سزاؤں کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 35 · 137 hadiths · Page 2 of 8

4371Sunan Abu Dawood

اللہ اور رسول سے جنگ کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا. ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الْحُدُودُ يَعْنِي حَدِيثَ أَنَسٍ.

محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ یہ حدود کے نازل کئے جانے سے پہلے کی ہے یعنی انس ؓ کی روایت۔

Muhammad bin Sirin said: This happened before the prescribed punishments (hudud) were revealed, meaning the tradition of Anas.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ الطب ٦ (٥٦٨٦)، (تحفة الأشراف: ١٩٢٩١) (ضعیف )
4372Sunan Abu Dawood

اللہ اور رسول سے جنگ کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلافٍ أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الأَرْضِ إِلَى قَوْلِهِ غَفُورٌ رَحِيمٌ سورة المائدة آية 33 ـ 34 نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي الْمُشْرِكِينَ، فَمَنْ تَابَ مِنْهُمْ قَبْلَ أَنْ يُقْدَرَ عَلَيْهِ لَمْ يَمْنَعْهُ ذَلِكَ أَنْ يُقَامَ فِيهِ الْحَدُّ الَّذِي أَصَابَهُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ آیت کریمہ إنما جزاء الذين يحاربون الله ورسوله ويسعون في الأرض فسادا أن يقتلوا أو يصلبوا أو تقطع أيديهم وأرجلهم من خلاف أو ينفوا من الأرض سے غفور رحيم تک مشرکین کے متعلق نازل ہوئی ہے تو جو اس پر قابو پائے جانے سے پہلے توبہ کرلے تو ایسا نہ ہوگا کہ اس کے ذمہ سے حد ساقط ہوجائے ٢ ؎۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The verse The punishment of those who wage war against Allah and His Messenger, and strive with might and main for mischief through the land is execution, or crucifixion, or the cutting off of hands and feet from opposite side or exile from the land. . . most merciful was revealed about polytheists. If any of them repents before they are arrested, it does not prevent from inflicting on him the prescribed punishment which he deserves.

Notes · وضاحت
١ ؎: سنن نسائی میں یہاں عبارت اس طرح ہے: فمن تاب منهم قبل أن يقدر عليه لم يكن عليه سبيل، وليست هذه الآية للرجل المسلم، فمن قتل وأفسد في الأرض وحارب الله ورسوله ثم لحق بالکفار قبل أن يقدر عليه لم يمنعه ذلك أن يقام فيه الحد الذي أصابه۔ ٢ ؎: یہ صرف ابن عباس ؓ کا مذہب ہے، جمہور علماء کی رائے اس کے خلاف ہے، نیز اس کے راوی علی بن حسین کے بارے میں کلام ہے، ان کا حافظہ کمزور تھا اس لئے انہیں وہم ہوجاتا تھا۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/المحاربة ٧ (٤٠٥١)، (تحفة الأشراف: ٦٢٥١) (حسن )
4373Sunan Abu Dawood

حدشرعی کے دفع کے لئے سفارش کا حکم

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي. ح حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَااللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ، فَقَالُوا: مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا يَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: وَمَنْ يَجْتَرِئُ إِلَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَكَلَّمَهُ أُسَامَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أُسَامَةُ أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ، ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ، فَقَالَ: إِنَّمَا هَلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ وَايْمُ اللَّهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ قریش کو ایک مخزومی عورت جس نے چوری کی تھی کے معاملہ نے فکرمند کردیا، وہ کہنے لگے: اس عورت کے سلسلہ میں کون رسول اللہ ﷺ سے بات کرے گا؟ لوگوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے چہیتے اسامہ بن زید ؓ کے سوا اور کس کو اس کی جرات ہوسکتی ہے؟ چناچہ اسامہ ؓ نے آپ سے اس سلسلہ میں گفتگو کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: اسامہ! کیا تم اللہ کے حدود میں سے ایک حد کے سلسلہ میں مجھ سے سفارش کرتے ہو! پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا، آپ نے اس خطبہ میں فرمایا: تم سے پہلے کے لوگ اسی وجہ سے ہلاک ہوئے کیونکہ ان میں جب کوئی معزز آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کسی کمزور سے یہ جرم سرزد ہوجاتا تو اس پر حد قائم کرتے، قسم اللہ کی اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرے تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ ڈالوں گا ۔

