استغفار کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 4 · 42 hadiths · Page 1 of 3

1514Sunan Abu Dawood

استغفار کا بیان

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ وَاقِدٍ الْعُمَرِيُّ، عَنْ أَبِي نُصَيْرَةَ، عَنْ مَوْلًى لِأَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيق، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَصَرَّ مَنِ اسْتَغْفَرَ، وَإِنْ عَادَ فِي الْيَوْمِ سَبْعِينَ مَرَّةٍ.

ابوبکر صدیق ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو استغفار کرتا رہا اس نے گناہ پر اصرار نہیں کیا گرچہ وہ دن بھر میں ستر بار اس گناہ کو دہرائے ١ ؎۔

Narrated Abu Bakr as-Siddiq: The Prophet ﷺ said: He who asks pardon is not a confirmed sinner, even if he returns to his sin seventy times a day.

Notes · وضاحت
١ ؎: صغیرہ گناہوں پر اصرار سے وہ کبیرہ ہوجاتے ہیں، اور کبیرہ پر اصرار کرنے سے آدمی کفر تک پہنچ جاتا ہے، لیکن اگر ہر گناہ کے بعد صدق دل سے توبہ و استغفار کرلے اور اسے دوبارہ نہ کرنے کی پختہ نیت کرے، مگر بدقسمتی سے پھر اس میں مبتلا ہوجائے تو یہ اصرار نہ ہوگا، اس طرح اس حدیث سے استغفار کی فضیلت ثابت ہوئی۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ١٠٧ (٣٥٥٩)، (تحفة الأشراف: ٦٦٢٨) (ضعیف) (اس کے ایک راوی مولی لا ٔبی بکر مبہم مجہول آدمی ہیں )
1515Sunan Abu Dawood

استغفار کا بیان

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ الْأَغَرِّ الْمُزَنِيِّ، قَالَ مُسَدَّدٌ فِي حَدِيثِهِ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهُ لَيُغَانُ عَلَى قَلْبِي وَإِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي كُلِّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ.

اغر مزنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے دل پر غفلت کا پردہ آجاتا ہے، حالانکہ میں اپنے پروردگار سے ہر روز سو بار استغفار کرتا ہوں ۔

Al-Agharr al-Muzani said (Musaddad in his version of this tradition said that he was a Companion of the Prophet): The Messenger of Allah ﷺ said: My heart is invaded by unmindfulness, and I ask Allahs pardon a hundred times in the day.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الذکر والدعاء ١٢ (٢٧٠٢)، سنن النسائی/ فی الیوم واللیلة (٤٤٢)، (تحفة الأشراف: ٢١٦٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢١١، ٢٦٠، ٥/٤١١) (صحیح )
1516Sunan Abu Dawood

استغفار کا بیان

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: إِنْ كُنَّا لَنَعُدُّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَجْلِسِ الْوَاحِدِ مِائَةَ مَرَّةٍ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَتُبْ عَلَيَّ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ہم ایک مجلس میں رسول اللہ ﷺ کے سو بار: رب اغفر لي وتب علي إنك أنت التواب الرحيم اے میرے رب! مجھے بخش دے، میری توبہ قبول کر، تو ہی توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے کہنے کو شمار کرتے تھے۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : We counted that the Messenger of Allah ﷺ would say a hundred times during a meeting: My Lord, forgive me and pardon me; Thou art the Pardoning and forgiving One.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ٣٩ (٣٤٣٤)، سنن النسائی/ الیوم واللیلة (٤٥٨)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٥٧ (٣٨١٤)، (تحفة الأشراف: ٨٤٢٢) وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢١) (صحیح )
1517Sunan Abu Dawood

استغفار کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُرَّةَ الشَّنِّيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي عُمَرُ بْنُ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ بِلَالَ بْنَ يَسَارِ بْنِ زَيْدٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُنِيهِ، عَنْ جَدِّي، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ قَالَ: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيَّ الْقَيُّومَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، غُفِرَ لَهُ وَإِنْ كَانَ قَدْ فَرَّ مِنَ الزَّحْفِ.

