غلام آزاد کرنے کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 26 · 43 hadiths · Page 1 of 3

3926Sunan Abu Dawood

مکاتب کچھ بدل کتابت دے چکا اور مزید دینے پر وقار نہ ہو یا مرجائے تو کیا حکم ہے

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو عُتْبَةَ إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْعَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْمُكَاتَبُ عَبْدٌ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنْ مُكَاتَبَتِهِ دِرْهَمٌ.

عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مکاتب ١ ؎ اس وقت تک غلام ہے جب تک اس کے بدل کتابت (آزادی کی قیمت) میں سے ایک درہم بھی اس کے ذمہ باقی ہے ۔

Narrated Amr bin Shuaib: on his fathers authority, told that his grandfather reported the Prophet ﷺ said: A slave who has entered into an agreement to purchase his freedom is a slave as long as a dirham of the agreed price remains to be paid.

Notes · وضاحت
١ ؎: مکاتب اس غلام کو کہتے ہیں جو اپنے مالک سے کسی مخصوص رقم کی ادائیگی کے بدلے اپنی آزادی کا معاہدہ کرلے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٧٠٧)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع ٣٥ (١٢٦٠)، سنن ابن ماجہ/العتق ٣ (٢٥١٩)، مسند احمد (٢/١٧٨، ٢٠٦، ٢٠٩) (حسن )
3927Sunan Abu Dawood

مکاتب کچھ بدل کتابت دے چکا اور مزید دینے پر وقار نہ ہو یا مرجائے تو کیا حکم ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَيُّمَا عَبْدٍ كَاتَبَ عَلَى مِائَةِ أُوقِيَّةٍ، فَأَدَّاهَا إِلَّا عَشْرَةَ أَوَاقٍ فَهُوَ عَبْدٌ، وَأَيُّمَا عَبْدٍ كَاتَبَ عَلَى مِائَةِ دِينَارٍ، فَأَدَّاهَا إِلَّا عَشْرَةَ دَنَانِيرَ فَهُوَ عَبْدٌ، قَالَ أَبُو دَاوُد: لَيْسَ هُوَ عَبَّاسٌ الْجُرَيْرِيُّ، قَالُوا: هُوَ وَهْمٌ وَلَكِنَّهُ هُوَ شَيْخٌ آخَرُ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس غلام نے سو اوقیہ پر مکاتبت کی ہو پھر اس نے اسے ادا کردیا ہو سوائے دس اوقیہ کے تو وہ غلام ہی ہے (ایسا نہیں ہوگا کہ جتنا اس نے ادا کردیا اتنا وہ آزاد ہوجائے) اور جس غلام نے سو دینار پر مکاتبت کی ہو پھر وہ اسے ادا کر دے سوائے دس دینار کے تو وہ غلام ہی رہے گا (جب تک اسے پورا نہ ادا کر دے) ۔

Narrated Amr bin Shuaib: On his fathers authority, told that his grandfather reported the Prophet ﷺ said: If any slave entered into an agreement to buy his freedom for one hundred uqiyahs and he pays them all but ten, he remains a slave (until he pays the remaining ten); and if a slave entered into an agreement to purchase his freedom for one hundred dinars, and he pays them all but ten dinars, he remains a slave (until he pays the remaining ten). Abu Dawud said: This narrator Abbas al-Jariri is not the same person. They said: It is misunderstanding. He is some other narrator.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٧٢٥)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری (٥٠٢٦)، مسند احمد (٢/١٨٤) (حسن )
3928Sunan Abu Dawood

مکاتب کچھ بدل کتابت دے چکا اور مزید دینے پر وقار نہ ہو یا مرجائے تو کیا حکم ہے

حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ نَبْهَانَ مُكَاتَبِ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ، تَقُولُ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ كَانَ لِإِحْدَاكُنَّ مُكَاتَبٌ فَكَانَ عِنْدَهُ مَا يُؤَدِّي، فَلْتَحْتَجِبْ مِنْهُ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کے مکاتب غلام نبھان کہتے ہیں کہ میں نے ام سلمہ ؓ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا: جب تم عورتوں میں سے کسی کا کوئی مکاتب ہو اور اس کے پاس اتنا مال ہو جس سے وہ اپنا بدل کتابت ادا کرلے جائے تو تمہیں اس سے پردہ کرنا چاہیئے (کیونکہ اب وہ آزاد کی طرح ہے) ۔