Aishah said: The Quraish were anxious about the Makhzumi woman who had committed theft, They said: Who will speak to the Messenger of Allah ﷺ about her ? Then they said: Who will be bold enough for it but Uasmah bin Zaid, the prophet’s ﷺ friend! So Usamah spoke to him, and the Messenger of Allah ﷺ said: Are you interceding regarding one of the punishments prescribed by Allah ? He then got up and gave an address, saying: What destroyed your predecessors was just that when a person of rank among them committed a theft, They left him alone, and when a weak one of them committed a theft, they inflicted the prescribed punishment on him. I swear by Allah that if Fatimah daughter of Muhammad should steal, I would have her hand cut off.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الشہادات ٨ (٢٦٤٨)، الأنبیاء ٥٤ (٣٤٧٥)، فضائل الصحابة ١٨ (٣٧٣٢)، المغازي ٥٣ (٤٣٠٤)، الحدود ١١ (٦٧٨٧)، ١٢ (٦٧٨٨)، ١٤ (٦٨٠٠)، صحیح مسلم/الحدود ٢ (١٦٨٨)، سنن الترمذی/الحدود ٦ (١٤٣٠)، سنن النسائی/قطع السارق ٥ (٤٩٠٣)، سنن ابن ماجہ/الحدود ٦ (٢٥٤٧)، (تحفة الأشراف: ١٦٥٧٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ٦/١٦٢)، سنن الدارمی/الحدود ٥ (٢٣٤٨) (صحیح )
4374Sunan Abu Dawood

حدشرعی کے دفع کے لئے سفارش کا حکم

حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، ومُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَتِ امْرَأَةٌ مَخْزُومِيَّةٌ تَسْتَعِيرُ الْمَتَاعَ وَتَجْحَدُهُ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَطْعِ يَدِهَا وَقَصَّ نَحْوَ حَدِيثِ اللَّيْثِ، قَالَ: فَقَطَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهَا، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى ابْنُ وَهْبٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَقَالَ فِيهِ كَمَا قَالَ اللَّيْثُ: إِنَّ امْرَأَةً سَرَقَتْ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ الْفَتْحِ، وَرَوَاهُ اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِإِسْنَادِهِ، فَقَالَ: اسْتَعَارَتِ امْرَأَةٌ وَرَوَى مَسْعُودُ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا الْخَبَرِ قَالَ: سَرَقَتْ قَطِيفَةً مِنْ بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَوَاهُ أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ امْرَأَةً سَرَقَتْ فَعَاذَتْ بِزَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ایک مخزومی عورت سامان مانگ کرلے جایا کرتی اور واپسی کے وقت اس کا انکار کردیا کرتی تھی، تو نبی اکرم ﷺ نے حکم دیا کہ اس کا ہاتھ کاٹ لیا جائے۔ اور معمر نے لیث جیسی روایت بیان کی اس میں ہے تو نبی اکرم ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹ لیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن وہب نے اس حدیث کو یونس سے، یونس نے زہری سے روایت کیا، اور اس میں ویسے ہی ہے جیسے لیث نے کہا ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم ﷺ کے عہد میں فتح مکہ کے سال چوری کی۔ اور اسے لیث نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے اسی سند سے روایت کیا ہے اس میں ہے کہ اس عورت نے (کوئی چیز) منگنی (مانگ کر) لی تھی (پھر وہ مکر گئی تھی) ۔ اور اسے مسعود بن اسود نے نبی اکرم ﷺ سے اسی حدیث کے مثل روایت کیا ہے اس میں یہ ہے کہ اس نے نبی اکرم ﷺ کے گھر سے ایک چادر چرائی تھی۔ اور ابوزبیر نے جابر سے اسے یوں روایت کیا ہے کہ ایک عورت نے چوری کی، پھر اس نے رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی زینب کی پناہ لی۔

Aishah said: A Makhzumi woman used to borrow goods and deny having received them, so the prophet ﷺ gave orders that her hand should be cut off. The narrator than transmitted the rest of the tradition like that of al-laith, saying: So the prophet ﷺ had her hand cut off. Abu dawud said: Ibn Wahb transmitted this tradition from Yunus on the authority of al-Zuhri, and in this version he said al-Laith has said: A woman committed theft during the lifetime of the Prophet ﷺ on the occasion of the Conquest (of Makkah). It has been transmitted by al-Laith from Yunus on the authority of Ibn Shihab through his chain of narrators. He said in this version: A woman borrowed goods. Masud bin al-Aswad also transmitted a similar tradition from the Prophet ﷺ and said: A velvet was stolen from the house of the Messenger of Allah ﷺ . Abu Dawud said: Abu al-Zubair reported on the authority of Jabir: A woman committed theft and took refuge with Zainab daughter of Prophet ﷺ .

