طب کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 25 · 70 hadiths · Page 1 of 4

3855Sunan Abu Dawood

علاج معالجہ کرنے والے آدمی کا بیان

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ كَأَنَّمَا عَلَى رُءُوسِهِمُ الطَّيْرُ، فَسَلَّمْتُ ثُمَّ قَعَدْتُ، فَجَاءَ الْأَعْرَابُ مِنْ هَا هُنَا وَهَهُنَا، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَتَدَاوَى ؟، فَقَالَ: تَدَاوَوْا، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلَّا وَضَعَ لَهُ دَوَاءً غَيْرَ دَاءٍ وَاحِدٍ الْهَرَمُ.

اسامہ بن شریک ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا آپ کے اصحاب اس طرح (بیٹھے) تھے گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں، تو میں نے سلام کیا پھر میں بیٹھ گیا، اتنے میں ادھر ادھر سے کچھ دیہاتی آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم دوا کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: دوا کرو اس لیے کہ اللہ نے کوئی بیماری ایسی نہیں پیدا کی ہے جس کی دوا نہ پیدا کی ہو، سوائے ایک بیماری کے اور وہ بڑھاپا ہے ۔

Narrated Usamah ibn Sharik: I came to the Prophet ﷺ and his Companions were sitting as if they had birds on their heads. I saluted and sat down. The desert Arabs then came from here and there. They asked: Messenger of Allah, should we make use of medical treatment? He replied: Make use of medical treatment, for Allah has not made a disease without appointing a remedy for it, with the exception of one disease, namely old age.

Takhrij · تخریج
* تخريج: سنن النسائی/الکبری الطب، ٤٣ (٧٥٥٣)، سنن الترمذی/الطب ٢ (٢٠٣٨)، سنن ابن ماجہ/الطب ١ (٣٤٣٦)، (تحفة الأشراف: ١٢٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٧٨) (صحیح )
3856Sunan Abu Dawood

پرہیز کا بیان

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، وَأَبُو عَامِرٍ، وَهَذَا لَفْظُ أَبِي عَامِرٍ، عَنْ فُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَعْصَعَةَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنْ أُمِّ الْمُنْذِرِ بِنْتِ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيَّةِ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ عَلِيٌّ رَضَي اللهُ عَنْهُ، وَعَلِيٌّ نَاقِهٌ وَلَنَا دَوَالِي مُعَلَّقَةٌ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مِنْهَا، وَقَامَ عَلِيٌّ لِيَأْكُلَ، فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِعَلِيٍّ: مَهْ إِنَّكَ نَاقِهٌ، حَتَّى كَفَّ عَلِيٌّ رَضَي اللهُ عَنْهُ، قَالَتْ: وَصَنَعْتُ شَعِيرًا وَسِلْقًا، فَجِئْتُ بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَلِيُّ أَصِبْ مِنْ هَذَا فَهُوَ أَنْفَعُ لَكَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ هَارُونُ الْعَدَوِيَّةَ.

ام منذر بنت قیس انصاریہ ؓ کہتی ہیں کہ میرے پاس رسول اللہ ﷺ تشریف لائے، آپ کے ساتھ علی ؓ تھے، ان پر کمزوری طاری تھی ہمارے پاس کھجور کے خوشے لٹک رہے تھے، رسول اللہ ﷺ کھڑے ہو کر انہیں کھانے لگے، علی ؓ بھی کھانے کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ نے علی ؓ سے فرمایا: ٹھہرو (تم نہ کھاؤ) کیونکہ تم ابھی کمزور ہو یہاں تک کہ علی ؓ رک گئے، میں نے جو اور چقندر پکایا تھا تو اسے لے کر میں آپ کے پاس آئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: علی! اس میں سے کھاؤ یہ تمہارے لیے مفید ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہارون کی روایت میں انصاریہ کے بجائے عدویہ ہے۔

Narrated Umm al-Mundhar bint Qays al-Ansariyyah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ came to visit me, accompanied by Ali who was convalescing. We had some ripe dates hung up. The Messenger of Allah ﷺ got up and began to eat from them. Ali also got up to eat, but the Messenger of Allah ﷺ said repeatedly to Ali (RA) : Stop, Ali, for you are convalescing, and Ali stopped. She said: I then prepared some barley and beer-root and brought it. The Messenger of Allah ﷺ then said: Take some of this, Ali, for it will be more beneficial for you. Abu Dawud said: The narrator Harun said: al-Adawiyyah (i. e. Umm al-Mundhar).

