جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اعلانیہ زبردستی کسی کا مال لے کر بھاگ جانے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ١ ؎، اور جو اعلانیہ کسی کا مال لوٹ لے وہ ہم میں سے نہیں ۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ said: Cutting of hand is not to be inflicted on one who plunders, but he who plunders conspicuously does not belong to us. Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : He also said through this chain: The Messenger of Allah ﷺ said: Cutting of the hand is not to be inflicted on one who is treacherous.
Notes · وضاحت
١ ؎: زبردستی کسی کا مال چھیننا اگرچہ چرانے سے زیادہ قبیح فعل ہے، لیکن اس پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، کیونکہ اس پر سرقہ (چرانے) کا اطلاق نہیں ہوتا۔ قاضی عیاض فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے چور کا ہاتھ کاٹنا فرض کیا ہے، لیکن چھیننے جھپٹنے، اور غصب وغیرہ پر یہ حکم نہیں دیا اس لئے کہ چوری کے مقابلہ میں یہ چیزیں کم واقع ہوتی ہیں، اور ذمہ داروں سے شکایت کر کے اس طرح کی چیزوں کو لوٹایا جاسکتا ہے، اور ان کے خلاف دلائل دینا چوری کے برعکس آسان ہے، اس وجہ سے چوری کا معاملہ بڑا ہے، اور اس کی سزا سخت ہے، تاکہ اس سے باز آجانے میں یہ زیادہ موثر ہو۔ (ملاحظہ ہو: عون المعبود ١٢ ؍٣٩ )
اور اسی سند سے مروی ہے جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: امانت میں خیانت کرنے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحدود ١٨ (١٤٤٨)، سنن النسائی/قطع السارق ١٠ (٤٩٧٥)، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢٦ (٢٥٩١)، (تحفة الأشراف: ٢٨٠٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٨٠)، سنن الدارمی/الحدود ٨ (٢٣٥٦) (صحیح )
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٢٨٠٠) (صحیح )
جابر ؓ نبی اکرم ﷺ سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں اس میں اتنا اضافہ ہے اور نہ اچکے کا ہاتھ کاٹا جائے گا ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Jabir through a different chain of narrators. This version adds: Cutting of the hand is not be inflicted on one who snatches something. Abu Dawud said: Ibn Juraij did not hear these two traditions from Abu al-Zubair, I have been informed by Ahmad. bin Hanbal saving: Ibn Juraij heard them from Yasin al-Zayyat. Aby Dawud said: Al-Mughirah bin Muslim has transmitted it from Abu al-Zubair from Jabir From the Prophet ﷺ .
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٤٣٩١)، (تحفة الأشراف: ٢٨٠٠) (صحیح )
صفوان بن امیہ ؓ کہتے ہیں کہ میں مسجد میں سویا ہوا تھا، میرے اوپر میری ایک اونی چادر پڑی تھی جس کی قیمت تیس درہم تھی، اتنے میں ایک شخص آیا اور اسے مجھ سے چھین کرلے کر بھاگا، لیکن وہ پکڑ لیا گیا، اور اسے نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا، تو آپ ﷺ نے اس کے متعلق حکم دیا کہ اس کا ہاتھ کاٹ لیا جائے، تو میں آپ کے پاس آیا اور عرض کیا: کیا تیس درہم کی وجہ سے آپ اس کا ہاتھ کاٹ ڈالیں گے؟ میں اسے اس کے ہاتھ بیچ دیتا ہوں، اور اس کی قیمت اس پر ادھار چھوڑ دیتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: میرے پاس لانے سے پہلے ہی ایسے ایسے کیوں نہیں کرلیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے زائدہ نے سماک سے، سماک نے جعید بن حجیر سے روایت کیا ہے، اس میں ہے: صفوان سو گئے تھے اتنے میں چور آیا ۔ اور طاؤس و مجاہد نے اس کو یوں روایت کیا ہے کہ وہ سوئے تھے اتنے میں ایک چور آیا، اور ان کے سر کے نیچے سے چادر چرا لی۔ اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اسے یوں روایت کیا ہے کہ اس نے اسے ان کے سر کے نیچے سے کھینچا، تو وہ جاگ گئے، اور چلائے، اور وہ پکڑ لیا گیا۔ اور زہری نے صفوان بن عبداللہ سے اسے یوں روایت کیا ہے کہ وہ مسجد میں سوئے اور انہوں نے اپنی چادر کو تکیہ بنا لیا، اتنے میں ایک چور آیا، اور اس نے ان کی چادر چرا لی، تو اسے پکڑ لیا گیا، اور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں لایا گیا۔
