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں بلکہ تم میں سے پچاس شخصوں کا ۔

Abu Umayyah ash-Shabani said: I asked Abu Thalabah al-Khushani: What is your opinion about the verse Care for yourselves. He said: I swear by Allah, I asked the one who was well informed about it; I asked the Messenger of Allah ﷺ about it. He said: No, enjoin one another to do what is good and forbid one another to do what is evil. But when you see niggardliness being obeyed, passion being followed, worldly interests being preferred, everyone being charmed with his opinion, then care for yourself, and leave alone what people in general are doing; for ahead of you are days which will require endurance, in which showing endurance will be like grasping live coals. The one who acts rightly during that period will have the reward of fifty men who act as he does. Another version has: He said (The hearers asked:) Messenger of Allah, the reward of fifty of them? He replied: The reward of fifty of you.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/تفسیر القرآن سورة المائدة ١٨ (٣٠٥٨)، سنن ابن ماجہ/الفتن ٢١ (٤٠١٤)، (تحفة الأشراف: ١١٨٨١) (ضعیف )
4342Sunan Abu Dawood

امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا بیان

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، أَنَّ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ أَبِي حَازِمٍ حَدَّثَهُمْ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَيْفَ بِكُمْ وَبِزَمَانٍ أَوْ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ زَمَانٌ يُغَرْبَلُ النَّاسُ فِيهِ غَرْبَلَةً تَبْقَى حُثَالَةٌ مِنَ النَّاسِ قَدْ مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ وَأَمَانَاتُهُمْ وَاخْتَلَفُوا، فَكَانُوا هَكَذَا وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، فَقَالُوا: وَكَيْفَ بِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: تَأْخُذُونَ مَا تَعْرِفُونَ وَتَذَرُونَ مَا تُنْكِرُونَ وَتُقْبِلُونَ عَلَى أَمْرِ خَاصَّتِكُمْ وَتَذَرُونَ أَمْرَ عَامَّتِكُمْ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَكَذَا رُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارا اس زمانہ میں کیا حال ہوگا؟ یا آپ نے یوں فرمایا: عنقریب ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ لوگ چھن اٹھیں گے، اچھے لوگ سب مرجائیں گے، اور کوڑا کرکٹ یعنی برے لوگ باقی رہ جائیں گے، ان کے عہد و پیمان اور ان کی امانتوں کا معاملہ بگڑ چکا ہوگا (یعنی لوگ بدعہدی اور امانتوں میں خیانت کریں گے) آپس میں اختلاف کریں گے اور اس طرح ہوجائیں گے آپ ﷺ نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر بتایا، تو صحابہ ؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس وقت ہم کیا کریں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: جو بات تمہیں بھلی لگے اسے اختیار کرو، اور جو بری لگے اسے چھوڑ دو، اور خاص کر اپنی فکر کرو، عام لوگوں کی فکر چھوڑ دو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح عبداللہ بن عمرو ؓ سے مرفوعاً اس سند کے علاوہ سے بھی مروی ہے۔

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Prophet ﷺ said: How will you do when that time will come? Or he said: A time will soon come when the people are sifted and only dregs of mankind survive and their covenants and guarantees have been impaired and they have disagreed among themselves and become thus, interwining his fingers. They asked: What do you order us to do, Messenger of Allah? He replied: Accept what you approve, abandon what you disapprove, attend to your own affairs and leave alone the affairs of the generality. Abu dawud said: A similar tradition has been transmitted by Abdullah bin Amr from the Prophet ﷺ through different chain.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الفتن ١٠ (٣٩٥٧)، (تحفة الأشراف: ٨٨٩٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة ٨٨ (٤٨٠)، مسند احمد (٢/٢١٢) (صحیح )
4343Sunan Abu Dawood

امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا بیان

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ أَبِي الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ،حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ حَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ ذَكَرَ الْفِتْنَةَ، فَقَالَ: إِذَا رَأَيْتُمُ النَّاسَ قَدْ مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ وَخَفَّتْ أَمَانَاتُهُمْ وَكَانُوا هَكَذَا وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، قَالَ: فَقُمْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: كَيْفَ أَفْعَلُ عِنْدَ ذَلِكَ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ ؟ قَالَ: الْزَمْ بَيْتَكَ وَامْلِكْ عَلَيْكَ لِسَانَكَ وَخُذْ بِمَا تَعْرِفُ وَدَعْ مَا تُنْكِرُ وَعَلَيْكَ بِأَمْرِ خَاصَّةِ نَفْسِكَ وَدَعْ عَنْكَ أَمْرَ الْعَامَّةِ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے گرد بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران آپ نے فتنہ کا ذکر کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم لوگوں کو دیکھو کہ ان کے عہد فاسد ہوگئے ہوں، اور ان سے امانتداریاں کم ہوگئیں ہوں اور آپ نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر بتایا کہ ان کا حال اس طرح ہوگیا ہو عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں: یہ سن کر میں آپ کے پاس جا کر کھڑا ہوگیا، اور میں نے عرض کیا: اللہ مجھے آپ پر قربان فرمائے! ایسے وقت میں میں کیا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اپنے گھر کو لازم پکڑنا، اور اپنی زبان پر قابو رکھنا، اور جو چیز بھلی لگے اسے اختیار کرنا، اور جو بری ہو اسے چھوڑ دینا، اور صرف اپنی فکر کرنا عام لوگوں کی فکر چھوڑ دینا ۔