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/ الطب ١ (٣٠٣٧)، سنن ابن ماجہ/الطب ٣ (٣٤٤٢)، (تحفة الأشراف: ١٨٣٦٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٦٣، ٣٦٤) (حسن )
3857Sunan Abu Dawood

پچھنے لگانے کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ مِمَّا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ خَيْرٌ فَالْحِجَامَةُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جن دواؤں سے تم علاج کرتے ہو اگر ان میں سے کسی میں خیر (بھلائی) ہے تو وہ سینگی (پچھنے) لگوانا ہے ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: The best medical treatment you apply is cupping.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطب ١(٢٠٣٧)، سنن ابن ماجہ/الطب ٢٠ (٣٤٧٦)، (تحفة الأشراف: ١٥٠١١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٤٢، ٤٢٣) (صحیح )
3858Sunan Abu Dawood

پچھنے لگانے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَزِيرِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِي، حَدَّثَنَا فَائِدٌمَوْلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ مَوْلَاهُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ جَدَّتِهِ سَلْمَى خَادِمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: مَا كَانَ أَحَدٌ يَشْتَكِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعًا فِي رَأْسِهِ إِلَّا قَالَ: احْتَجِمْ، وَلَا وَجَعًا فِي رِجْلَيْهِ إِلَّا قَالَ: اخْضِبْهُمَا.

رسول اللہ ﷺ کی خادمہ سلمی ؓ سے روایت ہے کہ جو شخص بھی اپنے سر درد کی شکایت لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آتا آپ اسے فرماتے: سینگی لگواؤ اور جو شخص اپنے پیروں میں درد کی شکایت لے کر آتا آپ ﷺ اس سے فرماتے: ان میں خضاب (مہندی) لگاؤ ۔

Narrated Salmah (RA) : the maid-servant of the Messenger of Allah ﷺ , said: No one complained to the Messenger of Allah ﷺ of a headache but he told him to get himself cupped, or of a pain in his legs but he told him to dye them with henna.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطب ١٣ (٢٠٥٤)، سنن ابن ماجہ/الطب ٢٩ (٣٥٠٢)، (تحفة الأشراف: ١٥٨٩٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٦٢) (حسن )
3859Sunan Abu Dawood

پچھنے کی جگہ کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، وَكَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ ابْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ، قَالَ كَثِيرٌ إِنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيَحْتَجِمُ عَلَى هَامَتِهِ وَبَيْنَ كَتِفَيْهِ، وَهُوَ يَقُولُ: مَنْ أَهْرَاقَ مِنْ هَذِهِ الدِّمَاءِ فَلَا يَضُرُّهُ أَنْ لَا يَتَدَاوَى بِشَيْءٍ لِشَيْءٍ.

ابوکبشہ انماری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اپنے سر پر اور اپنے دونوں مونڈھوں کے درمیان سینگی (پچھنے) لگواتے اور فرماتے: جو ان جگہوں کا خون نکلوالے تو اسے کسی بیماری کی کوئی دوا نہ کرنے سے کوئی نقصان نہ ہوگا ۔

Narrated Abu Kabshah al-Ansari (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to have himself cupped on the top of his head and between his shoulders, and that he used to say: If anyone pours out any of his blood, he will not suffer if he applies no medical treatment for anything.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطب ٢١ (٣٤٨٤)، (تحفة الأشراف: ١٢١٤٣) (ضعیف) (الضعیفة: ١٨٦٧، وتراجع الألباني: ١٩٤ )
3860Sunan Abu Dawood

