جہاد کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 11 · 309 hadiths · Page 1 of 16

2478Sunan Abu Dawood

ہجرت کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، وَعُثْمَانُ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عنها عَنِ الْبَدَاوَةِ، فَقَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْدُو إِلَى هَذِهِ التِّلَاعِ وَإِنَّهُ أَرَادَ الْبَدَاوَةَ مَرَّةً فَأَرْسَلَ إِلَيَّ نَاقَةً مُحَرَّمَةً مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ فَقَالَ لِي: يَا عَائِشَةُ ارْفُقِي فَإِنَّ الرِّفْقَ لَمْ يَكُنْ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا زَانَهُ وَلَا نُزِعَ مِنْ شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا شَانَهُ.

شریح کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے صحراء و بیابان (میں زندگی گزارنے) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ ان ٹیلوں پر جایا کرتے تھے، آپ نے ایک بار صحراء میں جانے کا ارادہ کیا تو میرے پاس صدقہ کے اونٹوں میں سے ایک اونٹ بھیجا جس پر سواری نہیں ہوئی تھی، اور مجھ سے فرمایا: عائشہ! اس کے ساتھ نرمی کرنا کیونکہ جس چیز میں بھی نرمی ہوتی ہے وہ اسے عمدہ اور خوبصورت بنا دیتی ہے، اور جس چیز سے بھی نرمی چھین لی جائے تو وہ اسے عیب دار کردیتی ہے ۔

Miqdan bin Shuraih reported on the authority of his father. I asked Aisha (RA) about settling in the desert (to worship Allaah in loneliness). She said “The Messenger of Allah ﷺ would go out (from Madina) to these torrential streams. Once he intended to go out to the desert (for worshipping Allaah). He sent me a She-Camel from the Camels of sadaqah that was not used as a mount. He said to me “Aishah be lenient, for leniency makes a thing decorated and when it is removed from a thing it makes it defective.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ویأتی ہذا الحدیث في الأدب (٤٨٠٨)، (تحفة الأشراف: ١٦١٥٠)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/البر والصلة ٢٣ (٢٥٩٤)، مسند احمد (٦/٥٨، ٢٢٢) (صحیح) (اس میں سے صرف قول رسول ﷺ صحیح ہے اور اتنا ہی صحیح مسلم میں ہے، ٹیلوں پر جانے کا واقعہ صحیح نہیں ہے، اور یہ مؤلف کا تفرد ہے )
2479Sunan Abu Dawood

کیا اب ہجرت کا سلسلہ منقطع ہوگیا

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنْ حَرِيزِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَوْفٍ، عَنْ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ حَتَّى تَنْقَطِعَ التَّوْبَةُ، وَلَا تَنْقَطِعُ التَّوْبَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا.

معاویہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ہجرت ختم نہیں ہوگی یہاں تک کہ توبہ کا سلسلہ ختم ہوجائے، اور توبہ ختم نہیں ہوگی یہاں تک کہ سورج پچھم سے نکل آئے ١ ؎۔

Narrated Muawiyah (RA) : I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Migration will not end until repentance ends, and repentance will not end until the sun rises in the west.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس لئے اگر ممکن ہو تو دارلکفر سے دارالاسلام کی طرف، اور دارالمعاصی سے دارالصلاح کی طرف ہجرت ہمیشہ بہتر ہے، ورنہ فی زمانہ کوئی بھی ملک دوسرے ملک کے شہری کو اپنے یہاں منتقل ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١١٤٥٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٩٩)، دي / السیر ٧٠ (٢٥٥٥) (صحیح )
2480Sunan Abu Dawood

کیا اب ہجرت کا سلسلہ منقطع ہوگیا

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَوْمَ الْفَتْحِ فَتْحِ مَكَّةَ لَا هِجْرَةَ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح (مکہ) کے دن فرمایا: اب (مکہ فتح ہوجانے کے بعد مکہ سے) ہجرت نہیں (کیونکہ مکہ خود دارالاسلام ہوگیا) لیکن جہاد اور (ہجرت کی) نیت باقی ہے، جب تمہیں جہاد کے لیے نکلنے کو کہا جائے تو نکل پڑو ۔

Ibn Abbas reported that Messenger of Allah ﷺ as saying on the day of the conquest of Makkah: There is no emigration (after the conquest of Makkah, but only Jihad (striving in the path of Allah) and some intention. So when you are summoned to go forth (for Jihad), go forth.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٢٠١٨)، (تحفة الأشراف: ٥٧٤٨) (صحیح )
2481Sunan Abu Dawood

کیا اب ہجرت کا سلسلہ منقطع ہوگیا

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو وَعِنْدَهُ الْقَوْمُ حَتَّى جَلَسَ عِنْدَهُ، فَقَالَ أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ.

