طب کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 25 · 70 hadiths · Page 2 of 4

3875Sunan Abu Dawood

عجوہ کھجور کا بیان

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ: مَرِضْتُ مَرَضًا أَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي فَوَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ ثَدْيَيَّ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَهَا عَلَى فُؤَادِي، فَقَالَ: إِنَّكَ رَجُلٌ مَفْئُودٌ، ائْتِ الْحَارِثَ بْنَ كَلَدَةَ أَخَا ثَقِيفٍ فَإِنَّهُ رَجُلٌ يَتَطَبَّبُ، فَلْيَأْخُذْ سَبْعَ تَمَرَاتٍ مِنْ عَجْوَةَ الْمَدِينَةِ، فَلْيَجَأْهُنَّ بِنَوَاهُنَّ، ثُمَّ لِيَلُدَّكَ بِهِنَّ.

سعد ؓ کہتے ہیں میں بیمار ہوا تو رسول اللہ ﷺ میری عیادت کے لیے آئے، آپ نے میری دونوں چھاتیوں کے درمیان اپنا ہاتھ رکھا میں نے اس کی ٹھنڈک اپنے دل میں محسوس کی، آپ ﷺ نے فرمایا: تمہیں دل کی بیماری ہے حارث بن کلدہ کے پاس جاؤ جو قبیلہ ثقیف کے ہیں، وہ دوا علاج کرتے ہیں، ان کو چاہیئے کہ مدینہ کی عجوہ کھجوروں میں سات کھجوریں لیں اور انہیں گٹھلیوں سمیت کوٹ ڈالیں پھر اس کا لدود بنا کر تمہارے منہ میں ڈالیں ۔

Narrated Saad (RA) : I suffered from an illness. The Messenger of Allah ﷺ came to pay a visit to me. He put his hands between my nipples and I felt its coolness at my heart. He said: You are a man suffering from heart sickness. Go to al-Harith ibn Kaladah, brother of Thaqif. He is a man who gives medical treatment. He should take seven ajwah dates of Madina and grind them with their kernels, and then put them into your mouth.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٩١٦) (ضعیف) (مجاہد کا سعد ؓ سے سماع نہیں ہے )
3876Sunan Abu Dawood

عجوہ کھجور کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ تَصَبَّحَ سَبْعَ تَمَرَاتٍ عَجْوَةٍ لَمْ يَضُرَّهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ سَمٌّ وَلَا سِحْرٌ.

سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو سات عجوہ کھجوریں نہار منہ کھائے گا تو اس دن اسے نہ کوئی زہر نقصان پہنچائے گا، نہ جادو ۔

Saad bin Abl Waqqas reported the prophet ﷺ as saying: He who has a morning meal of seven ‘Ajwah dates will not suffer from any harm that day through poison or magic.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأطعمة ٤٣ (٥٤٤٥)، الطب ٥٢ (٥٧٩٩)، صحیح مسلم/الأ شربة ٢٧ (٢٤٠٦)، (تحفة الأشراف: ٣٨٩٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٨١) (صحیح )
3877Sunan Abu Dawood

بچوں کے حلق کو دبانے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ، وَحَامِدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لِي قَدْ أَعْلَقْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ، فَقَالَ: عَلَامَ تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذَا الْعِلَاقِ، عَلَيْكُنَّ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ، فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ، مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ، يُسْعَطُ مِنَ الْعُذْرَةِ، وَيُلَدُّ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: يَعْنِي بِالْعُودِ الْقُسْطَ.