نبی اکرم ﷺ کے غلام زید ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جس نے أستغفر الله الذي لا إله إلا هو الحي القيوم وأتوب إليه کہا تو اس کے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے اگرچہ وہ میدان جنگ سے بھاگ گیا ہو ١ ؎۔

Narrated Zayd, the client of the Prophet: The Prophet ﷺ said: If anyone says: I ask pardon of Allah than Whom there is no deity, the Living, the eternal, and I turn to Him in repentance, he will be pardoned, even if he has fled in time of battle.

Notes · وضاحت
١ ؎: جب کفار کی تعداد دوگنی سے زیادہ نہ ہو تو ان کے مقابلے سے میدان جہاد سے بھاگنا گناہ کبیرہ ہے، لیکن استغفار سے یہ گناہ بھی معاف ہوجاتا ہے، تو اور گناہوں کی معافی تو اور ہی سہل ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ١١٨ (٣٥٧٧)، (تحفة الأشراف: ٣٧٨٥) (صحیح )
1518Sunan Abu Dawood

استغفار کا بیان

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُصْعَبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ لَزِمَ الِاسْتِغْفَارَ، جَعَلَ اللَّهُ لَهُ مِنْ كُلِّ ضِيقٍ مَخْرَجًا، وَمِنْ كُلِّ هَمٍّ فَرَجًا، وَرَزَقَهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی استغفار کا التزام کرلے ١ ؎ تو اللہ اس کے لیے ہر تنگی سے نکلنے اور ہر رنج سے نجات پانے کی راہ ہموار کر دے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا، جس کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتا ۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone continually asks pardon, Allah will appoint for him a way out of every distress, and a relief from every anxiety, and will provide for him from where he did not reckon.

Notes · وضاحت
١ ؎: استغفار یعنی اللہ تعالیٰ سے عفو و درگزر کی پابندی وہی کرے گا جو اس سے ڈرے گا اور تقویٰ اختیار کرے گا، ارشاد باری ہے وَمَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لا يَحْتَسِبْ جو اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کو ایسی جگہ سے رزق دے گا جس کا وہ گمان بھی نہیں رکھتا ہوگا۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الیوم واللیلة (٤٥٦)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٥٧ (٣٨١٩)، (تحفة الأشراف: ٦٢٨٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٤٨) (ضعیف) (اس کے راوی حکم بن مصعب مجہول ہیں )
1519Sunan Abu Dawood

استغفار کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ. ح حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ الْمَعْنَى، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، قَالَ: سَأَلَ قَتَادَةُ أَنَسًا: أَيُّ دَعْوَةٍ كَانَ يَدْعُو بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرُ ؟ قَالَ: كَانَ أَكْثَرُ دَعْوَةٍ يَدْعُو بِهَا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ. وَزَادَ زِيَادٌ: وَكَانَ أَنَسٌ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ بِدَعْوَةٍ دَعَا بِهَا، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ بِدُعَاءٍ دَعَا بِهَا فِيهَا.

عبدالعزیز بن صہیب کہتے ہیں کہ قتادہ نے انس ؓ سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ کون سی دعا زیادہ مانگا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: آپ ﷺ سب سے زیادہ یہ دعا مانگا کرتے تھے: اللهم ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار اے ہمارے رب! ہمیں دنیا اور آخرت دونوں میں بھلائی عطا کر اور جہنم کے عذاب سے بچا لے (البقرہ: ٢٠١) ۔ زیاد کی روایت میں اتنا اضافہ ہے: انس جب دعا کا قصد کرتے تو یہی دعا مانگتے اور جب کوئی اور دعا مانگنا چاہتے تو اسے بھی اس میں شامل کرلیتے۔