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحدود ٢ (١٦٨٨)، (تحفة الأشراف: ١٦٦٤٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٦٢)، ویأتی برقم (٤٣٩٧) (صحیح)
4375Sunan Abu Dawood

حدشرعی کے دفع کے لئے سفارش کا حکم

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَيْدٍ نَسَبَهُ جَعْفَرٌ إِلَى سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَقِيلُوا ذَوِي الْهَيْئَاتِ عَثَرَاتِهِمْ إِلَّا الْحُدُودَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: صاحب حیثیت اور محترم وبا وقار لوگوں کی لغزشوں کو معاف کردیا کرو سوائے حدود کے ۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ Said: Forgive the people of good qualities their slips, but not faults to which prescribed penalties apply.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٧٩١٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ٦/١٨١) (صحیح )
4376Sunan Abu Dawood

حاکم تک جرم کا مقدمہ پہنچنے سے پہلے پہلے اسے معاف کردیا جائے

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ جُرَيْجٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: تَعَافُّوا الْحُدُودَ فِيمَا بَيْنَكُمْ فَمَا بَلَغَنِي مِنْ حَدٍّ فَقَدْ وَجَبَ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حدود کو آپس میں نظر انداز کرو، جب حد میں سے کوئی چیز میرے پاس پہنچ گئی تو وہ واجب ہوگئی (اسے معاف نہیں کیا جاسکتا) ۔

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Prophet ﷺ said: Forgive the infliction of prescribed penalties among yourselves, for any prescribed penalty of which I hear must be carried out.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/قطع السارق ٥ (٤٨٨٩)، (تحفة الأشراف: ٨٧٤٧) (صحیح )
4377Sunan Abu Dawood

جن لوگوں پر حد واجب ہو ان کے جرم کو چھپانا چاہیے

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ نُعَيْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ مَاعِزًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقَرَّ عِنْدَهُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَأَمَرَ بِرَجْمِهِ، وَقَالَ لِهَزَّالٍ: لَوْ سَتَرْتَهُ بِثَوْبِكَ كَانَ خَيْرًا لَكَ.

نعیم بن ہزال اسلمی ؓ روایت کرتے ہیں کہ ماعز ؓ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور آپ کے پاس چار دفعہ زنا کا اقرار کیا، تو آپ نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا، اور ہزال (جس نے ان سے اقرار کے لیے کہا تھا) سے کہا: اگر تم اسے اپنے کپڑے ڈال کر چھپالیتے تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہوتا ۔

Narrated Nuaym: Maiz came to the Prophet ﷺ and admitted (having committed adultery) four times in his presence so he ordered him to be stoned to death, but said to Huzzal: If you had covered him with your garment, it would have been better for you.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١١٦٥١)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ٥/٢١٧) (ضعیف )
4378Sunan Abu Dawood

جن لوگوں پر حد واجب ہو ان کے جرم کو چھپانا چاہیے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، أَنْ هَزَّالًا أَمَرَ مَاعِزًا أَنْ يَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُخْبِرَهُ.

ابن المنکدر سے روایت ہے کہ ہزال ؓ نے ماعز ؓ سے کہا تھا کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس جائیں اور آپ کو بتادیں۔

Ibn al-Muakadir said: Huzzal had ordered Ma’iz to go to the prophet ﷺ and tell him (about his having committed adultery).

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١١٧٢٩) (ضعیف) (ابن المنکدر تابعی ہیں، اس لئے ارسال کی وجہ سے حدیث ضعیف ہے )
4379Sunan Abu Dawood

جن لوگوں پر حد واجب ہو ان کے جرم کو چھپانا چاہیے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا الْفِّرْيَابِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ امْرَأَةً خَرَجَتْ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُرِيدُ الصَّلَاةَ فَتَلَقَّاهَا رَجُلٌ فَتَجَلَّلَهَا فَقَضَى حَاجَتَهُ مِنْهَا فَصَاحَتْ وَانْطَلَقَ فَمَرَّ عَلَيْهَا رَجُلٌ، فَقَالَتْ: إِنَّ ذَاكَ فَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا، وَمَرَّتْ عِصَابَةٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ فَقَالَتْ: إِنَّ ذَلِكَ الرَّجُلَ فَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا فَانْطَلَقُوا فَأَخَذُوا الرَّجُلَ الَّذِي ظَنَّتْ أَنَّهُ وَقَعَ عَلَيْهَا فَأَتَوْهَا بِهِ فَقَالَتْ: نَعَمْ هُوَ هَذَا، فَأَتَوْا بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَمَرَ بِهِ قَامَ صَاحِبُهَا الَّذِي وَقَعَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا صَاحِبُهَا، فَقَالَ لَهَا: اذْهَبِي فَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكِ، وَقَالَ لِلرَّجُلِ قَوْلًا حَسَنًا، قَالَ أَبُو دَاوُد: يَعْنِي الرَّجُلَ الْمَأْخُوذَ، وَقَالَ لِلرَّجُلِ الَّذِي وَقَعَ عَلَيْهَا ارْجُمُوهُ، فَقَالَ: لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَقُبِلَ مِنْهُمْ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ أَيْضًا، عَنْ سِمَاكٍ.