Narrated Safwan bin Umayyah (RA) : I was sleeping in the mosque on a cloak mine whose price was thirty dirhams. A man came and pinched it away from me. The man was seized and brought to the Messenger of Allah ﷺ . He ordered that his hand should be cut off. I came to him and said: Do you cut off only for thirty dirhams ? I sell it to him and make the payment of its price a loan ? He said: Why did you not do so before bringing him to me ? Abu Dawud said: Zaidah has also transmitted it from Simak from Juayd ibn Hujayr. He said: Safwan slept. Mujahid and Tawus said: While he was sleeping a thief came and stole the cloak from beneath his head. The version of Abu Salamah ibn Abdur Rahman has: He snatched it away from beneath his head and he awoke. He cried and he (the thief) was seized. Az-Zuhri narrated from Safwan ibn Abdullah. His version has: He slept in the mosque and used his cloak as pillow. A thief came and took his cloak. The thief was seized and brought to the Prophet ﷺ .
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/قطع السارق ٤ (٤٨٨٢)، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢٨ (٢٥٩٥)، (تحفة الأشراف: ٤٩٤٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٠١، ٦/٤٦٥، ٤٦٦) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ قبیلہ مخزوم کی ایک عورت لوگوں سے چیزیں منگنی (مانگ کر) لے کر مکر جایا کرتی تھی، تو نبی اکرم ﷺ نے اس کے متعلق حکم دیا تو اس کا ہاتھ کاٹ لیا گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے جویریہ نے نافع سے، نافع نے ابن عمر سے یا صفیہ بنت ابی عبید سے روایت کیا ہے، اس میں یہ اضافہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے، اور آپ نے تین بار فرمایا: کیا کوئی عورت ہے جو اللہ اور اس کے رسول کے سامنے توبہ کرے؟ وہ وہاں موجود تھی لیکن وہ نہ کھڑی ہوئی اور نہ کچھ بولی ۔ اور اسے ابن غنج نے نافع سے، نافع نے صفیہ بنت ابی عبید سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ آپ نے اس کے خلاف گواہی دی۔
Ibn Umar said: A Makhzuml woman used to borrow goods and deny having received them, so the prophet ﷺ gave orders and her hand was cut off. Abu Dawud said: Juwairiyyah has transmitted it from Nafi from Ibn Umar or from Safiyyah daughter of Abu Ubaid. This version adds: The prophet ﷺ got up and gave an address saying: Is there any woman who repents to Allah, the Exalted, and to his Messenger? He said it three times, That ( woman) was present there but she did not get up and speak. Ibn Ghunj transmitted it from Nafi from Safiyyah daughter of Abu Ubaid. This version has: He witnessed to her.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/قطع السارق ٥ (٤٩٠٢)، (تحفة الأشراف: ٧٥٤٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ٢/١٥١) (صحیح )
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ عروہ بیان کرتے تھے کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ نے کہا ہے کہ ایک عورت نے جسے کوئی نہیں جانتا تھا چند معروف لوگوں کی شہادت اور ذمہ داری پر ایک زیور منگنی لی اور اسے بیچ کر کھا گئی تو اسے پکڑ کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں لایا گیا، تو آپ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، یہ وہی عورت ہے جس کے سلسلہ میں اسامہ بن زید ؓ نے سفارش کی تھی، اور اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کو جو فرمانا تھا فرمایا تھا۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : A woman borrowed jewellery through some known persons and she herself was unknown. She then sold them. She was seized and brought to the Prophet ﷺ . He gave orders that her hand should be cut off. It is this woman about whom Usamah interceded and of her the Messenger of Allah ﷺ said whatever he said.
