سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک عورت ١ ؎ کے پاس گئے، اس کے سامنے گٹھلیاں یا کنکریاں رکھی تھیں، جن سے وہ تسبیح گنتی تھی ٢ ؎، آپ ﷺ نے فرمایا: میں تمہیں ایک ایسی چیز بتاتا ہوں جو تمہارے لیے اس سے زیادہ آسان ہے یا اس سے افضل ہے ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اس طرح کہا کرو: سبحان الله عدد ما خلق في السماء و سبحان الله عدد ما خلق في الأرض و سبحان الله عدد ما خلق بين ذلک و سبحان الله عدد ما هو خالق والله أكبر مثل ذلک والحمد لله مثل ذلک . ولا إله إلا الله مثل ذلک . ولا حول ولا قوة إلا بالله مثل ذلك۔
Narrated Saad ibn Abu Waqqas (RA) : Once Saad, with the Messenger of Allah ﷺ , visited a woman in front of whom were some date-stones or pebbles which she was using as a rosary to glorify Allah. He (the Prophet) said: I tell you something which would be easier (or more excellent) for you than that. He said (it consisted of saying): Glory be to Allah as many times as the number of that which He has created in Heaven; Glory be to Allah as many times as the number of that which He has created on Earth; Glory be to Allah as many times as the number of that which He has created between them; Glory be to Allah as many times as the number of that which He is creating; Allah is most great a similar number of times; Praise (be to Allah) a similar number of times; and There is no god but Allah a similar number of times; There is no might and no power except in Allah a similar number of times.
Notes · وضاحت
١ ؎: وہ ام المومنین صفیہ ؓ، یا ام المومنین جویریہ ؓ تھیں۔ ٢ ؎: مروجہ تسبیح جس میں سو دانے ہوتے ہیں، اور ان میں ایک امام ہوتا ہے، رسول اللہ ﷺ ، صحابہ کرام اور سلف صالحین سے ثابت نہیں ہے، انگلیوں پر تسبیح مسنون ہے، ملاحظہ ہو اگلی حدیث نمبر (١٥٠١)۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ١١٤ (٣٥٦٨)، (تحفة الأشراف: ٣٩٥٤) (ضعیف) (اس کے راوی خزیمہ مجہول ہیں )
یسیرہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ تکبیر، تقدیس اور تہلیل کا اہتمام کیا کریں اور اس بات کا کہ وہ انگلیوں کے پوروں سے گنا کریں اس لیے کہ انگلیوں سے (قیامت کے روز) سوال کیا جائے گا اور وہ بولیں گی ١ ؎۔
Narrated Yusayrah, mother of Yasir: The Prophet ﷺ commanded them (the women emigrants) to be regular (in remembering Allah by saying): Allah is most great; Glory be to the King, the Holy; there is no god but Allah; and that they should count them on fingers, for they (the fingers) will be questioned and asked to speak.
Notes · وضاحت
١ ؎: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: يوم تشهد عليهم ألسنتهم وأيديهم وأرجلهم بما کانوا يعملون ( سورة النور 24) ” جس دن ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور پاؤں ان کے خلاف گواہی دیں گے “، تو جس طرح ہاتھ اور پاؤں وغیرہ اعضاء برے اعمال کی گواہی دیں گے اسی طرح اچھے اعمال کی بھی گواہی دیں گے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ١٢١ (٣٥٨٣)، (تحفة الأشراف: ١٨٣٠١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٧٠، ٣٧١) (حسن )
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو تسبیح گنتے دیکھا (ابن قدامہ کی روایت میں ہے) : اپنے دائیں ہاتھ پر ۔
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: I saw the Messenger of Allah ﷺ counting the glorification of Allah on fingers. Ibn Qudamah said (in his version: With his right hands.
