مرتدین کا حکم
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِذَا أَبَقَ الْعَبْدُ إِلَى الشِّرْكِ فَقَدْ حَلَّ دَمُهُ.
جریر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جب غلام دارالحرب بھاگ جائے تو اس کا خون مباح ہوگیا ١ ؎۔
Jarir reported the prophet ﷺ as saying: When a slave runs away and reverts to polytheism, he may lawfully be killed.
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ جب دارالحرب کی طرف بھاگ جانے سے اس کا خون مباح ہوگیا تو اس کے ساتھ اگر وہ مرتد بھی ہوگیا تو بدرجہ اولیٰ اس کا خون مباح ہوگا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان (٦٨)، سنن النسائی/المحاربة ١٠ (٤٠٥٧)، (تحفة الأشراف: ٣٢١٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ٤/٣٦٥) (ضعیف )