Takhrij · تخریج
* تخريج: صحیح البخاری/الشہادات ٨ (٢٦٤٨)، الحدود ١٥ (٦٨٠٠)، صحیح مسلم/الحدود ٢ (١٦٨٨)، سنن النسائی/قطع السارق ٥ (٤٩٠٦)، (تحفة الأشراف: ١٦٦٩٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ٦/١٦٢) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ قبیلہ مخزوم کی ایک عورت سامان منگنی (مانگ کر) لیتی اور اس سے مکر جایا کرتی تھی، تو نبی اکرم ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ معمر نے اسی طرح کی روایت بیان کی جیسے قتیبہ نے لیث سے، لیث نے ابن شہاب سے بیان کی ہے، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹ لیا۔
Aishah said: A Makhzuml woman used to borrow goods and deny having received them. The prophet ﷺ gave orders that her hand should be cut off. He (the narrator) then narrated the tradition similar to the one transmitted by Qutaibah from al-Laith from Ibn Shahib. This version adds: The Prophet ﷺ had her hand cut off.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٤٣٧٤)، (تحفة الأشراف: ١٦٦٤٣) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین شخصوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے، سوئے ہوئے شخص سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہوجائے، دیوانہ سے یہاں تک کہ اسے عقل آجائے، اور بچہ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہوجائے ۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: There are three (persons) whose actions are not recorded: a sleeper till he awakes, an idiot till he is restored to reason, and a boy till he reaches puberty.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطلاق ٢١ (٣٤٦٢)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ١٥ (٢٠٤١)، (تحفة الأشراف: ١٥٩٣٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٠٠، ١٠١، ١٤٤)، دی/ الحدود ١٣ (٢٣٤٣) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ عمر ؓ کے پاس ایک پاگل عورت لائی گئی جس نے زنا کا ارتکاب کیا تھا، آپ نے اس کے سلسلہ میں کچھ لوگوں سے مشورہ کیا، پھر آپ نے اسے رجم کئے جانے کا حکم دے دیا، تو اسے لے کر لوگ علی بن ابی طالب ؓ کے پاس سے گزرے تو انہوں نے لوگوں سے پوچھا: کیا معاملہ ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ ایک پاگل عورت ہے جس نے زنا کا ارتکاب کیا ہے، عمر نے اسے رجم کئے جانے کا حکم دیا ہے، تو علی ؓ نے کہا: اسے واپس لے چلو، پھر وہ عمر ؓ کے پاس آئے اور کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ کو یہ معلوم نہیں کہ قلم تین شخصوں سے اٹھا لیا گیا ہے: دیوانہ سے یہاں تک کہ اسے عقل آجائے، سوئے ہوئے سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہوجائے، اور بچہ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہوجائے، کہا: کیوں نہیں؟ ضرور معلوم ہے، تو بولے: پھر یہ کیوں رجم کی جا رہی ہے؟ بولے: کوئی بات نہیں، تو علی ؓ نے کہا: پھر اسے چھوڑیئے، تو انہوں نے اسے چھوڑ دیا، اور لگے اللہ اکبر کہنے ١ ؎۔
Narrated Ali ibn Abu Talib: Ibn Abbas said: A lunatic woman who had committed adultery was brought to Umar. He consulted the people and ordered that she should be stoned. Ali ibn Abu Talib passed by and said: What is the matter with this (woman)? They said: This is a lunatic woman belonging to a certain family. She has committed adultery. Umar has given orders that she should be stoned. He said: Take her back. He then came to him and said: Commander of the Faithful, do you not know that there are three people whose actions are not recorded: a lunatic till he is restored to reason, a sleeper till he awakes, and a boy till he reaches puberty? He said: Yes. He then asked: Why is it that this woman is being stoned? He said: There is nothing. He then said: Let her go. He (Umar) let her go and began to utter: Allah is most great.