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جویریہ ؓ کے پاس سے نکلے (پہلے ان کا نام برہ تھا ١ ؎ آپ نے اسے بدل دیا) ، جب آپ ﷺ نکل کر آئے تب بھی وہ اپنے مصلیٰ پر تھیں اور جب واپس اندر گئے تب بھی وہ مصلیٰ پر تھیں، آپ ﷺ نے پوچھا: کیا تم جب سے اپنے اسی مصلیٰ پر بیٹھی ہو؟ ، انہوں نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: میں نے تمہارے پاس سے نکل کر تین مرتبہ چار کلمات کہے ہیں، اگر ان کا وزن ان کلمات سے کیا جائے جو تم نے (اتنی دیر میں) کہے ہیں تو وہ ان پر بھاری ہوں گے: سبحان الله وبحمده عدد خلقه ورضا نفسه وزنة عرشه ومداد کلماته میں پاکی بیان کرتا ہوں اللہ کی اور اس کی تعریف کرتا ہوں اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر، اس کی مرضی کے مطابق، اس کے عرش کے وزن اور اس کے کلمات کی سیاہی کے برابر ۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ went out from Juwayriyyah (wife of the Prophet). Earlier her name was Barrah, and he changed it. When he went out she was in her place of worship, and when he returned she was in her place of worship. He asked: Have you been in your place of worship continuously? She said: Yes. He then said: Since leaving you I have said three times four phrases which, if weighed against all that you have said (during this period), would prove to be heavier: glory be to Allah, and I begin with praise of Him to the number of His creatures, in accordance with His good pleasure, to the weight of His throne and to the ink (extent) of His words.
Notes · وضاحت
١ ؎: اسی طرح زینب بنت ابی سلمہ ؓ کا نام بھی برہ تھا، اس کو بدل کر آپ ﷺ نے زینب رکھ دیا، اس لئے کہ معلوم نہیں کہ اللہ کے نزدیک کون برہ (نیکوکار) ہے اور کون فاجرہ (بدکار) ہے، انسان کو آپ اپنی تعریف و تقدیس مناسب نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الذکر والدعاء ١٩ (٢١٤٠ و ٢٧٢٦)، (تحفة الأشراف: ٦٣٥٨)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/افتتاح ٩٤ (١٣٥٣)، سنن الترمذی/الدعاء ١٠٤(٣٥٥٥)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٥٦ (٢٨٠٨)، مسند احمد (١/٢٥٨، ٣١٦، ٣٢٦، ٣٥٣) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ابوذر ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! مال والے تو ثواب لے گئے، وہ نماز پڑھتے ہیں، جس طرح ہم پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں جس طرح ہم رکھتے ہیں، البتہ ان کے پاس ضرورت سے زیادہ مال ہے، جو وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہمارے پاس مال نہیں ہے کہ ہم صدقہ کریں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابوذر! کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھاؤں جنہیں ادا کر کے تم ان لوگوں کے برابر پہنچ سکتے ہو، جو تم پر (ثواب میں) بازی لے گئے ہیں، اور جو (ثواب میں) تمہارے پیچھے ہیں تمہارے برابر نہیں ہوسکتے، سوائے اس شخص کے جو تمہارے جیسا عمل کرے ، انہوں نے کہا: ضرور، اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ہر نماز کے بعد (٣٣) بار الله اکبر (٣٣) بار الحمد الله (٣٣) بار سبحان الله کہا کرو، اور آخر میں لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملک وله الحمد وهو على كل شيء قدير پڑھا کرو جو ایسا کرے گا) اس کے تمام گناہ بخش دئیے جائیں گے اگرچہ وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : Abu Dharr said: Prophet of Allah. The wealthy people have all the rewards; they pray as we pray; they fast as we fast; and they have surplus wealth which they give in charity; but we have no wealth which we may give in charity. The Messenger of Allah ﷺ said: Abu Dharr, should I not teach you phrases by which you acquire the rank of those who excel you? No one can acquire your rank except one who acts like you. He said: Why not, Messenger of Allah? He said: Exalt Allah (say: Allah is Most Great) after each prayer thirty-three times; and praise Him (say: Praise be to Allah) thirty-three times; and glorify Him (say: Glory be to Allah) thirty-three times, and end it by saying, There is no god but Allah alone, there is no partner, to Him belongs the Kingdom, to Him praise is due and He has power over everything. His sins will be forgiven, even if they are like the foam of the sea.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤٥٨٨)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد ٢٦ (٥٩٥)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٣٢ (٩٢٦)، موطا امام مالک/القرآن ٧ (٢٢)، سنن الدارمی/الصلاة ٩٠ (١٣٩٣) (صحیح )
مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ معاویہ ؓ نے انہیں لکھا کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز سے سلام پھیرتے تو کیا پڑھتے تھے؟ اس پر مغیرہ نے معاویہ کو لکھوا کے بھیجا، اس میں تھا: رسول اللہ ﷺ: لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملک وله الحمد وهو على كل شيء قدير، اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منک الجد کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اسی کے لیے حمد ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! جو تو دے، اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو تو روک دے، اسے کوئی دے نہیں سکتا اور مالدار کو اس کی مال داری نفع نہیں دے سکتی پڑھتے تھے۔
Al-Mughirah bin Shubah reported: Muawiyah wrote to al-Mughirah bin Shubah: What would the the Messenger of Allah ﷺ recite when he gave Taslim (salutation) in the prayer ? Al-Mughirah dictated and wrote to Muawiyah: The Messenger of Allah ﷺ used to say (at the end of the prayer after taslim): There is no God but Allah, Alone, Who has no partner, to Him belongs the dominion, to Him praise is due, and He is Omnipotent. O Allah no one cane withhold what You give and give what You withhold, and none benefits the fortunate person, for from You is the fortune.
