سعد ؓ کے ایک بیٹے سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میرے والد نے مجھے کہتے سنا: اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا اور اس کی نعمتوں، لذتوں اور فلاں فلاں چیزوں کا سوال کرتا ہوں اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں جہنم سے، اس کی زنجیروں سے، اس کے طوقوں سے اور فلاں فلاں بلاؤں سے، تو انہوں نے مجھ سے کہا: میرے بیٹے! میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: عنقریب کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو دعاؤں میں مبالغہ اور حد سے تجاوز کریں گے، لہٰذا تم بچو کہ کہیں تم بھی ان میں سے نہ ہوجاؤ جب تمہیں جنت ملے گی تو اس کی ساری نعمتیں خود ہی مل جائیں گی اور اگر تم جہنم سے بچا لیے گئے تو اس کی تمام بلاؤں سے خودبخود بچا لئے جاؤ گے ۔
Narrated Saad ibn Abu Waqqas (RA) : Ibn Saad said: My father (Saad ibn Abu Waqqas) heard me say: O Allah, I ask Thee for Paradise, its blessings, its pleasure and such-and-such, and such-and-such; I seek refuge in Thee from Hell, from its chains, from its collars, and from such-and-such, and from such-and-such. He said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: There will be people who will exaggerate in supplication. You should not be one of them. If you are granted Paradise, you will be granted all what is good therein; if you are protected from Hell, you will be protected from what is evil therein.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٣٩٤٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٧٢، ١٨٣) (حسن صحیح )
صحابی رسول فضالہ بن عبید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو نماز میں دعا کرتے سنا، اس نے نہ تو اللہ تعالیٰ کی بزرگی بیان کی اور نہ ہی نبی اکرم ﷺ پر درود (نماز) بھیجا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس شخص نے جلد بازی سے کام لیا ، پھر اسے بلایا اور اس سے یا کسی اور سے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو پہلے اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کرے، پھر نبی اکرم ﷺ پر درود (نماز) بھیجے، اس کے بعد جو چاہے دعا مانگے ۔
Narrated Fudalah ibn Ubayd,: The Messenger of Allah ﷺ heard a person supplicating during prayer. He did not mention the greatness of Allah, nor did he invoke blessings on the Prophet ﷺ . The Messenger of Allah ﷺ said: He made haste. He then called him and said either to him or to any other person: If any of you prays, he should mention the exaltation of his Lord in the beginning and praise Him; he should then invoke blessings on the Prophet ﷺ ; thereafter he should supplicate Allah for anything he wishes.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ٦٥ (٣٤٧٧)، سنن النسائی/السہو ٤٨ (١٢٨٥)، (تحفة الأشراف: ١١٠٣١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٨) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جامع دعائیں ١ ؎ پسند فرماتے اور جو دعا جامع نہ ہوتی اسے چھوڑ دیتے۔
Aishah said: The Messenger of Allah ﷺ liked comprehensive supplication and abandoned other kinds.
Notes · وضاحت
١ ؎: جامع دعائیں یعنی جن کے الفاظ مختصر اور معانی زیادہ ہوں، یا جو دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی کی جامع ہو، جیسے: ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار وغیرہ دعائیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٧٨٠٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٤٨، ١٨٨، ١٨٩) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی اس طرح دعا نہ مانگے: اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے، اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم کر، بلکہ جزم کے ساتھ سوال کرے کیونکہ اللہ پر کوئی جبر کرنے والا نہیں ۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: One of you should not say (in his supplication): O Allah, forgive me if You please, show mercy to me if You please. Rather, be firm in your asking, for no one can force Him.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الدعوات ٢١ (٦٣٣٩)، والتوحید ٣١ (٧٤٧٧)، سنن الترمذی/الدعوات ٧٨ (٣٤٩٧)، (تحفة الأشراف: ١٣٨٧٢، ١٣٨١٣)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الذکر والدعا ٣ (٢٦٧٩)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ٨ (٣٨٥٤)، موطا امام مالک/ القرآن ٨ (٢٨)، مسند احمد (٢/٢٤٣، ٤٥٧، ٢٨٦) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک کی دعا قبول کی جاتی ہے جب تک وہ جلد بازی سے کام نہیں لیتا اور یہ کہنے نہیں لگتا کہ میں نے تو دعا مانگی لیکن میری دعا قبول ہی نہیں ہوئی ١ ؎۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: One of you is granted an answer (to his supplication) provided he does not say: I prayed but I was not granted an answer.