پچھنے کی جگہ کا بیان

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَاحْتَجَمَ ثَلَاثًا فِي الْأَخْدَعَيْنِ وَالْكَاهِلِ، قَالَ مُعَمَّرٌ: احْتَجَمْتُ فَذَهَبَ عَقْلِي حَتَّى كُنْتُ أُلَقَّنُ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ فِي صَلَاتِي وَكَانَ احْتَجَمَ عَلَى هَامَتِهِ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے گردن کے دونوں پٹھوں میں اور دونوں کندھوں کے بیچ میں تین پچھنے لگوائے۔ ایک بوڑھے کا بیان ہے: میں نے پچھنا لگوائے تو میری عقل جاتی رہی یہاں تک کہ میں نماز میں سورة فاتحہ لوگوں کے بتانے سے پڑھتا، بوڑھے نے پچھنا اپنے سر پر لگوایا تھا۔

Narrated Anas ibn Malik: The Prophet ﷺ had himself cupped three times in the veins at the sides of the neck and on the shoulder. Mamar said: I got myself cupped, and I lost my memory so much so that I was instructed Surat al-Fatihah by others in my prayer. He had himself cupped at the top of his head.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطب ١٢ (٢٠٥١)، سنن ابن ماجہ/الطب ٢١ ( ٣٤٨٣)، (تحفة الأشراف: ١١٤٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١١٩، ١٩٢) (صحیح )
3861Sunan Abu Dawood

پچھنے لگوانا کب مستحب ہے

حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنِ احْتَجَمَ لِسَبْعَ عَشْرَةَ، وَتِسْعَ عَشْرَةَ، وَإِحْدَى وَعِشْرِينَ، كَانَ شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو سترہویں، انیسویں اور اکیسویں تاریخ کو پچھنا لگوائے تو اسے ہر بیماری سے شفاء ہوگی ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone has himself cupped on the 17th, 19th and 21st it will be a remedy for every disease.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٢٦٥٨) (حسن )
3862Sunan Abu Dawood

پچھنے لگوانا کب مستحب ہے

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرَةَ بَكَّارُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَخْبَرَتْنِي عَمَّتِي كَبْشَةُ بِنْتُ أَبِي بَكْرَةَ، وَقَالَ غَيْرُ مُوسَى: كَيِّسَةُ بِنْتُ أَبِي بَكْرَةَ، أَنَّ أَبَاهَا كَانَيَنْهَى أَهْلَهُ عَنِ الْحِجَامَةِ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ، وَيَزْعُمُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ يَوْمُ الدَّمِ وَفِيهِ سَاعَةٌ لَا يَرْقَأُ.

کبشہ بنت ابی بکرہ نے خبر دی ہے ١ ؎ کہ ان کے والد اپنے گھر والوں کو منگل کے دن پچھنا لگوانے سے منع کرتے تھے اور رسول اللہ ﷺ سے نقل کرتے تھے: منگل کا دن خون کا دن ہے اس میں ایک ایسی گھڑی ہے جس میں خون بہنا بند نہیں ہوتا ۔

Narrated Kabshah daughter of Abu Bakrah (RA) : (the narrator other than Musa said that Kayyisah daughter of Abu Bakrah) She said that her father used to forbid his family to have themselves cupped on a Tuesday, and used to assert on the authority of the Messenger of Allah ﷺ that Tuesday is the day of blood in which there is an hour when it does not stop.

Notes · وضاحت
١ ؎: اور موسیٰ کے علاوہ دوسرے لوگوں کی روایت میں کبشہ کے بجائے کیّسہ ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١٧٠٧) (ضعیف) ( کبشہ یا کیسہ مجہول ہے )
3864Sunan Abu Dawood

رگ کاٹنے اور پچھنے لگانے کی جگہ کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُبَيٍّ طَبِيبًا فَقَطَعَ مِنْهُ عِرْقًا.