عامر شعبی کہتے ہیں کہ ایک آدمی عبداللہ بن عمرو ؓ کے پاس آیا، ان کے پاس کچھ لوگ بیٹھے تھے یہاں تک کہ وہ بھی آ کر آپ کے پاس بیٹھ گیا اور کہنے لگا: مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے مسلمان محفوظ رہیں، اور مہاجر وہ ہے جو اللہ کی منع کردہ چیزوں کو چھوڑ دے ۔

Amir said “A man came to Abd Allaah bin Amr while the people were with him. He sat with him and said “Tell me anything that you heard from the Messenger of Allah ﷺ ”. He said “I hears the Messenger of Allah ﷺ say “A Muslim is he from whose tongue and hand the Muslims remain safe and an emigrant is he who abandons what Allaah has prohibited. ””

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٤ (١٠)، (تحفة الأشراف: ٨٨٣٤)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الإیمان ٩ (٤٠)، مسند احمد (٢/١٦٠، ١٦٣، ١٩٢، ١٩٣، ٢٠٥، ٢١٢، ٢٢٤)، سنن الدارمی/الرقاق ٨ (٢٧٨٥) (صحیح )
2482Sunan Abu Dawood

ملک شام میں اقامت اختیار کرنے کی فضیلت

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: سَتَكُونُ هِجْرَةٌ بَعْدَ هِجْرَةٍ فَخِيَارُ أَهْلِ الأَرْضِ أَلْزَمُهُمْ مُهَاجَرَ إِبْرَاهِيمَ وَيَبْقَى فِي الأَرْضِ شِرَارُ أَهْلِهَا تَلْفِظُهُمْ أَرْضُوهُمْ تَقْذَرُهُمْ نَفْسُ اللَّهِ وَتَحْشُرُهُمُ النَّارُ مَعَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: عنقریب ہجرت کے بعد ہجرت ہوگی تو زمین والوں میں بہتر وہ لوگ ہوں گے جو ابراہیم (علیہ السلام) کی ہجرت گاہ (شام) کو لازم پکڑیں گے، اور زمین میں ان کے بدترین لوگ رہ جائیں گے، ان کی سر زمین انہیں باہر پھینک دے گی ١ ؎ اور اللہ کی ذات ان سے گھن کرے گی اور آگ انہیں بندروں اور سوروں کے ساتھ اکٹھا کرے گی ٢ ؎۔

Abd Allaah bin Amr said “ I heard the Messenger of Allah ﷺ say “There will be emigration after emigration and the people who are best will be those who cleave most closely to places which Abraham migrated. The worst of its people will remain in the earth cast out by their lands, abhorred by Allaah, collected along with apes and swine by fire. ””

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی وہ ایک ملک سے دوسرے ملک بھاگتے پھریں گے۔ ٢ ؎: اس سے قیامت کے دن والا حشر مراد نہیں ہے نیز یہاں آگ سے مراد فتنے کی آگ ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٨٨٢٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٠٩، ١٩٨) (حسن) (لیکن دوسرے طریق اور شاہد سے تقویت پا کر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحة: ٣٢٠٣، وتراجع الالبانی: ٤ )
2483Sunan Abu Dawood

ملک شام میں اقامت اختیار کرنے کی فضیلت

حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنِي بَحِيرٌ، عَنْ خَالِدٍ يَعْنِي ابْنَ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي قُتَيْلَةَ، عَنْ ابْنِ حَوَالَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَيَصِيرُ الْأَمْرُ إِلَى أَنْ تَكُونُوا جُنُودًا مُجَنَّدَةً جُنْدٌ بِالشَّامِ وَجُنْدٌ بِالْيَمَنِ وَجُنْدٌ بِالْعِرَاقِ، قَالَ ابْنُ حَوَالَةَ: خِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَدْرَكْتُ ذَلِكَ فَقَالَ: عَلَيْكَ بِالشَّامِ فَإِنَّهَا خِيرَةُ اللَّهِ مِنْ أَرْضِهِ يَجْتَبِي إِلَيْهَا خِيرَتَهُ مِنْ عِبَادِهِ فَأَمَّا إِنْ أَبَيْتُمْ فَعَلَيْكُمْ بِيَمَنِكُمْ وَاسْقُوا مِنْ غُدُرِكُمْ فَإِنَّ اللَّهَ تَوَكَّلَ لِي بِالشَّامِ وَأَهْلِهِ.

