استغفار کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 4 · 42 hadiths · Page 2 of 3

1534Sunan Abu Dawood

اپنے مسلمان بھائی کے لئے غائبانہ دعا کرنا

حَدَّثَنَا رَجَاءُ بْنُ الْمُرَجَّى، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ ثَرْوَانَ، حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَرِيزٍ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ الدَّرْدَاءِ، قَالَتْ: حَدَّثَنِي سَيِّدِي أَبُو الدَّرْدَاءِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِذَا دَعَا الرَّجُلُ لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ، قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ: آمِينَ وَلَكَ بِمِثْلٍ.

ام الدرادء ؓ کہتی ہیں مجھ سے میرے شوہر ابوالدرداء ؓ نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جب کوئی اپنے بھائی کے لیے غائبانے (غائبانہ) میں دعا کرتا ہے تو فرشتے آمین کہتے ہیں اور کہتے ہیں: تیرے لیے بھی اسی جیسا ہو ۔

Abu Al-Darda said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: When a Muslim supplicates for his absent brother the angels say: Amin, and may you receive the like.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الذکر والدعاء ٢٣ (٢٧٣٢)، (تحفة الأشراف: ١٠٩٨٨)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المناسک ٥ (٢٨٩٥)، مسند احمد (٥/١٩٥) (صحیح )
1535Sunan Abu Dawood

اپنے مسلمان بھائی کے لئے غائبانہ دعا کرنا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ أَسْرَعَ الدُّعَاءِ إِجَابَةً دَعْوَةُ غَائِبٍ لِغَائِبٍ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب سے جلد قبول ہونے والی دعا وہ ہے جو غائب کسی غائب کے لیے کرے ۔

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Prophet ﷺ said: The supplication which gets the quickest answer is that made by one distant Muslim for another.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البر والصلة ٥٠ (١٩٨٠)، (تحفة الأشراف: ٨٨٥٢) (ضعیف) (اس کے راوی عبد الرحمن بن زیاد افریقی ضعیف ہیں )
1536Sunan Abu Dawood

اپنے مسلمان بھائی کے لئے غائبانہ دعا کرنا

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٌ لَا شَكَّ فِيهِنَّ: دَعْوَةُ الْوَالِدِ، وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ، وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تین دعائیں ضرور قبول ہوتی ہیں، ان کی قبولیت میں کوئی شک نہیں: باپ کی دعا، مسافر کی دعا، مظلوم کی دعا ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: Three supplications are answered, there being no doubt about them; that of a father, that of a traveller and that of one who has been wronged.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البروالصلة ٧ (١٩٠٥)، والدعوات ٤٨ (٣٤٤٨)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ١١ (٣٨٦٢)، (تحفة الأشراف: ١٤٨٧٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٥٨، ٣٤٨، ٤٣٤، ٤٧٨، ٥١٧، ٥٢٣) (حسن )
1537Sunan Abu Dawood

جب کسی قوم سے خوف ہو تو کیا کرے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَافَ قَوْمًا، قَالَ: اللَّهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُورِهِمْ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ.

ابوموسیٰ عبداللہ بن قیس اشعری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو جب کسی قوم سے خوف ہوتا تو فرماتے: اللهم إنا نجعلک في نحورهم ونعوذ بک من شرورهم اے اللہ! ہم تجھے ان کے بالمقابل کرتے ہیں اور ان کی برائیوں سے تیری پناہ طلب کرتے ہیں ۔

Narrated Abu Musa al-Ashari (RA) : When the Prophet ﷺ feared a (group of) people, he would say: O Allah, we make Thee our shield against them, and take refuge in Thee from their evils.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٩١٢٧)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الیوم واللیلة (٦٠١)، مسند احمد (٤/٤١٤، ٤١٥) (صحیح )
1538Sunan Abu Dawood