جابر ؓ کہتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ابی ؓ کے پاس ایک طبیب بھیجا تو اس نے ان کی ایک رگ کاٹ دی ١ ؎۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ sent a physician to Ubayy (ibn Kab), and he cut his vein.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی طبیب کو اختیار ہے کہ اپنے تجربہ سے جہاں بہتر سمجھے وہاں کی رگ کاٹے، تو اس طبیب نے ان کی بابت یہی بہتر سمجھا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/السلام ٢٦ (٢٢٠٧)، سنن ابن ماجہ/الطب ٢٤ (٣٤٩٣)، (تحفة الأشراف: ٢٢٩٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٠٣، ٣٠٤، ٣١٥، ٣٧١) (حسن )
3863Sunan Abu Dawood

رگ کاٹنے اور پچھنے لگانے کی جگہ کا بیان

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَاحْتَجَمَ عَلَى وِرْكِهِ مِنْ وَثْءٍ كَانَ بِهِ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس درد کی وجہ سے جو آپ کو تھا اپنی سرین پر پچھنے لگوائے۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ had himself cupped above the thigh for a contusion from which he suffered.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٢٩٧٨)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطب ٢١ (٣٤٨٥)، مسند احمد (٣٠٥٣، ٣٥٧، ٣٨٢) (صحیح )
3865Sunan Abu Dawood

داغ لگانے کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمُّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكَيِّ، فَاكْتَوَيْنَا فَمَا أَفْلَحْنَ وَلَا أَنْجَحْنَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَانَ يَسْمَعُ تَسْلِيمَ الْمَلَائِكَةِ، فَلَمَّا اكْتَوَى انْقَطَعَ عَنْهُ، فَلَمَّا تَرَكَ رَجَعَ إِلَيْهِ.

عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے داغنے سے منع فرمایا، اور ہم نے داغ لگایا تو نہ تو اس سے ہمیں کوئی فائدہ ہوا، نہ وہ ہمارے کسی کام آیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: وہ فرشتوں کا سلام سنتے تھے جب داغ لگوانے لگے تو سننا بند ہوگیا، پھر جب اس سے رک گئے تو سابقہ حالت کی طرف لوٹ آئے (یعنی پھر ان کا سلام سننے لگے) ۔

Narrated Imran ibn Husayn: The Prophet ﷺ forbade to cauterise; we cauterised but they (cauterisation) did not benefit us, nor proved useful for us. Abu Dawud said: He used to hear the salutation of the angels: When he cauterized, it stopped. When he abandoned, it returned to him.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠٨٤٥)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطب ١٠ (٢٠٩٤)، سنن ابن ماجہ/الطب ٢٣ (٣٤٩١)، مسند احمد (٤/٤٤٤، ٤٤٦) (صحیح )
3866Sunan Abu Dawood

داغ لگانے کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَوَى سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ مِنْ رَمِيَّتِهِ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے سعد بن معاذ ؓ کو تیر کے زخم کی وجہ سے جو انہیں لگا تھا داغا ١ ؎۔

Jabir said: The Prophet ﷺ cauterized Saad bin Muadh from the wound of an arrow.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس روایت سے علاج کے طور پر داغنے کا جواز ثابت ہوتا ہے، رہی عمران بن حصین ؓ کی حدیث میں وارد ممانعت تو وہ یا تو عمران بن حصین کے ساتھ مخصوص ہے، کیونکہ ممکن ہے انہیں کوئی ایسی بیماری لگی ہو جس میں داغنا مفید نہ ہو، یا بیماری سے بچنے کے لئے احتیاطاً وہ یہ کرنے جارہے ہوں تو آپ ﷺ نے منع کیا ہو کیونکہ بلا ضرورت محض بیماری کے اندیشہ سے ایسا کرنا مکروہ ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٢٦٩٤)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/السلام ٢٦ (٢٢٠٨)، سنن ابن ماجہ/الطب ٢٤ (٣٤٩٤)، مسند احمد (٣/٣٦٣) (صحیح )
3867Sunan Abu Dawood

ناک میں دواڈالنے کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعَطَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ناک میں دوا ڈالی۔