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن زبیر ؓ کو منبر پر کہتے سنا: نبی اکرم ﷺ جب نماز سے فارغ ہوتے تو کہتے: لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملک وله الحمد وهو على كل شيء قدير، لا إله إلا الله مخلصين له الدين ولو کره الکافرون أهل النعمة والفضل والثناء الحسن، لا إله إلا الله مخلصين له الدين ولو کره الکافرون اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اسی کے لیے حمد ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے، کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے، ہم خالص اسی کی عبادت کرتے ہیں اگرچہ کافر برا سمجھیں، وہ احسان، فضل اور اچھی تعریف کا مستحق ہے۔ کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے، ہم خالص اسی کی عبادت کرتے ہیں، اگرچہ کافر برا سمجھیں ۔
Abu Zubair said: I heard Abdullah bin al-Zubair saying on the pulpit: When the Prophet ﷺ finished the prayer, he used to say (at the end of the prayer): There is no God but Allah, Alone, Who has no partner, to Him belongs the Kingdom, to Him praise is due, and He is Omnipotent. There is no God but Allah to Whom we are sincere in devotion, even though the infidels should disapprove. To Him belongs wealth, to Him belongs grace and to Him is worthy accorded. There is no got but Allah to Whom we are sincere in devotion, even though infidels should disapprove.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٢٦ (٥٩٤)، سنن النسائی/السہو ٨٣ (١٣٤٠)، (تحفة الأشراف: ٥٢٨٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤)، (صحیح )
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ عبداللہ بن زبیر ؓ ہر نماز کے بعد لا إله إلا الله *** کہا کرتے تھے پھر انہوں نے اس جیسی دعا کا ذکر کیا، البتہ اس میں اتنا اضافہ کیا: ولا حول ولا قوة إلا بالله لا إله إلا الله لا نعبد إلا إياه له النعمة *** اور پھر آگے بقیہ حدیث بیان کی۔
Abu al-Zubair said: Abdullah bin al-Zubair used to recite this supplication after each (prescribed) prayer. He then narrated a similar supplication and added to it: There is no might and no power except in Allah; there is no god but Allah Whom alone we worship. To Him belongs wealth. The narrator then transmitted the rest of tradition.