Narrated Umm Salamah, Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said to us: If one of you has a slave, and he enters into an agreement to purchase his freedom, and can pay the full price, she must veil herself from him.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/ البیوع ٣٥ (١٢٦١)، سنن ابن ماجہ/العتق ٣ (٢٥٢٠)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٢١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٨٩، ٣٠٨، ٣١١) (ضعیف) (اس کے روای نبھان لین الحدیث ہیں اور ام المومنین عائشہ ؓ کی روایت کے مطابق امھات المؤمنین کا عمل اس کے برعکس تھا، ملاحظہ ہو: ارواء الغلیل: ١٧٦٩ )
3929Sunan Abu Dawood

جب معاہدہ کتابت منسوخ ہوجائے تو غلام کی فروخت کا کیا حکم ہے

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ: أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ عَائِشَةَ تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا وَلَمْ تَكُنْ قَضَتْ مِنْ كِتَابَتِهَا شَيْئًا، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَقْضِيَ عَنْكِ كِتَابَتَكِ وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي، فَعَلْتُ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لِأَهْلِهَا، فَأَبَوْا، وَقَالُوا: إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ فَلْتَفْعَلْ، وَيَكُونُ لَنَا وَلَاؤُكِ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ابْتَاعِي فَأَعْتِقِي، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا بَالُ أُنَاسٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ، فَلَيْسَ لَهُ وَإِنْ شَرَطَهُ مِائَةَ مَرَّةٍ شَرْطُ اللَّهِ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ.

عروہ سے روایت ہے کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ نے انہیں بتایا کہ بریرہ ؓ اپنے بدل کتابت کی ادائیگی میں تعاون کے لیے ان کے پاس آئیں ابھی اس میں سے کچھ بھی ادا نہیں کیا تھا، تو ام المؤمنین عائشہ ؓ نے ان سے کہا: اپنے آدمیوں سے جا کر پوچھ لو اگر انہیں یہ منظور ہو کہ تمہارا بدل کتابت ادا کر کے تمہاری ولاء ١ ؎ میں لے لوں تو میں یہ کرتی ہوں، بریرہ ؓ نے اپنے آدمیوں سے جا کر اس کا ذکر کیا تو انہوں نے ولاء دینے سے انکار کیا اور کہا: اگر وہ اسے ثواب کی نیت سے کرنا چاہتی ہیں تو کریں، تمہاری ولاء ہماری ہی ہوگی، ام المؤمنین عائشہ ؓ نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ نے ان سے فرمایا: تم خرید کر اسے آزاد کر دو ولاء تو اسی کی ہوگی جو آزاد کرے پھر آپ ﷺ (مسجد میں خطبہ کے لیے) کھڑے ہوئے اور فرمایا: لوگوں کا کیا حال ہے وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو اللہ کی کتاب میں نہیں ہیں، جو شخص بھی ایسی شرط لگائے جو اللہ کی کتاب میں نہ ہو تو اس کی شرط صحیح نہ ہوگی اگرچہ وہ سو بار شرط لگائے، اللہ ہی کی شرط سچی اور مضبوط شرط ہے ۔

Urwah quoting from Aisha (RA) said that Barirah came to her seeking her help to purchase her freedom, and she did not pay anything for her freedom. Aisha (RA) said to her: Return to your people ; if you like that I make payment for the purchase of your freedom on your behalf and I shall have the right to inherit from you, I shall do so. Barirah mentioned it to her people, but they refused and said: If she wants to purchase your freedom for reward from Allah, she may do so, but the right to inherit from her shall be ours. She mentioned it to the Messenger of Allah ﷺ . The Messenger of Allah ﷺ said: Purchase her (freedom) and set her free, for the right of inheritance belongs to only to the one who set a person free. The Messenger of Allah (saw) then stood up and said: If anyone makes a condition which is not in Allahs Book, he has no right to it, even if he stipulates it hundred times. Allahs condition is more valid and binding.