IbnAbbas said: The Messenger of Allah ﷺ snuffed medicine.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥٧٢٣)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/السلام ٢٦ (١٢٠٢)، سنن الترمذی/الطب ٩ (٢٠٤٧) (صحیح )
3868Sunan Abu Dawood

نشرہ کی ممانعت

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا عَقِيلُ بْنُ مَعْقِلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ وَهْبَ بْنَ مُنَبِّهٍ يُحَدِّثُ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النُّشْرَةِ ؟، فَقَالَ: هُوَ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے نشرہ ١ ؎ کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: یہ شیطانی کام ہے ۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ was asked about a charm for one who is possessed (nashrah). He replied: It pertains to the work of the devil.

Notes · وضاحت
١ ؎: نشرہ ایک منتر ہے جس سے آسیب زدہ لوگوں کا علاج کیا جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٣١٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٩٤) (صحیح )
3869Sunan Abu Dawood

زہر کی سمیت کو دور کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يزِيدَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ يَزِيدَ الْمُعَافِرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ التَّنُوخِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَا أُبَالِي مَا أَتَيْتُ إِنْ أَنَا شَرِبْتُ تِرْيَاقًا أَوْ تَعَلَّقْتُ تَمِيمَةً أَوْ قُلْتُ الشِّعْرَ مِنْ قِبَلِ نَفْسِي، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً وَقَدْ رَخَّصَ فِيهِ قَوْمٌ يَعْنِي التِّرْيَاقَ.

عبدالرحمٰن بن رافع تنوخی کہتے ہیں: میں نے عبداللہ بن عمرو ؓ کو کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ فرما رہے تھے: مجھے پرواہ نہیں جو بھی میرا حال ہو اگر میں تریاق پیوں یا تعویذ گنڈا لٹکاؤں یا اپنی طرف سے شعر کہوں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ مخصوص تھا، کچھ لوگوں نے تریاق پینے کی رخصت دی ہے۔

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: If I drink an antidote, or tie an amulet, or compose poetry, I am the type who does not care what he does. Abu Dawud said: THis was peculiar to the Prophet ﷺ , but some people have allowed to use it, i. e. Antidote.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبودواد، (تحفة الأشراف: ٨٨٧٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٦٧، ٢٢٣) (ضعیف) (اس کے راوی عبد الرحمن تنوخی ضعیف ہیں )
3874Sunan Abu Dawood

مکروہ ادویہ کا سامان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَادَةَ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْأَبِي عِمْرَانَ الأَنْصَارِيِّ،عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ الدَّاءَ وَالدَّوَاءَ وَجَعَلَ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءً فَتَدَاوَوْا وَلَا تَدَاوَوْا بِحَرَامٍ.

ابوالدرداء ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ نے بیماری اور دوا (علاج) دونوں اتارا ہے اور ہر بیماری کی ایک دوا پیدا کی ہے لہٰذا تم دوا کرو لیکن حرام سے دوا نہ کرو ۔

Narrated Abu al-Darda: The Prophet ﷺ said: Allah has sent down both the disease and the cure, and He has appointed a cure for every disease, so treat yourselves medically, but use nothing unlawful.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١٠٠٧) (ضعیف) (اس کے راوی ثعلبہ مجہول الحال ہیں )
3871Sunan Abu Dawood

مکروہ ادویہ کا سامان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثيِرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ، أَنَّ طَبِيبًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضِفْدَعٍ يَجْعَلُهَا فِي دَوَاءٍ ؟، فَنَهَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِهَا.