زید بن ارقم ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا۔ (سلیمان کی روایت میں اس طرح ہے: رسول اللہ ﷺ اپنی نماز کے بعد فرماتے تھے) : اللهم ربنا ورب کل شىء أنا شهيد أنك أنت الرب وحدک لا شريك لك، اللهم ربنا ورب کل شىء أنا شهيد أن محمدا عبدک ورسولک، اللهم ربنا ورب کل شىء، أن العباد کلهم إخوة، اللهم ربنا ورب کل شىء، اجعلني مخلصا لک وأهلي في كل ساعة في الدنيا والآخرة يا ذا الجلال والإکرام اسمع واستجب [ الله أكبر الأكبر ] اللهم نور السموات والأرض، الله أكبر الأكبر، حسبي الله ونعم الوکيل الله أكبر الأكبر اے اللہ! ہمارا رب اور ہر چیز کا رب، میں گواہ ہوں کہ تو اکیلا رب ہے، تیرا کوئی شریک نہیں، اے اللہ! ہمارے رب! اور اے ہر چیز کے رب! میں گواہ ہوں کہ محمد ( ﷺ ) تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں، اے اللہ! ہمارے رب! اور ہر چیز کے رب! میں گواہ ہوں کہ تمام بندے بھائی بھائی ہیں، اے اللہ! ہمارے رب! اور ہر چیز کے رب! مجھے اور میرے گھر والوں کو اپنا مخلص بنا لے دنیا و آخرت کی ہر ساعت میں، اے جلال، بزرگی اور عزت والے! سن لے اور قبول فرما لے، اللہ ہر بڑے سے بڑا ہے، اے اللہ! تو آسمانوں اور زمین کا نور ہے (سلیمان بن داود کی روایت میں نور کے بجائے رب کا لفظ ہے) اللہ ہر بڑے سے بڑا ہے، اللہ میرے لیے کافی ہے اور بہت بہتر وکیل ہے، اللہ ہر بڑے سے بڑا ہے ۔
Narrated Zayd ibn Arqam (RA) : I heard the Messenger of Allah ﷺ saying (the version of Sulayman has: The Messenger of Allah ﷺ used to say) after his prayer: - O Allah, our Lord and Lord of everything, I bear witness that Thou art the Lord alone Who hast no partner; O Allah, Our Lord and Lord of everything, I bear witness that Muhammad is Thy servant and Thy Messenger ; O Allah, our Lord and Lord of everything, I bear witness that all the servants are brethren; O Allah, our Lord and Lord of everything make me sincere to Thee, and my family too at every moment, in this world and in the world hereafter, O Possessor of glory and honour, listen to me and answer. Allah is incomparably great. O Allah, Light of the heavens and of the earth. The narrator Sulaiman bin Dawud said: Lord of the heavens and of the earth, Allah is incomparably great. Allah is sufficient for me; and the excellent guardian is He; Allah is incomparably great.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٣٦٩٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٦٩)، سنن النسائی/ الیوم واللیلة (١٠١) (ضعیف) (اس کے راوی ” داود طفاوی “ لین الحدیث ہیں )
علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب نماز سے سلام پھیرتے تو کہتے: اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت، وما أسررت وما أعلنت، وما أسرفت، وما أنت أعلم به مني، أنت المقدم وأنت المؤخر لا إله إلا أنت اے اللہ! میرے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دے اور وہ تمام گناہ جنہیں میں نے چھپ کر اور کھلم کھلا کیا ہو، اور جو زیادتی کی ہو اسے اور اس گناہ کو جسے تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، بخش دے۔ تو جسے چاہے آگے کرے، جسے چاہے پیچھے کرے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۔
Ali bin Abi Talib said: When the Prophet ﷺ uttered salutation at the end of the prayer, he used to say: O Allah, forgive me my former and latter sins, what I have kept secret and what I have done openly, and what I have done extravagance; and what You know better than I do. You are the Advancer, the Delayer, there is no god but You.
