کتاب الزکوٰة

Sunan Abu Dawood · Chapter 5 · 165 hadiths · Page 1 of 9

1556Sunan Abu Dawood

زکوة کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَهُ، وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ، قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِأَبِي بَكْرٍ: كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَمَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَاللَّهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ، فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ، وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عِقَالًا كَانُوا يُؤَدُّونَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهِ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ، قَالَ: فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ. قَالَ أبُو دَاوُدَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ مَعْمَرُ بْنُ الْمُثَنَّى: الْعِقَالُ صَدَقَةُ سَنَةٍ، وَالْعِقَالانِ صَدَقَةُ سَنَتَيْنِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ رَبَاحُ بْنُ زَيْدٍ، وَرَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِهِ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: عِقَالًا. وَرَوَاهُ ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، قَالَ: عَنَاقًا. قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، وَمَعْمَرٌ، وَالزُّبَيْدِيُّ: عَنْ الزُّهْرِيِّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا. وَرَوَى عَنْبَسَةُ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: عَنَاقًا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوگئی، آپ کے بعد ابوبکر ؓ خلیفہ بنائے گئے اور عربوں میں سے جن کو کافر ١ ؎ ہونا تھا کافر ہوگئے تو عمر بن خطاب ؓ نے ابوبکر ؓ سے کہا: آپ لوگوں سے کیوں کر لڑیں گے جب کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ لا إله إلا الله کہیں، لہٰذا جس نے لا إله إلا الله کہا اس نے مجھ سے اپنا مال اور اپنی جان محفوظ کرلی سوائے حق اسلام کے ٢ ؎ اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہے؟ ، ابوبکر ؓ نے کہا: اللہ کی قسم! میں ہر اس شخص سے جنگ کروں گا جو نماز اور زکاۃ کے درمیان تفریق ٣ ؎ کرے گا، اس لیے کہ زکاۃ مال کا حق ہے، قسم اللہ کی، یہ لوگ جس قدر رسول اللہ ﷺ کو دیتے تھے اگر اس میں سے اونٹ کے پاؤں باندھنے کی ایک رسی بھی نہیں دی تو میں ان سے جنگ کروں گا، عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ میں نے سمجھا کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر ؓ کا سینہ جنگ کے لیے کھول دیا ہے اور اس وقت میں نے جانا کہ یہی حق ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث رباح بن زید نے روایت کی ہے اور عبدالرزاق نے معمر سے معمر نے زہری سے اسے اسی سند سے روایت کیا ہے، اس میں بعض نے عناقا کی جگہ عقالا کہا ہے اور ابن وہب نے اسے یونس سے روایت کیا ہے اس میں عناقا کا لفظ ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: شعیب بن ابی حمزہ، معمر اور زبیدی نے اس حدیث میں زہری سے لو منعوني عناقا نقل کیا ہے اور عنبسہ نے یونس سے انہوں نے زہری سے یہی حدیث روایت کی ہے۔ اس میں بھی عناقا کا لفظ ہے۔

Abu Hurairah said When the Messenger of Allah ﷺ died and Abu Bakr was made his successor after him and certain Arab clans apostatized. Umar bin Al Khattab said to Abu Bakr How can you fight with the people until they say “There is no God but Allah” so whoever says “There is no God but Allah”, he has protected his property and his person from me except for what is due from him, and his reckoning is left to allah. Abu Bak replied I swear by Allah that I will certainly fight with those who make a distinction between prayer and zakat, for zakat is what is due from property. I swear by Allah that if they were to refuse me a rope of camel (or a female kid, according to another version)which they used to pay the Messenger of Allah, I will fight with them over the refusal of it. Umar bin Al Khattab said I swear by Allah, I clearly saw Allah had made Abu Bakr feel justified in tighting and I recognized that it was right. Abu Dawud said This tradition has been transmitted by Rabah bin Zaid from Mamar and Al Zaubaidi from Al Zuhri has “If they were to refuse me a female kid. ” The version transmitted by ‘Anbasah from Yunus on the authority of Al Zuhri has “a female kid”.

Notes · وضاحت
١ ؎: ان کا تعلق قبیلہ غطفان اور بنی سلیم کے لوگوں سے تھا جنہوں نے زکاۃ دینے سے انکار کیا تھا۔ ٢ ؎: مثلا اگر وہ کسی مسلمان کو قتل کر دے تو وہ قصاص میں قتل کیا جائے گا۔ ٣ ؎: یعنی وہ نماز تو پڑھے لیکن زکاۃ کا انکار کرے ایسی صورت میں وہ (ارتداد کی بنا پر) واجب القتل ہوجاتا ہے کیونکہ اصول اسلام میں سے کسی ایک اصل کا انکار کل کا انکار ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ١(١٣٩٩)، ٤٠ (١٤٥٦)، المرتدین ٣ (٦٩٢٤)، الاعتصام ٢ (٧٢٨٤)، صحیح مسلم/الإیمان ٨ (٢١)، سنن الترمذی/الإیمان ١ (٢٦٠٧)، سنن النسائی/الزکاة ٣ (٢٤٤٥)، الجہاد ١ (٣٠٩٤)، المحاربة ١ (٣٩٧٥، ٣٩٧٦، ٣٩٧٨، ٣٩٨٠)، (تحفة الأشراف: ١٠٦٦٦)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الفتن ١ (٣٩٢٧)، مسند احمد (٢/٥٢٨) (صحیح )
1557Sunan Abu Dawood

زکوة کا بیان

حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّ حَقَّهُ أَدَاءُ الزَّكَاةِ، وَقَالَ: عِقَالًا.

اس سند سے بھی زہری سے یہی روایت مروی ہے اس میں ہے ابوبکر ؓ نے کہا: اس (اسلام) کا حق یہ ہے کہ زکاۃ ادا کریں اور اس میں عقالا کا لفظ آیا ہے۔

This tradition has also been transmitted by Al Zuhri through a different chain of narrators. This version has “Abu Bakr said its due is the payment of zakat. ” He used the word “a rope of a Camel”

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٠٦٦٦) (صحیح) (اوپر والی حدیث میں تفصیل سے پتا چلتا ہے کہ عناق کا لفظ محفوظ، اور عقال کا لفظ شاذ ہے )
1558Sunan Abu Dawood

زکوة کا نصاب

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانچ اونٹوں سے کم میں زکاۃ نہیں ہے ١ ؎، پانچ اوقیہ ٢ ؎ سے کم (چاندی) میں زکاۃ نہیں ہے اور نہ پانچ وسق ٣ ؎ سے کم (غلے اور پھلوں) میں زکاۃ ہے ۔

Abu Saeed Al Khudri reported: That the Messenger of Allah ﷺ as saying No sadaqah (zakat) is payable on less than five camels, on less than five ounces of silver and on less than five camel loads (wasq).

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اونٹ کا نصاب پانچ اونٹ ہے، اور چاندی کا پانچ اوقیہ، اور غلے اور پھلوں (جیسے کھجور اور کشمش وغیرہ) کا نصاب پانچ وسق ہے، اور سونے کا نصاب دوسری حدیث میں مذکور ہے جو بیس (٢٠) دینار ہے، جس کے ساڑھے سات تولے ہوتے ہیں، یہ چیزیں اگر نصاب کو پہنچ جائیں اور ان پر سال گزر جائے تو سونے اور چاندی میں ہر سال چالیسواں حصہ زکاۃ کا نکالنا ہوگا، اور اگر بغیر کسی محنت و مشقت کے یا پانی کی اجرت صرف کئے بغیر پیداوار ہو تو غلے اور پھلوں میں دسواں حصہ زکاۃ کا نکالنا ہوگا، اور اگر محنت و مشقت اور پانی کی اجرت لگتی ہو تو بیسواں حصہ نکالنا ہوگا۔ ٢ ؎: اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے اس حساب سے پانچ اوقیہ دو سو درہم کا ہوا، موجودہ وزن کے حساب سے دو سو درہم کا وزن پانچ سو پچانوے (٥٩٥) گرام ہے۔ ٣ ؎: ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے، پانچ وسق کے تین سو صاع ہوئے، موجودہ وزن کے حساب سے تین سو صاع کا وزن تقریباً (٧٥٠) کیلو گرام یعنی ساڑھے سات کو ینٹل ہے۔ اور شیخ عبداللہ البسام نے ایک صاع کو تین کلو گرام بتایا ہے، اس لیے ان کے حساب سے (٩) کو نئٹل غلے میں زکاۃ ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٤ (١٤٠٥)، ٣٢ (١٤٤٧)، ٤٢ (١٤٥٩)، ٥٦ (١٤٨٤)، صحیح مسلم/الزکاة ١ (٩٧٩)، سنن الترمذی/الزکاة ٧ (٦٢٦)، سنن النسائی/الزکاة ٥ (٢٤٤٧)، ١٨ (٢٤٧٥)، ٢١ (٢٤٧٨)، ٢٤ (٢٤٨٥، ٢٤٨٦، ٢٤٨٩)، سنن ابن ماجہ/الزکاة ٦ (١٧٩٣)، (تحفة الأشراف: ٤٤٠٢)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الزکاة ١ (١)، مسند احمد (٣/٦، ٣٠، ٤٥، ٥٩، ٦٠، ٧٣، ٧٤، ٧٩)، سنن الدارمی/الزکاة ١١ (١٦٧٣) (صحیح )
1559Sunan Abu Dawood

زکوة کا نصاب

حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَوْدِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ الْجَمَلِيِّ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ زَكَاةٌ وَالْوَسْقُ سِتُّونَ مَخْتُومًا. قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو الْبَخْتَرِيُّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ.

ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پانچ وسق سے کم میں زکاۃ نہیں ہے ۔ ایک وسق ساٹھ مہر بند صاع کا ہوتا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوالبختری کا سماع ابو سعید خدری ؓ سے نہیں ہے۔

Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : The Prophet ﷺ said: There is no zakat payable (on grain or dates) on less than five camel-loads. The wasq (one camel-load) measures sixty sa in weight.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزکاة ٢٤ (٢٤٨٨)، سنن ابن ماجہ/الزکاة (١٨٣٢)، (تحفة الأشراف: ٤٠٤٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٥٩، ٨٣، ٩٧) (ضعیف) (سند میں انقطاع ہے جیسا کہ مؤلف نے بیان کیا ہے )
1560Sunan Abu Dawood

زکوة کا نصاب

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ بْنِ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْمُغِيرَةِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: الْوَسْقُ سِتُّونَ صَاعًا مَخْتُومًا بِالْحَجَّاجِيِّ.

ابراہیم کہتے ہیں ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے، جس پر حجاجی مہر لگی ہوتی ہے۔

Ibrahim said The wasq contained sixty sa’s stamped with the stamp of Al Hajjaj.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٨٤٠١) (صحیح )
1561Sunan Abu Dawood

زکوة کا نصاب

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا صُرَدُ بْنُ أَبِي الْمَنَازِلِ، قَالَ: سَمِعْتُ حَبِيبًا الْمَالِكِيَّ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ: يَا أَبَا نُجَيْدٍ، إِنَّكُمْ لَتُحَدِّثُونَنَا بِأَحَادِيثَ مَا نَجِدُ لَهَا أَصْلًا فِي الْقُرْآنِ، فَغَضِبَ عِمْرَانُ، وَقَالَ لِلرَّجُلِ: أَوَجَدْتُمْ فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمٌ، وَمِنْ كُلِّ كَذَا وَكَذَا شَاةً شَاةٌ، وَمِنْ كُلِّ كَذَا وَكَذَا بَعِيرًا كَذَا وَكَذَا أَوَجَدْتُمْ هَذَا فِي الْقُرْآنِ، قَالَ: لَا، قَالَ: فَعَنْ مَنْ أَخَذْتُمْ هَذَا ؟ أَخَذْتُمُوهُ عَنَّا وَأَخَذْنَاهُ عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرَ أَشْيَاءَ نَحْوَ هَذَا.

حبیب مالکی کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عمران بن حصین ؓ سے کہا: ابونجید! آپ ہم لوگوں سے بعض ایسی حدیثیں بیان کرتے ہیں جن کی کوئی اصل ہمیں قرآن میں نہیں ملتی، عمران ؓ غضب ناک ہوگئے، اور اس شخص سے یوں گویا ہوئے: کیا قرآن میں تمہیں یہ ملتا ہے کہ ہر چالیس درہم میں ایک درہم (زکاۃ) ہے یا اتنی اتنی بکریوں میں ایک بکری زکاۃ ہے یا اتنے اونٹوں میں ایک اونٹ زکاۃ ہے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ نے پوچھا: پھر تم نے یہ کہاں سے لیا؟ تم نے ہم سے لیا اور ہم نے نبی اکرم ﷺ سے، اس کے بعد ایسی ہی چند اور باتیں ذکر کیں ١ ؎۔

Habib al-Maliki said: A man said to Imran ibn Husayn: Abu Nujayd, you narrate to us traditions whose basis we do not find in the Quran. Thereupon, Imran got angry and said to the man: Do you find in the Quran that one dirham is due on forty dirhams (as Zakat), and one goat is due on such-and-such number of goats, and one camel will be due on such-and-such number of camels? He replied: No. He said: From whom did you take it? You took it from us, from the Messenger of Allah ﷺ . He mentioned many similar things.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی بہت سے دینی مسائل و احکام قرآن مجید میں نہیں ہیں، لیکن رسول اللہ ﷺ کی حدیثوں میں بیان کئے گئے ہیں، تو جس طرح قرآن کی پیروی ضروری ہے اسی طرح حدیث کی پیروی بھی ضروری ہے، نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے ألا إني أوتيت القرآن ومثله معه مجھے قرآن ملا ہے، اور اسی کے ساتھ اسی جیسا اور بھی دیا گیا ہوں یعنی حدیث شریف، پس حدیث قرآن ہی کی طرح لائق حجت و استناد ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠٧٩١) (ضعیف) (اس کے دو راوی صرد اور حبیب لین الحدیث ہیں )
1562Sunan Abu Dawood

سامان تجارت پر زکوة ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ،حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيَأْمُرُنَا أَنْ نُخْرِجَ الصَّدَقَةَ مِنَ الَّذِي نُعِدُّ لِلْبَيْعِ.

سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے انہوں نے امابعد کہا پھر کہا: رسول اللہ ﷺ ہم کو حکم دیتے تھے کہ ہم ان چیزوں میں سے زکاۃ نکالیں جنہیں ہم بیچنے کے لیے رکھتے تھے ١ ؎۔

Narrated Samurah ibn Jundub (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to order us to pay the sadaqah (zakat) on what we prepared for trade.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تجارت کا مال اگر نصاب کو پہنچ جائے تو اس میں بھی زکاۃ ہے، اس مسئلہ پر امت کا اجماع ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٤٦١٨) (ضعیف) (اس کے راوی خبیب مجہول ہیں، لیکن مال تجارت پر زکاة اجماعی مسئلہ ہے )
1563Sunan Abu Dawood

کنز کی تعریف اور زیورات پر زکوة کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، الْمَعْنَى أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهَا ابْنَةٌ لَهَا وَفِي يَدِ ابْنَتِهَا مَسَكَتَانِ غَلِيظَتَانِ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ لَهَا: أَتُعْطِينَ زَكَاةَ هَذَا ؟قَالَتْ: لَا، قَالَ: أَيَسُرُّكِ أَنْ يُسَوِّرَكِ اللَّهُ بِهِمَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ سِوَارَيْنِ مِنْ نَارٍ ؟قَالَ: فَخَلَعَتْهُمَا، فَأَلْقَتْهُمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَتْ: هُمَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلِرَسُولِهِ.

عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس کے ساتھ اس کی ایک بچی تھی، اس بچی کے ہاتھ میں سونے کے دو موٹے موٹے کنگن تھے، آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: کیا تم ان کی زکاۃ دیتی ہو؟ اس نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہیں یہ اچھا لگے گا کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ تمہیں آگ کے دو کنگن ان کے بدلے میں پہنائے ۔ عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ اس عورت نے دونوں کنگن اتار کر انہیں رسول اللہ ﷺ کے سامنے ڈال دئیے اور بولی: یہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔

Amr bin Shuaib on his fathers authority said that his grandfather reported: A woman came to the Messenger of Allah ﷺ and she was accompanied by her daughter who wore two heavy gold bangles in her hands. He said to her: Do you pay zakat on them? She said: No. He then said: Are you pleased that Allah may put two bangles of fire on your hands? Thereupon she took them off and placed them before the Prophet ﷺ saying: They are for Allah and His Messenger.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزکاة ١٩ (٢٤٨١، ٢٤٨٢)، (تحفة الأشراف: ٨٦٨٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٧٨، ٢٠٤، ٢٠٨) (حسن )
1564Sunan Abu Dawood

کنز کی تعریف اور زیورات پر زکوة کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا عَتَّابٌ يَعْنِي ابْنَ بَشِيرٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أَلْبَسُ أَوْضَاحًا مِنْ ذَهَبٍ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَكَنْزٌ هُوَ ؟ فَقَالَ: مَا بَلَغَ أَنْ تُؤَدَّى زَكَاتُهُ، فَزُكِّيَ فَلَيْسَ بِكَنْزٍ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں میں سونے کے اوضاح ١ ؎ پہنا کرتی تھی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا یہ کنز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جو مال اتنا ہوجائے کہ اس کی زکاۃ دی جائے پھر اس کی زکاۃ ادا کردی جائے وہ کنز نہیں ہے ۔

Narrated Umm Salamah, Ummul Muminin (RA) : I used to wear gold ornaments. I asked: Is that a treasure (kanz), Messenger of Allah? He replied: whatever reaches a quantity on which zakat is payable is not a treasure (kanz) when the zakat is paid.