Notes · وضاحت
١ ؎: کہ اللہ نے انہیں اس غلطی سے بچا لیا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٠١٩٦)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/ الحدود ١ (عقیب ١٤٢٣)، مسند احمد (١/١٥٥، ١٥٨) (صحیح )
اس سند سے اعمش سے اسی جیسی حدیث مروی ہے اس میں بھی حتى يعقل ہے اور عن المجنون حتى يبرأ کے بجائے حتى يفيق ہے، اور فجعل يكبر کے بجائے فجعل عمر يكبر ہے۔
A similar tradition has also been transmitted by al-Amash through a different chain of narrators. He also said: “. . . . Till he reaches puberty, and a lunatic till he is restored to consciousness. ” Umar then began to utter: Allah is most great.
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ اسے علی بن ابی طالب ؓ کے پاس سے گزارا گیا، آگے اسی طرح جیسے عثمان بن ابی شیبہ کی روایت کا مفہوم ہے، اس میں ہے: کیا آپ کو یاد نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: قلم تین آدمیوں سے اٹھا لیا گیا ہے: مجنون سے جس کی عقل جاتی رہے یہاں تک کہ صحت یاب ہوجائے، سوئے ہوئے شخص سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہوجائے، بچے سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہوجائے تو عمر ؓ بولے: تم نے سچ کہا، پھر انہوں نے اسے چھوڑ دیا۔
Narrated Ali ibn Abu Talib: Ibn Abbas said: A lunatic woman passed by Ali ibn Abu Talib. He then mentioned the rest of the tradition to the same effect as Uthman mentioned. This version has: Do you not remember that the Messenger of Allah ﷺ has said: There are three whose actions are not recorded: a lunatic whose mind is deranged till he is restored to consciousness, a sleeper till he awakes, and a boy till he reaches puberty?
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٤٣٩٩)، (تحفة الأشراف: ١٠١٩٦) (صحیح )
ابوظبیان جنی کہتے ہیں کہ عمر ؓ کے پاس ایک عورت لائی گئی جس نے زنا کا ارتکاب کیا تھا، تو انہوں نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا، علی ؓ کا وہاں سے گزر ہوا، انہوں نے اسے پکڑا اور چھوڑ دیا، تو عمر کو اس کی خبر دی گئی تو انہوں نے کہا: علی ؓ کو میرے پاس بلاؤ، چناچہ علی ؓ آئے اور کہنے لگے: امیر المؤمنین! آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: قلم تین شخصوں سے اٹھا لیا گیا ہے: بچہ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہوجائے، سوئے ہوئے شخص سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہوجائے، اور دیوانہ سے یہاں تک کہ وہ اچھا ہوجائے اور یہ تو دیوانی اور پاگل ہے، فلاں قوم کی ہے، ہوسکتا ہے اس کے پاس جو آیا ہو اس حالت میں آیا ہو کہ وہ دیوانگی کی شدت میں مبتلاء رہی ہو، تو عمر ؓ نے کہا: مجھے نہیں معلوم کہ وہ اس وقت دیوانی تھی، اس پر علی ؓ نے کہا: مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ نہیں تھی۔
Narrated Ali ibn Abu Talib: Abu Zubyan said: A woman who had committed adultery was brought to Umar. He gave orders that she should be stoned. Ali passed by just then. He seized her and let her go. Umar was informed of it. He said: Ask Ali to come to me. Ali came to him and said: Commander of the Faithful, you know that the Messenger of Allah ﷺ said: There are three (people) whose actions are not recorded: A boy till he reaches puberty, a sleeper till he awakes, a lunatic till he is restored to reason. This is an idiot (mad) woman belonging to the family of so and so. Someone might have done this action with her when she suffered the fit of lunacy. Umar said: I do not know. Ali said: I do not know.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠١٩٦، ١٠٠٧٨) (صحیح) دون قولہ: لعل الذی سے آخر تک ثابت نہیں ہے
علی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قلم تین آدمیوں سے اٹھا لیا گیا ہے: سوئے ہوئے شخص سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہوجائے، بچے سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہوجائے، اور دیوانے سے یہاں تک کہ اسے عقل آجائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن جریج نے قاسم بن یزید سے انہوں نے علی ؓ سے، علی ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً روایت کیا ہے، اور اس میں کھوسٹ بوڑھے کا اضافہ ہے۔