عبدالرحمٰن بن عثمان ؓ کہتے ہیں کہ ایک طبیب نے نبی اکرم ﷺ سے دوا میں مینڈک کے استعمال کے متعلق پوچھا تو آپ ﷺ نے مینڈک قتل کرنے سے منع فرمایا۔

Narrated Abdur Rahman ibn Uthman (RA) : When a physician consulted the Prophet ﷺ about putting frogs in medicine, he forbade him to kill them.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الصید ٣٦ (٤٣٦٠)، (تحفة الأشراف: ٩٧٠٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٥٣، ٤٩٩)، سنن الدارمی/الأضاحي ٢٦ (٢٠٤١)، ویأتی ہذا الحدیث فی الأدب (٥٢٦٩) (صحیح )
3870Sunan Abu Dawood

مکروہ ادویہ کا سامان

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّوَاءِ الْخَبِيثِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے نجس یا حرام دوا سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ prohibited unclean medicine.

Notes · وضاحت
١ ؎: جیسے پیشاب یا شراب وغیرہ، یعنی دوا کے طور پر بھی ان کا استعمال حرام ہے، سنن ترمذی اور ابن ماجہ میں صراحت ہے کہ دوائے خبیث سے مراد سم یعنی زہر ہے، لیکن لفظ عام ہے، عام معنی مراد لینے میں کوئی مانع نہیں ہے، سم (زہر) کا لفظ راوی کی طرف سے ادراج (تفسیر و اضافہ) بھی ہوسکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطب ٧ (٢٠٤٥)، سنن ابن ماجہ/الطب ١١ (٣٤٥٩)، (تحفة الأشراف: ١٤٣٤٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٠٥، ٤٤٦، ٤٧٨) (صحیح )
3872Sunan Abu Dawood

مکروہ ادویہ کا سامان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَسَا سُمًّا فَسُمُّهُ فِي يَدِهِ يَتَحَسَّاهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو زہر پیے گا تو قیامت کے دن وہ زہر اس کے ہاتھ میں ہوگا اور اسے جہنم میں پیا کرے گا اور ہمیشہ ہمیش اسی میں پڑا رہے گا کبھی باہر نہ آسکے گا ۔

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyone drinks poison, the poison will be in his hand (on the Day of Judgement) and he will drink it in Hell-fire and he will live in it eternally.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطب ٧ (١٠٤٤)، (تحفة الأشراف: ١٢٥٢٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الطب ٥٦ (٥٧٧٨)، صحیح مسلم/الإیمان ٤٧ (١٧٥)، سنن النسائی/الجنائز ٦٨ (١٩٦٧)، سنن ابن ماجہ/الطب ١١ (٣٤٦٠)، مسند احمد (٢/٢٥٤، ٤٧٨، ٤٨٨)، سنن الدارمی/الدیات ١٠ (٢٤٠٧) (صحیح )
3873Sunan Abu Dawood

مکروہ ادویہ کا سامان

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، ذَكَرَ طَارِقُ بْنُ سُوَيْدٍ أَوْ سُوَيْدُ بْنُ طَارِقٍ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَمْرِ ؟ فَنَهَاهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ ؟ فَنَهَاهُ، فَقَالَ لَهُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّهَا دَوَاءٌ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا وَلَكِنَّهَا دَاءٌ.

وائل بن حجر ؓ سے روایت ہے، طارق بن سوید یا سوید بن طارق نے ذکر کیا کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے شراب کے متعلق پوچھا تو آپ نے انہیں منع فرمایا، انہوں نے پھر پوچھا آپ ﷺ نے انہیں پھر منع فرمایا تو انہوں نے آپ سے کہا: اللہ کے نبی! وہ تو دوا ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نہیں بلکہ بیماری ہے ۔

Narrated Tariq ibn Suwayd or Suwayd ibn Tariq: Wail said: Tariq ibn Suwayd or Suwayd ibn Tariq asked the Prophet ﷺ about wine, but he forbade it. He again asked him, but he forbade him. He said to him: Prophet of Allah, it is a medicine. The Prophet ﷺ said: No it is a disease.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطب ٢٧ (٣٥٠٠)، (تحفة الأشراف: ٤٩٨٠)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الأشربة ٣ (١٩٨٤)، سنن الترمذی/الطب ٨ (٢٠٤٦)، مسند احمد (٤/٣١١، ٥/٢٩٣)، سنن الدارمی/الأشربة ٦ (٢١٤٠) (صحیح )