وائل ؓ کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں نماز پڑھنے کے ارادہ سے نکلی تو اس سے ایک مرد ملا اور اسے دبوچ لیا، اور اس سے اپنی خواہش پوری کی تو وہ چلائی، وہ جا چکا تھا، اتنے میں اس کے پاس سے ایک اور شخص گزرا تو وہ کہنے لگی کہ اس (فلاں) نے میرے ساتھ ایسا ایسا کیا ہے، اتنے میں مہاجرین کی ایک جماعت بھی آگئی ان سے بھی اس نے یہی کہا کہ اس نے اس کے ساتھ ایسا ایسا کیا ہے، تو وہ سب گئے اور اس شخص کو پکڑا جس کے متعلق اس نے کہا تھا کہ اس نے اس کے ساتھ زنا کیا ہے، اور اسے لے کر آئے، تو اس نے کہا: ہاں اسی نے کیا ہے، چناچہ وہ لوگ اسے لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، تو آپ ﷺ نے اس کے سلسلہ میں حکم دیا (کہ اس پر حد جاری کی جائے) یہ دیکھ کر اصل شخص جس نے اس سے صحبت کی تھی کھڑا ہوگیا، اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! فی الواقع یہ کام میں نے کیا ہے، تو آپ ﷺ نے اس عورت سے فرمایا: تم جاؤ اللہ تعالیٰ نے تمہیں بخش دیا (کیونکہ یہ تیری رضا مندی سے نہیں ہوا تھا) اور اس آدمی سے بھلی بات کہی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مراد وہ آدمی ہے (ناحق) جو پکڑا گیا تھا، اور اس آدمی کے متعلق جس نے زنا کیا تھا فرمایا: اس کو رجم کر دو پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ سارے مدینہ کے لوگ ایسی توبہ کریں تو ان کی طرف سے وہ قبول ہوجائے ۔

Narrated Wail ibn Hujr (RA) : When a woman went out in the time of the Prophet ﷺ for prayer, a man attacked her and overpowered (raped) her. She shouted and he went off, and when a man came by, she said: That (man) did such and such to me. And when a company of the Emigrants came by, she said: That man did such and such to me. They went and seized the man whom they thought had had intercourse with her and brought him to her. She said: Yes, this is he. Then they brought him to the Messenger of Allah ﷺ . When he (the Prophet) was about to pass sentence, the man who (actually) had assaulted her stood up and said: Messenger of Allah, I am the man who did it to her. He (the Prophet) said to her: Go away, for Allah has forgiven you. But he told the man some good words (Abu Dawud said: meaning the man who was seized), and of the man who had had intercourse with her, he said: Stone him to death. He also said: He has repented to such an extent that if the people of Madina had repented similarly, it would have been accepted from them. Abu Dawud said: Asbat bin Nasr has also transmitted it from Simak.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحدود ٢٢ (١٤٥٤)، (تحفة الأشراف: ١١٧٧٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ٦/٣٩٩) (حسن )
4380Sunan Abu Dawood

حد کے ساقط ہونے کے لئے حاکم کی تلقین

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي الْمُنْذِرِ مَوْلَى أَبِي ذَرٍّ، عَنْأَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلِصٍّ قَدِ اعْتَرَفَ اعْتِرَافًا وَلَمْ يُوجَدْ مَعَهُ مَتَاعٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا إِخَالُكَ سَرَقْتَ، قَالَ: بَلَى، فَأَعَادَ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَأَمَرَ بِهِ فَقُطِعَ وَجِيءَ بِهِ، فَقَالَ: اسْتَغْفِرِ اللَّهَ وَتُبْ إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ ثَلَاثًا، ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ابوامیہ مخزومی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک چور لایا گیا جس نے چوری کا اعتراف کرلیا تھا، لیکن اس کے پاس کوئی سامان نہیں پایا گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: میں نہیں سمجھتا کہ تم نے چوری کی ہے اس نے کہا: کیوں نہیں، ضرور چرایا ہے، اسی طرح اس نے آپ سے دو یا تین بار دہرایا، پھر آپ ﷺ نے اس پر حد جاری کرنے کا حکم فرمایا، تو اس کا ہاتھ کاٹ لیا گیا، اور اسے لایا گیا، تو آپ نے فرمایا: اللہ سے مغفرت طلب کرو، اور اس سے توبہ کرو اس نے کہا: میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں، اور اس سے توبہ کرتا ہوں، تو آپ نے تین بار فرمایا: اے اللہ اس کی توبہ قبول فرما ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عمرو بن عاصم نے اسے ہمام سے، ہمام نے اسحاق بن عبداللہ سے، اسحاق نے ابوامیہ انصاری سے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً روایت کی ہے۔