عبداللہ بن حوالہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عنقریب ایسا وقت آئے گا کہ تم الگ الگ ٹکڑیوں میں بٹ جاؤ گے، ایک ٹکڑی شام میں، ایک یمن میں اور ایک عراق میں ۔ ابن حوالہ نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے بتائیے اگر میں وہ زمانہ پاؤں تو کس ٹکڑی میں رہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: اپنے اوپر شام کو لازم کرلو، کیونکہ شام کا ملک اللہ کی بہترین سر زمین ہے، اللہ اس ملک میں اپنے نیک بندوں کو جمع کرے گا، اگر شام میں نہ رہنا چاہو تو اپنے یمن کو لازم پکڑنا اور اپنے تالابوں سے پانی پلانا، کیونکہ اللہ نے مجھ سے شام اور اس کے باشندوں کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے ١ ؎۔

Narrated Ibn Hawalah (RA) : The Prophet ﷺ said: It will turn out that you will be armed troops, one is Syria, one in the Yemen and one in Iraq. Ibn Hawalah said: Choose for me, Messenger of Allah, if I reach that time. He replied: Go to Syria, for it is Allahs chosen land, to which his best servants will be gathered, but if you are unwilling, go to your Yemen, and draw water from your tanks, for Allah has on my account taken special charge of Syria and its people.

Notes · وضاحت
١ ؎: شام فتنوں سے محفوظ رہے گا اور وہاں کے رہنے والوں کو اللہ فتنہ کے ذریعہ ہلاک نہیں کرے گا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، ( تحفة الأشراف: ١٠٨٥٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١١٠) (صحیح )
2484Sunan Abu Dawood

جہاد ہمیشہ رہے گا

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ عَلَى مَنْ نَاوَأَهُمْ حَتَّى يُقَاتِلَ آخِرُهُمُ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ.

عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت کا ایک گروہ ١ ؎ ہمیشہ حق کے لیے لڑتا رہے گا اور ان لوگوں پر غالب رہے گا جو ان سے دشمنی کریں گے یہاں تک کہ ان کے آخری لوگ مسیح الدجال سے قتال کریں گے ٢ ؎۔

Narrated Imran ibn Husayn: The Prophet ﷺ said: A section of my community will continue to fight for the right and overcome their opponents till the last of them fights with the Antichrist.

Notes · وضاحت
١ ؎: امام بخاری کہتے ہیں: اس سے مراد اہل علم ہیں، اور امام احمد بن حنبل کہتے ہیں: اس سے مراد اگر ” اہل الحدیث “ نہیں ہیں تو میں نہیں جانتا کہ کون لوگ ہیں۔ ٢ ؎: اس سے مراد امام مہدی اور عیسیٰ ہیں، اور ان دونوں کے متبعین ہیں عیسیٰ (علیہ السلام) آسمان سے اترنے کے بعد دجال کو قتل کریں گے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٠٨٥٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٢٩، ٤٣٣، ٤٣٧) (صحیح )
2485Sunan Abu Dawood

جہاد کا ثواب

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سُئِلَ أَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَكْمَلُ إِيمَانًا، قَالَ: رَجُلٌ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ، وَرَجُلٌ يَعْبُدُ اللَّهَ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ قَدْ كُفِيَ النَّاسُ شَرَّهُ.

ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ سے پوچھا گیا: کون سا مومن سب سے زیادہ کامل ایمان والا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ شخص جو اللہ کے راستے میں اپنی جان اور مال سے جہاد کرے، نیز وہ شخص جو کسی پہاڑ کی گھاٹی ١ ؎ میں اللہ کی عبادت کرتا ہو، اور لوگ اس کے شر سے محفوظ ہوں ۔

Abu Saeed (Al Khudri) reported The Prophet ﷺ was asked “Which believers are most perfect in respect of faith? He replied “A man who strives in the path of Allaah with his life and property and a man who worships Allaah in a mountain valley where he protects the people from his evil. ””

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ شرط نہیں ہے، اسے بطور مثال ذکر کیا گیا ہے کیونکہ عموماً گھاٹیوں میں تنہائی ہوتی ہے، اس سے گوشہ نشینی کی فضیلت ثابت ہوتی ہے کیونکہ آدمی بےکار باتوں اور لغو چیزوں سے محفوظ رہتا ہے لیکن یہ فتنہ کے زمانہ کے ساتھ خاص ہے، اور فتنہ نہ ہونے کی صورت میں جمہور کے نزدیک عام لوگوں سے اختلاط اور میل جول ہی زیادہ بہتر ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجھاد ٢ (٢٧٨٦)، والرقاق ٣٤ (٦٤٩٤)، صحیح مسلم/الإمارة ٣٤ (١٨٨٨)، سنن الترمذی/فضائل الجھاد ٢٤ (١٦٦٠)، سنن النسائی/الجھاد ٧ (٣١٠٧)، سنن ابن ماجہ/الفتن ١٣ (٣٩٧٨)، (تحفة الأشراف: ٤١٥١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٦، ٣٧، ٥٦، ٨٨) (صحیح )
2486Sunan Abu Dawood

سیاحت کی ممانعت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِيُّ أَبُو الْجَمَاهِرِ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي فِي السِّيَاحَةِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ سِيَاحَةَ أُمَّتِي الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى.

ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے سیاحت کی اجازت دے دیجئیے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میری امت کی سیاحت اللہ کے راہ میں جہاد کرنا ہے ۔

Narrated Abu Umamah (RA) : A man said: Messenger of Allah, allow tourism for me. The Prophet ﷺ said: The tourism of my people is striving in the path of Allah, the Exalted.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤٩٠١) (حسن )
2487Sunan Abu Dawood

جہاد سے فارغ ہو کر لوٹنا اور اس کا ثواب

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ عَنِ ابْنِ شُفَيٍّ، عَنْ شُفَيِّ بْنِ مَاتِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ ابْنُ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَفْلَةٌ كَغَزْوَةٍ.

عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جہاد سے لوٹنا (ثواب میں) جہاد ہی کی طرح ہے ١ ؎۔

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Prophet ﷺ said: Returning home is like going on an expedition.

Notes · وضاحت
١ ؎: جہاد سے لوٹنا ثواب میں جہاد ہی کی طرح اس لئے ہے کہ مجاہد جس وقت جہاد کے لئے نکلا تھا اس وقت اس کے لئے جو تیاری کی اس تیاری سے اسے اور اس کے اہل و عیال کو جو پریشانی لاحق ہوئی اب مجاہد کے لوٹنے سے وہ پریشانی ختم ہوجائے گی اور اپنے اہل و عیال میں واپس آجانے سے اسے جو طاقت و قوت حاصل ہوگی اس سے وہ اس لائق ہوجائے گا کہ دوبارہ جہاد کے لئے نکل سکے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٨٨٢٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٧٤) (صحیح )
2488Sunan Abu Dawood

رومیوں سے جنگ بہ نسبت دوسری قوموں کے افضل ہے

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ فَرَجِ بْنِ فَضَالَةَ، عَنْ عَبْدِ الْخَبِيرِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهَا أُمُّ خَلَّادٍ وَهِيَ مُنْتَقِبَةٌ تَسْأَلُ عَنِ ابْنِهَا وَهُوَ مَقْتُولٌ، فَقَالَ لَهَا بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: جِئْتِ تَسْأَلِينَ عَنِ ابْنِكِ وَأَنْتِ مُنْتَقِبَةٌ، فَقَالَتْ: إِنْ أُرْزَأَ ابْنِي فَلَنْ أُرْزَأَ حَيَائِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ابْنُكِ لَهُ أَجْرُ شَهِيدَيْنِقَالَتْ: وَلِمَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: لِأَنَّهُ قَتَلَهُ أَهْلُ الْكِتَابِ.

قیس بن شماس کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک عورت آئی جس کو ام خلاد کہا جاتا تھا وہ نقاب پوش تھی، وہ اپنے شہید بیٹے کے بارے میں پوچھ رہی تھی، ایک صحابی نے اس سے کہا: تو اپنے بیٹے کو پوچھنے چلی ہے اور نقاب پہنے ہوئی ہے؟ اس نے کہا: اگر میں اپنے لڑکے کی جانب سے مصیبت زدہ ہوں تو میری حیاء کو مصیبت نہیں لاحق ہوئی ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تیرے بیٹے کے لیے دو شہیدوں کا ثواب ہے ، وہ کہنے لگی: ایسا کیوں؟ اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: اس وجہ سے کہ اس کو اہل کتاب نے مارا ہے ۔

Narrated Thabit ibn Qays: A woman called Umm Khallad came to the Prophet ﷺ while she was veiled. She was searching for her son who had been killed (in the battle) Some of the Companions of the Prophet ﷺ said to her: You have come here asking for your son while veiling your face? She said: If I am afflicted with the loss of my son, I shall not suffer the loss of my modesty. The Messenger of Allah ﷺ said: You will get the reward of two martyrs for your son. She asked: Why is that so, Messenger of Allah? He replied: Because the people of the Book have killed him.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٢٠٦٨) (ضعیف) (اس کے راوی عبد الخبیر مجہول ہیں )
2489Sunan Abu Dawood

جہاد کے لئے سمندر کا سفر

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ بِشْرٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَرْكَبُ الْبَحْرَ إِلَّا حَاجٌّ أَوْ مُعْتَمِرٌ أَوْ غَازٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِنَّ تَحْتَ الْبَحْرِ نَارًا وَتَحْتَ النَّارِ بَحْرًا.