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: When we were around the Messenger of Allah ﷺ , he mentioned the period of commotion (fitnah) saying: When you see the people that their covenants have been impaired, (the fulfilling of) the guarantees becomes rare, and they become thus (interwining his fingers). I then got up and said: What should I do at that time, may Allah make me ransom for you? He replied: Keep to your house, control your tongue, accept what you approve, abandon what you disapprove, attend to your own affairs, and leave alone the affairs of the generality.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٨٨٩٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢١٢) (حسن صحیح )
4344Sunan Abu Dawood

امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، عَنْعَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفْضَلُ الْجِهَادِ كَلِمَةُ عَدْلٍ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ أَوْ أَمِيرٍ جَائِرٍ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب سے افضل جہاد ظالم بادشاہ یا ظالم حاکم کے پاس انصاف کی بات کہنی ہے ۔

Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : The Prophet ﷺ said: The best fighting (jihad) in the path of Allah is (to speak) a word of justice to an oppressive ruler.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الفتن ١٢ (٢١٧٤)، سنن ابن ماجہ/الفتن ٢٠ (٤٠١١)، (تحفة الأشراف: ٤٢٣٤) (صحیح )
4345Sunan Abu Dawood

امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ الْمُوصِلِيُّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ، عَنِ الْعُرْسِ ابْنِ عَمِيرَةَ الْكِنْدِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا عُمِلَتِ الْخَطِيئَةُ فِي الْأَرْضِ كَانَ مَنْ شَهِدَهَا فَكَرِهَهَا، وَقَالَ: مَرَّةً أَنْكَرَهَا كَانَ كَمَنْ غَابَ عَنْهَا وَمَنْ غَابَ عَنْهَا فَرَضِيَهَا كَانَ كَمَنْ شَهِدَهَا.

عرس بن عمیرہ کندی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب زمین پر گناہ کے کام کئے جاتے ہوں تو جو شخص وہاں حاضر رہا اور اسے ناپسند کیا یا برا جانا اس کی مثال اس شخص کے مانند ہے جس نے اسے دیکھا ہی نہ ہو، اور جو شخص وہاں حاضر نہ تھا لیکن اسے پسند کیا تو وہ اس شخص کی طرح ہے جو وہاں حاضر تھا (یعنی اسے بھی گناہ سے رضا مندی کے باعث گناہ ملے گا) ۔

Narrated Al-Urs bin Amirat al-Kindi: The Prophet ﷺ said: When sin is done in the earth, he who sees it and disapproves of it will be taken like one who was not present, but he who is not present and approves of it will be like him who sees.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٩٨٩٤) (حسن )
4346Sunan Abu Dawood

امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ مُغِيرَةَ ابْنِ زِيَادٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، قَالَ: مَنْ شَهِدَهَا فَكَرِهَهَا كَانَ كَمَنْ غَابَ عَنْهَا.

عدی بن عدی ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے کہ آپ نے فرمایا: جس نے اس کو دیکھا اور ناپسند کیا وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے اسے دیکھا ہی نہیں ۔

A similar tradition has also been transmitted by ‘Adl from the prophet ﷺ though a different chain of narrators. This version has: He who sees it and disapproves of it will be like him who was not present.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٩٨٩٤، ١٩٠٠٦) (حسن )
4347Sunan Abu Dawood

امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا بیان

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَهَذَا لَفْظُهُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ وَقَالَ سُلَيْمَانُ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَنْ يَهْلَكَ النَّاسُ حَتَّى يَعْذِرُوا أَوْ يُعْذِرُوا مِنْ أَنْفُسِهِمْ.