Narrated Abu Umayyah al-Makhzumi (RA) : A thief who had accepted (having committed theft) was brought to the Prophet ﷺ , but no good were found with him. The Messenger of Allah ﷺ , said to him: I do not think you have stolen. He said: Yes, I have. He repeated it twice or thrice. So he gave orders. His hand was cut off and he was then brought to him. He said: Ask Allahs pardon and turn to Him in repentance. He said: I ask Allahs pardon and turn to Him in repentance. He (the Prophet) then said: O Allah, accept his repentance. Abu Dawud said: It has been transmitted by Amr bin Asim, from Hammam, from Ishaq bin Abdullah from Abu Ummayyah, a man of the Ansar from the Prophet ﷺ .

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/قطع السارق ٣ (٤٨٨١)، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢٩ (٢٥٩٧)، (تحفة الأشراف: ١١٨٦١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٩٣) (ضعیف )
4381Sunan Abu Dawood

کوئی حد کا اعتراف کرے لیکن اس کا نام نہ بتائے

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ، قَالَ: تَوَضَّأْتَ حِينَ أَقْبَلْتَ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: هَلْ صَلَّيْتَ مَعَنَا حِينَ صَلَّيْنَا، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: اذْهَبْ فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَدْ عَفَا عَنْكَ.

ابوامامہ ؓ کا بیان ہے کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں حد کا مرتکب ہوگیا ہوں تو آپ مجھ پر حد جاری کر دیجئیے، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا جس وقت تم آئے تو وضو کیا؟ اس نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: جس وقت ہم نے نماز پڑھی تم کیا تو نے بھی نماز پڑھی؟ اس نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: جاؤ اللہ نے تمہیں معاف کردیا ۔

Abu Umamah said: A man came to the prophet ﷺ and said: Messenger of Allah! I have committed a crime which involves prescribed punishment so inflict it on me. He said: Have you not performed ablution when you came? He said: Yes, He said: Have you not prayed with us when we prayed ? He said: Yes. He then said: Go off, for Allah, the Exalted, forgave you.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/التوبة ٧ (٢٧٦٥)، (تحفة الأشراف: ٤٨٧٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ٥/٢٥١، ٢٦٢، ٢٦٥) (صحیح )
4382Sunan Abu Dawood

تفتیش کی غرض سے مجرم کو مارنا پیٹنا

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَرَازِيُّأَنَّ قَوْمًا مِنْ الْكَلَاعِيِّينَ سُرِقَ لَهُمْ مَتَاعٌ، فَاتَّهَمُوا أُنَاسًا مِنَ الْحَاكَةِ، فَأَتَوْا النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَبَسَهُمْ أَيَّامًا ثُمَّ خَلَّى سَبِيلَهُمْ فَأَتَوْا النُّعْمَانَ، فَقَالُوا: خَلَّيْتَ سَبِيلَهُمْ بِغَيْرِ ضَرْبٍ وَلَا امْتِحَانٍ، فَقَالَ النُّعْمَانُ: مَا شِئْتُمْ إِنْ شِئْتُمْ أَنْ أَضْرِبَهُمْ فَإِنْ خَرَجَ مَتَاعُكُمْ فَذَاكَ وَإِلَّا أَخَذْتُ مِنْ ظُهُورِكُمْ مِثْلَ مَا أَخَذْتُ مِنْ ظُهُورِهِمْ، فَقَالُوا: هَذَا حُكْمُكَ، فَقَالَ: هَذَا حُكْمُ اللَّهِ وَحُكْمُ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: إِنَّمَا أَرْهَبَهُمْ بِهَذَا الْقَوْلِ أَيْ لَا يَجِبُ الضَّرْبُ إِلَّا بَعْدَ الِاعْتِرَافِ.