Qatadah asked Anas (RA) : Which Supplication would the Prophet ﷺ often make ? He replied: The supplication he would usually recite was: O Allah, give us in this world what is good and in the next what is good, and protect us from the punishment of Hell-fire. The version of Ziyad adds: When Anas wished to supplicate, he uttered this supplication. When he uttered some other supplication, he combined it with this supplication.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الذکر والدعاء ٧ (٢٦٩٠)، سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ٣٠٧ (١٠٥٦)، (تحفة الأشراف: ٩٩٦، ١٠٤٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تفسیر البقرة ٣٦ (٤٥٢٢)، والدعوات ٥٥ (٦٣٨٩)، مسند احمد (٣/١٠١) (صحیح )
1520Sunan Abu Dawood

استغفار کا بیان

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَأَلَ اللَّهَ الشَّهَادَةَ صَادِقًا بَلَّغَهُ اللَّهُ مَنَازِلَ الشُّهَدَاءِ وَإِنْ مَاتَ عَلَى فِرَاشِهِ.

سہل بن حنیف ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اللہ سے سچے دل سے شہادت مانگے گا، اللہ اسے شہداء کے مرتبوں تک پہنچا دے گا، اگرچہ اسے اپنے بستر پر موت آئے ۔

Suhail bin Hunaif reported on the authority of his father: The Messenger of Allah ﷺ said: If anyone asks Allah for martyrdom sincerely, Allah make him reach the ranks of martyrs though he may die on his bed.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٤٦ (١٩٠٩)، سنن الترمذی/الجہاد (١٦٥٣)، سنن النسائی/الجہاد ٣٦ (٣١٦٢)، سنن ابن ماجہ/الجہاد ١٥ (٢٧٩٧)، (تحفة الأشراف: ٤٦٥٥)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الجہاد ١٦(٢٤٥١) (صحیح )
1521Sunan Abu Dawood

استغفار کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْأَسَدِيِّ، عَنْ أَسْمَاءَ بْنِ الْحَكَمِ الْفَزَارِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: كُنْتُ رَجُلًا إِذَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا نَفَعَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِمَا شَاءَ أَنْ يَنْفَعَنِي، وَإِذَا حَدَّثَنِي أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِ اسْتَحْلَفْتُهُ، فَإِذَا حَلَفَ لِي صَدَّقْتُهُ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ، وَصَدَقَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَا مِنْ عَبْدٍ يُذْنِبُ ذَنْبًا فَيُحْسِنُ الطُّهُورَ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ، ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ سورة آل عمران آية 135 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.

اسماء بن حکم فزاری کہتے ہیں کہ میں نے علی ؓ کو کہتے ہوئے سنا: میں ایسا آدمی تھا کہ جب میں رسول اللہ ﷺ سے کوئی حدیث سنتا تو جس قدر اللہ کو منظور ہوتا اتنی وہ میرے لیے نفع بخش ہوتی اور جب میں کسی صحابی سے کوئی حدیث سنتا تو میں اسے قسم دلاتا، جب وہ قسم کھا لیتا تو میں اس کی بات مان لیتا، مجھ سے ابوبکر ؓ نے حدیث بیان کی اور ابوبکر ؓ نے سچ کہا، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: کوئی بندہ ایسا نہیں ہے جو گناہ کرے پھر اچھی طرح وضو کر کے دو رکعتیں ادا کرے، پھر استغفار کرے تو اللہ اس کے گناہ معاف نہ کر دے، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی والذين إذا فعلوا فاحشة أو ظلموا أنفسهم ذکروا الله *** إلى آخر الآية ١ ؎ جو لوگ برا کام کرتے ہیں یا اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں پھر اللہ کو یاد کرتے ہیں۔۔۔ آیت کے اخیر تک ۔

Narrated Abu Bakr as-Siddiq: Asma bint al-Hakam said: I heard Ali say: I was a man; when I heard a tradition from the Messenger of Allah ﷺ , Allah benefited me with it as much as He willed. But when some one of his companions narrated a tradition to me I adjured him. When he took an oath, I testified him. Abu Bakr narrated to me a tradition, and Abu Bakr narrated truthfully. He said: I heard the Messenger of Allah ﷺ saying: When a servant (of Allah) commits a sin, and he performs ablution well, and then stands and prays two rakahs, and asks pardon of Allah, Allah pardons him. He then recited this verse: And those who, when they commit indecency or wrong their souls, remember Allah (iii. 134).