ام قیس بنت محصن ؓ کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس اپنے بچے کو لے کر آئی، کوا بڑھ جانے کی وجہ سے میں نے اس کے حلق کو دبا دیا تھا، آپ ﷺ نے پوچھا: تم اپنے بچوں کے حلق کس لیے دباتی ہو؟ تم اس عود ہندی کو لازماً استعمال کرو کیونکہ اس میں سات بیماریوں سے شفاء ہے جس میں ذات الجنب (نمونیہ) بھی ہے، کوا بڑھنے پر ناک سے دوا داخل کی جائے، اور ذات الجنب میں لدود ١ ؎ بنا کر پلایا جائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عود سے مراد قسط ہے۔

Umm Qasis, daughter of Mihsan said: I brought my son to the Messenger of Allah ﷺ while I had compressed his uvula for its swelling. He said: Why do you afflict your children by squeezing for a swelling in the Uvula ? Apply this Indian aloes wood, for it contain seven types of remedies, among them being a remedy for pleurisy. It is applied through the nose for a swelling of the uvula poured into the side of the mouth for pleurisy. Abu Dawud said: By aloes wood he meant costus.

Notes · وضاحت
١ ؎: لدود اس دواء کو کہتے ہیں جو مریض کے منہ میں ڈالی جاتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطب ٢١ (٥٧١٣)، صحیح مسلم/السلام ٢٨ (٢٢١٤)، سنن ابن ماجہ/الطب ١٧ (٣٤٦٢)، (تحفة الأشراف: ١٨٣٤٣) (صحیح )
3878Sunan Abu Dawood

سرمہ لگانے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمُ الْبَيَاضَ، فَإِنَّهَا مِنْ خَيْرِ ثِيَابِكُمْ، وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ، وَإِنَّ خَيْرَ أَكْحَالِكُمُ الإِثْمِدُ يَجْلُو الْبَصَرَ، وَيُنْبِتُ الشَّعْرَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم سفید رنگ کے کپڑے پہنا کرو کیونکہ یہ تمہارے کپڑوں میں سب سے بہتر کپڑا ہے، اور اسی میں اپنے مردوں کو کفنایا کرو، اور تمہارے سرموں میں سب سے اچھا اثمد ہے، وہ روشنی بڑھاتا اور (پلک کے) بالوں کو اگاتا ہے ۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ said: Wear your white garments, for they are among your best garments, and shroud your dead in them. Among the best types of collyrium you use is antimony (ithmid): it clears the vision and makes the hair sprout.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجنائز ١٨ (٩٩٤)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ١٢ (١٤٧٢)، الطب ٢٥ (٣٤٩٧)، اللباس ٥ (٣٥٦٦)، (تحفة الأشراف: ٥٥٣٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣١، ٢٤٧، ٢٧٤، ٣٢٨، ٣٥٥، ٣٦٣) (صحیح )
3879Sunan Abu Dawood

نظر لگنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهِ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْعَيْنُ حَقٌّ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نظر بد حق ہے ۔

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: The evil is genuine.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطب ٣٦(٥٧٤٠)، صحیح مسلم/السلام ١٦ (٢١٨٧)، (تحفة الأشراف: ١٤٦٩٦)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطب ٣٢ (٣٥٠٦)، مسند احمد (٢/٣١٩) (صحیح متواتر )
3880Sunan Abu Dawood

نظر لگنے کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ يُؤْمَرُ الْعَائِنُ فَيَتَوَضَّأُ ثُمَّ يَغْتَسِلُ مِنْهُ الْمَعِينُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نظر بد لگانے والے کو حکم دیا جاتا تھا کہ وہ وضو کرے پھر جسے نظر لگی ہوتی اس پانی سے غسل کرتا۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The man casting evil would be commanded to perform ablution, and then the man affected was washed with it.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٩٦٥) (صحیح الإسناد )
3881Sunan Abu Dawood

مدت رضاعت میں جماعت کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ سِرًّا فَإِنَّ الْغَيْلَ يُدْرِكُ الْفَارِسَ فَيُدَعْثِرُهُ عَنْ فَرَسِهِ.