Notes · وضاحت
١ ؎: ایک قسم کا زیور ہے جسے پازیب کہا جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٨١٩٩) (حسن )
1565Sunan Abu Dawood(1566)

کنز کی تعریف اور زیورات پر زکوة کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى فِي يَدَيَّ فَتَخَاتٍ مِنْ وَرِقٍ، فَقَالَ: مَا هَذَا يَا عَائِشَةُ ؟فَقُلْتُ: صَنَعْتُهُنَّ أَتَزَيَّنُ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: أَتُؤَدِّينَ زَكَاتَهُنَّ ؟قُلْتُ: لَا، أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ، قَالَ: هُوَ حَسْبُكِ مِنَ النَّارِ. حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ يَعْلَى، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ نَحْوَ حَدِيثِ الْخَاتَمِ، قِيلَ لِسُفْيَانَ: كَيْفَ تُزَكِّيهِ ؟ قَالَ: تَضُمُّهُ إِلَى غَيْرِهِ.

عبداللہ بن شداد بن الہاد ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس گئے، وہ کہنے لگیں: میرے پاس رسول اللہ ﷺ آئے، آپ نے میرے ہاتھ میں چاندی کی کچھ انگوٹھیاں دیکھیں اور فرمایا: عائشہ! یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا: میں نے انہیں اس لیے بنوایا ہے کہ میں آپ کے لیے بناؤ سنگار کروں، آپ ﷺ نے پوچھا: کیا تم ان کی زکاۃ ادا کرتی ہو؟ میں نے کہا: نہیں، یا جو کچھ اللہ کو منظور تھا کہا، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ تمہیں جہنم میں لے جانے کے لیے کافی ہیں ۔

Narrated Abdallah bin Shaddad bin Al Had (RA) : We entered upon Aisha (RA) , wife of the Prophet ﷺ . She said The Messenger of Allah ﷺ entered upon me and saw two silver rings in my hand. He asked What is this, Aisha (RA) ? I said I have made two ornaments myself for you, Messenger of Allah ﷺ . He asked Do you pay zakat on them? I said No or I said Whatever Allah willed. He said this is sufficient for you (to take you) to the Hell fire.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٦٢٠٠) (صحیح ) اس سند سے عمر بن یعلیٰ (عمر بن عبداللہ بن یعلیٰ بن مرہ) سے اسی انگوٹھی والی حدیث جیسی حدیث مروی ہے سفیان سے پوچھا گیا: آپ اس کی زکاۃ کیسے دیں گے؟ انہوں نے کہا: تم اسے دوسرے میں ملا لو۔ تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٩١٥٧) (ضعیف) (عمر بن یعلی ضعیف راوی ہیں )
1567Sunan Abu Dawood

چرنے والے جانوروں کی زکوة کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: أَخَذْتُ مِنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ كِتَابًا زَعَمَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍكَتَبَهُ لِأَنَسٍ وَعَلَيْهِ خَاتِمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَعَثَهُ مُصَدِّقًا وَكَتَبَهُ لَهُ، فَإِذَا فِيهِ هَذِهِ فَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَنْ سُئِلَهَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى وَجْهِهَا فَلْيُعْطِهَا، وَمَنْ سُئِلَ فَوْقَهَا فَلَا يُعْطِهِ فِيمَا دُونَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الْإِبِلِ الْغَنَمُ فِي كُلِّ خَمْسِ ذَوْدٍ شَاةٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ فَفِيهَا بِنْتُ مَخَاضٍ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ خَمْسًا وَثَلَاثِينَ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهَا بِنْتُ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَثَلَاثِينَ فَفِيهَا بِنْتُ لَبُونٍ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَأَرْبَعِينَ فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْفَحْلِ إِلَى سِتِّينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَسِتِّينَ فَفِيهَا جَذَعَةٌ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَسَبْعِينَ فَفِيهَا ابْنَتَا لَبُونٍ إِلَى تِسْعِينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَتِسْعِينَ فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْفَحْلِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ وَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ، فَإِذَا تَبَايَنَ أَسْنَانُ الْإِبِلِ فِي فَرَائِضِ الصَّدَقَاتِ فَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ الْجَذَعَةِ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ جَذَعَةٌ وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ، وَأَنْ يَجْعَلَ مَعَهَا شَاتَيْنِ إِنِ اسْتَيْسَرَتَا لَهُ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا، وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ الْحِقَّةِ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ حِقَّةٌ وَعِنْدَهُ جَذَعَةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ، وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ الْحِقَّةِ وَلَيْسَ عِنْدَهُ حِقَّةٌ وَعِنْدَهُ ابْنَةُ لَبُونٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: مِنْ هَاهُنَا لَمْ أَضْبِطْهُ عَنْ مُوسَى كَمَا أُحِبُّ، وَيَجْعَلُ مَعَهَا شَاتَيْنِ إِنِ اسْتَيْسَرَتَا لَهُ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا، وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ بِنْتِ لَبُونٍ وَلَيْسَ عِنْدَهُ إِلَّا حِقَّةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: إِلَى هَاهُنَا، ثُمَّ أَتْقَنْتُهُ، وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ، وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ ابْنَةِ لَبُونٍ وَلَيْسَ عِنْدَهُ إِلَّا بِنْتُ مَخَاضٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ وَشَاتَيْنِ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا، وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ ابْنَةِ مَخَاضٍ وَلَيْسَ عِنْدَهُ إِلَّا ابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ فَإِنَّهُ يُقْبَلُ مِنْهُ وَلَيْسَ مَعَهُ شَيْءٌ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ إِلَّا أَرْبَعٌ فَلَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا، وَفِي سَائِمَةِ الْغَنَمِ إِذَا كَانَتْ أَرْبَعِينَ فَفِيهَا شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِيهَا شَاتَانِ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ مِائَتَيْنِ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى مِائَتَيْنِ فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ ثَلَاثَ مِائَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى ثَلَاثِ مِائَةٍ فَفِي كُلِّ مِائَةِ شَاةٍ شَاةٌ وَلَا يُؤْخَذُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ وَلَا ذَاتُ عَوَارٍ مِنَ الْغَنَمِ وَلَا تَيْسُ الْغَنَمِ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ الْمُصَدِّقُ، وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُفْتَرِقٍ وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ، وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ، فَإِنْ لَمْ تَبْلُغْ سَائِمَةُ الرَّجُلِ أَرْبَعِينَ فَلَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا، وَفِي الرِّقَةِ رُبْعُ الْعُشْرِ فَإِنْ لَمْ يَكُنِ الْمَالُ إِلَّا تِسْعِينَ وَمِائَةً فَلَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا.