Notes · وضاحت
١ ؎: ولاء وہ ترکہ ہے جسے آزاد کیا ہوا غلام چھوڑ کر مرے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ المکاتب ٢ (٢٥٦١)، الشروط ١١ (٢٧٢٧)، صحیح مسلم/ العتق ٢ (١٥٠٤)، سنن الترمذی/ الوصایا ٧١ (٢١٢٤)، سنن النسائی/ البیوع ٨٣ (٤٦٥٩)، (تحفة الأشراف: ١٦٥٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٨١) (صحیح )
3930Sunan Abu Dawood

جب معاہدہ کتابت منسوخ ہوجائے تو غلام کی فروخت کا کیا حکم ہے

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: جَاءَتْ بَرِيرَةُ لِتَسْتَعِينَ فِي كِتَابَتِهَا، فَقَالَتْ: إِنِّي كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُوقِيَّةٌ، فَأَعِينِينِي، فَقَالَتْ: إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَعُدَّهَا عَدَّةً وَاحِدَةً وَأَعْتِقَكِ وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي فَعَلْتُ فَذَهَبَتْ إِلَى أَهْلِهَا وَسَاقَ الْحَدِيثَ نَحْوَ الزُّهْرِيِّ زَادَ فِي كَلَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِهِ مَا بَالُ رِجَالٍ يَقُولُ أَحَدُهُمْ: أَعْتِقْ يَا فُلَانُ وَالْوَلَاءُ لِي إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ بریرہ ؓ اپنے بدل کتابت میں تعاون کے لیے ان کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: میں نے اپنے لوگوں سے نو اوقیہ پر مکاتبت کرلی ہے، ہر سال ایک اوقیہ ادا کرنا ہے، لہٰذا آپ میری مدد کیجئے، تو انہوں نے کہا: اگر تمہارے لوگ چاہیں تو میں ایک ہی دفعہ انہیں دے دوں، اور تمہیں آزاد کر دوں البتہ تمہاری ولاء میری ہوگی ؛ چناچہ وہ اپنے لوگوں کے پاس گئیں پھر راوی پوری حدیث زہری والی روایت کی طرح بیان کی، اور نبی اکرم ﷺ کے کلام کے آخر میں یہ اضافہ کیا کہ: لوگوں کا کیا حال ہے کہ وہ دوسروں سے کہتے ہیں: تم آزاد کر دو اور ولاء میں لوں گا (کیسی لغو بات ہے) ولاء تو اس کا حق ہے جو آزاد کرے ١ ؎۔

Aishah said: Barirah came seeking my help to purchase her freedom. She said: I have arranged with my people to buy my freedom for nine uqiyahs: one to be paid annually. So help me. She (Aishah) said: If your people are willing that I should count them (uqiyahs) out to them all at one time and set you free and that I shall have the right to inherit from you, I shall do so. She then went to her people. The narrator then transmitted the rest of the tradition like the version of al-Zuhri. He added to the wordings of the Prophet ﷺ in the last: What is the matter with people that one of you says: Set free, O so-and-so, and the right of inheritance belongs to me. The right of inheritance belongs to the one who has set a person free.

Notes · وضاحت
١ ؎: بریرہ ؓ کے واقعہ سے باب کی مطابقت اس طرح ہے کہ: مکاتب غلام کو بیچنا جائز نہیں، جب کہ آپ ﷺ نے بریرہ کی خریدو فروخت کو جائز قرار دیا: تو گویا مکاتبت کا معاملہ فسخ کردیا گیا تب ام المومنین عائشہ ؓ نے بریرہ کو خریدا اور یہی مطابقت اگلی حدیث میں بھی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم: (٢٢٣٣)، (تحفة الأشراف: ١٧٢٩٦) (صحیح )
3931Sunan Abu Dawood