ازہر بن عبداللہ حرازی کا بیان ہے کہ کلاع کے کچھ لوگوں کا مال چرایا گیا تو انہوں نے کچھ کپڑا بننے والوں پر الزام لگایا اور انہیں صحابی رسول نعمان بن بشیر ؓ کے پاس لے کر آئے، تو آپ نے انہیں چند دنوں تک قید میں رکھا پھر چھوڑ دیا، پھر وہ سب نعمان ؓ کے پاس آئے، اور کہا کہ آپ نے انہیں بغیر مارے اور بغیر پوچھ تاچھ کئے چھوڑ دیا، نعمان ؓ نے کہا: تم کیا چاہتے ہو اگر تمہاری یہی خواہش ہے تو میں ان کی پٹائی کرتا ہوں، اگر تمہارا سامان ان کے پاس نکلا تو ٹھیک ہے ورنہ اتنا ہی تمہاری پٹائی ہوگی جتنا ان کو مارا تھا، تو انہوں نے پوچھا: یہ آپ کا فیصلہ ہے؟ نعمان ؓ نے کہا: نہیں، بلکہ یہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا فیصلہ ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس قول سے نعمان ؓ نے ڈرا دیا، مطلب یہ ہے کہ مارنا پیٹنا اعتراف کے بعد ہی واجب ہوتا ہے ١ ؎۔

Azhar ibn Abdullah al-Harari said: Some goods of the people of Kila were stolen. They accused some men of the weavers (of theft). They came to an-Numan ibn Bashir, the companion of the Prophet ﷺ . He confined them for some days and then set them free. They came to an-Numan and said: You have set them free without beating and investigation. An-Numan said: What do you want? You want me to beat them. If your goods are found with them, then it is all right; otherwise, I shall take (retaliation) from your back as I have taken from their backs. They asked: Is this your decision? He said: This is the decision of Allah and His Messenger ﷺ . Abu Dawud said: By this statement he frightened them ; that is, beating is not necessary except after acknowledgement.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مجرم پر جب شبہ ہو تو اس کو پکڑنا صحیح ہے، مگر ناحق مار پیٹ سے اس سے اقبال جرم کرانا صحیح نہیں ہے، بلکہ یہ سراسر ظلم ہے، جیسا کہ آج کل میں لوگ کرتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/قطع السارق ٢ (٤٨٧٨)، (تحفة الأشراف: ١١٦١١) (حسن )
4383Sunan Abu Dawood

کتنے مال کی چوری پر چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُهُ مِنْهُ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْطَعُ فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ چوتھائی دینار یا اس سے زائد میں (چور کا ہاتھ) کاٹتے تھے۔

Aishah said: The prophet ﷺ used to cut off a thief’s hand for a quarter of a dinar and upwards.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحدود ١٣ (٦٧٨٩)، صحیح مسلم/الحدود ١ (١٦٨٤)، سنن الترمذی/الحدود ١٦ (١٤٤٥)، سنن النسائی/قطع السارق ٧ (٤٩٢٠)، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢٢ (٢٥٨٥)، (تحفة الأشراف: ١٧٩٢٠)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحدود ٧ (٢٣)، مسند احمد (٦/٣٦، ٨٠، ٨١، ١٠٤، ١٦٣، ٢٤٩، ٢٥٢)، سنن الدارمی/الحدود ٤ (٢٣٤٦) (صحیح )
4384Sunan Abu Dawood

کتنے مال کی چوری پر چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَوَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا. ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِييُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ،عَنْ عُرْوَةً، وَعَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: تُقْطَعُ يَدُ السَّارِقِ فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ: الْقَطْعُ فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: چور کا ہاتھ چوتھائی دینار، یا اس سے زائد میں کاٹا جائے ۔ احمد بن صالح کہتے ہیں: چور کا ہاتھ چوتھائی دینار یا اس سے زائد میں کٹے گا۔

Aishah reported the prophet ﷺ as saying: A thief’s hand should be cut off for a quarter of a dinar and upwards. Ahmed bin Salih said: The amputation (of a thief’s hand) is for a quarter of a dinar and upwards.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ الحدود ١٣ (٦٧٩٠)، صحیح مسلم/ الحدود ١ (١٦٨٤)، سنن النسائی/ قطع السارق ٧ (٤٦٢١)، (تحفة الأشراف: ١٦٦٩٥)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ الحدود ٧ (٢٤)، دی/ الحدود ٤ (٢٣٤٦) (صحیح )
4385Sunan Abu Dawood

کتنے مال کی چوری پر چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطَعَ فِي مِجَنٍّ ثَمَنُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ڈھال میں جس کی قیمت تین درہم تھی (چور کا ہاتھ) کاٹا۔

Ibn Umar’ said: The Messenger of Allah ﷺ had thief’s hand cut off for a shield worth three dirhams.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحدود ١٣ (٦٧٩٥)، صحیح مسلم/الحدود ١ (١٦٨٦)، سنن النسائی/قطع السارق ٧ (٤٩١٢)، (تحفة الأشراف: ٨٣٣٣)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحدود ١٦ (١٤٤٦)، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢٢ (٢٥٨٤)، موطا امام مالک/الحدود ٧ (٢١)، مسند احمد ( ٢/٦، ٥٤، ٦٤، ٨٠، ١٤٣)، سنن الدارمی/الحدود ٤ (٢٣٤٧) (صحیح )
4386Sunan Abu Dawood

کتنے مال کی چوری پر چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيل بْنُ أُمَيَّةَ، أَنَّ نَافِعًا مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُمْ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطَعَ يَدَ رَجُلٍ سَرَقَ تُرْسًا مِنْ صُفَّةِ النِّسَاءِ ثَمَنُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ.