استخارہ کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُقَاتِلٍ، خَالُ الْقَعْنَبِيِّ وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، الْمَعْنَى وَاحِدٌ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا الِاسْتِخَارَةَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ، يَقُولُ لَنَا: إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالْأَمْرِ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيضَةِ، وَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ يُسَمِّيهِ بِعَيْنِهِ الَّذِي يُرِيدُ خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَمَعَادِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي وَبَارِكْ لِي فِيهِ، اللَّهُمَّ وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُهُ شَرًّا لِي مِثْلَ الْأَوَّلِ فَاصْرِفْنِي عَنْهُ وَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاقْدِرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ، ثُمَّ رَضِّنِي بِهِ، أَوْ قَالَ: فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ. قَالَ ابْنُ مَسْلَمَةَ، وَابْنُ عِيسَى: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابَرٍ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں استخارہ سکھاتے جیسے ہمیں قرآن کی سورة سکھاتے تھے، آپ ﷺ ہم سے فرماتے: جب تم میں سے کوئی کسی کام کا ارادہ کرے تو فرض کے علاوہ دو رکعت نفل پڑھے اور یہ دعا پڑھے:اللهم إني أستخيرک بعلمک وأستقدرک بقدرتک وأسألک من فضلک العظيم فإنک تقدر ولاأقدر و تعلم ولا أعلم وأنت علام الغيوب اللهم إن كنت تعلم أن هذا الأمر ١ ؎ خير لي في ديني ومعاشي ومعادي وعاقبة أمري فاقدره لي ويسره لي و بارک لي فيه اللهم وإن كنت تعلمه شرا لي فاصرفني عنه واصرفه عني واقدر لي الخير حيث کان ثم رضني به اے اللہ! میں تجھ سے تیرے علم کے وسیلے سے خیر طلب کرتا ہوں، تجھ سے تیری قدرت کے وسیلے سے قوت طلب کرتا ہوں، تجھ سے تیرے بڑے فضل میں سے کچھ کا سوال کرتا ہوں، تو قدرت رکھتا ہے مجھ کو قدرت نہیں۔ تو جانتا ہے، میں نہیں جانتا، تو پوشیدہ چیزوں کا جاننے والا ہے، اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ معاملہ یا یہ کام ١ ؎ میرے واسطے دین و دنیا، آخرت اور انجام کار کے لیے بہتر ہے تو اسے میرا مقدر بنا دے اور اسے میرے لیے آسان بنا دے اور میرے لیے اس میں برکت عطا کر، اے اللہ! اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے لیے دین، دنیا، آخرت اور انجام میں برا ہے تو مجھ کو اس سے پھیر دے اور اسے مجھ سے پھیر دے اور جہاں کہیں بھلائی ہو، اسے میرے لیے مقدر کر دے، پھر مجھے اس پر راضی فرما ۔ ابن مسلمہ اور ابن عیسیٰ کی روایت میں عن محمد بن المنکدر عن جابر ہے۔

Jabir bin Abdullah said: The Messenger of Allah ﷺ used to teach us the supplication for isthikharah (seeking what us beneficial from Allah) as he would teach us a surah (chapter) from the Quran. He would tell us: When one of you intends to do a work, he should offer two supererogatory rakahs of prayer, and then say (at the end of the prayer): O Allah, I seek Your choice on the better (of the two matters) based upon Your knowledge, and I seek Your decree based upon Your power, and I ask You for Your great bounties. For Indeed, You are the One Who Decrees, and I do not decree, and You know, and I do not know, and You are the Knower of the Unseen. O Allah, if you know this, and You are the Knower of the Unseen. O Allah, if you know this - here he should name exactly what he wishes - is better for me with regard to my religion, and my life, and my afterlife, and the end result of my affairs, then decree it to me, and make it easy for me, and bless me on it. O Allah, and if You know this to be evil for me - and he says just as he said the first time - then avert it for me, and avert me from it. And decree for me good wherever it might be, the make me content with it. A version goes: If the work is good immediately or subsequently. Ibn Maslamah and Ibn Isa reported from Muhammad bin al-Munkadir on the authority of Jabir.

Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں پر اس کام کا نام لے یا صرف دل میں اس کا خیال کرلے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التہجد ٢٥ (١١٦٢)، والدعوات ٤٨ (٦٣٨٢)، والتوحید ١٠ (٧٣٩٠)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٣٧ (٤٨٠)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٨٨ (١٣٨٣)، سنن النسائی/النکاح ٢٧ (٣٢٥٥)، (تحفة الأشراف: ٣٠٥٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٤٤) (صحیح )
1539Sunan Abu Dawood

اللہ سے پناہ طلب کرنے والی چیزیں

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ مِنْ خَمْسٍ: مِنَ الْجُبْنِ، وَالْبُخْلِ، وَسُوءِ الْعُمُرِ، وَفِتْنَةِ الصَّدْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ.

عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ پانچ چیزوں بزدلی، بخل، بری عمر (پیرانہ سالی) ، سینے کے فتنے اور قبر کے عذاب سے پناہ مانگا کرتے تھے ١ ؎۔

Narrated Umar ibn al-Khattab (RA) : The Prophet ﷺ used to seek refuge in Allah from five things; cowardliness, niggardliness, the evils of old age, evil thoughts, and punishment in the grave.

Notes · وضاحت
١ ؎: بری عمر سے مراد وہ عمر ہے جس میں آدمی نہ عبادت کرنے کے لائق رہتا ہے اور نہ دنیا کے کام کاج کی طاقت رکھتا ہے، وہ لوگوں پر بار ہوتا ہے، اور سینے کے فتنے سے مراد بری موت ہے جو بغیر توبہ کے ہوئی ہو یا حسد کینہ اور کبیرہ وغیرہ امراض قلب ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الاستعاذة ٢ (٥٤٤٥)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ٣ (٣٨٤٤)، (تحفة الأشراف: ١٠٦١٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٥٤)، (ضعیف )
1540Sunan Abu Dawood

اللہ سے پناہ طلب کرنے والی چیزیں

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ، وَالْكَسَلِ، وَالْجُبْنِ، وَالْبُخْلِ، وَالْهَرَمِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے: اللهم إني أعوذ بک من العجز، والکسل، والجبن، والبخل، والهرم، وأعوذ بک من عذاب القبر، وأعوذ بک من فتنة المحيا والممات اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں عاجزی سے، سستی سے، بزدلی سے، بخل اور کنجوسی سے اور انتہائی بڑھاپے سے اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں عذاب قبر سے اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں زندگی اور موت کے فتنوں سے ١ ؎۔

Anas bin Malik (RA) said: The Messenger of Allah ﷺ used to say: O Allah, I seek refuge in You from weakness, and laziness, and cowardice, and old age, and I seek refuge in You from the punishment of the grave, and I seek refuge in You from the trails of the life and death.

Notes · وضاحت
١ ؎: زندگی کا فتنہ: بیماری، مال و اولاد کا نقصان، یا کثرت مال ہے جو اللہ سے غافل کر دے، یا کفر والحاد، شرک و بدعت اور گمراہی ہے، اور موت کا فتنہ مرنے کے وقت کی شدت اور خوف و دہشت ہے، یا خاتمہ کا برا ہونا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ٢٥ (٢٨٢٣)، و تفسیر سورة النحل ١ (٤٧٠٧)، والدعوات ٣٨ (٦٣٦٧)، ٤٢ (٦٣٧١)، صحیح مسلم/الذکر ١٥ (٢٧٠٦)، سنن النسائی/الاستعاذہ ٦ (٥٤٥٤)، مسند احمد (٣/١١٣، ١١٧، ٢٠٨، ٢١٤، ٢٣١)، (تحفة الأشراف: ٨٧٣)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدعوات ٧١ (٣٤٨٠) (صحیح )
1541Sunan Abu Dawood

اللہ سے پناہ طلب کرنے والی چیزیں

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ سَعِيدٌ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كُنْتُ أَخْدِمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكُنْتُ أَسْمَعُهُ كَثِيرًا، يَقُولُ: اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ، وَالْحَزَنِ، وَضَلْعِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِوَذَكَرَ بَعْضَ مَا ذَكَرَهُ التَّيْمِيُّ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت کرتا تھا تو میں اکثر آپ کو یہ دعا پڑھتے سنتا تھا:اللهم إني أعوذ بک من الهم والحزن وضلع الدين وغلبة الرجال اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اندیشے اور غم سے، قرض کے بوجھ سے اور لوگوں کے تسلط سے اور انہوں نے بعض ان چیزوں کا ذکر کیا جنہیں تیمی ١ ؎ نے ذکر کیا ہے۔

Anas bin Malik (RA) said: I used to serve the Prophet ﷺ and often hear him say: O Allah, I seek refuge in You from grief and anxiety, from the hardships of debt, and from being overpowered by men.