حماد کہتے ہیں میں نے ثمامہ بن عبداللہ بن انس سے ایک کتاب لی، وہ کہتے تھے: یہ ابوبکر ؓ نے انس ؓ کے لیے لکھی تھی، اس پر رسول اللہ ﷺ کی مہر لگی ہوئی تھی، جب آپ نے انہیں صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا تھا تو یہ کتاب انہیں لکھ کردی تھی، اس میں یہ عبارت لکھی تھی: یہ فرض زکاۃ کا بیان ہے جو رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں پر مقرر فرمائی ہے اور جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اکرم ﷺ کو دیا ہے، لہٰذا جس مسلمان سے اس کے مطابق زکاۃ طلب کی جائے، وہ اسے ادا کرے اور جس سے اس سے زائد طلب کی جائے، وہ نہ دے: پچیس (٢٥) سے کم اونٹوں میں ہر پانچ اونٹ پر ایک بکری ہے، جب پچیس اونٹ پورے ہوجائیں تو پینتیس (٣٥) تک میں ایک بنت مخاض ١ ؎ ہے، اگر بنت مخاض نہ ہو تو ابن لبون دیدے، اور جب چھتیس (٣٦) اونٹ ہوجائیں تو پینتالیس (٤٥) تک میں ایک بنت لبون ہے، جب چھیالیس (٤٦) اونٹ پورے ہوجائیں تو ساٹھ (٦٠) تک میں ایک حقہ واجب ہے، اور جب اکسٹھ (٦١) اونٹ ہوجائیں تو پچہتر (٧٥) تک میں ایک جذعہ واجب ہوگی، جب چھہتر (٧٦) اونٹ ہوجائیں تو نوے (٩٠) تک میں دو بنت لبون دینا ہوں گی، جب اکیانوے (٩١) ہوجائیں تو ایک سو بیس (١٢٠) تک دو حقہ اور جب ایک سو بیس (١٢٠) سے زائد ہوں تو ہر چالیس (٤٠) میں ایک بنت لبون اور ہر پچاس (٥٠) میں ایک حقہ دینا ہوگا۔ اگر وہ اونٹ جو زکاۃ میں ادا کرنے کے لیے مطلوب ہے، نہ ہو، مثلاً کسی کے پاس اتنے اونٹ ہوں کہ اسے جذعہ دینا ہو لیکن اس کے پاس جذعہ نہ ہو بلکہ حقہ ہو تو حقہ ہی لے لی جائے گی، اور ساتھ ساتھ دو بکریاں، یا بیس درہم بھی دیدے۔ یا اسی طرح کسی کے پاس اتنے اونٹ ہوں کہ ان میں حقہ دینا ہو لیکن اس کے پاس حقہ نہ ہو بلکہ جذعہ ہو تو اس سے جذعہ ہی قبول کرلی جائے گی، البتہ اب اسے عامل (زکاۃ وصول کرنے والا) بیس درہم یا دو بکریاں لوٹائے گا، اسی طرح سے کسی کے پاس اتنے اونٹ ہوں کہ ان میں حقہ دینا ہو لیکن اس کے پاس حقہ کے بجائے بنت لبون ہوں تو بنت لبون ہی اس سے قبول کرلی جائے گی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں موسیٰ سے حسب منشاء اس عبارت سے ويجعل معها شاتين إن استيسرتا له، أو عشرين درهمًا سے لے کر ومن بلغت عنده صدقة بنت لبون وليس عنده إلا حقة فإنها تقبل منه تک اچھی ضبط نہ کرسکا، پھر آگے مجھے اچھی طرح یاد ہے: یعنی اگر اسے میسر ہو تو اس سے دو بکریاں یا بیس درہم واپس لے لیں گے، اگر کسی کے پاس اتنے اونٹ ہوں، جن میں بنت لبون واجب ہوتا ہو اور بنت لبون کے بجائے اس کے پاس حقہ ہو تو حقہ ہی اس سے قبول کرلیا جائے گا اور زکاۃ وصول کرنے والا اسے بیس درہم یا دو بکریاں واپس کرے گا، جس کے پاس اتنے اونٹ ہوں جن میں بنت لبون واجب ہوتی ہو اور اس کے پاس بنت مخاض کے علاوہ کچھ نہ ہو تو اس سے بنت مخاض لے لی جائے گی اور اس کے ساتھ ساتھ دو بکریاں یا بیس درہم اور لیے جائیں گے، جس کے اوپر بنت مخاض واجب ہوتا ہو اور بنت مخاض کے بجائے اس کے پاس ابن لبون مذکر ہو تو وہی اس سے قبول کرلیا جائے گا اور اس کے ساتھ کوئی چیز واپس نہیں کرنی پڑے گی، اگر کسی کے پاس صرف چار ہی اونٹ ہوں تو ان میں کچھ بھی نہیں ہے سوائے اس کے کہ ان کا مالک اپنی خوشی سے کچھ دیدے۔ اگر چالیس (٤٠) بکریاں چرنے والی ہوں تو ان میں ایک سو بیس (١٢٠) تک ایک بکری دینی ہوگی، جب ایک سو اکیس (١٢١) ہوجائیں تو دو سو تک دو بکریاں دینی ہوں گی، جب دو سو سے زیادہ ہوجائیں تو تین سو (٣٠٠) تک تین بکریاں دینی ہوں گی، جب تین سو سے زیادہ ہوں تو پھر ہر سینکڑے پر ایک بکری دینی ہوگی، زکاۃ میں بوڑھی عیب دار بکری اور نر بکرا نہیں لیا جائے گا سوائے اس کے کہ مصلحتاً زکاۃ وصول کرنے والے کو نر بکرا لینا منظور ہو۔ اسی طرح زکاۃ کے خوف سے متفرق مال جمع نہیں کیا جائے گا اور نہ جمع مال متفرق کیا جائے گا اور جو نصاب دو آدمیوں میں مشترک ہو تو وہ ایک دوسرے پر برابر کا حصہ لگا کرلیں گے ٢ ؎۔ اگر چرنے والی بکریاں چالیس سے کم ہوں تو ان میں کچھ بھی نہیں ہے سوائے اس کے کہ مالک چا ہے تو اپنی مرضی سے کچھ دیدے، اور چاندی میں چالیسواں حصہ دیا جائے گا البتہ اگر وہ صرف ایک سو نوے درہم ہو تو اس میں کچھ بھی واجب نہیں سوائے اس کے کہ مالک کچھ دینا چاہے۔

Narrated Hammad (RA) : I took a letter from Thumamah bin Abdullah bin Anas. He presumed that Abu Bakr had written it for Anas when he sent him (to Al Bahrain) as a collector of zakat. This (letter) was stamped with the stamp of the Messenger of Allah ﷺ and was written by Abu Bakr for him (Anas). This letter goes “This is the obligatory sadaqah (zakat) which the Messenger of Allah ﷺ imposed on Muslims which Allah commanded his Prophet ﷺ to impose. Those Muslims who are asked for the proper amount must give it, but those who are asked for more than that must not give it. For less than twenty five Camels a goat is to be given for every five Camels. When they reach twenty five to thirty five, a she Camel in her second year is to be given. If there is no she Camel in her second year, a male Camel in its third year is to be given. When they reach thirty six to forty five, a she Camel in her third year is to be given. When they reach forty six to sixty, a she Camel in her fourth year which is ready to be covered by a stallion is to be given. When they reach sixty one to seventy five, a she Camel in her fifth year is to be given. When they reach seventy six to ninety, two she Camel in their third year are to be given. When they reach ninety one to a hundred and twenty, two she Camels in their fourth year are ready to be covered by a stallion are to be given. When they exceed a hundred and twenty, a she Camel in her third year is to be given for every forty and a she Camel in her fourth year for every fifty (Camels). In case the ages of the Camel vary in the payment of obligatory sadaqah (zakat) If anyone whose Camels reach the number on which a she Camel in her fifth year is payable does not possess one but possess one in her fourth year, that will be accepted from him along with two goats if he can conveniently give them, or else twenty dirhams. If anyone whose Camels reach the number on which a she Camel in her fourth year is payable does not possess but possesses one in her fifth year, that will be accepted from him, and the collector must give him twenty dirhams or two goats. If anyone whose Camels reach the number on which a she Camel in her fourth year is payable possesses only one in her third year, that will be accepted from him. ” Abu Dawud said From here I could not retain accurately from Musa as I liked “And he must give along with it two goats if he can conveniently give them, or else twenty dirhams. If anyone whose Camels reach the number on which a she Camel in her third year is payable possesses only one in her fourth year, that will be accepted from him. ” Abu Dawud said (I was doubtful) up to here, and retained correctly onward “and the collector must give him twenty dirhams or two goats. If anyone whose Camels reach the number on which a she Camel in her third year is payable does not possess one but possesses one in her second year, that will be accepted from him, but he must give two goats or twenty dirhams. Anyone whose Camels reach the number on which a she Camel in her second year is payable does not possess one but possesses a male Camel in its third year, that will be accepted from him, and nothing extra will be demanded along with it. If anyone possesses only four Camels, no zakat will be payable on them unless their owner wishes. If the numbers of the pasturing goats reach forty to one hundred and twenty, one goat is to be given. Over one hundred and twenty up to two hundred, two goats are to be given. If they exceed two hundred reaching three hundred, three goats are to be given. If they exceed three hundred, a goat is to be for every hundred. An old sheep, one with a defect in the eye, or a male goat is not to be accepted as sadaqah (zakat) unless the collector wishes. Those which are in separate flocks are not to be brought together and those which are in one flock are not to be separated from fear of sadaqah (zakat). Regarding what belongs to two partners, they can make claims for restitution from one another with equity, If a man’s pasturing animals are less than forty, no sadaqah (zakat) is due on them unless their owner wishes. On sliver dirhams a fortieth is payable, but if there are only a hundred and ninety, nothing is payable unless their owner wishes. ”

Notes · وضاحت
١ ؎: بنت مخاض، بنت لبون، حقہ، جذعہ وغیرہ کی تشریح آگے باب نمبر (٧) تفسیر انسان الابل میں دیکھئے۔ ٢ ؎: مثلاً دو شریک ہیں ایک کی ایک ہزار بکریاں ہیں اور دوسرے کی صرف چالیس بکریاں، اس طرح کل ایک ہزار چالیس بکریاں ہوئیں، محصل آیا اور اس نے دس بکریاں زکاۃ میں لے لیں، فرض کیجئے ہر بکری کی قیمت چھبیس چھبیس روپے ہے اس طرح ان کی مجموعی قیمت دو سو ساٹھ روپے ہوئی جس میں دس روپے اس شخص کے ذمہ ہوں گے جس کی چالیس بکریاں ہیں اور دو سو پچاس روپے اس پر ہوں گے جس کی ایک ہزار بکریاں ہیں، کیونکہ ایک ہزار چالیس کے چھبیس چالی سے بنتے ہیں جس میں سے ایک چالیسہ کی زکاۃ چالیس بکریوں والے پر ہوگی اور (٢٥) چالیسوں کی زکاۃ ایک ہزار بکریوں والے پر، اب اگر محصل نے چالیس بکریوں والے شخص کی بکریوں سے دس بکریاں زکاۃ میں لی ہیں جن کی مجموعی قیمت دو سو ساٹھ روپے بنتی ہے تو ہزار بکریوں والا اسے ڈھائی سو روپے واپس کرے گا، اور اگر محصل نے ایک ہزار بکریوں والے شخص کی بکریوں میں سے لی ہیں تو چالیس بکریوں والا اسے دس روپیہ واپس کرے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٣٣ (١٤٤٨)، ٣٩ (١٤٥٥)، الشرکة ٢ (٢٤٨٧)، فرض الخمس ٥ (٣٠١٦)، الحیل ٣ (٦٩٥٥)، سنن النسائی/الزکاة ٥ (٢٤٤٩)، ١٠ (٢٤٥٧)، سنن ابن ماجہ/الزکاة ١٠ (١٨٠٠)، (تحفة الأشراف: ٦٥٨٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١١، ١٣) (صحیح )
1568Sunan Abu Dawood