عبداللہ بن عمر ؓ نے لوگوں سے بیان کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کا ہاتھ کاٹا جس نے عورتوں کے چبوترہ سے ایک ڈھال چرائی تھی جس کی قیمت تین درہم تھی۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ had a mans hand cut off who had stolen from the place reserved for women a shield whose price was three dirhams.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ الحدود ١ (١٦٨٦)، سنن النسائی/ قطع السارق ٧ (٤٩١٣)، (تحفة الأشراف: ٧٤٩٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٤٥)، دی/ الحدود ٤ (٢٣٤٧) (صحیح) (اس میں عورتوں کے چبوترہ کا ذکر صحیح نہیں ہے )
4387Sunan Abu Dawood

کتنے مال کی چوری پر چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلَانِيُّ، وَهَذَا لَفْظُهُ وَهُوَ أَتَمُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْمُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق،عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَطَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَ رَجُلٍ فِي مِجَنٍّ قِيمَتُهُ دِينَارٌ أَوْ عَشَرَةُ دَرَاهِمَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَسَعْدَانُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ ابْنِ إِسْحَاق بِإِسْنَادِهِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کا ہاتھ ایک ڈھال کے (چرانے پر) کاٹا جس کی قیمت ایک دینار یا دس درہم تھی۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ had a mans hand cut off for (stealing) a shield whose price was a dinar or ten dirhams. Abu Dawud said: Muhammad bin Salamah and Saadan bin Yahya have transmitted it from Ibn Ishaq through his chain of narrators.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/قطع السارق ٧ (٤٩٥٤)، (تحفة الأشراف: ٥٨٨٤) (شاذ )
4388Sunan Abu Dawood

جن اشیاء کے چرانے پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، أَنَّ عَبْدًا سَرَقَ وَدِيًّا مِنْ حَائِطِ رَجُلٍ فَغَرَسَهُ فِي حَائِطِ سَيِّدِهِ فَخَرَجَ صَاحِبُ الْوَدِيِّ يَلْتَمِسُ وَدِيَّهُ فَوَجَدَهُ، فَاسْتَعْدَى عَلَى الْعَبْدِ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ يَوْمَئِذٍ، فَسَجَنَ مَرْوَانُ الْعَبْدَ وَأَرَادَ قَطْعَ يَدِهِ فَانْطَلَقَ سَيِّدُ الْعَبْدِ إِلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَأَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلَا كَثَرٍ، فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنَّ مَرْوَانَ أَخَذَ غُلَامِي وَهُوَ يُرِيدُ قَطْعَ يَدِهِ وَأَنَا أُحِبُّ أَنْ تَمْشِيَ مَعِي إِلَيْهِ فَتُخْبِرَهُ بِالَّذِي سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَشَى مَعَهُ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ حَتَّى أَتَى مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ فَقَالَ لَهُ رَافِعٌ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلَا كَثَرٍ فَأَمَرَ مَرْوَانُ بِالْعَبْدِ فَأُرْسِلَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: الْكَثَرُ الْجُمَّارُ.

محمد بن یحییٰ بن حبان سے روایت ہے کہ ایک غلام نے ایک کھجور کے باغ سے ایک شخص کے کھجور کا پودا چرا لیا اور اسے لے جا کر اپنے مالک کے باغ میں لگا دیا، پھر پودے کا مالک اپنا پودا ڈھونڈنے نکلا تو اسے (ایک باغ میں لگا) پایا تو اس نے مروان بن حکم سے جو اس وقت مدینہ کے حاکم تھے غلام کے خلاف شکایت کی مروان نے اس غلام کو قید کرلیا اور اس کا ہاتھ کاٹنا چاہا تو غلام کا مالک رافع بن خدیج ؓ کے پاس گیا، اور ان سے اس سلسلہ میں مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے اسے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: پھل اور جمار (کھجور کے درخت کے پیڑی کا گابھا) کی چوری میں ہاتھ نہیں کٹے گا تو اس شخص نے کہا: مروان نے میرے غلام کو پکڑ رکھا ہے وہ اس کا ہاتھ کاٹنا چاہتے ہیں میری خواہش ہے کہ آپ میرے ساتھ ان کے پاس چلیں اور اسے وہ بتائیں جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، تو رافع بن خدیج ؓ اس کے ساتھ چلے، اور مروان کے پاس آئے، اور ان سے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: پھل اور گابھا کے (چرانے میں) ہاتھ نہیں کٹے گا مروان نے یہ سنا تو اس غلام کو چھوڑ دینے کا حکم دے دیا، چناچہ اسے چھوڑ دیا گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: کثر کے معنیٰ جمار کے ہیں۔