Notes · وضاحت
١ ؎: تیمی سے مراد اس سے پہلے والی حدیث کی سند کے راوی معتمر بن سلیمان تیمی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الدعوات ٤٠ (٦٣٦٩)، سنن الترمذی/الدعوات ٧١ (٣٤٨٤)، سنن النسائی/الاستعاذة ٧ (٥٤٥٥) (تحفة الأشراف: ١١١٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٢٢، ٢٢٠، ٢٢٦، ٢٤٠) (صحیح )
1542Sunan Abu Dawood

اللہ سے پناہ طلب کرنے والی چیزیں

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُهُمْ هَذَا الدُّعَاءَ كَمَا يُعَلِّمُهُمُ السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ، يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ انہیں یہ دعا اسی طرح سکھاتے جس طرح قرآن کی سورة سکھاتے تھے، فرماتے: اللهم إني أعوذ بک من عذاب جهنم وأعوذ بک من عذاب القبر وأعوذ بک من فتنة المسيح الدجال وأعوذ بک من فتنة المحيا والممات اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں جہنم کے عذاب سے، تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے، تیری پناہ مانگتا ہوں مسیح دجال کے فتنے سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں زندگی اور موت کی آزمایشوں سے ۔

Abdullah bin Abbas said: The Messenger of Allah ﷺ used to teach us this supplication as he taught us the surah from the Quran. He would say: O Allah! I seek refuge in You from the punishment of Hell and I seek refuge in You from the punishment of the grave, and I seek refuge from You from the trails of Al-Masihid-Dajjal, and I seek refuge in You from the trials of life and death.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٢٥ (٥٩٠)، سنن النسائی/الجنائز ١١٥ (٢٠٦٥)، سنن الترمذی/الدعوات ٧٠ (٣٤٩٤)، (تحفة الأشراف: ٥٧٥٢)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ القرآن ٨ (٣٣)، مسند احمد (١/٢٤٢، ٢٥٨، ٢٩٨، ٣١١) (صحیح )
1543Sunan Abu Dawood

اللہ سے پناہ طلب کرنے والی چیزیں

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ، وَعَذَابِ النَّارِ، وَمِنْ شَرِّ الْغِنَى، وَالْفَقْرِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ان کلمات کے ساتھ دعا مانگتے: اللهم إني أعوذ بک من فتنة النار، و عذاب النار، ومن شر الغنى، والفقر اے اللہ! میں جہنم کے فتنے جہنم کے عذاب اور دولت مندی و فقر کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔

Aishah narrated that the Prophet ﷺ would supplicate with the following words: O Allah! I seek refuge in You from the trials of the Fire, and the punishment of the Fire, and from the evils of richness and poverty.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف: ١٧١٣٨)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الدعاء ٢٥ (٥٨٩)، سنن الترمذی/الدعوات ٧٢ (٣٤٨٩)، سنن النسائی/الاستعاذة ١٦ (٥٤٦٨) (صحیح )
1544Sunan Abu Dawood

اللہ سے پناہ طلب کرنے والی چیزیں

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفَقْرِ، وَالْقِلَّةِ، وَالذِّلَّةِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ یہ دعا پڑھتے تھے: اللهم إني أعوذ بک من الفقر، والقلة، والذلة، وأعوذ بک من أن أظلم أو أظلم اے اللہ! میں فقر، قلت مال اور ذلت سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں کسی پر ظلم کروں یا کوئی مجھ پر ظلم کرے ١ ؎۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ used to say: O Allah, I seek refuge in Thee from poverty, lack and abasement, and I seek refuge in Thee lest I cause or suffer wrong.