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ یہ دعا مانگتے تھے: رب أعني ولا تعن علي، وانصرني ولا تنصر علي، وامکر لي ولا تمکر علي، واهدني ويسر هداي إلي، وانصرني على من بغى علي، اللهم اجعلني لک شاکرا لك، ذاکرا لك، راهبا لك، مطواعا إليك مخبتا أو منيبا، رب تقبل توبتي، واغسل حوبتي، وأجب دعوتي، وثبت حجتي، واهد قلبي، وسدد لساني، واسلل سخيمة قلبي اے میرے رب! میری مدد کر، میرے خلاف کسی کی مدد نہ کر، میری تائید کر، میرے خلاف کسی کی تائید نہ کر، ایسی چال چل جو میرے حق میں ہو، نہ کہ ایسی جو میرے خلاف ہو، مجھے ہدایت دے اور جو ہدایت مجھے ملنے والی ہے، اسے مجھ تک آسانی سے پہنچا دے، اس شخص کے مقابلے میں میری مدد کر، جو مجھ پر زیادتی کرے، اے اللہ! مجھے تو اپنا شکر گزار، اپنا یاد کرنے والا اور اپنے سے ڈرنے والا بنا، اپنا اطاعت گزار، اپنی طرف گڑگڑانے والا، یا دل لگانے والا بنا، اے میرے پروردگار! میری توبہ قبول کر، میرے گناہ دھو دے، میری دعا قبول فرما، میری دلیل مضبوط کر، میرے دل کو سیدھی راہ دکھا، میری زبان کو درست کر اور میرے دل سے حسد اور کینہ نکال دے ۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ used to supplicate Allah: My Lord, help me and do not give help against me; grant me victory, and do not grant victory over me; plan on my behalf and do not plan against me; guide me, and made my right guidance easy for me; grant me victory over those who act wrongfully towards me; O Allah, make me grateful to Thee, mindful of Thee, full of fear towards Thee, devoted to Thy obedience, humble before Thee, or penitent. My Lord, accept my repentance, wash away my sin, answer my supplication, clearly establish my evidence, guide my heart, make true my tongue and draw out malice in my breast.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ١٠٣ (٣٥٥١)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ٢ (٣٨٣٠)، سنن النسائی/ الیوم واللیلة (٦٠٧، ٦٠٨)، (تحفة الأشراف: ٥٧٦٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٢٧) (صحیح )
سفیان ثوری کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن مرہ سے اسی سند سے اسی مفہوم کی روایت سنی ہے، اس میں يسر هداي إلي کے بجائے يسر الهدى إلي ہے۔
The aforesaid tradition has also been transmitted by Amr bin Murrah through a different chain of narrators to the same effect. This version adds: And make right guidance easy for me. The narrator did not say: my right guidance. Abu Dawud said: Sufyan heard eighteen traditions from Amr bin Murrah.
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب سلام پھیرتے تو فرماتے: اللهم أنت السلام ومنک السلام تبارکت يا ذا الجلال والإکرام ١ ؎ اے اللہ تو ہی سلام ہے، تیری ہی طرف سے سلام ہے، تو بڑی برکت والا ہے، اے جلال اور بزرگی والے ۔ امام ابوداؤد (رح) کہتے ہیں: سفیان کا سماع عمرو بن مرہ سے ہے، لوگوں نے کہا ہے: انہوں نے عمرو بن مرہ سے اٹھارہ حدیثیں سنی ہیں ٢ ؎۔
Aishah said: When the Prophet ﷺ uttered taslim, he used to say: O Allah, You are As-Salam, and from you is As-Salam. You are blessed, O One of Magnificence and Generosity.
Notes · وضاحت
١ ؎: صحیح روایات سے یہ دعا صرف اتنی ہی ثابت ہے جن روایتوں میں وإليك يرجع السلام وأدخلنا دار السلام، تبارک ربنا وتعاليت يا ذا الجلال والإکرام کی زیادتی آئی ہے وہ کمزور اور ضعیف ہیں۔ ٢ ؎: مولف کا یہ کلام حدیث نمبر (١٥١١) سے متعلق ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٢٦ (٥٩٢)، سنن الترمذی/الصلاة ١٠٩ (٢٩٨)، سنن النسائی/السہو ٨٢ (١٣٣٩)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٣٢ (٩٢٤)، (تحفة الأشراف: ١٦١٨٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٦٢، ١٨٤، ٢٣٥)، سنن الدارمی/الصلاة ٨٨ (١٣٨٧) (صحیح )
ثوبان مولیٰ رسول اللہ ﷺ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب نماز سے فارغ ہو کر پلٹتے تو تین مرتبہ استغفار کرتے، اس کے بعد اللهم کہتے، پھر راوی نے ام المؤمنین عائشہ ؓ کی اوپر والی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔
Thawban, the client of Messenger of Allah ﷺ said: When the Prophet ﷺ finished the prayer, he asked forgiveness three times and said: O Allah. . . . . The narrator then narrated the tradition like that of Aisha (RA) .
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٢٦ (٥٩١)، سنن الترمذی/الصلاة ١٠٩ (٣٠٠)، سنن النسائی/السہو ٨١ (١٣٣٨)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٣٢ (٩٢٨)، (تحفة الأشراف: ٢٠٩٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٧٥، ٢٧٩)، سنن الدارمی/الصلاة ٨٨ (١٣٨٨) (صحیح )