چرنے والے جانوروں کی زکوة کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِتَابَ الصَّدَقَةِ، فَلَمْ يُخْرِجْهُ إِلَى عُمَّالِهِ حَتَّى قُبِضَ فَقَرَنَهُ بِسَيْفِهِ، فَعَمِلَ بِهِ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى قُبِضَ، ثُمَّ عَمِلَ بِهِ عُمَرُ حَتَّى قُبِضَ فَكَانَ فِيهِفِي خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ شَاةٌ، وَفِي عَشْرٍ شَاتَانِ، وَفِي خَمْسَ عَشْرَةَ ثَلَاثُ شِيَاهٍ، وَفِي عِشْرِينَ أَرْبَعُ شِيَاهٍ، وَفِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ ابْنَةُ مَخَاضٍ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا ابْنَةُ لَبُونٍ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا حِقَّةٌ إِلَى سِتِّينَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا جَذَعَةٌ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا ابْنَتَا لَبُونٍ إِلَى تِسْعِينَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا حِقَّتَانِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِنْ كَانَتِ الْإِبِلُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونٍ، وَفِي الْغَنَمِ فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَشَاتَانِ إِلَى مِائَتَيْنِ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً عَلَى الْمِائَتَيْنِ فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ إِلَى ثَلَاثِ مِائَةٍ، فَإِنْ كَانَتِ الْغَنَمُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَفِي كُلِّ مِائَةِ شَاةٍ شَاةٌ وَلَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ حَتَّى تَبْلُغَ الْمِائَةَ، وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ مَخَافَةَ الصَّدَقَةِ، وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ وَلَا يُؤْخَذُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ وَلَا ذَاتُ عَيْبٍ، قَالَ: وقَالَ الزُّهْرِيُّ: إِذَا جَاءَ الْمُصَدِّقُ قُسِّمَتِ الشَّاءُ أَثْلَاثًا ثُلُثًا شِرَارًا، وَثُلُثًا خِيَارًا، وَثُلُثًا وَسَطًا، فَأَخَذَ الْمُصَدِّقُ مِنَ الْوَسَطِوَلَمْ يَذْكُرْ الزُّهْرِيُّ الْبَقَرَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے زکاۃ کی کتاب لکھی، لیکن اسے اپنے عمال کے پاس بھیج نہ پائے تھے کہ آپ کی وفات ہوگئی، آپ ﷺ نے اسے اپنی تلوار سے لگائے رکھا پھر اس پر ابوبکر ؓ نے عمل کیا یہاں تک کہ وہ وفات پا گئے، پھر عمر ؓ نے اپنی وفات تک اس پر عمل کیا، اس کتاب میں یہ تھا: پا نچ (٥) اونٹ میں ایک (١) بکری ہے، دس (١٠) اونٹ میں دو (٢) بکریاں، پندرہ (١٥) اونٹ میں تین (٣) بکریاں، اور بیس (٢٠) میں چار (٤) بکریاں ہیں، پھر پچیس (٢٥) سے پینتیس (٣٥) تک میں ایک بنت مخاض ہے، پینتیس (٣٥) سے زیادہ ہوجائے تو پینتالیس (٤٥) تک ایک بنت لبون ہے، جب پینتالیس (٤٥) سے زیادہ ہوجائے تو ساٹھ (٦٠) تک ایک حقہ ہے، جب ساٹھ (٦٠) سے زیادہ ہوجائے تو پچہتر (٧٥) تک ایک جذعہ ہے، جب پچہتر (٧٥) سے زیادہ ہوجائے تو نوے (٩٠) تک دو بنت لبون ہیں، جب نوے (٩٠) سے زیادہ ہوجائیں تو ایک سو بیس (١٢٠) تک دو حقے ہیں، اور جب اس سے بھی زیادہ ہوجائیں تو ہر پچاس (٥٠) پر ایک حقہ اور ہر چالیس (٤٠) پر ایک بنت لبون واجب ہے۔ بکریوں میں چالیس (٤٠) سے لے کر ایک سو بیس (١٢٠) بکریوں تک ایک (١) بکری واجب ہوگی، اگر اس سے زیادہ ہوجائیں تو دو سو (٢٠٠) تک دو (٢) بکریاں ہیں، اس سے زیادہ ہوجائیں تو تین سو (٣٠٠) تک تین (٣) بکریاں ہیں، اگر اس سے بھی زیادہ ہوجائیں تو ہر سو (١٠٠) بکری پر ایک (١) بکری ہوگی، اور جو سو (١٠٠) سے کم ہو اس میں کچھ بھی نہیں، زکاۃ کے ڈر سے نہ جدا مال کو اکٹھا کیا جائے اور نہ اکٹھا مال کو جدا کیا جائے اور جو مال دو آدمیوں کی شرکت میں ہو وہ ایک دوسرے سے لے کر اپنا اپنا حصہ برابر کرلیں، زکاۃ میں بوڑھا اور عیب دار جانور نہ لیا جائے گا ۔ زہری کہتے ہیں: جب مصدق (زکاۃ وصول کرنے والا) آئے تو بکریوں کے تین غول کریں گے، ایک غول میں گھٹیا درجہ کی بکریاں ہوں گی دوسرے میں عمدہ اور تیسرے میں درمیانی درجہ کی تو مصدق درمیانی درجہ کی بکریاں زکاۃ میں لے گا، زہری نے گایوں کا ذکر نہیں کیا۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ wrote a letter about sadaqah (zakat) but he died before he could send it to his governors. He had kept it with his sword. So Abu Bakr acted upon it till he died, and then Umar acted upon it till he died. It contained: For five camels one goat is to be given; for ten camels two goats are to be given; for fifteen camels three goats are to be given; for twenty camels four goats are to be given; for twenty-five to thirty-five camels a she-camel in her second year is to be given. If the number exceeds by one up to seventy camels, a she-camel in her fourth year is to be given; if they exceed by one up to seventy-five camels, a she-camel in her fifth year is to be given; if they exceed by one up to ninety camels, two she-camels in their third year are to be given; if they exceed by one up to one hundred and twenty, two she-camels in their fourth year are to be given. If the camels are more than this, a she-camel in her fourth year is to be given for every fifty camels, and a she-camel in her third year is to be given for every forty camels. For forty to one hundred and twenty goats one goat is to be given; if they exceed by one up to two hundred, two goats are to be given. If they exceed by one up to three hundred, three goats are to be given; if the goats are more than this, one goat for every hundred goats is to be given. Nothing is payable until they reach one hundred. Those which are in one flock are not to be separated, and those which are in separate flocks are not be brought together from fear of sadaqah (zakat). Regarding that which belongs to two partners, they can make claims for restitution from each other with equity. An old goat and a defective one are not to be accepted as sadaqah (zakat). Az-Zuhri said: When the collector comes, the goats will be apportioned into three flocks: one containing bad, the second good, and the third moderate. The collector will take zakat from the moderate. Az-Zuhri did not mention the cows (to be apportioned in three flocks).

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الزکاة ٤ (٦٢١)، (تحفة الأشراف: ٦٨١٣)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الزکاة ٩ (١٧٩٨)، موطا امام مالک/الزکاة ١١ (٢٣) (وجادةً )، سنن الدارمی/الزکاة ٦ (١٦٦٦)، مسند احمد (٢/١٤، ١٥) (صحیح) (متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث بھی صحیح ہے، ورنہ سفیان بن حسین زہری سے روایت میں ثقہ نہیں ہیں )
1569Sunan Abu Dawood

چرنے والے جانوروں کی زکوة کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ: فَإِنْ لَمْ تَكُنْ ابْنَةُ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍوَلَمْ يَذْكُرْ كَلَامَ الزُّهْرِيِّ.

محمد بن یزید واسطی کہتے ہیں ہمیں سفیان بن حسین نے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث کی خبر دی ہے اس میں ہے: اگر بنت مخاض نہ ہو تو ابن لبون واجب ہوگا ، اور انہوں نے زہری کے کلام کا ذکر نہیں کیا ہے۔

Therefore said tradition has also been transmitted by Sufyan bin Husain through a different chain of narrators and to the same effect. This version adds “If there is no she Camel in her second year, a she Camel in her third year is to be given. ” This does not mention the words of Al Zuhri.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف: ٦٨١٣) (صحیح )
1570Sunan Abu Dawood

چرنے والے جانوروں کی زکوة کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: هَذِهِ نُسْخَةُ كِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي كَتَبَهُ فِي الصَّدَقَةِ، وَهِيَ عِنْدَ آلُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَقْرَأَنِيهَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَوَعَيْتُهَا عَلَى وَجْهِهَا، وَهِيَ الَّتِي انْتَسَخَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَسَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَإِذَا كَانَتْ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا ثَلَاثُ بَنَاتِ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ ثَلَاثِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا بِنْتَا لَبُونٍ وَحِقَّةٌ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَثَلَاثِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ أَرْبَعِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا حِقَّتَانِ وَبِنْتُ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَأَرْبَعِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ خَمْسِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا ثَلَاثُ حِقَاقٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَخَمْسِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ سِتِّينَ وَمِائَةً فَفِيهَا أَرْبَعُ بَنَاتِ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَسِتِّينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ سَبْعِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا ثَلَاثُ بَنَاتِ لَبُونٍ وَحِقَّةٌ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَسَبْعِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ ثَمَانِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا حِقَّتَانِ وَابْنَتَا لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَثَمَانِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ تِسْعِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا ثَلَاثُ حِقَاقٍ وَبِنْتُ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَتِسْعِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ مِائَتَيْنِ فَفِيهَا أَرْبَعُ حِقَاقٍ أَوْ خَمْسُ بَنَاتِ لَبُونٍ أَيُّ السِّنَّيْنِ وُجِدَتْ أُخِذَتْ وَفِي سَائِمَةِ الْغَنَمِ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، وَفِيهِ: وَلَا يُؤْخَذُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ، وَلَا ذَاتُ عَوَارٍ مِنَ الْغَنَمِ، وَلَا تَيْسُ الْغَنَمِ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ الْمُصَدِّقُ.

ابن شہاب زہری کہتے ہیں یہ نقل ہے اس کتاب کی جو رسول اللہ ﷺ نے زکاۃ کے تعلق سے لکھی تھی اور وہ عمر بن خطاب ؓ کی اولاد کے پاس تھی۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں: اسے مجھے سالم بن عبداللہ بن عمر نے پڑھایا تو میں نے اسے اسی طرح یاد کرلیا جیسے وہ تھی، اور یہی وہ نسخہ ہے جسے عمر بن عبدالعزیز نے عبداللہ بن عبداللہ بن عمر اور سالم بن عبداللہ بن عمر سے نقل کروایا تھا، پھر آگے انہوں نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا: جب ایک سو اکیس (١٢١) اونٹ ہوجائیں تو ان میں ایک سو انتیس (١٢٩) تک تین (٣) بنت لبون واجب ہیں، جب ایک سو تیس (١٣٠) ہوجائیں تو ایک سو انتالیس (١٣٩) تک میں دو (٢) بنت لبون اور ایک (١) حقہ ہیں، جب ایک سو چالیس (١٤٠) ہوجائیں تو ایک سو انچاس (١٤٩) تک دو (٢) حقہ اور ایک (١) بنت لبون ہیں، جب ایک سو پچاس (١٥٠) ہوجائیں تو ایک سو انسٹھ (١٥٩) تک تین (٣) حقہ ہیں، جب ایک سو ساٹھ (١٦٠) ہوجائیں تو ایک سو انہتر (١٦٩) تک چار (٤) بنت لبون ہیں، جب ایک سو ستر (١٧٠) ہوجائیں تو ایک سو اناسی (١٧٩) تک تین (٣) بنت لبون اور ایک (١) حقہ ہیں، جب ایک سو اسی (١٨٠) ہوجائیں تو ایک سو نو اسی (١٨٩) تک دو (٢) حقہ اور دو (٢) بنت لبون ہیں، جب ایک سو نوے (١٩٠) ہوجائیں تو ایک سو ننانوے (١٩٩) تک تین (٣) حقہ اور ایک (١) بنت لبون ہیں، جب دو سو (٢٠٠) ہوجائیں تو چار (٤) حقے یا پانچ (٥) بنت لبون، ان میں سے جو بھی پائے جائیں، لے لیے جائیں گے ۔ اور ان بکریوں کے بارے میں جو چرائی جاتی ہوں، اسی طرح بیان کیا جیسے سفیان بن حصین کی روایت میں گزرا ہے، مگر اس میں یہ بھی ہے کہ زکاۃ میں بوڑھی یا عیب دار بکری نہیں لی جائے گی، اور نہ ہی غیر خصی (نر) لیا جائے گا سوائے اس کے کہ زکاۃ وصول کرنے والا خود چاہے۔

Ibn Shihab (Al Zuhri) said This is the copy of the letter of the Messenger of Allah ﷺ , which he had written about sadaqah (zakat). This was in the custody of the descendants of Umar bin Al Khattab. Ibn Shihab said Salim bin Abdallah bin Umar read it to me and I memorized it properly. Umar bin Abdul Aziz got it copied from Abdallah, Abdallah bin Umar and Salim bin Abdallah bin Umar. He (Ibn Shihab) then narrated the tradition like the former (i. e., up to one hundred and twenty camels). He further said if they (the camels) reach one hundred and twenty one to one hundred and twenty nine, three she camels in their third year are to be given. When they reach one hundred and thirty to one hundred and thirty nine, two she camels in their third year and one she Camel in her fourth year are to be given. When they reach one hundred and forty to one hundred and forty nine, two she camels in their fourth year and one she Camel in her third year are to be given. When they reach one hundred and fifty to one hundred and fifty nine, three she camels in their fourth year are to be given. When they reach one hundred and sixty to one hundred and sixty nine four she camels in their fourth year are to be given. When they reach one hundred and seventy to one hundred and seventy nine, three she camels in their third year and one she Camel in her fourth year are to be given. When they reach one hundred and eighty to one hundred and eighty nine, two she camels in their fourth year and two she Camel in their third year are to be given. When they reach one hundred and ninety to one hundred and ninety nine, three she camels in their fourth year and one she Camel in her third year are to be given. When they reach two hundred, four she camels in their fourth year or five she Camels in their third year, camels of whichever age are available, are to be accepted. For the pasturing goats, he narrated the tradition similar to that transmitted by Sufyan bin Husain. This version adds “An old goat, one with defect in the eye or a male goat is not to be accepted in sadaqah (zakat) unless the collector wishes. ”

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (١٥٦٨)، ( تحفة الأشراف: ٦٨١٣، ١٨٦٧٠) (صحیح )
1571Sunan Abu Dawood

چرنے والے جانوروں کی زکوة کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، قَالَ: قَالَ مَالِكٌ: وَقَوْلُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ، وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ، هُوَ أَنْ يَكُونَ لِكُلِّ رَجُلٍ أَرْبَعُونَ شَاةً، فَإِذَا أَظَلَّهُمُ الْمُصَدِّقُ جَمَعُوهَا لِئَلَّا يَكُونَ فِيهَا إِلَّا شَاةٌ، وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ أَنَّ الْخَلِيطَيْنِ إِذَا كَانَ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةُ شَاةٍ وَشَاةٌ فَيَكُونُ عَلَيْهِمَا فِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ، فَإِذَا أَظَلَّهُمَا الْمُصَدِّقُ فَرَّقَا غَنَمَهُمَا فَلَمْ يَكُنْ عَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا إِلَّا شَاةٌ، فَهَذَا الَّذِي سَمِعْتُ فِي ذَلِكَ.

عبداللہ بن مسلمہ کہتے ہیں کہ مالک نے کہا: عمر بن خطاب ؓ کے قول جدا جدا مال کو اکٹھا نہیں کیا جائے گا اور نہ اکٹھے مال کو جدا کیا جائے گا کا مطلب یہ ہے: مثلاً ہر ایک کی چالیس چالیس بکریاں ہوں، جب مصدق ان کے پاس زکاۃ وصول کرنے آئے تو وہ سب اپنی بکریوں کو ایک جگہ کردیں تاکہ ایک ہی شخص کی تمام بکریاں سمجھ کر ایک بکری زکاۃ میں لے، اکٹھا مال جدا نہ کئے جانے کا مطلب یہ ہے: دو ساجھے دار ہوں اور ہر ایک کی ایک سو ایک بکریاں ہوں (دونوں کی ملا کر دو سو دو ) تو دونوں کو ملا کر تین بکریاں زکاۃ کی ہوتی ہیں، لیکن جب زکاۃ وصول کرنے والا آتا ہے تو دونوں اپنی اپنی بکریاں الگ کرلیتے ہیں، اس طرح ہر ایک پر ایک ہی بکری لازم ہوتی ہے، یہ ہے وہ چیز جو میں نے اس سلسلے میں سنی ہے۔

Narrated Malik: The statement of Umar bin Al Khattab “Those which are in separate flocks are not to be brought together and those which are in one flock are not to be separated” means Two persons had forty goats each ; when the collector came they brought them together in one flock so that only one goat could be given. The phrase “those which are in one flock are not to be separated” means If two partners possessed one hundred and one goats each, three goats were to be given by each of them. When the collector came they separated their goats. Thus only one goat was to be given by each of them. This is what I heard on this subject.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١٩٢٥٤)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الزکاة ١١ (٢٣) (صحیح )
1572Sunan Abu Dawood

