ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے جب کوئی اپنی بیماری کی شکایت کرتا تو آپ اپنا لعاب مبارک لیتے پھر اسے مٹی میں لگا کر فرماتے: تربة أرضنا بريقة بعضنا يشفى سقيمنا بإذن ربنا یہ ہماری زمین کی خاک ہے ہم میں سے بعض کے لعاب سے ملی ہوئی ہے تاکہ ہمارا بیمار ہمارے رب کے حکم سے شفاء پا جائے ۔
Aishah said: When a man complained of pain the Prophet ﷺ said to him pointing to his saliva and mixing it with dust: (This is) the dust of our earth, mixed with saliva of us, so that our sick is remedied with the permission of our lord.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطب ٣٨ (٥٧٤٥)، صحیح مسلم/السلام ٢١ (٢١٩٤)، سنن ابن ماجہ/الطب ٣٦ (٣٥٢١)، (تحفة الأشراف: ١٧٩٠٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٩٣) (صحیح )
خارجہ بن صلت تمیمی اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے اسلام قبول کرلیا، پھر لوٹ کر جب آپ کے پاس سے جانے لگے تو ایک قوم پر سے گزرے جن میں ایک شخص دیوانہ تھا زنجیر سے بندھا ہوا تھا تو اس کے گھر والے کہنے لگے کہ ہم نے سنا ہے کہ آپ کے یہ ساتھی (رسول اللہ ﷺ ) خیر و بھلائی لے کر آئے ہیں تو کیا آپ کے پاس کوئی چیز ہے جس سے تم اس شخص کا علاج کریں؟ میں نے سورة فاتحہ پڑھ کر اس پر دم کردیا تو وہ اچھا ہوگیا، تو ان لوگوں نے مجھے سو بکریاں دیں، میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو اس کی خبر دی، آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے صرف یہی سورت پڑھی ہے؟ ۔ (مسدد کی ایک دوسری روایت میں: هل إلا هذا کے بجائے: هل قلت غير هذا ہے یعنی کیا تو نے اس کے علاوہ کچھ اور نہیں پڑھا؟ ) میں نے عرض کیا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: انہیں لے لو، قسم ہے میری عمر کی لوگ تو ناجائز جھاڑ پھونک کی روٹی کھاتے ہیں اور تم نے تو جائز جھاڑ پھونک پر کھایا ہے ۔
Narrated Alaqah ibn Sahar at-Tamimi (RA) : Alaqah came to the Messenger of Allah ﷺ and embraced Islam. He then came back from him and passed some people who had a lunatic fettered in chains. His people said: We are told that your companion has brought some good. Have you something with which you can cure him? I then recited Surat al-Fatihah and he was cured. They gave me one hundred sheep. I then came to the Messenger of Allah ﷺ and informed him of it. He asked: Is it only this? The narrator, Musaddad, said in his other version: Did you say anything other than this? I said: No. He said: Take it, for by my life, some accept if for a worthless chain, but you have done so for a genuine one.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم:(٣٤٢٠)، (تحفة الأشراف: ١١٠١١) (صحیح )
ابوصالح کہتے ہیں کہ میں نے قبیلہ اسلم کے ایک شخص سے سنا: اس نے کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اتنے میں آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آج رات مجھے کسی چیز نے کاٹ لیا تو رات بھر نہیں سویا یہاں تک کہ صبح ہوگئی، آپ ﷺ نے فرمایا: کس چیز نے؟ اس نے عرض کیا: بچھو نے، آپ ﷺ نے فرمایا: سنو اگر تم شام کو یہ دعا پڑھ لیتے: أعوذ بکلمات الله التامات من شر ما خلق میں اللہ کے کامل کلمات کی پناہ چاہتا ہوں اس کی تمام مخلوقات کی برائی سے تو انشاء اللہ (اللہ چاہتا تو) وہ تم کو نقصان نہ پہنچاتا ۔
Kharijah bin al-Salt quoted his parental uncle as saying that he passed (some people): He recited Surat al-Fatihah over him for three days morning and evening. Whenever he finished it, he collected some of his saliva and spat it out, and he seemed as if he were set free from a bond. They gave him something as payment. He then came to the Prophet ﷺ . He then transmitted the rest of the tradition to the same effect as Musaddad narrated.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٥٥٦٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٤٨، ٥/٤٣٠) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک شخص لایا گیا جسے بچھو نے کاٹ لیا تھا تو آپ نے فرمایا: اگر وہ یہ دعا پڑھ لیتا: أعوذ بکلمات الله التامة من شر ما خلق میں اللہ کے کامل کلمات کی پناہ چاہتا ہوں اس کی تمام مخلوقات کی برائی سے تو وہ نہ کاٹتا یا اسے نقصان نہ پہنچاتا ۔