اسماء بنت یزید بن سکن ؓ کہتی ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: اپنی اولاد کو خفیہ قتل نہ کرو کیونکہ رضاعت کے دنوں میں مجامعت شہسوار کو پاتی ہے تو اسے اس کے گھوڑے سے گرا دیتا ہے ۔

Narrated Asma, daughter of Yazid ibn as-Sakan,: I heard the Messenger of Allah ﷺ as saying: Do not kill your children secretly, for the milk, with which a child is suckled while his mother is pregnant, overtakes the horseman and throws him from his horse.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/النکاح ٦١ (٢٠١٢)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٧٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد ٦/٤٥٣، ٤٥٧، ٤٥٨) (حسن) (تراجع الألبانی ٣٩٧، و صحیح ابن ماجہ: ١٦٤٨ )
3882Sunan Abu Dawood

مدت رضاعت میں جماعت کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ جُدَامَةَ الأَسَدِيَّةِ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَنْهَى عَنِ الْغِيلَةِ حَتَّى ذُكِّرْتُ أَنَّ الرُّومَ، وَفَارِسَ يَفْعَلُونَ ذَلِكَ فَلَا يَضُرُّ أَوْلَادَهُمْ، قَالَ مَالِكٌ: الْغِيلَةُ أَنْ يَمَسَّ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ تُرْضِعُ.

جدامہ اسدیہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: میں نے قصد کرلیا تھا کہ غیلہ سے منع کر دوں پھر مجھے یاد آیا کہ روم اور فارس کے لوگ ایسا کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو اس سے کوئی ضرر نہیں پہنچتا ۔ مالک کہتے ہیں: غیلہ یہ ہے کہ آدمی اپنی بیوی سے حالت رضاعت میں جماع کرے ١ ؎۔

Judamat al-Asadiyyah said that she heard the Messenger of Allah ﷺ Say: I intended to prohibit suckling during pregnancy (ghailah), but I considered the Greeks and the Persians and saw that they practiced it, without any injury being caused to their children thereby. Malik said: Ghailah means that a man has intercourse with a women while she is suckling a child.

Notes · وضاحت
١ ؎: پہلی حدیث سے غیلہ یعنی عورت بچے کو دودھ پلا رہی ہو تو ان دنوں میں جماع کرنے کی ممانعت ثابت ہوتی ہے، اور دوسری حدیث سے جواز نکلتا ہے، مگر یہ اسی صورت میں ہے کہ اولاد کو نقصان پہنچنے کا ڈر نہ ہو، اگر نقصان پہنچنے کا ڈر ہو تو ایسا کرنا ناجائز ہوگا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النکاح ٢٤ (١٤٤٢)، سنن الترمذی/الطب ٢٧ (٢٠٧٦)، سنن النسائی/النکاح ٥٤ (٣٣٢٨)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٦ (٢٠١١)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٨٦)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الرضاع ٣ (١٦)، مسند احمد (٦/٣٦١، ٤٣٤)، سنن الدارمی/النکاح ٣٣ (٢٢٦٣) (صحیح )
3883Sunan Abu Dawood

تعویذ گنڈے گلے میں لٹکانے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنِ ابْنِ أَخِي زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّ الرُّقَى وَالتَّمَائِمَ وَالتِّوَلَةَ شِرْكٌ، قَالَتْ: قُلْتُ: لِمَ تَقُولُ هَذَا، وَاللَّهِ لَقَدْ كَانَتْ عَيْنِي تَقْذِفُ، وَكُنْتُ أَخْتَلِفُ إِلَى فُلَانٍ الْيَهُودِيِّ يَرْقِينِي، فَإِذَا رَقَانِي سَكَنَتْ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: إِنَّمَا ذَاكَ عَمَلُ الشَّيْطَانِ كَانَ يَنْخُسُهَا بِيَدِهِ فَإِذَا رَقَاهَا كَفَّ عَنْهَا إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكِ أَنْ تَقُولِي كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرما رہے تھے: جھاڑ پھونک (منتر) ١ ؎ گنڈا (تعویذ) اور تولہ ٢ ؎ شرک ہیں عبداللہ بن مسعود ؓ کی بیوی زینب ؓ کہتی ہیں: میں نے کہا: آپ ایسا کیوں کہتے ہیں؟ قسم اللہ کی میری آنکھ درد کی شدت سے نکلی آتی تھی اور میں فلاں یہودی کے پاس دم کرانے آتی تھی تو جب وہ دم کردیتا تھا تو میرا درد بند ہوجاتا تھا، عبداللہ ؓ بولے: یہ کام تو شیطان ہی کا تھا وہ اپنے ہاتھ سے آنکھ چھوتا تھا تو جب وہ دم کردیتا تھا تو وہ اس سے رک جاتا تھا، تیرے لیے تو بس ویسا ہی کہنا کافی تھا جیسا رسول اللہ ﷺ کہتے تھے: ذهب الباس رب الناس اشف أنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما لوگوں کے رب! بیماری کو دور فرما، شفاء دے، تو ہی شفاء دینے والا ہے، ایسی شفاء جو کسی بیماری کو نہ رہنے دے ۔

Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : Zaynab, the wife of Abdullah ibn Masud, told that Abdullah said: I heard the Messenger of Allah ﷺ saying: spells, charms and love-potions are polytheism. I asked: Why do you say this? I swear by Allah, when my eye was discharging I used to go to so-and-so, the Jew, who applied a spell to me. When he applied the spell to me, it calmed down. Abdullah said: That was just the work of the Devil who was picking it with his hand, and when he uttered the spell on it, he desisted. All you need to do is to say as the Messenger of Allah ﷺ used to say: Remove the harm, O Lord of men, and heal. Thou art the Healer. There is no remedy but Thine which leaves no disease behind.

Notes · وضاحت
١ ؎: جھاڑ پھونک اور منتر سے مراد وہ منتر ہے جو عربی میں نہ ہو، اور جس کا معنی و مفہوم بھی واضح نہ ہو، لیکن اگر اس کا مفہوم سمجھ میں آئے، اور وہ اللہ کے ذکر پر مشتمل ہو تو مستحب ہے، جو لوگ عربی زبان نہ جانتے ہوں ان کو دعاؤں کے سلسلے میں بڑی احتیاط کرنی چاہیے، اور اس سلسلے میں اسلامی آداب کا لحاظ ضروری ہے۔ ٢ ؎: ایک قسم کا جادو ہے جسے دھاگہ یا کاغذ میں عورت مرد کے درمیان محبت پیدا کرنے کے لئے کیا جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطب ٣٩ (٣٥٣٠)، (تحفة الأشراف: ٩٦٤٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٨١) (ضعیف) (الصحیحة: ٢٩٧٢، وتراجع الألباني: ١٤٢ )
3884Sunan Abu Dawood

تعویذ گنڈے گلے میں لٹکانے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ.

عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جھاڑ پھونک، نظر بد یا زہریلے ڈنک کے علاوہ کسی اور چیز کے لیے نہیں ۔

Narrated Imran ibn Husayn: The Prophet ﷺ said: No spell is to be used except for the evil eye or a scorpion sting.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطب ١٥ (٢٠٥٧)، (تحفة الأشراف: ١٠٨٣٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٣٦، ٤٣٨، ٤٤٦)، صحیح البخاری/ الطب ١٧ (٥٧٠٥)، موقوفًا (صحیح )
3885Sunan Abu Dawood

تعویزوغیرہ کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وابْنُ السَّرْحِ، قَالَ أَحْمَدُ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، وقَالَ ابْنُ السَّرْحِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَادَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،عَنْ عَمْروِ بْنِ يَحْيَى، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَقَالَ ابْنُ صَالِحٍ، مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ أَحْمَدُ: وَهُوَ مَرِيضٌ، فَقَالَ: اكْشِفِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ ثُمَّ أَخَذَ تُرَابًا مِنْ بَطْحَانَ فَجَعَلَهُ فِي قَدَحٍ، ثُمَّ نَفَثَ عَلَيْهِ بِمَاءٍ وَصَبَّهُ عَلَيْهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ ابْنُ السَّرْحِ يُوسُفُ بْنُ مُحَمَّدٍ: وَهُوَ الصَّوَابُ.