Notes · وضاحت
١ ؎: بعض حدیثوں میں آپ ﷺ نے فقر اور مسکنت کو طلب کیا ہے اور بعض میں اس سے پناہ مانگی ہے، مرغوب و مطلوب اور پسندیدہ فقر وہ ہے جس میں مال کی کمی ہو لیکن دل غنی ہو، اور دنیا کی حرص و لالچ نہ ہو، اور آپ ﷺ نے ایسے فقر سے پناہ مانگی ہے جس میں آدمی واجبی ضروریات زندگی کے حاصل کرنے سے عاجز ہو، اور جس سے عبادت میں خلل پڑتا ہو، اور قلت سے مراد نیکیوں کی کمی ہے نہ کہ مال کی، یا مال کی اتنی کمی ہے جو قوت لایموت اور ناگزیر ضرورتوں کو بھی کافی نہ ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الاستعاذہ ١٣ (٥٤٦٢)، (تحفة الأشراف: ١٣٣٨٥)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الدعاء ٣ (٣٨٣٨)، مسند احمد (٢/٣٠٥، ٣٢٥، ٣٥٤) (صحیح )
1545Sunan Abu Dawood

اللہ سے پناہ طلب کرنے والی چیزیں

حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ مِنْ دُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ، وَتَحْوِيلِ عَافِيَتِكَ، وَفُجَاءَةِ نَقْمَتِكَ، وَجَمِيعِ سُخْطِكَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی یہ دعا تھی: اللهم إني أعوذ بک من زوال نعمتک، وتحويل عافيتك، وفجاءة نقمتک، وجميع سخطک اے اللہ! میں تیری نعمت کے زوال سے، تیری دی ہوئی عافیت کے پلٹ جانے سے، تیرے ناگہانی عذاب سے اور تیرے ہر قسم کے غصے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔

Abdullah bin Umar (RA) said that one of the supplications of the Messenger of Allah ﷺ was: O Allah, I seek refuge in You that Your blessings are lifted, and Your protection (of me) is changed, and in the suddenness of Your punishment, and from all Your anger.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الذکر والدعاء ٢٦ (٢٧٣٩)، (تحفة الأشراف: ٧٢٥٥) (صحیح )
1546Sunan Abu Dawood

اللہ سے پناہ طلب کرنے والی چیزیں

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا ضُبَارَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السُّلَيْكِ، عَنْ دُوَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ السَّمَّانُ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو، يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشِّقَاقِ، وَالنِّفَاقِ، وَسُوءِ الْأَخْلَاقِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ دعا کرتے تو فرماتے: اللهم إني أعوذ بک من الشقاق، والنفاق، وسوء الأخلاق اے اللہ! میں پھوٹ، نفاق اور برے اخلاق سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to supplicate by saying: O Allah, I seek refuge in Thee from divisiveness, hypocrisy, and evil character.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الاستعاذة ٢ (٥٤٧٣)، (تحفة الأشراف: ١٢٣١٤) (ضعیف) (اس کے راوی ضبارة مجہول اور دوید لین الحدیث ہیں )
1547Sunan Abu Dawood

اللہ سے پناہ طلب کرنے والی چیزیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، عَنْ ابْنِ إِدْرِيسَ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُوعِ فَإِنَّهُ بِئْسَ الضَّجِيعُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخِيَانَةِ فَإِنَّهَا بِئْسَتِ الْبِطَانَةُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا مانگتے تھے: اللهم إني أعوذ بک من الجوع فإنه بئس الضجيع، وأعوذ بک من الخيانة فإنها بئست البطانة اے اللہ! میں بھوک سے تیری پناہ مانگتا ہوں وہ بہت بری ساتھی ہے، میں خیانت سے تیری پناہ مانگتا ہوں وہ بہت بری خفیہ خصلت ہے ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to say: O Allah, I seek refuge in Thee from hunger, for it is an evil bed-fellow; and I seek refuge in Thee from treachery, for it is an evil hidden trait.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الاستعاذة ١٩ (٥٤٧١)، (تحفة الأشراف: ١٣٠٤٠)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٥٣ (٣٣٥٤) (حسن )
1548Sunan Abu Dawood