ابوالبختری کہتے ہیں کہ مجھے اس شخص نے خبر دی ہے جس نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا ہے، اور سلیمان کی روایت میں ہے کہ مجھ سے نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک شخص نے بیان کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: لوگ اس وقت تک ہلاک نہیں ہوں گے جب تک ان کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہے یا وہ خود اپنا عذر زائل نہ کرلیں ۔

A man from among the companions of the prophet ﷺ reported him as saying: The people will not perish until their sins and faults become abundant, and there remains no excuse for them.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٥٥٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ٤/٢٦٠، ٥/٢٩٣) (صحیح )
4348Sunan Abu Dawood

قیامت قائم ہونے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ سُلَيْمَانَ، أن عبد الله بن عمر، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ صَلَاةَ الْعِشَاءِ فِي آخِرِ حَيَاتِهِ فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ، فَقَالَ: أَرَأَيْتُكُمْ لَيْلَتَكُمْ هَذِهِ فَإِنَّ عَلَى رَأْسِ مِائَةِ سَنَةٍ مِنْهَا لَا يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَوَهِلَ النَّاسُ فِي مَقَالَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ فِيمَا يَتَحَدَّثُونَ عَنْ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ عَنْ مِائَةِ سَنَةٍ، وَإِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ يُرِيدُ بِأَنْ يَنْخَرِمَ ذَلِكَ الْقَرْنُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی آخری عمر میں ایک رات ہمیں عشاء پڑھائی، پھر جب سلام پھیرا تو کھڑے ہوئے اور فرمایا: تمہیں پتا ہے، آج کی رات کے سو سال بعد اس وقت جتنے آدمی اس روئے زمین پر ہیں ان میں سے کوئی بھی (زندہ) باقی نہیں رہے گا ابن عمر ؓ کہتے ہیں: لوگ رسول اللہ ﷺ کی سو سال کے بعد کے متعلق احادیث بیان کرنے میں غلط فہمی کا شکار ہوگئے کہ سو برس بعد قیامت آجائے گی، حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا تھا کہ آج روئے زمین پر جتنے لوگ زندہ ہیں سو سال کے بعد ان میں سے کوئی زندہ نہ رہے گا مطلب یہ تھا کہ یہ نسل ختم ہوجائے گی، اور دوسری نسل آجائے گی۔

Abdullah bin Umar (RA) said: The Messenger of Allah ﷺ led us in the night prayer one night towards the end of his life. When he uttered the salutation, he got up and said: Have you seen this night of yours ? No one of those who are on the surface of the earth will survive at the ends of one hundred years. Ibn Umar said: The people fell into fallacy by this statement of the Messenger of Allah ﷺ about the traditions they used to narrate concerning one hundred years. The Messenger of Allah ﷺ said: No one of those who are present today on the surface of the earth will survive, meaning when that century comes to and end.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٥٣ (٢٥٣٧)، سنن الترمذی/الفتن ٦٤ (٢٢٥١)، (تحفة الأشراف: ٦٩٣٤)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العلم ٤١ (١١٦)، مواقیت الصلاة ٢٠ (٦٠١) (صحیح )
4349Sunan Abu Dawood

قیامت قائم ہونے کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ سَهْلٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ،عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخَشَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلًّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَنْ يُعْجِزَ اللهُ هَذِهِ الْأُمَّةَ مِنْ نِصْفِ يَوْمٍ.

ابوثعلبہ خشنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ اس امت کو قیامت کے دن کے آدھے دن سے کم باقی نہیں رکھے گا ١ ؎۔

Narrated Abu Thalabat al-Khushani (RA) : The Prophet ﷺ said: Allah will not fail to detain this community for less than half a day.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی یہ امت کم سے کم پانچ سو سال تک باقی رہے گی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١٨٦٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٩٣) (صحیح )
4350Sunan Abu Dawood

قیامت قائم ہونے کا بیان

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنِي صَفْوَانُ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ: النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا تَعْجِزَ أُمَّتِي عِنْدَ رَبِّهَا أَنْ يُؤَخِّرَهُمْ نِصْفُ ذَلِكَ الْيَوْمِ ؟ قَالَ: خَمْسُ مِائَةِ سَنَةٍ.

سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں امید رکھتا ہوں کہ میری امت اتنی تو عاجز نہ ہوگی کہ اللہ اس کو آدھے دن کی مہلت نہ دے ۔ سعد ؓ سے پوچھا گیا کہ آدھے دن سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے کہا: پانچ سو سال۔

Narrated Saad ibn Abu Waqqas (RA) : The Prophet ﷺ said: I hope my community will not fail to maintain their position in the sight of their Lord if He delays them half a day. Saad was asked: How long is half a day? He said: It is five hundred years.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبودواد، (تحفة الأشراف: ٣٨٦٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ١/١٧٠) (صحیح )
4299Sunan Abu Dawood

قَالَ أَبُو دَاوُد حُدِّثْتُ عَنْ ابْنِ وَهْبٍ قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوشِكُ الْمُسْلِمُونَ أَنْ يُحَاصَرُوا إِلَى الْمَدِينَةِ حَتَّى يَكُونَ أَبْعَدَ مَسَالِحِهِمْ سَلَاحِ.

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قریب ہے کہ مسلمان مدینہ میں محصور کر دیئے جائیں یہاں تک کہ ان کی عملداری صرف مقام سلاح تک رہ جائے۔

Abu Dawud said: Ibn Umar reported the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلمAs saying: The Muslims will soon be besieged up to Madina so that their most distant frontier outpost will be Salah.