ثابت بن قیس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے، وہ بیمار تھے تو آپ نے فرمایا: اكشف الباس رب الناس . عن ثابت بن قيس لوگوں کے رب! اس بیماری کو ثابت بن قیس سے دور فرما دے پھر آپ نے وادی بطحان کی تھوڑی سی مٹی لی اور اسے ایک پیالہ میں رکھا پھر اس میں تھوڑا سا پانی ڈال کر اس پر دم کیا اور اسے ان پر ڈال دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن سرح کی روایت میں یوسف بن محمد ہے اور یہی صحیح ہے۔

Narrated Thabit ibn Qays ibn Shammas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ entered upon Thabit ibn Qays. The version of Ahmad (ibn Salih) has: When he was ill He (the Prophet) said: Remove the harm, O Lord of men, from Thabit ibn Qays ibn Shammas. He then took some dust of Bathan, and put it in a bowel, and then mixed it with water and blew in it, and poured it on him. Abu Dawud said: Ibn al-Sarh said: Yusuf bin Muhammad is correct (and not Muhammad bin Yusuf)

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/ الیوم واللیلة، (١٠١٧، ١٠٤٠) (تحفة الأشراف: ٢٠٦٦) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی محمد بن یوسف لین الحدیث ہیں )
3886Sunan Abu Dawood

تعویزوغیرہ کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، قَال: كُنَّا نَرْقِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَرَى فِي ذَلِكَ ؟، فَقَالَ: اعْرِضُوا عَلَيَّ رُقَاكُمْ لَا بَأْسَ بِالرُّقَى مَا لَمْ تَكُنْ شِرْكًا.

عوف بن مالک ؓ کہتے ہیں ہم جاہلیت میں جھاڑ پھونک کرتے تھے تو ہم نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ اسے کیسا سمجھتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم اپنا منتر میرے اوپر پیش کرو جھاڑ پھونک میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ وہ شرک نہ ہو ۔

Awf bin Malik said: In the pre-Islamic period we used to apply spells and we asked: Messenger of Allah! how do you look upon it ? He replied: Submit your spells to me. There is no harm in spells so long as they involve no polytheism.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/السلام ٢٢ (٢٢٠٠)، (تحفة الأشراف: ١٠٩٠٣) (صحیح )
3887Sunan Abu Dawood

تعویزوغیرہ کا بیان

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ عَنِ الشِّفَاءِ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عِنْدَ حَفْصَةَ، فَقَالَ لِي: أَلَا تُعَلِّمِينَ هَذِهِ رُقْيَةَ النَّمْلَةِ كَمَا عَلَّمْتِيهَا الْكِتَابَةَ.

شفاء بنت عبداللہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے، میں ام المؤمنین حفصہ ؓ کے پاس تھی، تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: نملہ ١ ؎ کا منتر اس کو کیوں نہیں سکھا دیتی جیسے تم نے اس کو لکھنا سکھایا ہے ۔

Narrated Ash-Shifa, daughter of Abdullah,: The Messenger of Allah ﷺ entered when I was with Hafsah, and he said to me: Why do you not teach this one the spell for skin eruptions as you taught her writing.

Notes · وضاحت
١ ؎: نملہ ایک بیماری ہے جس میں جسم کے دونوں پہلؤوں میں پھنسیوں کے مانند دانے نکلتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٥٩٠٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٧٢) (صحیح )
3888Sunan Abu Dawood

تعویزوغیرہ کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي، قَالَتْ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيفٍ، يَقُولُ: مَرَرْنَا بِسَيْلٍ فَدَخَلْتُ فَاغْتَسَلْتُ فِيهِ فَخَرَجْتُ مَحْمُومًا فَنُمِيَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مُرُوا أَبَا ثَابِتٍ يَتَعَوَّذُ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا سَيِّدِي، وَالرُّقَى صَالِحَةٌ ؟، فَقَالَ: لَا رُقْيَةَ إِلَّا فِي نَفْسٍ أَوْ حُمَةٍ أَوْ لَدْغَةٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: الْحُمَةُ مِنَ الْحَيَّاتِ وَمَا يَلْسَعُ.

