عکرمہ سے روایت ہے کہ علی ؓ نے کچھ لوگوں کو جو اسلام سے پھرگئے تھے آگ میں جلوا دیا، ابن عباس ؓ کو یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے کہا: مجھے یہ زیب نہیں دیتا کہ میں انہیں جلاؤں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: تم انہیں وہ عذاب نہ دو جو اللہ کے ساتھ مخصوص ہے میں تو رسول اللہ ﷺ کے قول کی رو سے انہیں قتل کردیتا کیونکہ آپ ﷺ نے فرمایا ہے: جو اسلام چھوڑ کر کوئی اور دین اختیار کرلے اسے قتل کر دو پھر جب علی ؓ کو یہ بات پہنچی تو انہوں نے کہا: اللہ ابن عباس کی ماں پر رحم فرمائے انہوں نے بڑی اچھی بات کہی۔
Ikrimah said: Ali burned some people who retreated from islam. When Ibn Abbas was informed of it, he said: If it had been I, I would not have then burned, for the Messenger of Allah ﷺ said: Do not inflict Allah’s punishment on anyone, but would have had killed them on account of the statement of the Messenger of Allah ﷺ . The Messenger said: Kill those who change their religion. When ‘All was informed about it he said: How truly Ibn Abbas said!
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی مسلمان آدمی کا جو صرف اللہ کے معبود ہونے، اور میرے اللہ کے رسول ہونے کی گواہی دیتا ہو خون حلال نہیں، سوائے تین صورتوں کے: یا تو وہ شادی شدہ زانی ہو، یا اس نے کسی کا قتل کیا ہو تو اس کو اس کے بدلہ قتل کیا جائے گا، یا اپنا دین چھوڑ کر مسلمانوں کی جماعت سے علیحدہ ہوگیا ہو ۔
Abdullah (bin Masud) reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: The blood of a Muslim man who testifies that there is no god but Allah and that I am the Messenger of Allah should not be lawfully shed but only for one of three reasons: married fornicator, soul for soul, and one who deserts his religion separating himself from the community.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الدیات ٦ (٦٨٧٨)، صحیح مسلم/القسامة ٦ (١٦٧٦)، سنن الترمذی/الدیات ١٠ (١٤٠٢)، سنن النسائی/المحاربة ٥ (٤٠٢١)، سنن ابن ماجہ/الحدود ١ (٢٥٣٤)، (تحفة الأشراف: ٩٥٦٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ١/٣٨٢، ٤٢٨، ٤٤٤، ٤٦٥)، دی/ الحدود ٢ (٢٣٤٤) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی مسلمان شخص کا خون جو صرف اللہ کے معبود ہونے اور میرے اللہ کے رسول ہونے کی گواہی دیتا ہو حلال نہیں سوائے تین صورتوں کے ایک وہ شخص جو شادی شدہ ہو اور اس کے بعد زنا کا ارتکاب کرے تو وہ رجم کیا جائے گا، دوسرے وہ شخص جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑنے نکلا ہو تو وہ قتل کیا جائے گا، یا اسے سولی دے دی جائے گی، یا وہ جلا وطن کردیا جائے گا، تیسرے جس نے کسی کو قتل کیا ہو تو اس کے بدلے وہ قتل کیا جائے گا ۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ Said: The blood of a Muslim man who testifies that there is no god but Allah and that Muhammad is Allahs Messenger should not lawfully be shed except only for one of three reasons: a man who committed fornication after marriage, in which case he should be stoned; one who goes forth to fight with Allah and His Messenger, in which case he should be killed or crucified or exiled from the land; or one who commits murder for which he is killed.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/المحاربة ٩ (٤٠٥٣)، (تحفة الأشراف: ١٦٣٢٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ٦/١٨١، ٢١٤) (صحیح )
ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، میرے ساتھ قبیلہ اشعر کے دو شخص تھے، ایک میرے دائیں طرف تھا دوسرا بائیں طرف، تو دونوں نے آپ سے عامل کا عہدہ طلب کیا، اور آپ ﷺ خاموش رہے، پھر فرمایا: ابوموسیٰ! یا فرمایا: عبداللہ بن قیس! تم کیا کہتے ہو؟ میں نے عرض کیا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، ان دونوں نے مجھے اس چیز سے آگاہ نہیں کیا تھا جو ان کے دل میں تھا، اور مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ آپ سے عامل بنائے جانے کا مطالبہ کریں گے، گویا میں اس وقت آپ کی مسواک کو دیکھ رہا ہوں، وہ آپ ﷺ کے مسوڑھے کے نیچے تھی اور مسوڑھا اس کی وجہ سے اوپر اٹھا ہوا تھا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ہم اپنے کام پر اس شخص کو ہرگز عامل نہیں بنائیں گے یا عامل نہیں بناتے جو عامل بننے کی خواہش کرے، لیکن اے ابوموسیٰ! یا آپ نے فرمایا: اے عبداللہ بن قیس! اس کام کے لیے تم جاؤ چناچہ آپ ﷺ نے انہیں بھیج دیا، پھر ان کے پیچھے معاذ بن جبل ؓ کو بھیجا، جب معاذ بن جبل ؓ ان کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: اترو، اور ایک گاؤ تکیہ ان کے لیے لگا دیا، تو اچانک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ ایک آدمی ان کے پاس بندھا ہوا ہے، معاذ ؓ نے پوچھا: یہ کیسا آدمی ہے؟ ابوموسیٰ نے کہا: یہ ایک یہودی تھا جو اسلام لے آیا تھا، لیکن اب پھر وہ اپنے باطل دین کی طرف پھر گیا ہے، معاذ ؓ نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ کے مطابق جب تک یہ قتل نہ کردیا جائے میں نہیں بیٹھ سکتا، ابوموسیٰ نے کہا: اچھا بیٹھئیے، معاذ نے پھر کہا: اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ کی رو سے جب تک وہ قتل نہ کردیا جائے میں نہیں بیٹھ سکتا، آپ نے تین بار ایسا کہا، چناچہ انہوں نے اس کے قتل کا حکم دیا، وہ قتل کردیا گیا، (پھر وہ بیٹھے) پھر ان دونوں نے آپس میں قیام اللیل (تہجد کی نماز) کا ذکر کیا تو ان دونوں میں سے ایک نے غالباً وہ معاذ بن جبل ؓ تھے کہا: رہا میں، تو میں سوتا بھی ہوں، اور قیام بھی کرتا ہوں، یا کہا قیام بھی کرتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، اور بحالت نیند بھی اسی ثواب کی امید رکھتا ہوں جو بحالت قیام رکھتا ہوں۔
Abu Burdah said on the authority of Abu Musa (RA) : I went to the Prophet ﷺ while two men who were Ash’ arIs were with me. One of them was on my right and the other on my left side. Bothe of them asked him for employment. The prophet ﷺ was silent. He asked: What do you say Abu Musa, or Abdullah bin Qais (Abu Musa’s name)? I replied: By him who has sent you with truth, they did not inform me of what they had in their hearts, and I did not know that they would ask for an employment. He said: I have the scene before my eyes that he had his toothstick below his lip which receded. He (the prophet) said: We will never or will not put in charge of our work anyone who asks for it. But go, ye, Abu Musa, or Abdullah bin Qais. He then sent him as a Governor of the Yemen, After him he sent Muadh bin Jabal. When Muadh came to him, he said: come down, and he put a cushion for him. He saw that a man was chained with him. He asked: What is this? He replied: He was a Jew and he accepted Islam. He then converted to his religion, an evil religion. He said: I will not sit until he is killed according to the decision of Allah and his Messenger ﷺ . He said: Yes, be seated. He said: I will not sit until he is killed according to the decision of Allah and his Messenger ﷺ . He said it three times. He then commanded for it and he was killed. Both of them then discussed the question of prayer and vigilance at night. One of them, probably Muadh, said: So far as I am concerned, I sleep and I keep vigilance: I keep vigilance and I sleep: I hope for the same reward for my sleep as for my vigilance.
ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ میرے پاس معاذ ؓ آئے، میں یمن میں تھا، ایک یہودی نے اسلام قبول کرلیا، پھر وہ اسلام سے مرتد ہوگیا، تو جب معاذ ؓ آئے کہنے تو لگے: میں اس وقت تک اپنی سواری سے نہیں اتر سکتا جب تک وہ قتل نہ کردیا جائے چناچہ وہ قتل کردیا گیا، اس سے پہلے اسے توبہ کے لیے کہا جا چکا تھا۔
Narrated Muadh ibn Jabal (RA) : Abu Musa said: Muadh came to me when I was in the Yemen. A man who was Jew embraced Islam and then retreated from Islam. When Muadh came, he said: I will not come down from my mount until he is killed. He was then killed. One of them said: He was asked to repent before that.
اس سند سے بھی ابوبردہ ؓ سے یہی واقعہ مروی ہے، وہ کہتے ہیں ابوموسیٰ ؓ کے پاس ایک شخص کو لے کر آیا گیا جو اسلام سے مرتد گیا تھا، بیس دن تک یا اس کے لگ بھگ وہ اسے اسلام کی دعوت دیتے رہے کہ اسی دوران معاذ ؓ آگئے تو آپ نے بھی اسے اسلام کی دعوت دی لیکن اس نے انکار کردیا تو آپ نے اس کی گردن مار دی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عبدالملک بن عمیر نے ابوبردہ سے روایت کیا ہے لیکن انہوں نے اس میں توبہ کرانے کا ذکر نہیں کیا ہے اور اسے ابن فضیل نے شیبانی سے شیبانی نے سعید بن ابی بردہ سے، ابوبردہ نے اپنے والد ابوبردہ سے اور ابوبردہ نے ابوموسیٰ اشعری سے روایت کیا ہے اور اس میں بھی انہوں نے توبہ کرانے کا ذکر نہیں کیا ہے ۔
Abu Burdah said: A man who turned back from Islam was brought to Abu Musa. He invited him to repent for twenty days or about so. Muadh then came and invited him (to embrace Islam) but he refused. So he was beheaded.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم: ٤٣٥٤، (تحفة الأشراف: ٩٠٩٦، ٩١١٣، ١٩١٩٥) (صحیح الإسناد )
قاسم سے بھی یہی واقعہ مروی ہے اس میں ہے کہ جب تک اس کی گردن مار نہیں دی گئی وہ سواری سے نیچے نہیں اترے اور انہوں نے اس سے توبہ نہیں کرائی ١ ؎۔
The tradition mention above has also been transmitted by Abu Musa through a different chain if narrators. But there is no mention of demand of repentance.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ اس سے پہلے والی روایت کے معارض ہے جس میں ذکر ہے کہ معاذ ؓ نے اسے اسلام کی دعوت دی لیکن اس نے اسے قبول نہیں کیا لیکن مسعودی کی یہ روایت سنداً ضعیف ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم: (٤٣٥٤)، (تحفة الأشراف: ٩٠٩٦) (ضعیف الإسناد )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن سعد بن ابی سرح ١ ؎ رسول اللہ ﷺ کا منشی تھا، پھر شیطان نے اس کو بہکا لیا، اور وہ کافروں سے جا ملا تو رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن اس کے قتل کا حکم دیا، پھر عثمان بن عفان ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے لیے امان مانگی تو آپ نے اسے امان دی۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : Abdullah ibn Abu Sarh used to write (the revelation) for the Messenger of Allah ﷺ . Satan made him slip, and he joined the infidels. The Messenger of Allah ﷺ commanded to kill him on the day of Conquest (of Makkah). Uthman ibn Affan sought protection for him. The Messenger of Allah ﷺ gave him protection.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ عثمان ؓ کے رضاعی بھائی تھے، عثمان انہیں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں لے آئے اور اس کی معافی کے لئے بہت زیادہ شفارش کی تو ان کا قصور معاف ہوگیا۔