اللہ سے پناہ طلب کرنے والی چیزیں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَخِيهِ عَبَّادِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْأَرْبَعِ: مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، وَمِنْ دُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کہتے تھے: اللهم إني أعوذ بک من الأربع: من علم لا ينفع، ومن قلب لا يخشع، ومن نفس لا تشبع، ومن دعا لا يسمع اے اللہ! میں چار چیزوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں: ایسے علم سے جو نفع بخش نہ ہو، ایسے دل سے جو تجھ سے خوف زدہ نہ ہو، ایسے نفس سے جو سیر نہ ہو اور ایسی دعا سے جو سنی نہ جائے یعنی قبول نہ ہو ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to say: O Allah, I seek refuge in Thee from four things: Knowledge which does not profit, a heart which is not submissive, a soul which has an insatiable appetite, and a supplication which is not heard.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الاستعاذة ١٧ (٥٤٦٩)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ٢٣ (٢٥٠)، والدعاء ٢ (٣٨٣٧)، (تحفة الأشراف: ١٣٥٤٩) (صحیح )
1549Sunan Abu Dawood

اللہ سے پناہ طلب کرنے والی چیزیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: قَالَ أَبُو الْمُعْتَمِرِ: أُرَى أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَنَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ صَلَاةٍ لَا تَنْفَعُوَذَكَرَ دُعَاءً آخَرَ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کہتے تھے: اللهم إني أعوذ بک من صلاة لا تنفع اے اللہ! میں ایسی نماز سے جو فائدہ نہ دے تیری پناہ چاہتا ہوں اور پھر راوی نے دوسری دعا کا ذکر کیا۔

Anas bin Malik (RA) narrated that the Prophet ﷺ would say: O Allah, I seek refuge in You from a prayer that is of no benefit.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٨٧) (ضعیف )
1550Sunan Abu Dawood

اللہ سے پناہ طلب کرنے والی چیزیں

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ الْأَشْجَعِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَمَّا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ، قَالَتْ: كَانَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ، وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ.

فروہ بن نوفل اشجعی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کی دعا کے بارے میں جو آپ مانگتے تھے پوچھا، انہوں نے کہا: آپ کہتے تھے: اللهم إني أعوذ بک من شر ما عملت، ومن شر ما لم أعمل اے اللہ! میں ہر اس کام کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جسے میں نے کیا ہے اور ہر اس کام کے شر سے بھی جسے میں نے نہیں کیا ہے ۔

Farwah bin Nawfal Al-Ashjai asked Aisha (RA) the Mother of the Believers, about the supplication of the Messenger of Allah ﷺ . She replied: He would say: O Allah, I seek refuge in You from the evil of what I have done, and from the evil of what I have not done.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الذکروالدعاء ١٨ (٢٧١٦)، سنن النسائی/السہو ٦٣ (١٣٠٨)، والاستعاذة ٥٧ (٥٥٢٧)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ٣ (٣٨٣٩)، (تحفة الأشراف: ١٧٤٣٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣١، ١٠٠، ١٣٩، ٢١٣، ٢٥٧، ٢٧٨) (صحیح )
1551Sunan Abu Dawood

اللہ سے پناہ طلب کرنے والی چیزیں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، الْمَعْنَى عَنْسَعْدِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ بِلَالٍ الْعَبْسِيِّ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ، عَنْ أَبِيهِ فِي حَدِيثِ أَبِي أَحْمَدَ شَكَلِ بْنِ حُمَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي دُعَاءً، قَالَ: قُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي، وَمِنْ شَرِّ بَصَرِي، وَمِنْ شَرِّ لِسَانِي، وَمِنْ شَرِّ قَلْبِي، وَمِنْ شَرِّ مَنِيِّي.