سہل بن حنیف ؓ کہتے ہیں کہ ہم ایک ندی پر سے گزرے تو میں نے اس میں غسل کیا، اور بخار لے کر باہر نکلا، اس کی خبر رسول اللہ ﷺ کو پہنچی تو آپ نے فرمایا: ابوثابت کو شیطان سے پناہ مانگنے کے لیے کہو ۔ عثمان کی دادی کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: میرے آقا! جھاڑ پھونک بھی تو مفید ہے، اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: جھاڑ پھونک تو صرف نظر بد کے لیے یا سانپ کے ڈسنے یا بچھو کے ڈنک مارنے کے لیے ہے (ان کے علاوہ جو بیماریاں ہیں ان میں دوا یا دعا کام آتی ہے) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں:حمہ سانپ کے ڈسنے کو کہتے ہیں۔

Narrated Sahl ibn Hunayf: I passed by a river. I entered it and took a bath in it. When I came out, I had fever. The Messenger of Allah ﷺ was informed about it. He said: Ask Abu Thabit to seek refuge in Allah from that I asked: O my Lord, will the spell be useful? He replied: No, the spell is to be used except for the evil eye or a snake bite or a scorpion sting. Abu Dawud said: Humah means the biting of snakes and sting of the poisonous insects.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٤٦٦٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٨٦) (ضعیف الإسناد) (عثمان کی دادی رباب لین الحدیث ہیں )
3889Sunan Abu Dawood

تعویزوغیرہ کا بیان

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ. ح وحَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنِالْعَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ الْعَبَّاسُ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ أَوْ دَمٍ يَرْقَأُ، لَمْ يَذْكُرِ الْعَبَّاسُ الْعَيْنَ وَهَذَا لَفْظُ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جھاڑ پھونک صرف نظر بد کے لیے یا زہریلے جانوروں کے کاٹنے کے لیے یا ایسے خون کے لیے ہے جو تھمتا نہ ہو ۔ عباس نے نظر بد کا ذکر نہیں کیا ہے یہ سلیمان بن داود کے الفاظ ہیں۔

Anas reported the Prophet ﷺ as saying: No spell is to be used except for the evil eye, or sting of poisonous insects, or bleeding. The narrator al-‘Abhas did mention the words “evil eye”. The is the version of Sulaiman bin Dawud.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٩٣٩) (ضعیف) (اس کے راوی شریک حافظہ کے کمزور ہیں، صحیح روایت شعبی عن عمران موقوفا بلفظ لارقیة إلا من عین أوحمة (دیکھئے نمبر ٣٨٨٤)، اور مسلم (السلام ٢١) کی روایت جو انس ؓ سے ہے اس کے الفاظ ہیں رخص النبي ﷺ في الرقیة من الحمة و العین والنملة )
3890Sunan Abu Dawood

تعویز کیسے کیے جائیں

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ يَعْنِي لِثَابِتٍ: أَلَا أَرْقِيكَ بِرُقْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَقَالَ: اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ، مُذْهِبَ الْبَاسِ، اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ اشْفِهِ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا.

عبدالعزیز بن صہیب کہتے ہیں کہ انس ؓ نے ثابت سے کہا: کیا میں تم پر دم نہ کروں جو رسول اللہ ﷺ کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں ضرور کیجئے، تو انس ؓ نے کہا: اللهم رب الناس مذهب الباس اشف أنت الشافي لا شافي إلا أنت اشفه شفاء لا يغادر سقما اے اللہ! لوگوں کے رب! بیماری کو دور فرمانے والے شفاء دے تو ہی شفاء دینے والا ہے نہیں کوئی شفاء دینے والا سوائے تیرے تو اسے ایسی شفاء دے جو بیماری کو باقی نہ رہنے دے ۔

Anas said to Thabit (RA) : Should I not use the spell of the Messenger of Allah ﷺ for you ? He said: Yes. He then said: O Allah, Lord of men, Remover of the harm, heal, Thou art the healer. There is no healer but Thou; given him a remedy which leaves no disease behind.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطب ٣٨ (٥٧٤٢)، سنن الترمذی/الجنائز ٤ (٩٧٣)، سنن النسائی/الیوم واللیلة (١٠٢٢)، (تحفة الأشراف: ١٠٣٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٥١) (صحیح )
3891Sunan Abu Dawood