جب معاہدہ کتابت منسوخ ہوجائے تو غلام کی فروخت کا کیا حکم ہے

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى أَبُو الْأَصْبَغِ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاق، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: وَقَعَتْ جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ فِي سَهْمِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ أَوِ ابْنِ عَمٍّ لَهُ فَكَاتَبَتْ عَلَى نَفْسِهَا وَكَانَتِ امْرَأَةً مَلَّاحَةً تَأْخُذُهَا الْعَيْنُ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: فَجَاءَتْ تَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كِتَابَتِهَا فَلَمَّا قَامَتْ عَلَى الْبَابِ، فَرَأَيْتُهَا كَرِهْتُ مَكَانَهَا، وَعَرَفْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيَرَى مِنْهَا مِثْلَ الَّذِي رَأَيْتُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ وَإِنَّمَا كَانَ مِنْ أَمْرِي مَا لَا يَخْفَى عَلَيْكَ وَإِنِّي وَقَعْتُ فِي سَهْمِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ وَإِنِّي كَاتَبْتُ عَلَى نَفْسِي، فَجِئْتُكَ أَسْأَلُكَ فِي كِتَابَتِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَهَلْ لَكِ إِلَى مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ ؟، قَالَتْ: وَمَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟، قَالَ: أُؤَدِّي عَنْكِ كِتَابَتَكِ وَأَتَزَوَّجُكِ، قَالَتْ: قَدْ فَعَلْتُ، قَالَتْ: فَتَسَامَعَ تَعْنِي النَّاسَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ تَزَوَّجَ جُوَيْرِيَةَ، فَأَرْسَلُوا مَا فِي أَيْدِيهِمْ مِنَ السَّبْيِ، فَأَعْتَقُوهُمْ وَقَالُوا: أَصْهَارُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا رَأَيْنَا امْرَأَةً كَانَتْ أَعْظَمَ بَرَكَةً عَلَى قَوْمِهَا مِنْهَا أُعْتِقَ فِي سَبَبِهَا مِائَةُ أَهْلِ بَيْتٍ مِنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا حُجَّةٌ فِي أَنَّ الْوَلِيَّ هُوَ يُزَوِّجُ نَفْسَهُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ام المؤمنین جویریہ بنت حارث بن مصطلق ؓ ثابت بن قیس بن شماس ؓ یا ان کے چچا زاد بھائی کے حصہ میں آئیں تو جویریہ نے ان سے مکاتبت کرلی، اور وہ ایک خوبصورت عورت تھیں جسے ہر شخص دیکھنے لگتا تھا، وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس اپنے بدل کتابت میں تعاون مانگنے کے لیے آئیں، جب وہ دروازہ پر آ کر کھڑی ہوئیں تو میری نگاہ ان پر پڑی مجھے ان کا آنا اچھا نہ لگا اور میں نے اپنے دل میں کہا کہ عنقریب آپ بھی ان کی وہی ملاحت دیکھیں گے جو میں نے دیکھی ہے، اتنے میں وہ بولیں: اللہ کے رسول! میں جویریہ بنت حارث ہوں، میرا جو حال تھا وہ آپ سے پوشیدہ نہیں ١ ؎ ثابت بن قیس کے حصہ میں گئی ہوں، میں نے ان سے مکاتبت کرلی ہے، اور آپ کے پاس اپنے بدل کتابت میں تعاون مانگنے آئی ہوں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم اس سے بہتر کی رغبت رکھتی ہو؟ وہ بولیں: وہ کیا ہے؟ اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: میں تمہارا بدل کتابت ادا کردیتا ہوں اور تم سے شادی کرلیتا ہوں وہ بولیں: میں کرچکی (یعنی مجھے یہ بخوشی منظور ہے) ۔ ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں: پھر جب لوگوں نے ایک دوسرے سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے جویریہ سے شادی کرلی ہے تو بنی مصطلق کے جتنے قیدی ان کے ہاتھوں میں تھے سب کو چھوڑ دیا انہیں آزاد کردیا، اور کہنے لگے کہ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے سسرال والے ہیں، ہم نے کوئی عورت اتنی برکت والی نہیں دیکھی جس کی وجہ سے اس کی قوم کو اتنا زبردست فائدہ ہوا ہو، ان کی وجہ سے بنی مصطلق کے سو قیدی آزاد ہوئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث دلیل ہے اس بات کی کہ ولی خود نکاح کرسکتا ہے۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : Juwayriyyah, daughter of al-Harith ibn al-Mustaliq, fell to the lot of Thabit ibn Qays ibn Shammas, or to her cousin. She entered into an agreement to purchase her freedom. She was a very beautiful woman, most attractive to the eye. Aisha (RA) said: She then came to the Messenger of Allah ﷺ asking him for the purchase of her freedom. When she was standing at the door, I looked at her with disapproval. I realised that the Messenger of Allah ﷺ would look at her in the same way that I had looked. She said: Messenger of Allah, I am Juwayriyyah, daughter of al-Harith, and something has happened to me, which is not hidden from you. I have fallen to the lot of Thabit ibn Qays ibn Shammas, and I have entered into an agreement to purchase of my freedom. I have come to you to seek assistance for the purchase of my freedom. The Messenger of Allah ﷺ said: Are you inclined to that which is better? She asked: What is that, Messenger of Allah? He replied: I shall pay the price of your freedom on your behalf, and I shall marry you. She said: I shall do this. She (Aishah) said: The people then heard that the Messenger of Allah ﷺ had married Juwayriyyah. They released the captives in their possession and set them free, and said: They are the relatives of the Messenger of Allah ﷺ by marriage. We did not see any woman greater than Juwayriyyah who brought blessings to her people. One hundred families of Banu al-Mustaliq were set free on account of her. Abu dawud said: This evidence shows that a Muslim ruler may marry a slave woman himself.