Narrated Abu Salih Zakwan as-Samman (RA) : A man from Aslam tribe said: I was sitting with the Messenger of Allah ﷺ . A man from among his Companions came and said: Messenger of Allah! I have been stung last night, and I could not sleep till morning. He asked: What was that? He replied: A scorpion. He said: Oh, had you said in the evening: I take refuge in the perfect words of Allah from the evil of what He created, nothing would have harmed you, Allah willing.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٣٥١٦)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطب ٣٥ (٣٥١٨)، مسند احمد (٢/٣٧٥) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی طارق لین الحدیث ہیں )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب کی ایک جماعت ایک سفر پر نکلی اور وہ عرب کے قبیلوں میں سے ایک قبیلہ میں اتری، ان میں سے بعض نے آ کر کہا: ہمارے سردار کو بچھو یا سانپ نے کاٹ لیا ہے، کیا تمہارے پاس کوئی ایسی چیز ہے جو انہیں فائدہ دے؟ تو ہم میں سے ایک شخص نے کہا: ہاں قسم اللہ کی میں جھاڑ پھونک کرتا ہوں لیکن ہم نے تم سے ضیافت کے لیے کہا تو تم نے ہماری ضیافت سے انکار کیا، اس لیے اب میں اس وقت تک جھاڑ پھونک نہیں کرسکتا جب تک تم مجھے اس کی اجرت نہیں دو گے، تو انہوں نے ان کے لیے بکریوں کا ایک ریوڑ اجرت ٹھہرائی، چناچہ وہ آئے اور سورة فاتحہ پڑھ کر اس پر دم کرنے لگے یہاں تک کہ وہ اچھا ہوگیا گویا وہ رسی سے بندھا ہوا تھا چھوٹ گیا، پھر ان لوگوں نے جو اجرت ٹھہرائی تھی پوری ادا کردی، لوگوں نے کہا: اسے آپس میں تقسیم کرلو، تو جس نے جھاڑ پھونک کیا تھا وہ بولا: اس وقت تک ایسا نہ کرو جب تک کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر آپ سے اجازت نہ لے لیں، چناچہ وہ سب رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے ذکر کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہیں کہاں سے معلوم ہوا کہ یہ منتر ہے؟ تم نے بہت اچھا کیا، تم اسے آپس میں تقسیم کرلو اور اپنے ساتھ میرا بھی ایک حصہ لگانا ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : A man who was stung by a scorpion was brought to the Prophet ﷺ . He said: Had he said the word: I seek refuge in the perfect words of Allah from the evil of what He created, he would not have been stung, or he said, It would not have harmed him.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإجارة ١٦ (٢٢٧٦)، الطب ٣٣ (٥٧٣٦)، صحیح مسلم/السلام ٢٣ (٢٢٠١)، سنن الترمذی/الطب ٢٠ (٢٠٦٣)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٧ (٢١٥٦)، (تحفة الأشراف: ٤٢٤٩، ٤٣٠٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٤) (صحیح )
خارجہ بن صلت تمیمی اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس سے چلے اور عرب کے ایک قبیلہ کے پاس آئے تو وہ لوگ کہنے لگے: ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ اس شخص کے پاس سے آ رہے ہیں جو خیر و بھلائی لے کر آیا ہے تو کیا آپ کے پاس کوئی دوا یا منتر ہے؟ کیونکہ ہمارے پاس ایک دیوانہ ہے جو بیڑیوں میں جکڑا ہوا ہے، ہم نے کہا: ہاں، تو وہ اس پاگل کو بیڑیوں میں جکڑا ہوا لے کر آئے، میں اس پر تین دن تک سورة فاتحہ پڑھ کر دم کرتا رہا، وہ اچھا ہوگیا جیسے کوئی قید سے چھوٹ گیا ہو، پھر انہوں نے مجھے اس کی اجرت دی، میں نے کہا: میں نہیں لوں گا جب تک میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھ نہ لوں، چناچہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: کھاؤ، قسم ہے میری عمر کی لوگ تو جھوٹا منتر کر کے کھاتے ہیں تم نے تو جائز منتر کر کے کھایا ہے ۔