تعویز کیسے کیے جائیں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ السُّلَمِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّنَافِعَ بْنَ جُبَيرٍ، أَخْبَرَهُ،عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عُثْمَانُ: وَبِي وَجَعٌ قَدْ كَادَ يُهْلِكُنِي، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: امْسَحْهُ بِيَمِينِكَ سَبْعَ مَرَّاتٍ، وَقُلْ أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ، قَالَ: فَفَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَذْهَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا كَانَ بِي فَلَمْ أَزَلْ آمُرُ بِهِ أَهْلِي وَغَيْرَهُمْ.

عثمان ؓ کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، عثمان کہتے ہیں: اس وقت مجھے ایسا درد ہو رہا تھا کہ لگتا تھا کہ وہ مجھے ہلاک کر دے گا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنا داہنا ہاتھ اس پر سات مرتبہ پھیرو اور کہو: أعوذ بعزة الله وقدرته من شر ما أجد میں اللہ کی عزت اور اس کی قدرت کی پناہ چاہتا ہوں اس چیز کی برائی سے جو میں پاتا ہوں ۔ میں نے اسے کیا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے جو تکلیف تھی وہ دور فرما دی اس وقت سے میں برابر اپنے گھر والوں کو اور دوسروں کو اس کا حکم دیا کرتا ہوں۔

Uthman bin Abl al-As said that he came to the Messenger of Allah ﷺ . Uthman said: I had a pain which was about to destroy me. So the Prophet ﷺ said: Wipe it with your right hand seven times and say: “I seek refuge in the dominance of Allah, and His might from the evil of what I find. ” Then I did it. Allah removed (the pain) that I had, and I kept on suggesting it to my family and to others.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/السلام ٢٤ (٢٢٠٢)، سنن الترمذی/الطب ٢٩ (٨٠ ٢٠)، سنن ابن ماجہ/الطب ٣٦ (٣٥٢٢)، (تحفة الأشراف: ٩٧٧٤)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العین ٤ (٩)، مسند احمد (٤/٢١، ٢١٧) (صحیح )
3892Sunan Abu Dawood

تعویز کیسے کیے جائیں

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ زِيَادَةَ بِنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، عَنْفَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنِ اشْتَكَى مِنْكُمْ شَيْئًا أَوِ اشْتَكَاهُ أَخٌ لَهُ، فَلْيَقُلْ: رَبَّنَا اللَّهُ الَّذِي فِي السَّمَاءِ تَقَدَّسَ اسْمُكَ أَمْرُكَ فِي السَّمَاءِ وَالأَرْضِ كَمَا رَحْمَتُكَ فِي السَّمَاءِ فَاجْعَلْ رَحْمَتَكَ فِي الأَرْضِ اغْفِرْ لَنَا حُوبَنَا وَخَطَايَانَا أَنْتَ رَبُّ الطَّيِّبِينَ أَنْزِلْ رَحْمَةً مِنْ رَحْمَتِكَ وَشِفَاءً مِنْ شِفَائِكَ عَلَى هَذَا الْوَجَعِ فَيَبْرَأَ.

ابو الدرداء ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے جو بیمار ہو یا جس کا کوئی بھائی بیمار ہو تو چاہیئے کہ وہ کہے: ربنا الله الذي في السماء تقدس اسمک أمرک في السماء والأرض کما رحمتک في السماء فاجعل رحمتک في الأرض اغفر لنا حوبنا وخطايانا أنت رب الطيبين أنزل رحمة من رحمتک و شفاء من شفائك على هذا الوجع ہمارے رب! جو آسمان کے اوپر ہے تیرا نام پاک ہے، تیرا ہی اختیار ہے آسمان اور زمین میں، جیسی تیری رحمت آسمان میں ہے ویسی ہی رحمت زمین پر بھی نازل فرما، ہمارے گناہوں اور خطاؤں کو بخش دے، تو (رب پروردگار) ہے پاک اور اچھے لوگوں کا، اپنی رحمتوں میں سے ایک رحمت اور اپنی شفاء میں سے ایک شفاء اس درد پر بھی نازل فرما تو وہ صحت یاب ہوجائے گا ۔