عبداللہ بن عمر و ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سمندر کا سفر نہ کرے مگر حج کرنے والا، یا عمرہ کرنے والا، یا اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والا کیونکہ سمندر کے نیچے آگ ہے اور اس آگ کے نیچے سمندر ہے ۔

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Prophet ﷺ said: No one should sail on the sea except the one who is going to perform hajj or Umrah, or the one who is fighting in Allahs path for under the sea there is a fire, and under the fire there is a sea.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٦٠٩) (ضعیف) (اس کے راوی بشر اور بشیر دونوں مجہول ہیں )
2490Sunan Abu Dawood

جہاد کے لئے سمندر کا سفر

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ حَرَامٍ بِنْتُ مِلْحَانَ أُخْتُ أُمِّ سُلَيْمٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عِنْدَهُمْ فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَضْحَكَكَ ؟ قَالَ: رَأَيْتُ قَوْمًا مِمَّنْ يَرْكَبُ ظَهْرَ هَذَا الْبَحْرِ كَالْمُلُوكِ عَلَى الأَسِرَّةِ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ: فَإِنَّكِ مِنْهُمْ، قَالَتْ: ثُمَّ نَامَ فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَضْحَكَكَ فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: أَنْتِ مِنَ الأَوَّلِينَقَالَ: فَتَزَوَّجَهَا عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ فَغَزَا فِي الْبَحْرِ فَحَمَلَهَا مَعَهُ فَلَمَّا رَجَعَ قُرِّبَتْ لَهَا بَغْلَةٌ لِتَرْكَبَهَا فَصَرَعَتْهَا فَانْدَقَّتْ عُنُقُهَا فَمَاتَتْ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ام سلیم ؓ کی بہن ام حرام بنت ملحان ؓ نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے یہاں قیلولہ کیا، پھر بیدار ہوئے، آپ ﷺ ہنس رہے تھے، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟ فرمایا: میں نے اپنی امت میں سے چند لوگوں کو دیکھا جو اس سمندر کی پشت پر سوار ہیں جیسے بادشاہ تخت پر ، میں نے کہا: اللہ کے رسول! دعا کیجئے، اللہ مجھ کو ان لوگوں میں سے کر دے، فرمایا: تو انہیں میں سے ہے ۔ پھر آپ ﷺ سو گئے اور ہنستے ہوئے بیدار ہوئے، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کے ہنسنے کا سبب کیا ہے؟ آپ ﷺ نے وہی فرمایا جو پہلے فرمایا تھا، میں نے کہا: اللہ کے رسول! دعا کیجئے، اللہ مجھ کو ان لوگوں میں سے کر دے، آپ ﷺ نے فرمایا: تو پہلے لوگوں میں سے ہے ۔ انس ؓ کہتے ہیں: تو ان سے عبادہ بن صامت ؓ نے شادی کی، پھر انہوں نے سمندر میں جہاد کیا توا نہیں بھی اپنے ساتھ لے گئے، جب لوٹے تو ایک خچر ان کی سواری کے لیے ان کے قریب لایا گیا، تو اس نے انہیں گرا دیا جس سے ان کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ انتقال کر گئیں۔

Anas bin Malik (RA) (may Allaah be pleased with him) said “Umm Haram, daughter of Milhan, sister of Umm Sulaim, narrated to me that the Messenger of Allah ﷺ took a mid day nap with them. He then awoke laughing. She said “I asked the Messenger of Allah ﷺ , what made you laugh?” He replied “I saw some people who ere sailing in the midst of the sea like kings on thrones. She said “I said the Messenger of Allah ﷺ beseech Allaah that He may put me among them. He replied “You will be among them. ” She said “He then slept and awoke laughing. She said “I asked the Messenger of Allah ﷺ , what made you laugh? He replied as he said in the first reply. She said “I said the Messenger of Allah ﷺ beseech Allaah that HE may put me amongst them. He replied “You will be among the first. Then Ubadah bin Al Samit married her and sailed on the sea on an expedition and took her with him. When he returned, a riding beast was brought near her to ride, but it threw her down. Her neck was broken and she died.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجھاد ٣ (٢٧٨٨)، ٨ (٢٧٩٩)، ٦٣ (٢٨٧٧)، ٧٥ (٢٨٩٤)، ٩٣ (٢٩٢٤)، الاستئذان ٤١ (٦٢٨٢)، والتعبیر ١٢ (٧٠٠١)، صحیح مسلم/الجہاد ٤٩ (١٩١٢)، سنن الترمذی/فضائل الجھاد ١٥ (١٦٤٥)، سنن النسائی/الجھاد ٤٠ (٣١٧٤)، سنن ابن ماجہ/الجھاد ١٠ (٢٧٧٦)، (تحفة الأشراف: ١٨٣٠٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجھاد ١٨(٣٩)، مسند احمد (٣/٢٦٤، ٦/٣٦١، ٤٢٣، ٤٣٥)، دی/ الجہاد ٢٩ (٢٤٦٥) (صحیح )
2491Sunan Abu Dawood