Narrated Rafi ibn Khadij (RA) : Muhammad ibn Yahya ibn Hibban said: A slave stole a plant of a palm-tree from the orchard of a man and planted it in the orchard of his master. The owner of the plant went out in search of the plant and he found it. He solicited help against the slave from Marwan ibn al-Hakam who was the Governor of Madina at that time. Marwan confined the slave and intended to cut off his hand. The slaves master went to Rafi ibn Khadij and asked him about it. He told him that he had heard the Messenger of Allah ﷺ say: The hand is not to be cut off for taking fruit or the pith of the palm-tree. The man then said: Marwan has seized my slave and wants to cut off his hand. I wish you to go with me to him and tell him that which you have heard from the Messenger of Allah ﷺ . So Rafi ibn Khadij went with him and came to Marwan ibn al-Hakam. Rafi said to him: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: The hand is not to be cut off for taking fruit or the pith of the palm-tree. So Marwan gave orders to release the slave and then he was released. Abu Dawud said: Kathar means pith of the palm-tree.

Notes · وضاحت
١ ؎: جمار کھجور کے درخت کی پیڑی کے اندر سے نکلنے والا نرم جو چربی کے طرح سفید ہوتا ہے، اور کھایا جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحدود ١٩ (١٤٤٩)، سنن النسائی/قطع السارق ١٠ (٤٩٦٤)، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢٧ (٢٥٩٣)، (تحفة الأشراف: ٣٥٨١، ٣٥٨٨)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحدود ١١ (٣٢)، مسند احمد ( ٣/٤٦٣، ٤٦٤، ٥/١٤٠، ١٤٢)، سنن الدارمی/الحدود ٧ (٢٣٥٠) (صحیح )
4389Sunan Abu Dawood

جن اشیاء کے چرانے پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: فَجَلَدَهُ مَرْوَانُ جَلَدَاتٍ وَخَلَّى سَبِيلَهُ.

اس سند سے بھی محمد بن یحییٰ بن حبان سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے مروان نے اسے کچھ کوڑے مار کر چھوڑ دیا۔

This tradition has also been transmitted by Muhammad bin Yahya bin Hibban through a different chain of narrators. This version adds: Marwan gave him some lashes and let him go.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٣٥٨١) (شاذ )
4390Sunan Abu Dawood

جن اشیاء کے چرانے پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ، فَقَالَ: مَنْ أَصَابَ بِفِيهِ مِنْ ذِي حَاجَةٍ غَيْرَ مُتَّخِذٍ خُبْنَةً فَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ وَمَنْ خَرَجَ بِشَيْءٍ مِنْهُ فَعَلَيْهِ غَرَامَةُ مِثْلَيْهِ وَالْعُقُوبَةُ وَمَنْ سَرَقَ مِنْهُ شَيْئًا بَعْدَ أَنْ يُؤْيَهُ الْجَرِينُ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَعَلَيْهِ الْقَطْعُ وَمَنْ سَرَقَ دُونَ ذَلِكَ فَعَلَيْهِ غَرَامَةُ مِثْلَيْهِ وَالْعُقُوبَةُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: الْجَرِينُ الْجُوخَانُ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے لٹکے ہوئے پھلوں کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا: جس ضرورت مند نے اسے کھالیا، اور جمع کر کے نہیں رکھا تو اس پر کوئی گناہ نہیں، اور جو اس میں سے کچھ لے جائے تو اس پر اس کا دوگنا تاوان اور سزا ہوگی اور جو اسے کھلیان میں جمع کئے جانے کے بعد چرائے اور وہ ڈھال کی قیمت کو پہنچ رہا ہو تو پھر اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا ۔

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Messenger of Allah ﷺ was asked about fruit which was bung up and said: If a needy person takes some with his mouth and does not take a supply away in his garment, there is nothing on him, but he who carries any of it is to be fined twice the value and punished, and he who steals any of it after it has been put in the place where dates are dried to have his hand cut off if their value reaches the value of a shield. If he steals a thing less in value than it, he is to be find twice the value and punished. Abu Dawud said: Jarin means the place where dates are dried.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البیوع ٥٤ (١٢٨٩)، سنن النسائی/قطع السارق ٩ (٤٩٦١)، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢٨ (٢٥٩٦)، (تحفة الأشراف: ٨٧٩٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ٢/١٨٦) (حسن )