Narrated Ali ibn Abu Talib: The Prophet ﷺ said: There are three (persons) whose actions are not recorded: a sleeper till he awakes, a boy till he reaches puberty, and a lunatic till he comes to reason. Abu Dawud said: Ibn Juraij has transmitted it from Al-Qasim bin Yazid on the authority of Ali from the Prophet ﷺ . This version adds: and an old man who is feeble-minded.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٠٢٧٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ١/١١٦، ١٤٠) (صحیح )
عطیہ قرظی کہتے ہیں کہ بنی قریظہ کے قیدیوں میں میں بھی تھا تو لوگ دیکھتے تھے جس کے زیر ناف کے بال اگے ہوتے انہیں قتل کردیتے تھے اور جن کے بال نہیں اگے تھے انہیں قتل نہیں کرتے، تو میں ان لوگوں میں سے تھا جن کے بال نہیں اگے تھے۔
Narrated Atiyyah al-Qurazi (RA) : I was among the captives of Banu Qurayzah. They (the Companions) examined us, and those who had begun to grow hair (pubes) were killed, and those who had not were not killed. I was among those who had not grown hair.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/السیر ٢٩ (١٥٨٤)، سنن النسائی/الطلاق ٢٠ (٣٤٦٠)، قطع السارق ١٤ (٤٩٨٤)، سنن ابن ماجہ/الحدود ٤ (٢٥٤٢)، (تحفة الأشراف: ٩٩٠٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ٤/٣١٠، ٣٨٣، ٥/٣١٢، ٣٨٣) (صحیح )
عبدالملک بن عمیر سے بھی یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے انہوں نے میرے زیر ناف کا حصہ کھولا تو دیکھا کہ وہ اگا نہیں تھا تو مجھے قیدی بنا لیا۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Abd al- Malik bin Umar through a different chain of narrators. This version has: They uncovered my private parts, and when they found that the hair had not begun to grow they put me among the captives.
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے غزوہ احد کے دن پیش کئے گئے تو ان کی عمر چودہ سال کی تھی آپ نے انہیں جنگ میں شمولیت کی اجازت نہیں دی، اور غزوہ خندق میں پیش ہوئے تو پندرہ سال کے تھے تو آپ ﷺ نے انہیں اجازت دے دی۔
Ibn Umar said: He was presented before the prophet ﷺ on the day of Uhd when he was fourteen years old, but he did not allow him (to participate in the battle). He was again presented before him on the day of Khandaq when he was fifteen years old, Then he allowed him.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٢٩٥٧)، (تحفة الأشراف: ٨١٥٣) (صحیح )
جنادہ بن ابی امیہ کہتے ہیں کہ ہم بسر بن ارطاۃ کے ساتھ سمندری سفر پر تھے کہ ان کے پاس ایک چور لایا گیا جس کا نام مصدر تھا اس نے ایک اونٹ چرایا تھا تو آپ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: سفر میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا اگر آپ کا یہ فرمان نہ ہوتا تو میں ضرور اسے کاٹ ڈالتا۔
Narrated Busr ibn Artat (RA) : Junadah ibn Abu Umayyah said: We were with Busr ibn Artat on the sea (on an expedition). A thief called Misdar who had stolen a bukhti she-camel was brought. He said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Hands are not to be cut off during a warlike expedition. Had it not been so, I would have cut it off.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحدود ٢٠ (١٤٥٠)، سنن النسائی/قطع السارق ١٣ (٤٩٨٢)، (تحفة الأشراف: ٢٠١٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٨١) (صحیح )
ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابوذر! میں نے کہا: حاضر ہوں، اور حکم بجا لانے کے لیے تیار ہوں، اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب لوگوں کو موت پہنچے گی اور گھر یعنی قبر ایک خادم کے بدلہ میں خریدی جائیگی؟ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ معلوم ہے، یا جو اللہ اور اس کے رسول کو پسند ہو، آپ ﷺ نے فرمایا: صبر کو لازم پکڑنا یا فرمایا: اس دن صبر کرنا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حماد بن ابی سلیمان کہتے ہیں: کفن چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا کیونکہ وہ میت کے گھر میں گھسا ہے۔
