انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کہتے تھے: اللهم إني أعوذ بک من البرص، والجنون، والجذام، ومن سيئ الأسقام اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں برص، دیوانگی، کوڑھ اور تمام بری بیماریوں سے ۔
Narrated Anas ibn Malik: The Prophet ﷺ used to say: O Allah, I seek refuge in Thee from leprosy, madness, elephantiasis, and evil diseases.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف: ١١٥٩، ١٤٢٤)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الاستعاذة ٣٦ (٥٥٠٨)، مسند احمد (٣/١٠٩٢) (صحیح )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن مسجد میں داخل ہوئے تو اچانک آپ کی نظر ایک انصاری پر پڑی جنہیں ابوامامہ ؓ کہا جاتا تھا، آپ ﷺ نے ان سے کہا: ابوامامہ! کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں نماز کے وقت کے علاوہ بھی مسجد میں بیٹھا دیکھ رہا ہوں؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! غموں اور قرضوں نے مجھے گھیر لیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھاؤں کہ جب تم انہیں کہو تو اللہ تم سے تمہارے غم غلط اور قرض ادا کر دے ، میں نے کہا: ضرور، اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: صبح و شام یہ کہا کرو: اللهم إني أعوذ بک من الهم والحزن، وأعوذ بک من العجز والکسل، وأعوذ بک من الجبن والبخل، وأعوذ بک من غلبة الدين وقهر الرجال اے اللہ! میں غم اور حزن سے تیری پناہ مانگتا ہوں، عاجزی و سستی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، بزدلی اور کنجوسی سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور قرض کے غلبہ اور لوگوں کے تسلط سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ ابوامامہ ؓ کہتے ہیں: میں نے یہ پڑھنا شروع کیا تو اللہ نے میرا غم دور کردیا اور میرا قرض ادا کروا دیا۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : One day the Messenger of Allah ﷺ entered the mosque. He saw there a man from the Ansar called Abu Umamah. He said: What is the matter that I am seeing you sitting in the mosque when there is no time of prayer? He said: I am entangled in cares and debts, Messenger of Allah. He replied: Shall I not teach you words by which, when you say them, Allah will remove your care, and settle your debt? He said: Why not, Messenger of Allah? He said: Say in the morning and evening: O Allah, I seek refuge in Thee from care and grief, I seek refuge in Thee from incapacity and slackness, I seek refuge in Thee from cowardice and niggardliness, and I seek in Thee from being overcome by debt and being put in subjection by men. He said: When I did that Allah removed my care and settled my debt.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤٣٤٠) (ضعیف) (اس کے راوی غسَّان لین الحدیث ہیں، مگر دعاء کے اکثر الفاظ (اس قصہ اور اوقات کے سوا) صحیح احادیث میں آ چکے ہیں )