جہاد کے لئے سمندر کا سفر

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَهَبَ إِلَى قُبَاءٍ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ وَكَانَتْ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمًا فَأَطْعَمَتْهُ وَجَلَسَتْ تَفْلِي رَأْسَهُ وَسَاقَ هَذَا الْحَدِيثَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَمَاتَتْ بِنْتُ مِلْحَانَ بِقُبْرُصَ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ قباء جاتے تو ام حرام بنت ملحان ؓ کے پاس جاتے، یہ عبادہ بن صامت ؓ کی زوجیت میں تھیں، ایک روز آپ ﷺ ان کے پاس آئے تو انہوں نے آپ کو کھانا کھلایا اور بیٹھ کر آپ ﷺ کے سر کی جوئیں نکالنے لگیں ١ ؎، اور آگے راوی نے یہی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: بنت ملحان کا انتقال قبرص میں ہوا۔

Anas bin Malik (RA) said “Whenever the Messenger of Allah ﷺ went to Quba, he used to visit Umm Haram daughter of Milhan who was married to Ubadah bin Al Samit. One day when he visited her she gave him food an sat clearing his head of lice. The narrator narrated the rest of the tradition. Abu Dawud said “Daughter of Milhan died in Cyprus”.

Notes · وضاحت
١ ؎: ام حرام بنت ملحان ؓ یا تو آپ ﷺ کی رضاعی خالہ تھیں یا آپ کے والد یا دادا کی خالہ تھیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجھاد ٣ (٢٧٨٨)، الاستئذان ٤١ (٦٢٨٢)، التعبیر ١٢ (٧٠٠١)، صحیح مسلم/الجہاد ٤٩ (١٩١٢)، سنن الترمذی/الجھاد ١٥ (١٦٤٥)، سنن النسائی/الجھاد ٤٠ (٣١٧٣)، سنن ابن ماجہ/الجھاد ١٨ (٣٩)، ( تحفة الأشراف: ١٩٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٤٠) (صحیح )
2492Sunan Abu Dawood

جہاد کے لئے سمندر کا سفر

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُخْتِ أُمِّ سُلَيْمٍ الرُّمَيْصَاءِ، قَالَتْ: نَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَيْقَظَ وَكَانَتْ تَغْسِلُ رَأْسَهَا فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَضْحَكُ مِنْ رَأْسِي ؟ قَالَ: لَا، وَسَاقَ هَذَا الْخَبَرَ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: الرُّمَيْصَاءُ أُخْتُ أُمِّ سُلَيْمٍ مِنَ الرَّضَاعَةِ.

ام حرام رمیصاء ١ ؎ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سوئے پھر بیدار ہوئے، اور وہ اپنا سر دھو رہی تھیں تو آپ ﷺ ہنستے ہوئے بیدار ہوئے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا آپ میرے بال دیکھ کر ہنس رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں ، پھر انہوں نے یہی حدیث کچھ کمی بیشی کے ساتھ بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: رمیصاء ام سلیم کی رضاعی بہن تھیں ٢ ؎۔

Umm Sulaim Al Rumaisa said “The Prophet ﷺ slept and awoke while she was washing her head. ” He awoke laughing. She asked “Messenger of Allah ﷺ are you laughing at my head?” He replied, No. She then narrated the rest of the tradition enlarging and reducing. Abu Dawud said: Al-Rumaisa was the foster sister of Umm Sulaim.

Notes · وضاحت
١ ؎: ام سلیم ؓ ام حرام بنت ملحان ؓ کی بہن ہیں، سند میں اخت ام سلیم سے مراد ام حرام بنت ملحان ؓ ہی ہیں، ام حرام ؓ کو رمیصاء کہا جاتا تھا، اور امّ سلیم ؓ کو غمیصاء۔ ٢ ؎: ابوداود کا یہ قول صحیح نہیں ہے، وہ رضاعی نہیں بلکہ نسبی اور حقیقی بہن تھیں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٢٤٩٠)، (تحفة الأشراف: ١٨٣٠٧) (صحیح )
2493Sunan Abu Dawood

جہاد کے لئے سمندر کا سفر

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ الْعَيْشِيُّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ. ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْجَوْبَرِيُّ الدِّمَشْقِيُّ الْمَعْنَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ،أَخْبَرَنَا هِلَالُ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّمْلِيِّ، عَنْ يَعْلَى بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ أُمِّ حَرَامٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: الْمَائِدُ فِي الْبَحْرِ الَّذِي يُصِيبُهُ الْقَيْءُ لَهُ أَجْرُ شَهِيدٍ وَالْغَرِقُ لَهُ أَجْرُ شَهِيدَيْنِ.