Notes · وضاحت
وضاحت ١ ؎: یعنی آپ ﷺ کو معلوم ہے کہ میں ایک رئیس کی صاحبزادی ہوں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٦٣٨٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٧٧، ٦/٢٧٧) (حسن )
3932Sunan Abu Dawood

مشروط آزادی کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، عَنْ سَفِينَةَ، قَالَ: كُنْتُ مَمْلُوكًا لِأُمِّ سَلَمَةَ، فَقَالَتْ: أُعْتِقُكَ وَأَشْتَرِطُ عَلَيْكَ أَنْ تَخْدُمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عِشْتَ، فَقُلْتُ: وَإِنْ لَمْ تَشْتَرِطِي عَلَيَّ مَا فَارَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عِشْتُ، فَأَعْتَقَتْنِي وَاشْتَرَطَتْ عَلَيَّ.

سفینہ کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کا غلام تھا، وہ مجھ سے بولیں: میں تمہیں آزاد کرتی ہوں، اور شرط لگاتی ہوں کہ تم جب تک زندہ رہو گے رسول اللہ ﷺ کی خدمت کرتے رہو گے، تو میں نے ان سے کہا: اگر آپ مجھ سے یہ شرط نہ بھی لگاتیں تو بھی میں جیتے جی رسول اللہ ﷺ کی خدمت سے جدا نہ ہوتا، پھر انہوں نے مجھے اسی شرط پر آزاد کردیا۔

Narrated Umm Salamah, Ummul Muminin (RA) : Safinah said: I was a slave of Umm Salamah, and she said: I shall emancipate you, but I stipulate that you must serve the Messenger of Allah ﷺ as long as you live. I said: Even if you do not make a stipulation, I shall not leave the Messenger of Allah ﷺ . She then emancipated me and made the stipulation with me.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/العتق ٦ (٢٥٢٦)، (تحفة الأشراف: ٤٤٨١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٢١) (حسن )
3933Sunan Abu Dawood

غلام کے کسی حصہ کو آزاد کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْمَعْنَى، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ،عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًاأَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ مِنْ غُلَامٍ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَيْسَ لِلَّهِ شَرِيكٌ، زَادَ ابْنُ كَثِيرٍ فِي حَدِيثِهِ: فَأَجَازَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِتْقَهُ.