Notes · وضاحت
١ ؎: دعا میں جلد بازی بےادبی ہے، اور اس کا نتیجہ محرومی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الدعوات ٢٢ (٦٣٤٠)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء ٢٥ (٢٧٣٥)، سنن الترمذی/الدعوات ١٢ (٣٣٨٧)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ٨ (٣٨٥٣)، (تحفة الأشراف: ١٢٩٣٠)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القرآن ٨ (٢٩)، مسند احمد (٢/٤٨٧، ٣٩٦) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دیواروں پر پردہ نہ ڈالو، جو شخص اپنے بھائی کا خط اس کی اجازت کے بغیر دیکھتا ہے تو وہ جہنم میں دیکھ رہا ہے، اللہ سے سیدھی ہتھیلیوں سے دعا مانگو اور ان کی پشت سے نہ مانگو اور جب دعا سے فارغ ہوجاؤ تو اپنے ہاتھ اپنے چہروں پر پھیر لو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث محمد بن کعب سے کئی سندوں سے مروی ہے۔ ساری سندیں ضعیف ہیں اور یہ طریق (سند) سب سے بہتر ہے اور یہ بھی ضعیف ہے۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ said: Do not cover the walls. He who sees the letter of his brother without his permission, sees Hell-fire. Supplicate Allah with the palms of your hands; do not supplicate Him with their backs upwards. When you finish supplication, wipe your faces with them. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted through a different chains by Muhammad bin Kab; all of them are weak. The chain I have narrated is best of them; but it is also weak.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١١٩ (٣٨٦٦)، (تحفة الأشراف: ٦٤٤٨) (ضعیف) (عبداللہ بن یعقوب کے شیخ مبہم ہیں )
مالک بن یسار سکونی عوفی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم اللہ سے مانگو تو اپنی سیدھی ہتھیلیوں سے مانگو اور ان کی پشت سے نہ مانگو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سلیمان بن عبدالحمید نے کہا: ہمارے نزدیک انہیں یعنی مالک بن یسار کو صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے۔
Narrated Malik ibn Yasar as-Sakuni, al-Awfi (RA) : The Prophet ﷺ said: When you make requests to Allah, do so with the palms of your hands, and not backs, upwards. Abu Dawud said: The narrator Sulaiman bin Abd al-Hamid said: according to us Malik bin Yasar was a Companion of the Prophet ﷺ
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دونوں طرح سے دعا مانگتے دیکھا اپنی دونوں ہتھیلیاں سیدھی کر کے بھی اور ان کی پشت اوپر کر کے بھی ١ ؎۔
Narrated Anas ibn Malik: I saw the Messenger of Allah ﷺ supplicating Allah in this manner with the palms of his hands and also with their backs upwards.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی عام حالات میں ہتھیلیوں کا اندرونی حصہ چہرہ کی طرف اور استسقاء میں اندرونی حصہ زمین کی طرف اور پشت چہرہ کی طرف کر کے۔
سلمان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارا رب بہت باحیاء اور کریم (کرم والا) ہے، جب اس کا بندہ اس کے سامنے اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتا ہے تو انہیں خالی لوٹاتے ہوئے اسے اپنے بندے سے شرم آتی ہے ۔
Narrated Salman al-Farsi (RA) : The Prophet ﷺ said: Your Lord is munificent and generous, and is ashamed to turn away empty the hands of His servant when he raises them to Him.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ١٠٥ (٣٥٥٦)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ١٣ (٣٨٦٥)، (تحفة الأشراف: ٤٤٩٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤٣٨) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ مانگنا یہ ہے کہ تم اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں کے بالمقابل یا ان کے قریب اٹھاؤ، اور استغفار یہ ہے کہ تم صرف ایک انگلی سے اشارہ کرو اور ابتہال (عاجزی و گریہ وزاری سے دعا مانگنا) یہ ہے کہ تم اپنے دونوں ہاتھ پوری طرح پھیلا دو۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : Ikrimah quoted Ibn Abbas as saying: When asking for something you should raise your hands opposite to your shoulders; when asking for forgiveness you should point with one finger; and when making an earnest supplication you should spread out both your hands.
