کنکریوں سے تسبیح کو شمار کرنا
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أُمَيَّةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِ جُوَيْرِيَةَ وَكَانَ اسْمُهَا بُرَّةَ، فَحَوَّلَ اسْمَهَا، فَخَرَجَ وَهِيَ فِي مُصَلَّاهَا، وَرَجَعَ وَهِيَ فِي مُصَلَّاهَا، فَقَالَ: لَمْ تَزَالِي فِي مُصَلَّاكِ هَذَا ؟قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: قَدْ قُلْتُ بَعْدَكِ أَرْبَعَ كَلِمَاتٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ لَوْ وُزِنَتْ بِمَا قُلْتِ لَوَزَنَتْهُنَّ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ عَدَدَ خَلْقِهِ وَرِضَا نَفْسِهِ وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ.
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جویریہ ؓ کے پاس سے نکلے (پہلے ان کا نام برہ تھا ١ ؎ آپ نے اسے بدل دیا) ، جب آپ ﷺ نکل کر آئے تب بھی وہ اپنے مصلیٰ پر تھیں اور جب واپس اندر گئے تب بھی وہ مصلیٰ پر تھیں، آپ ﷺ نے پوچھا: کیا تم جب سے اپنے اسی مصلیٰ پر بیٹھی ہو؟ ، انہوں نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: میں نے تمہارے پاس سے نکل کر تین مرتبہ چار کلمات کہے ہیں، اگر ان کا وزن ان کلمات سے کیا جائے جو تم نے (اتنی دیر میں) کہے ہیں تو وہ ان پر بھاری ہوں گے: سبحان الله وبحمده عدد خلقه ورضا نفسه وزنة عرشه ومداد کلماته میں پاکی بیان کرتا ہوں اللہ کی اور اس کی تعریف کرتا ہوں اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر، اس کی مرضی کے مطابق، اس کے عرش کے وزن اور اس کے کلمات کی سیاہی کے برابر ۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ went out from Juwayriyyah (wife of the Prophet). Earlier her name was Barrah, and he changed it. When he went out she was in her place of worship, and when he returned she was in her place of worship. He asked: Have you been in your place of worship continuously? She said: Yes. He then said: Since leaving you I have said three times four phrases which, if weighed against all that you have said (during this period), would prove to be heavier: glory be to Allah, and I begin with praise of Him to the number of His creatures, in accordance with His good pleasure, to the weight of His throne and to the ink (extent) of His words.