اسامہ بن عمیر الہذلی ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے غلام میں سے اپنے حصہ کو آزاد کردیا، نبی اکرم ﷺ سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کا کوئی شریک نہیں ہے ۔ ابن کثیر نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے کہ پھر نبی اکرم ﷺ نے اس کی آزادی کو نافذ کردیا۔

Narrated Abu al-Malih: On his fathers authority (this is AbulWalids version): A man emancipated a share in a slave and the matter was mentioned to the Prophet ﷺ . He said: Allah has no partner. Ibn Kathir added in his version: The Prophet ﷺ allowed his emancipation.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الکبری العتق ١٧ (٤٩٧٠)، (تحفة الأشراف: ١٣٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٧٤، ٧٥) (صحیح )
3934Sunan Abu Dawood

مشترک غلام میں سے کوئی اپنا حصہ آزاد کرے تو کیا حکم ہے؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنِي هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ مِنْ غُلَامٍ، فَأَجَازَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِتْقَهُ وَغَرَّمَهُ بَقِيَّةَ ثَمَنِهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں ایک شخص نے کسی غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کردیا تو نبی اکرم ﷺ نے اس کی آزادی کو نافذ کردیا اور اس سے اس کے بقیہ قیمت کا تاوان دلایا۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : A man emancipated his share in a slave. The Prophet ﷺ allowed his (full) emancipation, and required him to pay the rest of his price.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الشرکة ٥ (٢٤٩٢)، ١٤ (٢٥٠٤)، والعتق ٥ (٢٥٢٧)، صحیح مسلم/العتق ١ (١٥٠٣)، سنن الترمذی/الأحکام ١٤ (١٣٤٦)، سنن ابن ماجہ/العتق ٧ (٢٥٢٧)، (تحفة الأشراف: ١٢٢١١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٥٥، ٣٤٧، ٤٢٦، ٤٦٨، ٤٧٢، ٥٣١) (صحیح )
3935Sunan Abu Dawood

مشترک غلام میں سے کوئی اپنا حصہ آزاد کرے تو کیا حکم ہے؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سُوَيْدٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، قَالَا: حَدَّثَنَاشُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ بِإِسْنَادِهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أَعْتَقَ مَمْلُوكًا بَيْنَهُ وَبَيْنَ آخَرَ، فَعَلَيْهِ خَلَاصُهُ، وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ سُوَيْدٍ.

قتادہ اس سند سے بھی نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جس نے کسی ایسے غلام کو جو اس کے اور کسی اور کے درمیان مشترک ہے آزاد کیا تو اس کے ذمہ اس کی مکمل خلاصی ہوگی ١ ؎، یہ ابن سوید کے الفاظ ہیں۔

Qatadah narrated with his chain of narrators: The Prophet ﷺ said: If a man emancipates a slave shared by him with another man, his emancipation rests with him (who emancipated his share). This is the version of Ibn Suwaid.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی دوسرے شریک کے حصہ کی قیمت بھی اسی کو ادا کرنی ہوگی۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٢٢١١) (صحیح )
3936Sunan Abu Dawood

مشترک غلام میں سے کوئی اپنا حصہ آزاد کرے تو کیا حکم ہے؟

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّي، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سُوَيْدٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَاهِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ قَتَادَةَ بِإِسْنَادِهِ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ عَتَقَ مِنْ مَالِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ، وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنُ الْمُثَنَّى النَّضْرَ بْنَ أَنَسٍ وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ سُوَيْدٍ.