اس سند سے بھی ابن عباس ؓ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: ابتہال اس طرح ہے اور انہوں نے دونوں ہاتھ اتنے بلند کئے کہ ہتھیلیوں کی پشت اپنے چہرے کے قریب کردی۔
In another version Ibn Abbas said: Earnest supplication should be made like this: he raised his hand and made his palms in the direction of his face.
بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو کہتے سنا: اللهم إني أسألك أني أشهد أنك أنت الله لا إله إلا أنت، الأحد، الصمد، الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له کفوا أحد اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اس وسیلے سے کہ: میں گواہی دیتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی اور معبود نہیں، تو تنہا اور ایسا بےنیاز ہے جس نے نہ تو جنا ہے اور نہ ہی وہ جنا گیا ہے اور نہ اس کا کوئی ہمسر ہے یہ سن کر آپ ﷺ نے فرمایا: تو نے اللہ سے اس کا وہ نام لے کر مانگا ہے کہ جب اس سے کوئی یہ نام لے کر مانگتا ہے تو عطا کرتا ہے اور جب کوئی دعا کرتا ہے تو قبول فرماتا ہے ۔
Narrated Buraydah ibn al-Hasib: The Messenger of Allah ﷺ heard a man saying: O Allah, I ask Thee, I bear witness that there is no god but Thou, the One, He to Whom men repair, Who has not begotten, and has not been begotten, and to Whom no one is equal, and he said: You have supplicated Allah using His Greatest Name, when asked with this name He gives, and when supplicated by this name he answers.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ٦٤ (٣٤٧٥)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ٩ (٣٨٥٧)، (تحفة الأشراف: ١٩٩٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٤٩، ٣٥٠، ٣٦٠) (صحیح )
اس سند سے بھی بریدہ ؓ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: لقد سألت الله عزوجل باسمه الأعظم تو نے اللہ سے اس کے اسم اعظم (عظیم نام) کا حوالہ دے کر سوال کیا ۔
The aforesaid tradition has been transmitted through a different chain of narrators by Malik bin Mighwal. This verso adds: He has asked Allah using His Greatest Name.
انس ؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا، (نماز سے فارغ ہو کر) اس نے دعا مانگی: اللهم إني أسألک بأن لک الحمد لا إله إلا أنت المنان بديع السموات والأرض يا ذا الجلال والإکرام يا حى يا قيوم اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اس وسیلے سے کہ: ساری و حمد تیرے لیے ہے، تیرے سوا کوئی اور معبود نہیں، تو ہی احسان کرنے والا اور آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے، اے جلال اور عطاء و بخشش والے، اے زندہ جاوید، اے آسمانوں اور زمینوں کو تھامنے والے! یہ سن کر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم (عظیم نام) کے حوالے سے دعا مانگی ہے کہ جب اس کے حوالے سے دعا مانگی جاتی ہے تو وہ دعا قبول فرماتا ہے اور سوال کیا جاتا ہے تو وہ دیتا ہے ۔
Narrated Anas ibn Malik: I was sitting with the Messenger of Allah ﷺ and a man was offering prayer. He then made supplication: O Allah, I ask Thee by virtue of the fact that praise is due to Thee, there is no deity but Thou, Who showest favour and beneficence, the Originator of the Heavens and the earth, O Lord of Majesty and Splendour, O Living One, O Eternal One. The Prophet ﷺ then said: He has supplicated Allah using His Greatest Name, when supplicated by this name, He answers, and when asked by this name He gives.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/السہو ٥٨ (١٢٩٩)، (تحفة الأشراف: ٥٥١)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدعوات ١٠٠ (٣٥٤٤)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ٩ (٣٨٥٨)، مسند احمد (٣/١٢٠، ١٥٨، ٢٤٥) (صحیح )
اسماء بنت یزید ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ کا اسم اعظم (عظیم نام) ان دونوں آیتوں وإلهكم إله واحد لا إله إلا هو الرحمن الرحيم ١ ؎ اور سورة آل عمران کی ابتدائی آیت الله لا إله إلا هو الحي القيوم ٢ ؎ میں ہے ۔
Asma daughter of Yazid reported the Prophet ﷺ as saying: Allahs Greatest Names is in these two verses: And your Ilaah (God) is One Ilaah (God), none has the right to be worshipped but He, the Ever-Merciful, the Mercy-Giving and the beginning of Surah Al Imran, A. L. M Allah, there is no deity but He, the Living, the Eternal.