Narrated Abud Darda: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: If any of you is suffering from anything or his brother is suffering, he should say: Our Lord is Allah Who is in the heaven, holy is Thy name, Thy command reigns supreme in the heaven and the earth, as Thy mercy in the heaven, make Thy mercy in the earth; forgive us our sins, and our errors; Thou art the Lord of good men; send down mercy from Thy mercy, and remedy, and remedy from Thy remedy on this pain so that it is healed up.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠٩٥٧) (ضعیف) (اس کے راوی زیادہ بن محمد منکر الحدیث ہیں )
3893Sunan Abu Dawood

تعویز کیسے کیے جائیں

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيُعَلِّمُهُمْ مِنَ الْفَزَعِ كَلِمَاتٍ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ غَضَبِهِ وَشَرِّ عِبَادِهِ وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِوَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرٍو يُعَلِّمُهُنَّ مَنْ عَقَلَ مِنْ بَنِيهِ وَمَنْ لَمْ يَعْقِلْ كَتَبَهُ فَأَعْلَقَهُ عَلَيْهِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ انہیں (خواب میں) ڈرنے پر یہ کلمات کہنے کو سکھلاتے تھے:أعوذ بکلمات الله التامة من غضبه وشر عباده ومن همزات الشياطين وأن يحضرون میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے پورے کلموں کی اس کے غصہ سے اور اس کے بندوں کے شر سے اور شیاطین کے وسوسوں سے اور ان کے میرے پاس آنے سے ۔ عبداللہ بن عمرو ؓ اپنے ان بیٹوں کو جو سمجھنے لگتے یہ دعا سکھاتے اور جو نہ سمجھتے تو ان کے گلے میں اسے لکھ کر لٹکا دیتے۔

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Messenger of Allah ﷺ sued to teach them the following words in the case of alarm: I seek refuge in Allahs perfect words from His anger, the evil of His servants, the evil suggestions of the devils and their presence. Abdullah ibn Amr used to teach them to those of his children who had reached puberty, and he wrote them down (on some material) and hung on the child who had not reached puberty.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ٩٣ (٨٧٨١)، (تحفة الأشراف: ٨٧٨١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٨١) (حسن) (عبداللہ بن عمرو کا اثر صحیح نہیں ہے )
3894Sunan Abu Dawood

تعویز کیسے کیے جائیں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ: رَأَيْتُ أَثَرَ ضَرْبَةٍ فِي سَاقِ سَلَمَة، فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ ؟ قَالَت: أَصَابَتْنِي يَوْمَ خَيْبَرَ، فَقَالَ النَّاسُ: أُصِيبَ سَلَمَةُ فَأُتِيَ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَفَثَ فِيَّ ثَلَاثَ نَفَثَاتٍ فَمَا اشْتَكَيْتُهَا حَتَّى السَّاعَةِ.

یزید بن ابی عبید کہتے ہیں کہ میں نے سلمہ ؓ کی پنڈلی میں چوٹ کا ایک نشان دیکھا تو میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے یہ چوٹ خیبر کے دن لگی تھی، لوگ کہنے لگے تھے: سلمہ ؓ کو ایسی چوٹ لگی ہے (اب بچ نہیں سکیں گے) تو مجھے نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا، آپ نے تین بار مجھ پر دم کیا اس کے بعد سے اب تک مجھے اس میں کوئی تکلیف نہیں محسوس ہوئی۔

Yazid bin Abi Ubaid said: I saw a sign of injury in the shin of Salamah. I asked: What is this ? He replied: I was afflicted. I was afflicted by it on the day of Khaibar. The people said: Salamah has been afflicted. I was then brought to the Prophet ﷺ . He blew on me three times. I did not feel any pain up till now.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٣٨ (٤٢٠٦)، (تحفة الأشراف: ٤٥٤٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٨) (صحیح )