سعد ؓ کہتے ہیں کہ جب مکہ فتح ہوا تو عبداللہ بن سعد بن ابی سرح عثمان بن عفان ؓ کے پاس چھپ گیا، پھر آپ نے اسے نبی اکرم ﷺ کے پاس لا کھڑا کیا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! عبداللہ سے بیعت لے لیجئے، آپ ﷺ نے اپنا سر اٹھایا اور اس کی طرف تین بار دیکھا، ہر بار آپ انکار فرماتے رہے، پھر تین دفعہ کے بعد آپ نے اس سے بیعت لے لی پھر آپ ﷺ اپنے صحابہ کی جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا: کیا تم میں کوئی ایسا نیک بخت انسان نہیں تھا کہ اس وقت اسے کھڑا ہوا پا کر قتل کردیتا، جب اس نے یہ دیکھ لیا تھا کہ میں اس سے بیعت کے لیے اپنا ہاتھ روکے ہوئے ہوں تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کا جو منشا تھا ہمیں معلوم نہ ہوسکا، آپ نے اپنی آنکھ سے ہمیں اشارہ کیوں نہیں کردیا ١ ؎، آپ ﷺ نے فرمایا: کسی نبی کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ کنکھیوں سے پوشیدہ اشارے کرے ۔
Narrated Saad ibn Abu Waqqas (RA) : On the day of the conquest of Makkah, Abdullah ibn Saad ibn Abu Sarh hid himself with Uthman ibn Affan. He brought him and made him stand before the Prophet ﷺ , and said: Accept the allegiance of Abdullah, Messenger of Allah! He raised his head and looked at him three times, refusing him each time, but accepted his allegiance after the third time. Then turning to his companions, he said: Was not there a wise man among you who would stand up to him when he saw that I had withheld my hand from accepting his allegiance, and kill him? They said: We did not know what you had in your heart, Messenger of Allah! Why did you not give us a signal with your eye? He said: It is not advisable for a Prophet to play deceptive tricks with the eyes.
Notes · وضاحت
١ ؎: کیوں کنکھیوں سے اشارہ کرنا یہ ایسے دنیاداروں کا طریقہ ہے جنہیں اللہ کا خوف نہیں ہوتا۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٢٦٨٣)، (تحفة الأشراف: ٣٩٣٨) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کا بیان ہے کہ ایک نابینا شخص کے پاس ایک ام ولد تھی جو نبی اکرم ﷺ کو گالیاں دیتی اور آپ کی ہجو کیا کرتی تھی، وہ نابینا اسے روکتا تھا لیکن وہ نہیں رکتی تھی، وہ اسے جھڑکتا تھا لیکن وہ کسی طرح باز نہیں آتی تھی حسب معمول ایک رات اس نے آپ ﷺ کی ہجو شروع کی، اور آپ کو گالیاں دینے لگی، تو اس (اندھے) نے ایک چھری لی اور اسے اس کے پیٹ پر رکھ کر خوب زور سے دبا کر اسے ہلاک کردیا، اس کے دونوں پاؤں کے درمیان اس کے پیٹ سے ایک بچہ گرا جس نے اس جگہ کو جہاں وہ تھی خون سے لت پت کردیا، جب صبح ہوئی تو آپ ﷺ سے اس حادثہ کا ذکر کیا گیا، آپ نے لوگوں کو اکٹھا کیا، اور فرمایا: جس نے یہ کیا ہے میں اس سے اللہ کا اور اپنے حق کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ وہ کھڑا ہوجائے تو وہ اندھا کھڑا ہوگیا اور لوگوں کی گردنیں پھاندتے اور ہانپتے کانپتے آ کر آپ ﷺ کے سامنے بیٹھ گیا، اور عرض کرنے لگا: اللہ کے رسول میں اس کا مولی ہوں، وہ آپ کو گالیاں دیتی اور آپ کی ہجو کیا کرتی تھی، میں اسے منع کرتا تھا لیکن وہ نہیں رکتی تھی، میں اسے جھڑکتا تھا لیکن وہ کسی صورت سے باز نہیں آتی تھی، میرے اس سے موتیوں کے مانند دو بچے ہیں، وہ مجھے بڑی محبوب تھی تو جب کل رات آئی حسب معمول وہ آپ کو گالیاں دینے لگی، اور ہجو کرنی شروع کی، میں نے ایک چھری اٹھائی اور اسے اس کے پیٹ پر رکھ کر خوب زور سے دبا دیا، وہ اس کے پیٹ میں گھس گئی یہاں تک کہ میں نے اسے مار ہی ڈالا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگو! سنو تم گواہ رہنا کہ اس کا خون لغو ہے ۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas (RA) : A blind man had a slave-mother who used to abuse the Prophet ﷺ and disparage him. He forbade her but she did not stop. He rebuked her but she did not give up her habit. One night she began to slander the Prophet ﷺ and abuse him. So he took a dagger, placed it on her belly, pressed it, and killed her. A child who came between her legs was smeared with the blood that was there. When the morning came, the Prophet ﷺ was informed about it. He assembled the people and said: I adjure by Allah the man who has done this action and I adjure him by my right to him that he should stand up. Jumping over the necks of the people and trembling the man stood up. He sat before the Prophet ﷺ and said: Messenger of Allah! I am her master; she used to abuse you and disparage you. I forbade her, but she did not stop, and I rebuked her, but she did not abandon her habit. I have two sons like pearls from her, and she was my companion. Last night she began to abuse and disparage you. So I took a dagger, put it on her belly and pressed it till I killed her. Thereupon the Prophet ﷺ said: Oh be witness, no retaliation is payable for her blood.
علی ؓ کہتے ہیں کہ ایک یہودی عورت نبی اکرم ﷺ کو گالیاں دیتی اور آپ کی ہجو کیا کرتی تھی، تو ایک شخص نے اس کا گلا گھونٹ دیا، یہاں تک کہ وہ مرگئی تو رسول اللہ ﷺ نے اس کا خون باطل ٹھہرا دیا۔
Narrated Ali ibn Abu Talib: A Jewess used to abuse the Prophet ﷺ and disparage him. A man strangled her till she died. The Messenger of Allah ﷺ declared that no recompense was payable for her blood.
ابوبرزہ ؓ کہتے ہیں کہ میں ابوبکر ؓ کے پاس تھا، وہ ایک شخص پر ناراض ہوئے اور بہت سخت ناراض ہوئے تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول کے خلیفہ! مجھے اجازت دیجئیے میں اس کی گردن مار دوں، میری اس بات نے ان کے غصہ کو ٹھنڈا کردیا، پھر وہ اٹھے اور اندر چلے گئے، پھر مجھ کو بلایا اور پوچھا: ابھی تم نے کیا کہا تھا؟ میں نے کہا: میں نے کہا تھا: مجھے اجازت دیجئیے، میں اس کی گردن مار دوں، بولے: اگر میں تمہیں حکم دے دیتا تو تم اسے کر گزرتے؟ میں نے عرض کیا: ہاں، ضرور، بولے: نہیں، قسم اللہ کی! محمد ﷺ کے بعد کسی آدمی کو بھی یہ مرتبہ حاصل نہیں ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ یزید کے الفاظ ہیں، احمد بن حنبل کہتے ہیں: یعنی ابوبکر ایسا نہیں کرسکتے تھے کہ وہ کسی شخص کو بغیر ان تین باتوں میں سے کسی ایک کے جسے رسول اللہ ﷺ نے بیان کیا ہے قتل کرنے کا حکم دے دیں: ایک ایمان کے بعد کافر ہوجانا دوسرے شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کرنا، تیسرے بغیر نفس کے کسی نفس کو قتل کرنا، البتہ نبی اکرم ﷺ قتل کرسکتے تھے۔
Narrated Abu Bakr (RA) : Abu Barzah said: I was with Abu Bakr. He became angry at a man and uttered hot words. I said: Do you permit me, Caliph of the Messenger of Allah ﷺ , that I cut off his neck? These words of mine removed his anger; he stood and went in. He then sent for me and said: What did you say just now? I said: (I had said:) Permit me that I cut off his neck. He said: Would you do it if I ordered you? I said: Yes. He said: No, I swear by Allah, this is not allowed for any man after Muhammad ﷺ . Abu Dawud said: This is Yazids version. Ahmad bin Hanbal said: That is, Abu Bakr has no powers to slay a man except for three reasons which the Messenger of Allah ﷺ had mentioned: disbelief after belief, fornication after marriage, or killing a man without (murdering) any man by him. The Prophet ﷺ had powers to kill.