قتادہ اس سند سے بھی روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کردیا تو وہ غلام اس کے مال سے پورا آزاد ہوگا اگر اس کے پاس مال ہے ۔ اور ابن مثنی نے نضر بن انس کا ذکر نہیں کیا ہے، اور یہ ابن سوید کے الفاظ ہیں۔

Qatadah narrated with his chain of narrators. The Prophet ﷺ said: If anyone emancipates his share in a slave, he emancipates him (completely) by his property if he has property. The narrator Ibn al-Muthanna did not mention al-Nadr bin Anas. This is the version of Ibn Suwaid.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٣٩٣٤)، (تحفة الأشراف: ١٢١١) (صحیح )
3937Sunan Abu Dawood

جن لوگوں نے اس حدیث میں سعایہ کا بھی ذکر کیا ہے

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ يَعْنِي الْعَطَّارَ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَعْتَقَ شَقِيصًا فِي مَمْلُوكِهِ، فَعَلَيْهِ أَنْ يُعْتِقَهُ كُلَّهُ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ وَإِلَّا اسْتُسْعِيَ الْعَبْدُ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اپنے مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے تو اگر اس کے پاس مال ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اسے مکمل خلاصی دلائے اور اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو اس غلام کی واجبی قیمت لگائی جائے گی پھر اور شریکوں کے حصوں کے بقدر اس سے محنت کرائی جائے گی، بغیر اسے مشقت میں ڈالے ۔

Abu Hurairah reported the Prophet ﷺ as saying: If anyone emancipates a share in his slave, he should completely emancipate him if he has money; but if he has none, then slave will be required to work (to pay for his freedom), but he must not be overburdened.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٣٩٣٤)، (تحفة الأشراف: ١٢٢١١) (صحیح )
3938Sunan Abu Dawood

جن لوگوں نے اس حدیث میں سعایہ کا بھی ذکر کیا ہے

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ. ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ وَهَذَا لَفْظُهُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ أَوْ شَقِيصًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ، فَخَلَاصُهُ عَلَيْهِ فِي مَالِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ قُوِّمَ الْعَبْدُ قِيمَةَ عَدْلٍ ثُمَّ اسْتُسْعِيَ لِصَاحِبِهِ فِي قِيمَتِهِ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: فِي حَدِيثِهِمَا جَمِيعًا، فَاسْتُسْعِيَ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ وَهَذَا لَفْظُ عَلِيٍّ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کردیا تو اگر وہ مالدار ہے تو اس پر اس کی مکمل خلاصی لازم ہوگی اور اگر وہ مالدار نہیں ہے تو غلام کی واجبی قیمت لگائی جائے گی پھر اس قیمت میں دوسرے شریک کے حصہ کے بقدر اس سے اس طرح محنت کرائی جائے گی کہ وہ مشقت میں نہ پڑے (یہ علی کے الفاظ ہیں) ۔

Abu Hurairah reported the Prophet ﷺ as saying: If anyone emancipates his share in a slave, he is to be completely emancipated by his money if he has money. But if he has no money, a fair price for the slave should be fixed, and the slave is required to work for his master according to the proportion of his price, but he must not be overburdened. Abu Dawud said: In the version of both the narrators the words are he will be required to work and must not be overburdened. This is the version of Ali.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٣٩٣٤)، (تحفة الأشراف: ١٢٢١١) (صحیح )
3939Sunan Abu Dawood

جن لوگوں نے اس حدیث میں سعایہ کا بھی ذکر کیا ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ سَعِيدٍ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ لَمْ يَذْكُرِ السِّعَايَةَ، وَرَوَاهُ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، وَمُوسَى بْنُ خَلَفٍ جَمِيعًا، عَنْ قَتَادَةَ، بِإِسْنَادِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، وَمَعْنَاهُ وَذَكَرَا فِيهِ السِّعَايَةَ.

اس سند سے سعید سے بھی اسی مفہوم کی حدیث اسی طریق سے مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسے روح بن عبادہ نے سعید بن ابی عروبہ سے روایت کیا ہے انہوں نے سعایہ کا ذکر نہیں کیا ہے، اور اسے جریر بن حازم اور موسیٰ بن خلف نے قتادہ سے یزید بن زریع کی سند سے اسی کے مفہوم کے ساتھ روایت کیا ہے اور ان دونوں نے اس میں سعایہ کا ذکر کیا ہے۔