Abu Saad al-KHudri said: Some of the Companions of the Prophet ﷺ went on a journey. They alighted with a certain clan of the Arabs. Someone of them said: Our chief has been stung by a scorpion or bitten by a snake. Has any of you something which gives relief to our chief? A man of the people said: Yes, I swear by Allah. I shall apply charm ; but we asked you for hospitality and you denied it to us. I shall not apply charm until you give me some payment. So they promised to give some sheep to him. He came to him and recited Surat al-Fatihah over him and spat till he was cured, and ha seemed as if he were set free from a bond. So they gave him the payment that was agreed between them. They said: Apportion them. The man who applied charm said: Do not do it until we approach the Messenger of Allah ﷺ said: From where did you learn that it was a charm ? you have done right. Apportion them, and give me a share along with you.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم:(٣٤٢٠)، (تحفة الأشراف: ١١٠١١) (صحیح )
خارجہ بن صلت سے روایت ہے، وہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ وہ (کچھ لوگوں پر سے) گزرے (ان میں ایک دیوانہ شخص تھا) جس پر وہ صبح و شام فاتحہ پڑھ کر تین دن تک دم کرتے رہے، جب سورة فاتحہ پڑھ چکتے تو اپنا تھوک جمع کر کے اس پر تھو تھو کردیتے، پھر وہ اچھا ہوگیا جیسے کوئی رسیوں میں جکڑا ہوا کھل جائے، تو ان لوگوں نے ایک چیز دی تو وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، پھر انہوں نے وہی بات ذکر کی جو مسدد کی حدیث میں ہے۔
Narrated Alaqah ibn Sahar at-Tamimi (RA) : We proceeded from the Messenger of Allah ﷺ and came to a clan of the Arabs. They said: We have been told that you have brought what is good from this man. Have you any medicine or a charm, for we have a lunatic in chains? We said: Yes. Then they brought a lunatic in chains. He said: I recited Surat al-Fatihah over him for three days, morning and evening. Whenever I finished it, I would collect my saliva and spit it out, and he seemed as if he were set free from a bond. He said: They gave me some payment, but I said: No, not until I ask the Messenger of Allah ﷺ . He (the Prophet) said: Accept it, for, by my life, some accept it for a worthless charm, but you have done so for a genuine one.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٣٤٢٠)، (تحفة الأشراف: ١١٠١١) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب بیمار ہوتے تو آپ اپنے اوپر معوذات پڑھ کر دم فرماتے تھے، پھر جب آپ ﷺ کی تکلیف بڑھ گئی تو میں اسے آپ پر پڑھ کر دم کرتی اور برکت کی امید سے آپ کا ہاتھ آپ کے جسم پر پھیرتی۔
Narrated Aisha (RA) : the wife of Prophet ﷺ said: When the Messenger of Allah ﷺ suffered from some pain, he recited muawwadhat in his heart and blew (them over him). When the pain became severe, I recited (them) over him and wiped him with his hand in the hope of its blessing.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل القرآن ١٤ (٥٠١٦)، صحیح مسلم/السلام ٢٠ (٢١٩٢)، سنن ابن ماجہ/الطب ٣٨ (٣٥٢٩)، (تحفة الأشراف: ١٦٥٨٩)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العین ٤ (١٠)، مسند احمد (٦/١٠٤، ١٨١، ٢٥٦، ٢٦٣) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میری والدہ نے چاہا کہ میں قدرے موٹی ہوجاؤں تاکہ مجھے رسول اللہ ﷺ کے گھر بھیجا جاسکے۔ مگر مجھے ان کی حسب منشا کسی چیز سے فائدہ نہ ہوا حتیٰ کہ انہوں نے مجھے ککڑی اور کھجور ملا کر کھلائی تو اس سے میں خوب موٹی ہوگئی۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : My mother intended to make me gain weight to send me to the (house of) the Messenger of Allah ﷺ . But nothing which she desired benefited me till she gave me cucumber with fresh dates to eat. Then I gained as much weight (as she desired).