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی رسول اللہ ﷺ ہی کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ جو کوئی آپ کو برا بھلا کہے یا گالی دے تو آپ اس کی گردن مارنے کا حکم دیں، دوسرے کسی کو یہ خصوصیت حاصل نہیں۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ قبیلہ عکل، یا قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو مدینہ کی آب و ہوا انہیں راس نہ آئی، رسول اللہ ﷺ نے انہیں دودھ والی چند اونٹنیاں دلوائیں، اور انہیں حکم دیا کہ وہ ان کے پیشاب اور دودھ پئیں، وہ (اونٹنیاں لے کر) چلے گئے جب وہ صحت یاب ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ کے چرواہے کو قتل کر ڈالا، اور اونٹ ہانک لے گئے تو نبی اکرم ﷺ کو صبح ہی صبح اس کی خبر مل گئی، چناچہ آپ نے ان کے تعاقب میں لوگوں کو روانہ کیا، تو ابھی دن بھی اوپر نہیں چڑھنے پایا تھا کہ انہیں پکڑ کرلے آیا گیا، آپ ﷺ نے حکم دیا تو ان کے ہاتھ اور پیر کاٹ دئیے گئے، ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیر دی گئیں، اور وہ گرم سیاہ پتھریلی زمین میں ڈال دیئے گئے، وہ پانی مانگتے تھے لیکن انہیں پانی نہیں دیا جاتا تھا، ابوقلابہ کہتے ہیں: ان لوگوں نے چوری کی تھی، قتل کیا تھا، ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے تھے اور اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی تھی۔
Anas bin Malik (RA) said: Some people of ‘Ukl or ‘Urainah’ came to the Messenger of Allah ﷺ and found Madinah unhealthy. So the Messenger of Allah ﷺ ordered them to go to the camels (of the sadaqah) and ordered them to drink some of their urine and milk. They went there when they became well, they killed the herdsman of the Messenger of Allah ﷺ and drove off the camels. The news about them reached the prophet ﷺ early in the morning. So he sent people in pursuit of them, and they were brought when they day had risen high. He ordered and their hands and feet were cut off and nails were drawn into their eyes, and they were thrown out of Harrah. They begged for water but were not supplied water. Abu Qilabah said: They were people who had stolen, killed, apostatized after their faith and fought against Allah and his Messenger ﷺ .
اس سند سے بھی ایوب سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے آپ ﷺ نے سلائیوں کو گرم کرنے کا حکم دیا تو وہ گرم کی گئیں، پھر انہیں آپ ﷺ نے ان کی آنکھوں میں پھیر دیں، ان کے ہاتھ اور پیر کاٹ ڈالے، اور ان کو یکبارگی ہی نہیں مار ڈالا۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by the narrator Ayyub through different chain. This version has: So he (the prophet) order nails to be heated and had them blinded with them, and he had their hands and feet cut off, and did not cauterise them to stop the flow of blood.
انس بن مالک ؓ سے بھی یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے تعاقب میں کچھ مخبر بھیجے تو انہیں پکڑ کر لایا گیا، تو اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں آیت کریمہ إنما جزاء الذين يحاربون الله ورسوله ويسعون في الأرض فسادا جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کر دئیے جائیں (سورۃ المائدہ: ٣٣) اتاری۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Anas. bin Malik through a different chain of narrators. This version says: The Messenger of Allah ﷺ sent some people who were experts in tracking in pursuit of them and they were brought (to him). Allah, the Exalted, then revealed the verse about it: “ The punishment of those who wage war against Allah and his Messenger and strive for mischief through the land.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٤٣٦٤)، (تحفة الأشراف: ٩٤٥) (صحیح )
انس بن مالک ؓ سے بھی یہی حدیث مروی ہے اس میں انس کہتے ہیں کہ میں نے ان میں سے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ پیاس کی وجہ سے زمین کو اپنے منہ سے کاٹتا تھا یہاں تک کہ وہ سب (پیاس سے تڑپ تڑپ کر) مرگئے۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Anas. bin Malik through a different chain of narrators. This version has: Anas said: I saw one of them biting the earth with this mouth (teeth) on account of thirst and this they died.