ام حرام ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: (جہاد یا حج کے لیے) سمندر میں سوار ہونے سے جس کا سر گھومے اور اسے قے آئے تو اس کے لیے ایک شہید کا ثواب ہے، اور جو ڈوب جائے تو اس کے لیے دو شہیدوں کا ثواب ہے ۔

Umm Haram reported the Prophet ﷺ as saying “He who becomes sick on a stormy sea and vomits will have the reward of a martyr. And he who is drowned will have a reward of two martyrs.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٨٣٠٩) (حسن )
2494Sunan Abu Dawood

جہاد کے لئے سمندر کا سفر

حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ عَتِيقٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ سَمَاعَةَ، حَدَّثَنَاالْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ثَلَاثَةٌ كُلُّهُمْ ضَامِنٌ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ رَجُلٌ خَرَجَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ ضَامِنٌ عَلَى اللَّهِ حَتَّى يَتَوَفَّاهُ، فَيُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ يَرُدَّهُ بِمَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ وَغَنِيمَةٍ، وَرَجُلٌ رَاحَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَهُوَ ضَامِنٌ عَلَى اللَّهِ حَتَّى يَتَوَفَّاهُ، فَيُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ يَرُدَّهُ بِمَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ وَغَنِيمَةٍ، وَرَجُلٌ دَخَلَ بَيْتَهُ بِسَلَامٍ فَهُوَ ضَامِنٌ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.

ابوامامہ باہلی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین قسم کے افراد ایسے ہیں جن کا ضامن اللہ تعالیٰ ہے: ایک وہ جو اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلے، اللہ اس کا ضامن ہے یا اسے وفات دے کر جنت میں داخل کرے گا، یا اجر اور غنیمت کے ساتھ واپس لوٹائے گا، دوسرا وہ شخص جو مسجد کی طرف چلا، اللہ اس کا ضامن ہے یا اسے وفات دے کر جنت میں داخل کرے گا، یا اجر اور غنیمت کے ساتھ واپس لوٹائے گا، تیسرا وہ شخص جو اپنے گھر میں سلام کر کے داخل ہوا، اللہ اس کا بھی ضامن ہے ۔

Abu Umamat Al Bahili reported the Messenger of Allah ﷺ as saying “There are three persons who are in the security of Allaah, the Exalted. ” “A man who goes out on an expedition to fight in the path of Allaah, the Exalted, is in the security of Allaah, until He takes him unto Him (i. e., he dies) and brings him into Paradise or brings him (alive) with reward and booty he obtains and a man who goes to the mosque is in the security of Allaah, until he takes him unto Him (i. e., he dies), and he brings him into Paradise or brings him with reward and spoils he obtains; and a man who enters his house after giving salutation is in the security of Allaah, the Exalted. ”

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤٨٧٥) (صحیح )
2495Sunan Abu Dawood

جنگ میں کافر کو قتل کرنے کا ثواب

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَجْتَمِعُ فِي النَّارِ كَافِرٌ وَقَاتِلُهُ أَبَدًا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کافر اور اس کو قتل کرنے والا مسلمان دونوں جہنم میں کبھی بھی اکٹھا نہ ہوں گے ١ ؎۔

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying “An infidel and the one who killed him will never be brought together in Hell. ”

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کا یہ قتل کرنا اس کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا اور وہ سزا سے بچ جائے گا اور اگر اسے سزا ہوئی بھی تو وہ جہنم کے علاوہ کوئی اور سزا ہوگی مثلاً وہ اعراف میں قید کردیا جائے گا اور جنت میں دخول اولی سے محروم کردیا جائے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٣٦ (١٨٩١)، (تحفة الأشراف: ١٤٠٠٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٦٣، ٣٦٨، ٣٧٨) (صحیح )
2496Sunan Abu Dawood

جہاد کرنے والوں کی عورتوں کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہئے؟