Notes · وضاحت
١ ؎: سورة آل عمران: (١٣٥) پوری آیت اس طرح ہے: فاستغفروا لذنوبهم ومن يغفر الذنوب إلا الله ولم يصروا على ما فعلوا وهم يعلمون۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٨٢ (٤٠٦)، و تفسیر آل عمران ٤ (٣٠٠٦)، سنن النسائی/ الیوم واللیلة (٤١٤، ٤١٥، ٤١٦)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٩٣ (١٣٩٥)، (تحفة الأشراف: ٦٦١٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢، ٨، ٩، ١٠) (صحیح )
1522Sunan Abu Dawood

استغفار کا بیان

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، قَالَ: سَمِعْتُعُقْبَةَ بْنَ مُسْلِمٍ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ، عَنْ الصُّنَابِحِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِهِ، وَقَالَ: يَا مُعَاذُ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ، فَقَالَ: أُوصِيكَ يَا مُعَاذُ لَا تَدَعَنَّ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ تَقُولُ: اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ، وَأَوْصَى بِذَلِكَ مُعَاذٌ الصُّنَابِحِيَّ، وَأَوْصَى بِهِ الصُّنَابِحِيُّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ.

معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: اے معاذ! قسم اللہ کی، میں تم سے محبت کرتا ہوں، قسم اللہ کی میں تم سے محبت کرتا ہوں ، پھر فرمایا: اے معاذ! میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں: ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھنا کبھی نہ چھوڑنا: اللهم أعني على ذکرک وشکرک وحسن عبادتک اے اللہ! اپنے ذکر، شکر اور اپنی بہترین عبادت کے سلسلہ میں میری مدد فرما ۔ معاذ ؓ نے صنابحی کو اور صنابحی نے ابوعبدالرحمٰن کو اس کی وصیت کی۔

Muadh bin Jabal reported that the Messenger of Allah ﷺ caught his hand and said: By Allah, I love you, Muadh. I give some instruction to you. Never leave to recite this supplication after every (prescribed) prayer: O Allah, help me in remembering You, in giving You thanks, and worshipping You well. Muadh willed this supplication to the narrator al-Sunabihi and al-Sunabihi to Abu Abdur-Rahman.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/السہو ٦٠ (١٣٠٤)، وعمل الیوم واللیلة ٤٦ (١٠٩)، (تحفة الأشراف: ١١٣٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٤٤، ٢٤٥، ٢٤٧) (صحیح )
1523Sunan Abu Dawood

استغفار کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ حُنَيْنَ بْنَ أَبِي حَكِيمٍ حَدَّثَهُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ اللَّخْمِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقْرَأَ بِالْمُعَوِّذَاتِ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ.

عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ میں ہر نماز کے بعد معوذات پڑھا کروں ١ ؎۔

Narrated Uqbah ibn Amir: The Messenger of Allah ﷺ commanded me to recite Muawwidhatan (the last two surahs of the Quran) after every prayer.

Notes · وضاحت
١ ؎: معوذات سے مراد دو سورتیں قل أعوذ برب الفلق اور قل أعوذ برب الناس ہیں، کیونکہ جمع کا اطلاق دو پر بھی ہوتا ہے، اور ایک قول یہ ہے کہ اس میں سورة اخلاص اور قل يا أيها الکافرون بھی شامل ہیں، یا تو تغلیباً انہیں معوذات کہا گیا ہے، یا ان دونوں میں بھی تعوذ کا معنی پایا جاتا ہے، کیونکہ یہ دونوں سورتیں اخلاص وللہیت، شرک سے براءت، اور التجاء الی اللہ کے مفہوم پر مشتمل ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/فضائل القرآن ١٢ (٢٩٠٣)، سنن النسائی/السہو ٨٠ (١٣٣٧)، (تحفة الأشراف: ٩٩٤٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٥٥، ٢٠١) (صحیح )
1524Sunan Abu Dawood

استغفار کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سُوَيْدٍ السَّدُوسِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يُعْجِبُهُ أَنْ يَدْعُوَ ثَلَاثًا، وَيَسْتَغْفِرَ ثَلَاثًا.

عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو تین تین بار دعا مانگنا اور تین تین بار استغفار کرنا اچھا لگتا تھا۔

Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : The Messenger of Allah ﷺ liked to supplicate three times and to ask pardon (of Allah) three times.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٩٤٨٥)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الیوم واللیلة (٤٥٧)، مسند احمد (١/٣٩٤، ٣٩٧)، (ضعیف) (ابو اسحاق سبیعی مدلس اور مختلط ہیں، روایت عنعنہ سے کی ہے، ان کے پوتے اسرائیل نے آپ سے اختلاط طاری ہونے کے بعد روایت کی ہے )
1525Sunan Abu Dawood

استغفار کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ هِلَالٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ ابْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا أُعَلِّمُكِ كَلِمَاتٍ تَقُولِينَهُنَّ عِنْدَ الْكَرْبِ، أَوْ فِي الْكَرْبِ: اللَّهُ، اللَّهُ رَبِّي لَا أُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا. قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا هِلَالٌ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَابْنُ جَعْفَرٍ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ.

اسماء بنت عمیس ؓ کہتی ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں چند ایسے کلمات نہ سکھاؤں جنہیں تم مصیبت کے وقت یا مصیبت میں کہا کرو الله الله ربي لا أشرک به شيئًا یعنی اللہ ہی میرا رب ہے، میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہلال، عمر بن عبدالعزیز کے غلام ہیں، اور ابن جعفر سے مراد عبداللہ بن جعفر ہیں۔

Narrated Asma daughter of Umays: The Messenger of Allah ﷺ said to me: May I not teach you phrases which you utter in distress? (These are:) Allah, Allah is my Lord, I do not associate anything as partner with Him. Abu Dawud said: The narrator Hilal is a client of Umar bin Abd al-Aziz. The name of Jafar, a narrator, is Abdullah bin Jafar.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/ الیوم واللیلة (٦٤٧، ٦٤٩، ٦٥٠)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ١٧ (٣٨٨٢)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٥٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/ ٣٦٩) (صحیح) (الصحيحة 2755 وتراجع الألباني 119 )
1526Sunan Abu Dawood

استغفار کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، وَعَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، وَسَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، أَنَّأَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَلَمَّا دَنَوْا مِنْ الْمَدِينَةِ كَبَّرَ النَّاسُ وَرَفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا، إِنَّ الَّذِي تَدْعُونَهُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ أَعْنَاقِ رِكَابِكُمْ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أَبَا مُوسَى، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ ؟فَقُلْتُ: وَمَا هُوَ ؟ قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ.

ابوموسی اشعری ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھا، جب لوگ مدینہ کے قریب پہنچے تو لوگوں نے تکبیر کہی اور اپنی آوازیں بلند کیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگو! تم کسی بہرے یا غائب کو آواز نہیں دے رہے ہو، بلکہ جسے تم پکار رہے ہو وہ تمہارے اور تمہاری سواریوں کی گردنوں کے درمیان ہے ١ ؎، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے ابوموسیٰ! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتاؤں؟ ، میں نے عرض کیا: وہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ لا حول ولا قوة إلا بالله ہے ۔

Narrated Abu Musa al-Ashari (RA) : Once we accompanied the Messenger of Allah ﷺ on a journey. When we reached near Madina, the people began to say aloud: Allah is most great, and they raised their voice. The Messenger of Allah ﷺ said: O people, you are not supplicating one who is deaf and absent, but you are supplicating One Who is nearer to you than the neck of your riding beast. The Messenger of Allah ﷺ then said: Abu Musa, should I not point out to you one of the treasures of Paradise? I asked: What is that? He replied: There is no might and there is no power except in Allah