Notes · وضاحت
وضاحت: سورة البقرة: (١٦٣) وضاحت: سورة آل عمران: (١، ٢ )
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ٦٥ (٣٤٧٨)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ٩ (٣٨٥٥)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٦٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٦١) (حسن لغیرہ) (اس کے راوی عبیداللہ القدَّاح ضعیف ہیں، نیز شہر بن حوشب میں بھی کلام ہے، ترمذی نے حدیث کو صحیح کہا ہے، اس کی شاہد ابو امامة کی حدیث ہے، جس سے تقویت پاکر یہ حدیث حسن ہوئی) (ملاحظہ ہو: سلسلة ا لاحادیث الصحیحة: ٧٤٦ و صحیح ابی داود: ٥ ؍ ٢٣٤ )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ان کا ایک لحاف چرا لیا گیا تو وہ اس کے چور پر بد دعا کرنے لگیں تو رسول اللہ ﷺ فرمانے لگے: تم اس کے گناہ میں کمی نہ کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: لا تسبخي کا مطلب ہے لا تخففي عنه یعنی اس کے گناہ میں تخفیف نہ کرو۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : Ata said: The quilt of Aisha (RA) was stolen. She began to curse the person who had stolen it. The Prophet ﷺ began to tell her: Do not lighten him. Abu Dawud said: The meaning of the Arabic words la tasbikhi anhu means do not lessen him or lighten him.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٧٣٧٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٥، ١٣٦)، ویأتي برقم (٤٩٠٩) (حسن) (ملاحظہ ہو: ضعیف ابی داود ٢/٩٠، والصحیحة: ٣٤١٣ )
عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے عمرہ کرنے کی اجازت طلب کی، جس کی آپ نے مجھے اجازت دے دی اور فرمایا: میرے بھائی! مجھے اپنی دعاؤں میں نہ بھولنا ، آپ نے یہ ایسی بات کہی جس سے مجھے اس قدر خوشی ہوئی کہ اگر ساری دنیا اس کے بدلے مجھے مل جاتی تو اتنی خوشی نہ ہوتی۔ (راوی حدیث) شعبہ کہتے ہیں: پھر میں اس کے بعد عاصم سے مدینہ میں ملا۔ انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی اور اس وقت لا تنسنا يا أخى من دعائك کے بجائے أشرکنا يا أخى في دعائك کے الفاظ کہے اے میرے بھائی ہمیں بھی اپنی دعاؤں میں شریک رکھنا ۔
Narrated Umar ibn al-Khattab (RA) : I sought permission of the Prophet ﷺ to perform Umrah. He gave me permission and said: My younger brother, do not forget me in your supplication. He (Umar) said: He told me a word that pleased me so much so that I would not have been pleased if I were given the whole world. The narrator Shubah said: I then met Asim at Madina. He narrated to me this tradition and reported the wordings: My younger brother, share me in your supplication.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ١١٠ (٣٥٦٢)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٥ (٢٨٩٤)، (تحفة الأشراف: ١٠٥٢٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٩) (ضعیف) (اس کے راوی عاصم ضعیف ہیں )
سعد بن ابی وقاص ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ میرے پاس سے گزرے، میں اس وقت اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے دعا مانگ رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ایک انگلی سے کرو، ایک انگلی سے کرو اور آپ نے شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا۔
Narrated Saad ibn Abu Waqqas (RA) : The Prophet ﷺ passed by me while I was supplicating by pointing with two fingers of mine. He said: Point with one finger; point with one finger. He then himself pointed with the forefinger.