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ قَعْنَبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حُرْمَةُ نِسَاءِ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ كَحُرْمَةِ أُمَّهَاتِهِمْ وَمَا مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْقَاعِدِينَ يَخْلُفُ رَجُلًا مِنَ الْمُجَاهِدِينَ فِي أَهْلِهِ إِلَّا نُصِبَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَقِيلَ لَهُ: هَذَا قَدْ خَلَفَكَ فِي أَهْلِكَ، فَخُذْ مِنْ حَسَنَاتِهِ مَا شِئْتَ، فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا ظَنُّكُمْ ؟، قَالَ أَبُو دَاوُد: كَانَ قَعْنَبٌ رَجُلًا صَالِحًا وَكَانَ ابْنُ أَبِي لَيْلَى أَرَادَ قَعْنَبًا عَلَى الْقَضَاءِ فَأَبَى عَلَيْهِ، وَقَالَ: أَنَا أُرِيدُ الْحَاجَةَ بِدِرْهَمٍ فَأَسْتَعِينُ عَلَيْهَا بِرَجُلٍ قَالَ: وَأَيُّنَا لَا يَسْتَعِينُ فِي حَاجَتِهِ قَالَ: أَخْرِجُونِي حَتَّى أَنْظُرَ فَأُخْرِجَ، فَتَوَارَى قَالَ سُفْيَانُ: بَيْنَمَا هُوَ مُتَوَارٍ إِذْ وَقَعَ عَلَيْهِ الْبَيْتُ فَمَاتَ.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجاہدین کی بیویوں کی حرمت جہاد سے بیٹھے رہنے والے لوگوں پر ایسی ہے جیسے ان کی ماؤں کی حرمت ہے، اور جو خانہ نشین مرد مجاہدین کے گھربار کی خدمت میں رہے، پھر ان کے اہل میں خیانت کرے تو قیامت کے دن ایسا شخص کھڑا کیا جائے گا اور مجاہد سے کہا جائے گا: اس شخص نے تیرے اہل و عیال میں تیری خیانت کی اب تو اس کی جتنی نیکیاں چاہے لے لے ، اس کے بعد رسول اللہ ﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: پھر تم کیا سمجھتے ہو ١ ؎؟ ابوداؤد کہتے ہیں: قعنب ایک نیک آدمی تھے، ابن ابی لیلیٰ نے قعنب کو قاضی بنانے کا ارادہ کیا تو انہوں نے اس سے انکار کیا، اور کہا کہ میں ایک درہم میں اپنی ضرورت پوری کرنا چاہتا ہوں کہ میں اس میں کسی آدمی کی مدد لے سکوں، پھر کہا: کون ہے جو اپنی ضرورت کے لیے کسی سے مدد نہیں لیتا، پھر عرض کیا: تم لوگ مجھے نکال دو یہاں تک کہ میں دیکھوں (کہ کیسے میری ضرورت پوری ہوتی ہے) تو انہیں نکال دیا گیا، پھر وہ (ایک مکان میں) چھپ گئے، سفیان کہتے ہیں: اسی دوران کہ وہ چھپے ہوئے تھے وہ مکان ان پر گرپڑا اور وہ مرگئے۔

Buraidah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying “Respect to be shown by those who stay at home to the women of those who are engaged in jihad is t be like that shown to their mothers. If any man among those who stay at home is entrusted with the oversight of one’s family who is engaged in jihad and betrays him, he will be setup for him on the Day of Resurrection and he (the mujahid) will be told “This (man) was entrusted with the oversight of your family, so take what you want from his good deeds. The Messenger of Allah ﷺ turned towards us and said “So what do you think. ” Abu Dawud said “Qa’nab (a narrator of this tradition) was a pious man. Ibn Abi Laila intended to appoint him a judge, but he refused and said “If I intend to fulfill my need of a dirham, I seek the help of a person for it. He said “Which of us does not seek the help in his need? He said “Bring me out so that I may see. So he was brought out, and he concealed himself. Sufyan said “While he was concealing himself. ” Sufyan said “While he was concealing himself the house suddenly fell on him and he died. ”

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نیکیاں لینے والے کی رغبت اور زیادہ سے زیادہ نیکیاں سمیٹ لینے کی اس کی چاہت کا تم کیا اندازہ کرسکتے ہو؟ مطلب یہ ہے کہ اس شخص کے پاس کوئی نیکی باقی ہی نہیں رہ جائے گی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٣٩ (١٨٩٧)، سنن النسائی/الجھاد ٤٧ (٣١٩١)، (تحفة الأشراف: ١٩٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٥٢، ٣٥٥) (صحیح )
2497Sunan Abu Dawood

غنیمت حاصل کئے بغیر مجاہدین کی واپسی

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، وَابْنُ لَهِيعَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الحُبُلِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ غَازِيَةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُصِيبُونَ غَنِيمَةً إِلَّا تَعَجَّلُوا ثُلُثَيْ أَجْرِهِمْ مِنَ الْآخِرَةِ وَيَبْقَى لَهُمُ الثُّلُثُ فَإِنْ لَمْ يُصِيبُوا غَنِيمَةً تَمَّ لَهُمْ أَجْرُهُمْ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجاہدین کی کوئی جماعت ایسی نہیں جو اللہ کی راہ میں لڑتی ہو پھر مال غنیمت حاصل کرتی ہو، مگر آخرت کا دو تہائی ثواب اسے پہلے ہی دنیا میں حاصل ہوجاتا ہے، اور ایک تہائی (آخرت کے لیے) باقی رہتا ہے، اور اگر اسے مال غنیمت نہیں ملا تو آخرت میں ان کے لیے مکمل ثواب ہوگا ۔

Abdullah bin Amr reported the Messenger of Allah ﷺ as saying “No warlike party will go out to fight in Allaah’s path and gain booty without getting beforehand two-thirds of their rewards in the next world and one-third (of their reward) will remain. And if they do not gain booty, they will get their rewards in full.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٤٤ (١٩٠٦)، سنن النسائی/الجھاد ١٥ (٣١٢٧)، سنن ابن ماجہ/الجھاد ١٣ (٢٧٨٥)، (تحفة الأشراف: ٨٨٤٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٦٩) (صحیح )