Narrated Abu Dharr (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said to me: O Abu Dharr (RA) : I replied: At your service and at your pleasure, Messenger of Allah! He said: how will you do when death smites people, and a house, meaning a grave, will cost as much as a slave. I said: Allah and His Messenger know best, or he said: What Allah and His Messenger choose for me. He said: Show endurance, or he said: You may show endurance. Abu Dawud said: Hammad bin Abi Sulaiman said: The hand of one who rifles a grave should be cut off because he had entered the deceaseds house.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٤٢٦١)، (تحفة الأشراف: ١١٩٤٧) (صحیح )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک چور لایا گیا، آپ نے فرمایا: اسے قتل کر دو لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس نے صرف چوری کی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اس کا ہاتھ کاٹ دو تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا، پھر اسی شخص کو دوسری بار لایا گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: اسے قتل کر دو لوگوں نے پھر یہی کہا: اللہ کے رسول! اس نے صرف چوری ہی کی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اچھا اس کا ہاتھ کاٹ دو تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا، پھر وہی شخص تیسری بار لایا گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: اس کو قتل کر دو لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس نے صرف چوری ہی تو کی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اچھا اس کا ایک پیر کاٹ دو پھر اسے پانچویں بار لایا گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: اسے قتل کر دو ۔ جابر ؓ کہتے ہیں: ہم اسے لے گئے اور ہم نے اسے قتل کردیا، اور گھسیٹ کر اسے ایک کنویں میں ڈال دیا، اور اس پر پتھر مارے۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : A thief was brought to the Prophet ﷺ . He said: Kill him. The people said: He has committed theft, Messenger of Allah! Then he said: Cut off his hand. So his (right) hand was cut off. He was brought a second time and he said: Kill him. The people said: He has committed theft, Messenger of Allah! Then he said: Cut off his foot. So his (left) foot was cut off. He was brought a third time and he said: Kill him. The people said: He has committed theft, Messenger of Allah! So he said: Cut off his hand. (So his (left) hand was cut off.) He was brought a fourth time and he said: Kill him. The people said: He has committed theft, Messenger of Allah! So he said: Cut off his foot. So his (right) foot was cut off. He was brought a fifth time and he said: Kill him. So we took him away and killed him. We then dragged him and cast him into a well and threw stones over him.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/قطع السارق ١٢ (٤٩٨١)، (تحفة الأشراف: ٣٠٨٢) (ضعیف) (اس کی سند میں مصعب کی نسائی نے تضعیف کی ہے، اور حدیث کو منکر کہا ہے، ابن حجر کہتے ہیں کہ اس بارے میں مجھے کسی سے صحیح حدیث کا علم نہیں ہے، ملاحظہ ہو: التلخیص الحبیر: ٢٠٨٨، شیخ البانی نے اس کو حسن کہا ہے: صحیح ابی داود ٣ ؍ ٥٨ )
عبدالرحمٰن بن محیریز کہتے ہیں کہ میں نے فضالہ بن عبید سے چور کا ہاتھ کاٹ کر اس کے گلے میں لٹکانے کے متعلق پوچھا کہ کیا یہ مسنون ہے؟ تو آپ نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک چور لایا گیا تو اس کا ہاتھ کاٹا گیا پھر آپ نے اس کے متعلق حکم دیا تو اسے اس کے گلے میں لٹکا دیا گیا۔
Abdur-Rahman bin Muhariz said: We asked Fadalah bin Ubaid about the hanging the (amputated) hand on the neck of a thief whether it was a sunnan. He said: A thief was brought to the Messenger of Allah ﷺ and his hand was cut off. Thereafter he commanded for it, and it was hung on his neck.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحدود ١٧ (١٤٤٧)، سنن النسائی/قطع السارق ١٥ (٤٩٨٥)، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢٣ (٢٥٨٧)، (تحفة الأشراف: ١١٠٢٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ٦/١٩) (ضعیف) (سند میں حجاج بن ارطاة ضعیف اور عبدالرحمن بن محیریز مجہول ہیں )