Sunan Abu Dawood 1523

استغفار کا بیان

1523Sunan Abu Dawood

استغفار کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ حُنَيْنَ بْنَ أَبِي حَكِيمٍ حَدَّثَهُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ اللَّخْمِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقْرَأَ بِالْمُعَوِّذَاتِ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ.

عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ میں ہر نماز کے بعد معوذات پڑھا کروں ١ ؎۔

Narrated Uqbah ibn Amir: The Messenger of Allah ﷺ commanded me to recite Muawwidhatan (the last two surahs of the Quran) after every prayer.

Notes · وضاحت
١ ؎: معوذات سے مراد دو سورتیں قل أعوذ برب الفلق اور قل أعوذ برب الناس ہیں، کیونکہ جمع کا اطلاق دو پر بھی ہوتا ہے، اور ایک قول یہ ہے کہ اس میں سورة اخلاص اور قل يا أيها الکافرون بھی شامل ہیں، یا تو تغلیباً انہیں معوذات کہا گیا ہے، یا ان دونوں میں بھی تعوذ کا معنی پایا جاتا ہے، کیونکہ یہ دونوں سورتیں اخلاص وللہیت، شرک سے براءت، اور التجاء الی اللہ کے مفہوم پر مشتمل ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/فضائل القرآن ١٢ (٢٩٠٣)، سنن النسائی/السہو ٨٠ (١٣٣٧)، (تحفة الأشراف: ٩٩٤٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٥٥، ٢٠١) (صحیح )