چرنے والے جانوروں کی زکوة کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، وَعَنْ الْحَارِثِ الأَعْوَرِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ زُهَيْرٌ: أَحْسَبُهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّه قَالَ: هَاتُوا رُبْعَ الْعُشُورِ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمٌ، وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ شَيْءٌ حَتَّى تَتِمَّ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ، فَإِذَا كَانَتْ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ، فَمَا زَادَ فَعَلَى حِسَابِ ذَلِكَ، وَفِي الْغَنَمِ فِي أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةٌ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ إِلَّا تِسْعٌ وَثَلَاثُونَ فَلَيْسَ عَلَيْكَ فِيهَا شَيْءٌوَسَاقَ صَدَقَةَ الْغَنَمِ مِثْلَ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: وَفِي الْبَقَرِ فِي كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعٌ وَفِي الْأَرْبَعِينَ مُسِنَّةٌ، وَلَيْسَ عَلَى الْعَوَامِلِ شَيْءٌ، وَفِي الْإِبِلِفَذَكَرَ صَدَقَتَهَا كَمَا ذَكَرَ الزُّهْرِيُّ، قَالَ: وَفِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ خَمْسَةٌ مِنَ الْغَنَمِ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا ابْنَةُ مَخَاضٍ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ بِنْتُ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا بِنْتُ لَبُونٍ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْجَمَلِ إِلَى سِتِّينَثُمَّ سَاقَ مِثْلَ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً، يَعْنِي وَاحِدَةً وَتِسْعِينَ، فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْجَمَلِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِنْ كَانَتِ الْإِبِلُ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ، وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُفْتَرِقٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ، وَلَا تُؤْخَذُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ وَلَا ذَاتُ عَوَارٍ وَلَا تَيْسٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ الْمُصَدِّقُ، وَفِي النَّبَاتِ مَا سَقَتْهُ الْأَنْهَارُ أَوْ سَقَتِ السَّمَاءُ الْعُشْرُ، وَمَا سَقَى الْغَرْبُ فَفِيهِ نِصْفُ الْعُشْرِ، وَفِي حَدِيثِ عَاصِمٍ، وَالْحَارِثِ: الصَّدَقَةُ فِي كُلِّ عَامٍ، قَالَ زُهَيْرٌ: أَحْسَبُهُ قَالَ: مَرَّةً، وَفِي حَدِيثِ عَاصِمٍ: إِذَا لَمْ يَكُنْ فِي الْإِبِلِ ابْنَةُ مَخَاضٍ وَلَا ابْنُ لَبُونٍ فَعَشَرَةُ دَرَاهِمَ أَوْ شَاتَانِ.

علی ؓ سے روایت ہے (زہیر کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے) ، آپ ﷺ نے فرمایا ہے: چالیسواں حصہ نکالو، ہر چالیس (٤٠) درہم میں ایک (١) درہم، اور جب تک دو سو (٢٠٠) درہم پورے نہ ہوں تم پر کچھ لازم نہیں آتا، جب دو سو (٢٠٠) درہم پورے ہوں تو ان میں پانچ (٥) درہم زکاۃ کے نکالو، پھر جتنے زیادہ ہوں اسی حساب سے ان کی زکاۃ نکالو، بکریوں میں جب چالیس (٤٠) ہوں تو ایک (١) بکری ہے، اگر انتالیس (٣٩) ہوں تو ان میں کچھ لازم نہیں ، پھر بکریوں کی زکاۃ اسی طرح تفصیل سے بیان کی جو زہری کی روایت میں ہے۔ گائے بیلوں میں یہ ہے کہ ہر تیس (٣٠) گائے یا بیل پر ایک سالہ گائے دینی ہوگی اور ہر چا لیس (٤٠) میں دو سالہ گائے دینی ہوگی، باربرداری والے گائے بیلوں میں کچھ لازم نہیں ہے، اونٹوں کے بارے میں زکاۃ کی وہی تفصیل اسی طرح بیان کی جو زہری کی روایت میں گزری ہے، البتہ اتنے فرق کے ساتھ کہ پچیس (٢٥) اونٹوں میں پانچ (٥) بکریاں ہوں گی، ایک بھی زیادہ ہونے یعنی چھبیس (٢٦) ہوجانے پر پینتیس (٣٥) تک ایک (١) بنت مخاض ہوگی، اگر بنت مخاض نہ ہو تو ابن لبون نر ہوگا، اور جب چھتیس (٣٦) ہوجائیں تو پینتالیس (٤٥) تک ایک (١) بنت لبون ہے، جب چھیالیس (٤٦) ہوجائیں تو ساٹھ (٦٠) تک ایک (١) حقہ ہے جو نر اونٹ کے لائق ہوجاتی ہے ، اس کے بعد اسی طرح بیان کیا ہے جیسے زہری نے بیان کیا یہاں تک کہ جب اکیانوے (٩١) ہوجائیں تو ایک سو بیس (١٢٠) تک دو (٢) حقہ ہوں گی جو جفتی کے لائق ہوں، جب اس سے زیادہ ہوجائیں تو ہر پچاس (٥٠) پر ایک (١) حقہ دینا ہوگا، زکاۃ کے خوف سے نہ اکٹھا مال جدا کیا جائے اور نہ جدا مال اکٹھا کیا جائے، اسی طرح نہ کوئی بوڑھا جانور قابل قبول ہوگا اور نہ عیب دار اور نہ ہی نر، سوائے اس کے کہ مصدق کی چاہت ہو۔ (زمین سے ہونے والی) ، پیداوار کے سلسلے میں کہا کہ نہر یا بارش کے پانی کی سینچائی سے جو پیداوار ہوئی ہو، اس میں دسواں حصہ لازم ہے اور جو پیداوار رہٹ سے پانی کھینچ کر کی گئی ہو، اس میں بیسواں حصہ لیا جائے گا ۔ عاصم اور حارث کی ایک روایت میں ہے کہ زکاۃ ہر سال لی جائے گی۔ زہیر کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ ہر سال ایک بار کہا۔ عاصم کی روایت میں ہے: جب بنت مخاض اور ابن لبون بھی نہ ہو تو دس درہم یا دو بکریاں دینی ہوں گی ۔

Al-Harith al-Awar reported from Ali. Zuhayr said: I think, the Prophet ﷺ said: Pay a fortieth. A dirham is payable on every forty, but you are not liable for payment until you have accumulated two hundred dirhams. When you have two hundred dirhams, five dirhams are payable, and that proportion is applicable to larger amounts. Regarding sheep, for every forty sheep up to one hundred and twenty, one sheep is due. But if you possess only thirty-nine, nothing is payable on them. He further narrated the tradition about the sadaqah (zakat) on sheep like that of az-Zuhri. Regarding cattle, a yearling bull calf is payable for every thirty, and a cow in her third year for forty, and nothing is payable on working animals. Regarding (the zakat on) camels, he mentioned the rates that az-Zuhri mentioned in his tradition. He said: For twenty-five camels, five sheep are to be paid. If they exceed by one, a she-camel in her second year is to be given. If there is no she-camel in her second year, a male camel in its third year is to be given, up to thirty-five. If they exceed by one a she-camel in her third year is to be given, up to forty-five. If they exceed by one, a she-camel in her fourth year which is ready to be covered by a bull-camel is to be given. He then transmitted the rest of the tradition like that of az-Zuhri. He continued: If they exceed by one, i. e. they are ninety-one to hundred and twenty, two she-camels in their fourth year, which are ready to be covered by a bull-camel, are to be given. If there are more camels than that, a she-camel in her fourth year is to be given for every fifty. Those which are in one flock are not to be separated, and those which are separate are not to be brought together. An old sheep, one with a defect in the eye, or a billy goat is not to be accepted as a sadaqah unless the collector is willing. As regards agricultural produce, a tenth is payable on that which is watered by rivers or rain, and a twentieth on that which is watered by draught camels. The version of Asim and al-Harith says: Sadaqah (zakat) is payable every year. Zuhayr said: I think he said Once a year. The version of Asim has the words: If a she-camel in her second year is not available among the camels, nor is there a bull-camel in its third year, ten dirhams or two goats are to be given.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزکاة ٤ (١٧٩٠)، سنن الدارمی/الزکاة ٧ (١٦٦٩)، ( تحفة الأشراف: ١٠٠٣٩)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الزکاة ٣ (٦٢٠)، سنن النسائی/الزکاة ١٨ (٢٤٧٩)، مسند احمد (١/١٢١، ١٣٢، ١٤٦) (صحیح) (شواہد کی بنا پر صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود ٥/٢٩١ )
1573Sunan Abu Dawood

چرنے والے جانوروں کی زکوة کا بیان

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، وَسَمَّى آخَرَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْعَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، وَالْحَارِثِ الْأَعْوَرِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِ أَوَّلِ هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: فَإِذَا كَانَتْ لَكَ مِائَتَا دِرْهَمٍ وَحَالَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ وَلَيْسَ عَلَيْكَ شَيْءٌ، يَعْنِي فِي الذَّهَبِ، حَتَّى يَكُونَ لَكَ عِشْرُونَ دِينَارًا، فَإِذَا كَانَ لَكَ عِشْرُونَ دِينَارًا وَحَالَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ فَفِيهَا نِصْفُ دِينَارٍ فَمَا زَادَ فَبِحِسَابِ ذَلِكَ، قَالَ: فَلَا أَدْرِي، أَعَلِيٌّ يَقُولُ: فَبِحِسَابِ ذَلِكَ ؟ أَوْ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَيْسَ فِي مَالٍ زَكَاةٌ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ، إِلَّا أَنَّ جَرِيرًا، قَالَ: ابْنُ وَهْبٍ يَزِيدُ فِي الْحَدِيثِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ فِي مَالٍ زَكَاةٌ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ.