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ اللہ رب العزت کے علم و قدرت اور سمع کی رو سے ہے، رہی اس کی ذات تو وہ عرش کے اوپر مستوی اور بلند و بالا ہے، نیز اس حدیث سے ذکر سری کی ذکر جہری پر فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ١٣١ (٢٩٩٢)، والمغازي ٣٨ (٤٢٠٥)، والدعوات ٥٠ (٦٣٨٤)، ٦٦ (٦٤٠٩)، و القدر ٧ (٦٦١٠)، والتوحید ٩ (٧٣٨٦)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء ١٣ (٢٧٠٤)، سنن الترمذی/الدعوات ٣ (٣٣٧٤)، ٥٨ (٣٤٦١)، سنن النسائی/الیوم واللیلة (٥٣٦، ٥٣٧، ٥٣٨)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٥٩ (٣٨٢٤)، (تحفة الأشراف: ٩٠١٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٩٤، ٣٩٩، ٤٠٠، ٤٠٢، ٤٠٧، ٤١٧، ٤١٨) (صحیح )
1527Sunan Abu Dawood

استغفار کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ يَتَصَعَّدُونَ فِي ثَنِيَّةٍ، فَجَعَلَ رَجُلٌ كُلَّمَا عَلَا الثَّنِيَّةَ نَادَى لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكُمْ لَا تُنَادُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا، ثُمَّ قَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍفَذَكَرَ مَعْنَاهُ.

ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے اور ایک پہاڑی پر چڑھ رہے تھے، ایک شخص تھا، وہ جب بھی پہاڑی پر چڑھتا تو لا إله إلا الله والله أكبر پکارتا، اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم لوگ کسی بہرے اور غائب کو نہیں پکار رہے ہو ۔ پھر فرمایا: اے عبداللہ بن قیس! پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔

Abu Musa Al-Ashari said: They (the Companions) accompanied the Prophet ﷺ while they were climbing the turning of a hill. A man uttered loudly: There is no god but Allah, and Allah is most great when he ascended the hill. The Prophet of Allah ﷺ said: You are not supplicating one who is deaf or absent. He then said: Abdullah bin Qais. The narrator then transmitted the tradition to the same effect.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٩٠١٧) (صحیح )
1528Sunan Abu Dawood

استغفار کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي مُوسَى بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَقَالَ فِيهِ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ.

اس سند سے بھی ابوموسیٰ ؓ نے یہی حدیث روایت کی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: لوگو! اپنے اوپر آسانی کرو ۔

The aforesaid tradition has also been transmitted by Abu Musa al-Ashari through a different chain of narrators. This version adds: Be lenient to yourselves, O people.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٥٢٦، (تحفة الأشراف: ٩٠١٧) (صحیح )
1529Sunan Abu Dawood

استغفار کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَلِيٍّ الْجَنْبِيَّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ قَالَ: رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص کہے: رضيت بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد رسولا میں اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد ﷺ کے رسول ہونے پر راضی ہوا تو جنت اس کے لیے واجب گئی ۔

Abu Saeed al-Khudri reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyone says I am pleased with Allah as Lord, with Islam as religion and with Muhammad ﷺ as Messenger Paradise will be his due.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف: ٤٢٦٨)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الإمارة ٣١ (١٨٨٤)، سنن النسائی/الجہاد ١٨ (٣١٣٣) (صحیح )
1530Sunan Abu Dawood

استغفار کا بیان

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ صَلَّى عَلَيَّ وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو مجھ پر ایک بار درود (صلاۃ) بھیجے گا اللہ اس پر دس رحمت نازل کرے گا ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone invokes blessings on me once, Allah will bless him ten times.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ١٧ (٤٠٨)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٣٥ (الوتر ٢٠) (٤٨٥)، سنن النسائی/السہو ٥٥ (١٢٩٧)، (تحفة الأشراف: ١٣٩٧٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٧٣، ٣٧٥، ٤٨٥)، سنن الدارمی/الرقاق ٥٨ (٢٨١٤) (صحیح )
1531Sunan Abu Dawood

استغفار کا بیان

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيهِ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ، قَالَ: فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ تُعْرَضُ صَلَاتُنَا عَلَيْكَ وَقَدْ أَرَمْتَ، قَالَ: يَقُولُونَ: بَلِيتَ، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمْ.