شکل بن حمید ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی دعا سکھا دیجئیے، آپ ﷺ نے فرمایا: کہو: االلهم إني أعوذ بک من شر سمعي، ومن شر بصري، ومن شر لساني، ومن شر قلبي، ومن شر منيي ١ ؎ اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اپنے کان کی برائی، نظر کی برائی، زبان کی برائی، دل کی برائی اور اپنی منی کی برائی سے ۔

Narrated Shakl ibn Humayd: I said: Messenger of Allah, teach me a supplication. He said: Say: O Allah, I seek refuge in Thee from the evil of what I hear, from the evil of what I see, from the evil of what I speak, from the evil of what I think, and from the evil of my semen (i. e. sexual passion).

Notes · وضاحت
١ ؎: کان کی برائی بری باتیں سننا ہے، آنکھ کی برائی بری نگاہ سے غیر عورت کو دیکھنا ہے، زبان کی برائی زبان سے کفر کے کلمے نکالنا، جھوٹ بولنا، غیبت کرنا، بہتان باندھنا وغیرہ وغیرہ، دل کی برائی حسد، کفر، نفاق، وغیرہ ہے، اور منی کی برائی بےمحل نطفہ بہانا، مثلاً محرم یا اجنبی عورت پر یا لواطت کرنا یا کرانا وغیرہ۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ٧٥ (٣٤٩٢)، سنن النسائی/الاستعاذة ٣ (٥٤٤٦)، ٩ (٥٤٥٧)، ١٠(٥٤٥٨)، ٢٧ (٥٤٨٦)، (تحفة الأشراف: ٤٨٤٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٢٩) (صحیح )
1552Sunan Abu Dawood

اللہ سے پناہ طلب کرنے والی چیزیں

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ صَيْفِيٍّ مَوْلَى أَفْلَحَ مَوْلَى أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الْيَسَرِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَدْمِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ التَّرَدِّي، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْغَرَقِ، وَالْحَرَقِ وَالْهَرَمِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ يَتَخَبَّطَنِي الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ فِي سَبِيلِكَ مُدْبِرًا، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ لَدِيغًا.

ابوالیسر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا مانگتے تھے: اللهم إني أعوذ بک من الهدم، وأعوذ بک من التردي، وأعوذ بک من الغرق، والحرق والهرم، وأعوذ بك أن يتخبطني الشيطان عند الموت، وأعوذ بك أن أموت في سبيلک مدبرا، وأعوذ بك أن أموت لديغا اے اللہ! کسی مکان یا دیوار کے اپنے اوپر گرنے سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں۔ میں اونچے مقام سے گر پڑنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ میں ڈوبنے، جل جانے اور بہت بوڑھا ہوجانے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ موت کے وقت مجھے شیطان اچک لے۔ اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تیری راہ میں پیٹھ دکھا کر بھاگتے ہوئے مارا جاؤں اور اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ کسی زہریلے جانور کے کاٹنے سے میری موت آئے ۔

Narrated AbulYusr (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to supplicate: O Allah, I seek refuge in Thee from my house falling on me, I seek refuge in Thee from falling into an abyss, I seek refuge in Thee from drowning burning and decrepitude. I seek refuge in Thee from the devil harming me at the time of my death, I seek refuge in Thee from dying in Thy path while retreating, and I seek refuge in Thee from dying of the sting of a poisonous creature.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الاستعاذة ٦٠ (٥٥٣٣)، (تحفة الأشراف: ١١١٢٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٢٧) (صحیح )
1553Sunan Abu Dawood

اللہ سے پناہ طلب کرنے والی چیزیں

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ،أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي مَوْلًى لِأَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الْيَسَرِ، زَادَ فِيهِوَالْغَمِّ.

اس سند سے بھی ابوالیسر ؓ سے اسی طرح کی روایت ہے اس میں والغم کا اضافہ ہے یعنی تیری پناہ مانگتا ہوں غم سے ۔

The aforesaid tradition has also been transmitted by Abu al-Yusr through a different chain of narrators. This version adds: and from sorrow.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١١١٢٤) (صحیح )