اس سند سے بھی انس بن مالک سے یہی حدیث انہیں جیسے الفاظ سے مروی ہے اس میں یہ اضافہ ہے پھر آپ نے مثلہ سے منع فرما دیا اور اس میں یہ ذکر نہیں ہے کہ ایک طرف کا ہاتھ کاٹا تو دوسرے طرف کا پیر۔ شعبہ نے قتادہ اور سلام بن مسکین سے انہوں نے ثابت سے، ثابت نے انس سے روایت کی ہے لیکن ان دونوں نے بھی یہ ذکر نہیں کیا ہے کہ ایک طرف کا ہاتھ کاٹا، تو دوسری طرف کا پیر اور مجھے حماد بن سلمہ کے علاوہ کسی کی روایت میں یہ اضافہ نہیں ملا کہ ایک طرف کا ہاتھ کاٹا تو دوسری طرف کا پیر۔
A similar tradition has also been transmitted by Anas bin Malik (RA) through a different chain of narrators. This version adds: He then forbade disfiguring. This version does not mention the words “ from opposite sides”. This tradition has been narrated by Shubah from Qatadah and Salam bin Miskin from Thabit on the authority of Anas. They did not mention the words “from opposite side”. I did not find these words “their hands and feet were cut off from opposite sides”. In any version except in the version of Hammad bin Salamah.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم: (٤٣٦٤)، (تحفة الأشراف: ١٣٨٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٧٧) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کے اونٹوں کو لوٹ کر انہیں ہنکا لے گئے، اسلام سے مرتد ہوگئے، اور آپ ﷺ کے مومن چرواہے کو قتل کردیا، تو آپ نے ان کے تعاقب میں کچھ لوگوں کو بھیجا، وہ پکڑے گئے، تو آپ ﷺ نے ان کے ہاتھ اور پیر کاٹ دیئے گئے، اور ان کی آنکھوں پر گرم سلائیاں پھیر دیں، انہیں لوگوں کے متعلق آیت محاربہ نازل ہوئی، اور انہیں لوگوں کے متعلق انس بن مالک ؓ نے حجاج کو خبر دی تھی جس وقت اس نے آپ سے پوچھا تھا۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : Some people raided the camels of the Prophet ﷺ , drove them off, and apostatised. They killed the herdsman of the Messenger of Allah ﷺ who was a believer. He (the Prophet) sent (people) in pursuit of them and they were caught. He had their hands and feet cut off, and their eyes put out. The verse regarding fighting against Allah and His Prophet ﷺ was then revealed. These were the people about whom Anas ibn Malik informed al-Hajjaj when he asked him.
ابوالزناد سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب ان لوگوں کے (ہاتھ پاؤں) کاٹے جنہوں نے آپ کے اونٹ چرائے تھے اور ان کی آنکھوں میں آگ کی سلائیاں پھیریں تو اللہ تعالیٰ نے آپ پر اس سلسلہ میں عتاب فرمایا: اور آیت محاربہ إنما جزاء الذين يحاربون الله ورسوله ويسعون في الأرض فسادا أن يقتلوا أو يصلبوا جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کر دئیے جائیں یا سولی پر چڑھا دئیے جائیں (سورۃ المائدہ: ٣٣) اخیر تک نازل فرمائی۔
Narrated Abuz Zinad (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ cut off (the hands and feet of) those who had stolen his camels and he had their eyes put out by fire (heated nails), Allah reprimanded him on that (action), and Allah, the Exalted, revealed: The punishment of those who wage war against Allah and His Messenger and strive with might and main for mischief through the land is execution or crucifixion.