اوس بن اوس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جمعہ کا دن تمہارے بہترین دنوں میں سے ہے، لہٰذا اس دن میرے اوپر کثرت سے درود (صلاۃ) بھیجا کرو، اس لیے کہ تمہارے درود مجھ پر پیش کئے جاتے ہیں ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ قبر میں بوسیدہ ہوچکے ہوں گے تو ہمارے درود (صلاۃ) آپ پر کیسے پیش کئے جائیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیاء کرام کے جسم حرام کر دئیے ہیں ۔

Aws bin Was reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Among the most excellent of your days in Friday ; so invoke many blessings on me on that day, for your blessing will be submitted to me. They (the Companions) asked: Messenger of Allah, how can our blessing be submitted to you, when your body is decayed ? He said: Allah has prohibited the earth from consuming the bodies of Prophets.

Takhrij · تخریج
انظرحدیث رقم: ١٠٤٧، (تحفة الأشراف: ١٧٣٦) (صحیح )
1532Sunan Abu Dawood

اپنے اہل و مال پر بد دعا کرنے کی ممانعت

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَيَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَايَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ أَبُو حَزْرَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَدْعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ، وَلَا تَدْعُوا عَلَى أَوْلَادِكُمْ، وَلَا تَدْعُوا عَلَى خَدَمِكُمْ، وَلَا تَدْعُوا عَلَى أَمْوَالِكُمْ، لَا تُوَافِقُوا مِنَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى سَاعَةَ نَيْلٍ فِيهَا عَطَاءٌ فَيَسْتَجِيبَ لَكُمْ. قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا الْحَدِيثُ مُتَّصِلٌ، عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ لَقِيَ جَابِرًا.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ نہ اپنے لیے بد دعا کرو اور نہ اپنی اولاد کے لیے، نہ اپنے خادموں کے لیے اور نہ ہی اپنے اموال کے لیے، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ گھڑی ایسی ہو جس میں دعا قبول ہوتی ہو اور اللہ تمہاری بد دعا قبول کرلے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث متصل ہے کیونکہ عبادہ بن ولید کی ملاقات جابر بن عبداللہ سے ہے۔

Jabir bin Abdullah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Do not invoke curse on yourselves, and do not invoke curse on your children, and do not invoke curse on your servants, and do not invoke curse on your property, lest you happen to do it at a time when Allah is asked for something and grants your request. Abu Dawud said: This Hadith has a continuous chain of narrators, Ubadah bin Al-Walid bin Ubadah (did) met Jabir.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٢٣٦١) (صحیح )
1533Sunan Abu Dawood

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سوا کسی اور پر درود بھیجنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلِّ عَلَيَّ وَعَلَى زَوْجِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكِ وَعَلَى زَوْجِكِ.

جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے ایک عورت نے نبی اکرم ﷺ سے کہا: میرے اور میرے شوہر کے لیے رحمت کی دعا فرما دیجئیے، آپ ﷺ نے فرمایا: صلى الله عليك وعلى زوجک اللہ تجھ پر اور تیرے شوہر پر رحمت نازل فرمائے ۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : A woman said to the Prophet ﷺ : Invoke blessing on me as well as on my husband. The Prophet ﷺ said: May Allah send blessing on you and your husband.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف: ٣١١٨)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/ الشمائل (١٧٩)، سنن النسائی/الیوم اللیلة (٤٢٣) (صحیح )