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧١٨٢)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الاطعمة ٣٧ (٣٣٢٤)، سنن النسائی/الکبری (٦٧٢٥) (صحيح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کسی کاہن کے پاس آئے پھر جو وہ کہے اس کی تصدیق کرے، یا حائضہ عورت کے پاس آئے یا اپنی عورت کے پاس اس کی پچھلی شرمگاہ میں آئے تو وہ ان چیزوں سے بری ہوگیا جو محمد ﷺ پر نازل کی گئیں ہیں ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone resorts to a diviner and believes in what he says (according) to the version of Musa), or has intercourse with his wife (according to the agreed version) when she is menstruating, or has intercourse with his wife through her anus, he has nothing to do with what has been sent down to Muhammad ﷺ - according to the version of Musaddad.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطھارة ١٠٢ (١٣٥)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٢٢ (٦٣٩)، (تحفة الأشراف: ١٣٥٣٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٨٦، ٢/٤٠٨، ٤٧٦، ٦/٣٠٥)، سنن الدارمی/الطھارة ١١٣ (٢٥٩) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے علم نجوم کا کوئی حصہ اخذ کیا تو اس نے اتنا ہی جادو اخذ کیا، وہ جتنا اضافہ کرے گا اتنا ہی اضافہ ہوگا ۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone acquires any knowledge of astrology, he acquires a branch of magic of which he gets more as long as he continues to do so.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأدب ٢٨ (٣٧٢٦)، (تحفة الأشراف: ٦٥٥٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٢٧، ٣١١) (حسن )
زید بن خالد جہنی ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ میں ہمیں نماز فجر بارش کے بعد پڑھائی جو رات میں ہوئی تھی تو جب آپ فارغ ہوگئے اور لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے تو فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا کہا؟ لوگوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: اس نے کہا: میرے بندوں میں سے کچھ نے آج مومن ہو کر صبح کی، اور کچھ نے کافر ہو کر، جس نے یہ کہا کہ بارش اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہوئی وہ میرے اوپر ایمان رکھنے والا ہوا اور ستاروں کا منکر ہوا، اور جس نے کہا کہ ہم فلاں اور فلاں نچھتر کے سبب برسائے گئے تو وہ میرا منکر ہوا اور ستاروں پر یقین کرنے والا ہوا ۔
Narrated Zaid bin Khalid Al-Juhani (RA) : The Messenger of Allah ﷺ led us in the morning prayer at al-Hudaibiyyah after rain which has fallen during the night, and when he finished, he turned to the people and said: Do you know what your Lord has said ? They said: Allah and His Messenger know best. He said: This morning there were among mt servants one who believes in me and one who disbelieves. The one who said: We have been given rain by Allahs grace and mercy is the one who believes in me and disbelieves in the star ; but the one who said: We have been given rain by such and such a rain star, is the one who disbelieves in me and believes in the star.
قبیصہ بن وقاص ؓ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: رمل، بدشگونی اور پرند اڑانا کفر کی رسموں میں سے ہے پرندوں کو ڈانٹ کر اڑانا طرق ہے، اور عيافة وہ لکیریں ہیں جو زمین پر کھینچی جاتی ہیں جسے رمل کہتے ہیں۔
Narrated Qabisah (RA) : I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Augury from the flight of birds, taking evil omens and the practice of pressomancy pertain to divination. Tarq: It is used in the sense of divination in which women threw stones. Iyafah: It means geomancy by drawing lines.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١١٠٦٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٧٧، ٥/٦٠) (ضعیف) (اس کے راوی حیان لین الحدیث ہیں )
عوف کہتے ہیں عيافة سے مراد پرندہ اڑانا ہے اور طرق سے مراد وہ لکیریں ہیں جو زمین پر کھینچی جاتی ہیں (اور جسے رمل کہتے ہیں) ۔
Narrated Muhammed bin Jafar (RA) : On the authority of Awf: Iyafah means to makes the birds fly by threatening them. Tarq means lines drawn on the earth.
عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تین بار فرمایا: بدشگونی شرک ہے اور ہم میں سے ہر ایک کو وہم ہو ہی جاتا ہے لیکن اللہ اس کو توکل سے دور فرما دیتا ہے ۔
Narrated Muawiyah bin al-Hakam al-Sulami (RA) : I said: Messenger of Allah! among us there are men who practice divination by drawing lines. He said: There was a Prophet who drew lines, so if anyone does it as he drew lines, that is right.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/السیر ٤٧ (١٦١٤)، سنن ابن ماجہ/الطب ٤٣ (٣٥٣٨)، (تحفة الأشراف: ٩٢٠٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٨٩، ٤٣٨، ٤٤٠) (صحیح)
معاویہ بن حکم سلمی ؓ کہتے ہیں میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو خط کھینچتے ہیں، آپ نے فرمایا: انبیاء میں ایک نبی تھے جو خط کھینچتے تھے تو جس کا خط ان کے خط کے موافق ہوا تو وہ ٹھیک ہے ۔
Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : The Prophet ﷺ said: Taking omens is polytheism; taking omens is polytheism. He said it three times. Every one of us has some, but Allah removes it by trust (in Him).