علی ؓ اس حدیث کے ابتدائی کچھ حصہ کے ساتھ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: جب تمہارے پاس دو سو (٢٠٠) درہم ہوں اور ان پر ایک سال گزر جائے تو ان میں پانچ (٥) درہم زکاۃ ہوگی، اور سونا جب تک بیس (٢٠) دینار نہ ہو اس میں تم پر زکاۃ نہیں، جب بیس (٢٠) دینار ہوجائے اور اس پر ایک سال گزر جائے تو اس میں آدھا دینار زکاۃ ہے، پھر جتنا زیادہ ہو اس میں اسی حساب سے زکاۃ ہوگی (یعنی چالیسواں حصہ) ۔ راوی نے کہا: مجھے یاد نہیں کہ فبحساب ذلك علی ؓ کا قول ہے یا اسے انہوں نے نبی اکرم ﷺ تک مرفوع کیا ہے؟ اور کسی بھی مال میں زکاۃ نہیں ہے جب تک کہ اس پر سال نہ گزر جائے، مگر جریر نے کہا ہے کہ ابن وہب اس حدیث میں نبی اکرم ﷺ سے اتنا اضافہ کرتے ہیں: کسی مال میں زکاۃ نہیں ہے جب تک اس پر سال نہ گزر جائے ۔

Narrated Ali ibn Abu Talib: The Prophet ﷺ said: When you possess two hundred dirhams and one year passes on them, five dirhams are payable. Nothing is incumbent on you, that is, on gold, till it reaches twenty dinars. When you possess twenty dinars and one year passes on them, half a dinar is payable. Whatever exceeds, that will be reckoned properly. (The narrator said: I do not remember whether the words that will be reckoned properly were uttered by All himself or he attributed them to the Prophet ﷺ . No zakat is payable on property till a year passes on it. But Jarir said: Ibn Wahb (sub-narrator) added to this tradition from the Prophet ﷺ : No zakat is payable on property until a year passes away on it.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف: ١٠٠٣٩) (صحیح) (شواہد کی بناپر صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود ٥/٢٩٤ )
1574Sunan Abu Dawood

چرنے والے جانوروں کی زکوة کا بیان

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَام، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ عَفَوْتُ عَنِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ فَهَاتُوا صَدَقَةَ الرِّقَةِ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمًا، وَلَيْسَ فِي تِسْعِينَ وَمِائَةٍ شَيْءٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ مِائَتَيْنِ فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، كَمَا قَالَ أَبُو عَوَانَةَ، وَرَوَاهُ شَيْبَانُ أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَى حَدِيثَ النُّفَيْلِيِّ شُعْبَةُ، وَسُفْيَانُ وَغَيْرُهُمَا، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عَلِيٍّ، لَمْ يَرْفَعُوهُ أَوْقَفُوهُ عَلَى عَلِيٍّ10.

علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے گھوڑا، غلام اور لونڈی کی زکاۃ معاف کردی ہے لہٰذا تم چاندی کی زکاۃ دو، ہر چالیس (٤٠) درہم پہ ایک (١) درہم، ایک سو نوے (١٩٠) درہم میں کوئی زکاۃ نہیں، جب دو سو (٢٠٠) درہم پورے ہوجائیں تو ان میں پانچ (٥) درہم ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث اعمش نے ابواسحاق سے اسی طرح روایت کی ہے جیسے ابوعوانہ نے کی ہے اور اسے شیبان ابومعاویہ اور ابراہیم بن طہمان نے ابواسحاق سے، ابواسحاق، حارث سے حارث نے علی ؓ سے اور علی ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نفیلی کی حدیث شعبہ و سفیان اور ان کے علاوہ لوگوں نے ابواسحاق سے ابواسحاق نے عاصم سے عاصم نے علی ؓ سے روایت کی ہے، لیکن ان لوگوں نے اسے مرفوعاً کے بجائے علی ؓ پر موقوفاً روایت کیا ہے۔

Narrated Ali ibn Abu Talib: The Prophet ﷺ said: I have given exemption regarding horses and slaves; with regard to coins, however, you must pay a dirham for every forty (dirhams), but nothing is payable on one hundred and ninety. When the total reaches two hundred, five dirhams are payable. Abu Dawud said: Al-Amash transmitted this tradition from Abu Ishaq like the one transmitted by Abu Awanah. This tradition has also been narrated by Shaiban, Abu Muawiyah and Ibrahim bin Tahman from Abu Ishaq from al-Harith on the authority of Ali from the Prophet ﷺ to the same effect. The tradition reported by al-Nufail has also been narrated by Shubah, Sufyan, and others from Abu Ishaq from Asim from Ali, But they did not attribute it to the Prophet ﷺ .

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/ الزکاة ٣ (٦٢٠)، سنن النسائی/الزکاة ١٨ (٢٤٧٩)، ( تحفة الأشراف: ١٠١٣٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٩٢، ١١٣) (صحیح) (شواہد کی بناپر صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود ٥/٢٩٥ )
1575Sunan Abu Dawood

چرنے والے جانوروں کی زکوة کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ،عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فِي كُلِّ سَائِمَةِ إِبِلٍ فِي أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ، وَلَا يُفَرَّقُ إِبِلٌ عَنْ حِسَابِهَا مَنْ أَعْطَاهَا مُؤْتَجِرًا، قَالَ ابْنُ الْعَلَاءِ: مُؤْتَجِرًا بِهَا فَلَهُ أَجْرُهَا، وَمَنْ مَنَعَهَا فَإِنَّا آخِذُوهَا، وَشَطْرَ مَالِهِ عَزْمَةً مِنْ عَزَمَاتِ رَبِّنَا عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ لِآلِ مُحَمَّدٍ مِنْهَا شَيْءٌ.

معاویہ بن حیدہ ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: چرنے والے اونٹوں میں چالیس (٤٠) میں ایک (١) بنت لبون ہے، (زکاۃ بچانے کے خیال سے) اونٹ اپنی جگہ سے ادھر ادھر نہ کئے جائیں، جو شخص ثواب کی نیت سے زکاۃ دے گا اسے اس کا اجر ملے گا، اور جو اسے روکے گا ہم اس سے اسے وصول کرلیں گے، اور (زکاۃ روکنے کی سزا میں) اس کا آدھا مال لے لیں گے، یہ ہمارے رب عزوجل کے تاکیدی حکموں میں سے ایک تاکیدی حکم ہے، آل محمد کا اس میں کوئی حصہ نہیں ١ ؎۔

Bahz b Hakim reported from his grandfather: The Messenger of Allah ﷺ said: For forty pasturing camels, one she-camel in her third year is to be given. The camels are not to be separated from reckoning. He who pays zakat with the intention of getting reward will be rewarded. If anyone evades zakat, we shall take half the property from him as a due from the dues of our Lord, the Exalted. There is no share in it (zakat) of the descendants of Muhammad ﷺ .

Notes · وضاحت
١ ؎: جرمانے کا یہ حکم ابتدائے اسلام میں تھا، بعد میں منسوخ ہوگیا، اکثر علماء کے قول کے مطابق یہی راجح مسلک ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزکاة ٤ (٢٤٤٦)، ٧ (٢٤٥١)، ( تحفة الأشراف: ١١٣٨٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢، ٤)، سنن الدارمی/الزکاة ٣٦ (١٧١٩) (حسن )
1576Sunan Abu Dawood

چرنے والے جانوروں کی زکوة کا بیان

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مُعَاذٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا وَجَّهَهُ إِلَى الْيَمَنِأَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنَ الْبَقَرِ مِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً، وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً، وَمِنْ كُلِّ حَالِمٍ يَعْنِي مُحْتَلِمًا دِينَارًا أَوْ عَدْلَهُ مِنَ الْمَعَافِرِ ثِيَابٌ تَكُونُ بِالْيَمَنِ.

معاذ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے جب انہیں یمن کی طرف روانہ کیا تو یہ حکم دیا کہ وہ گائے بیلوں میں ہر تیس (٣٠) پر ایک سالہ بیل یا گائے لیں، اور چالیس (٤٠) پر دو سالہ گائے، اور ہر بالغ مرد سے (جو کافر ہو) ایک دینار یا ایک دینار کے بدلے اسی قیمت کے کپڑے جو یمن کے معافر نامی مقام میں تیار کئے جاتے ہیں (بطور جزیہ) لیں۔

Narrated Muadh ibn Jabal (RA) : When the Prophet ﷺ sent him to the Yemen, he ordered him to take a male or a female calf a year old for every thirty cattle and a cow in its third year for every forty, and one dinar for every adult (unbeliever as a poll-tax) or cloths of equivalent value manufactured in the Yemen.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزکاة ٨ (٢٤٥٥)، ( تحفة الأشراف: ١١٣١٢)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الزکاة ١٢(٢٤)، مسند احمد (٥/٢٣٠، ٢٣٣، ٢٤٧)، سنن الدارمی/الزکاة ٥ (١٦٦٣) (صحیح )