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٩٣٠)، (تحفة الأشراف: ١١٣٧٨) (صحیح)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نہ کسی کو کسی کی بیماری لگتی ہے، نہ کسی چیز میں نحوست ہے، نہ صفر کا مہینہ منحوس ہے اور نہ کسی مردے کی کھوپڑی سے الو کی شکل نکلتی ہے تو ایک بدوی نے عرض کیا: پھر ریگستان کے اونٹوں کا کیا معاملہ ہے؟ وہ ہرن کے مانند (بہت ہی تندرست) ہوتے ہیں پھر ان میں کوئی خارشتی اونٹ جا ملتا ہے تو انہیں بھی کیا خارشتی کردیتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: بھلا پہلے اونٹ کو کس نے خارشتی کیا؟ ۔ معمر کہتے ہیں: زہری نے کہا: مجھ سے ایک شخص نے ابوہریرہ کے واسطہ سے بیان کیا ہے کہ اس نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: کوئی بیمار اونٹ تندرست اونٹ کے ساتھ پانی پلانے کے لیے نہ لایا جائے پھر وہ شخص ابوہریرہ ؓ کے پاس گیا، اور ان سے کہا: کیا آپ نے مجھ سے یہ حدیث بیان نہیں کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نہ کسی کو کسی کی بیماری لگتی ہے، نہ صفر کا مہینہ منحوس ہے، اور نہ کسی کی کھوپڑی سے الو کی شکل نکلتی ہے تو ابوہریرہ ؓ نے انکار کیا، اور کہا: میں نے اسے آپ لوگوں سے نہیں بیان کیا ہے۔ زہری کا بیان ہے: ابوسلمہ کہتے ہیں: حالانکہ انہوں نے اسے بیان کیا تھا، اور میں نے ابوہریرہ ؓ کو کبھی کوئی حدیث بھولتے نہیں سنا سوائے اس حدیث کے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: There is no infection, no evil, omen or serpent, in a hungry belly and no hamah. A nomadic Arab asked: How is it that when camels are in the sand as if they were gazelles and a mangy camel comes among them and it gives them mange ? He replied: Who infected the first one ? Mamar, quoting al-Zuhri said: A man told me that Abu Hurairah narrated to him saying that he heard the Prophet ﷺ say: A diseased camel should not be brought with a healthy camel to drink water. He said: The man then consulted him and said: Did you not tell us that Prophet ﷺ had said: There is no infection, no serpent in a hungry belly and no hamah? He replied: I did not transmit it to you. Al-Zuhri said: Abu Salamah said: He had narrated it and I did not hear that Abu Hurairah had ever forgotten any tradition except this one.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نہ کسی کو کسی کی بیماری لگتی ہے، نہ کسی کی کھوپڑی سے الو کی شکل نکلتی ہے، نہ نچھتر کوئی چیز ہے، اور نہ صفر کے مہینہ میں نحوست ہے ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: There is no infection, no hamah, no other promising rain, and no serpent in a hungry belly.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤٠٦٨)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/ الطب ٣٣ (٢٢٢٠)، مسند احمد (٢/٣٩٧) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بھوت پریت کو کسی کو نقصان پہنچانے کا کوئی اختیار نہیں ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: There is no ghoul. Abu Dawud said: Malik was asked about the meaning of his saying: There is no safar. He replied: The people of pre-Islamic Arabia used to make the month of safar lawful (for war). They made it lawful in one year and unlawful in another year. The Prophet ﷺ said: There is no safar.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٢٣٢٢، ١٢٨٢٩، ١٢٨٦٨) (حسن صحیح )
ابوداؤد کہتے ہیں حارث بن مسکین پر پڑھا گیا، اور میں موجود تھا کہ اشہب نے آپ کو خبر دی ہے کہ امام مالک سے نبی اکرم ﷺ کے قول: لا صفر کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: جاہلیت میں لوگ صفر کو کسی سال حلال قرار دے لیتے تھے اور کسی سال اسے (محرم کا مہینہ قرار دے کر) حرام رکھتے تھے، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: صفر (اب ایسا) نہیں ہے ۔
تفرد بہ أبو داود (صحیح )
انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نہ کسی کو کسی کی بیماری لگتی ہے، اور نہ بد شگونی کوئی چیز ہے، اور فال نیک سے مجھے خوشی ہوتی ہے اور فال نیک بھلی بات ہے ۔
Muhammad bin al-Musaffa said to us on the authority of Baqiyyah. He said: I asked Muhammad bin Rashid about the meaning of the word hamah. He replied: The pre-Islamic Arabs used to say: When anyone dies and is buried, a bird comes forth from his grave. I asked: What did he mean by safar ? He said: I heard that the pre-Islamic Arabs used to take evil omen from safar. So the Prophet ﷺ said: There is no safar. Muhammad (b. Rashid) said: We heard someone say: It is a pain in the stomach. They said that it was infection. Hence he said: There is no safar.