The tradition mentioned above by Rawh bin Ubadah from Saeed bin Abu Arubah. In this version he did not mention the words the slave should be required to work. If has also been transmitted by Jarir bin Hazim and Musa bin Khalaf from Qatadah through the chain of Yazid bin Zurai and to the same effect. In this version they mentioned the words the slave should be required to work

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٣٩٣٤)، (تحفة الأشراف: ١٢٢١١) (صحیح )
3940Sunan Abu Dawood

ان لوگوں کا بیان جو مال نہ ہونے کی صورت میں عدم استسعاء کے قائل ہیں

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ أُقِيمَ عَلَيْهِ قِيمَةُ الْعَدْلِ، فَأَعْطَى شُرَكَاءَهُ حِصَصَهُمْ وَأُعْتِقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے رویت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص (مشترک) غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے تو اس غلام کی واجبی قیمت لگا کر ہر ایک شریک کو اس کے حصہ کے مطابق ادا کرے گا اور غلام اس کی طرف سے آزاد ہوجائے گا اور اگر اس کے پاس مال نہیں ہے تو جتنا آزاد ہوا ہے اتنا ہی حصہ آزاد رہے گا ۔

Abdullah bin Umar (RA) reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyone emancipates his share in slave, a fair price for the slave should be fixed, give his partners their shares, and the slave be thus emancipated. Otherwise he is emancipated to the extent of the share which he emancipated.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الشرکة ٥ (٢٤٩١)، ١٤ (٢٥٠٣)، العتق ٤ (٢٥٢٢)، صحیح مسلم/العتق ١ (١٥٠١)، الأیمان ١٢ (١٥٠١)، سنن النسائی/البیوع ١٠٤ (٤٧٠٣)، سنن ابن ماجہ/العتق ٧ (٢٥٢٨)، (تحفة الأشراف: ٨٣٢٨)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العتق ١ (١)، مسند احمد (١/٥٦) (صحیح )
3941Sunan Abu Dawood

ان لوگوں کا بیان جو مال نہ ہونے کی صورت میں عدم استسعاء کے قائل ہیں

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ أَيُّوبَ،عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ، قَالَ: وَكَانَ نَافِعٌ رُبَّمَا، قَالَ: فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ وَرُبَّمَا لَمْ يَقُلْهُ.

اس سند سے بھی اسی مفہوم کی روایت ابن عمر ؓ سے مرفوعاً مروی ہے۔ راوی کہتے ہیں: نافع نے کبھی فقد عتق منه ما عتق کی روایت کی ہے اور کبھی نہیں کی ہے۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn Umar to the same effect through a different chain of narrators. Nafi sometimes said: He will be emancipated to the extent of the share which he emancipated, and sometimes he did not say these words.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ الشرکة ٥ (٢٤٩١)، العتق ٤ (٢٥٢٤)، صحیح مسلم/ العتق ١ (١٥٠١)، سنن الترمذی/ الأحکام ١٤ (١٣٤٦)، سنن النسائی/ البیوع ١٠٤ (٤٧٠٣)، (تحفة الأشراف: ٧٥١١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٥) (صحیح )
3942Sunan Abu Dawood

ان لوگوں کا بیان جو مال نہ ہونے کی صورت میں عدم استسعاء کے قائل ہیں

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ أَيُّوبُ: فَلَا أَدْرِي هُوَ فِي الْحَدِيثِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ شَيْءٌ قَالَهُ نَافِعٌ وَإِلَّا عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ.

اس سند سے بھی ابن عمر ؓ سے یہی حدیث مرفوعاً مروی ہے ایوب کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ وإلا عتق منه ما عتق نبی اکرم ﷺ کی حدیث کا حصہ ہے یا نافع کا قول ہے۔

The tradition mentioned above has also been narrated by Ibn Umar from the Prophet ﷺ . The narrator Ayyub said: I do not know whether the following words are part of the tradition of the Prophet ﷺ or Nafi told them himself: Otherwise he will be emancipated to the extent of the first mans share.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٧٥١١) (صحیح الإسناد )
3943Sunan Abu Dawood

ان لوگوں کا بیان جو مال نہ ہونے کی صورت میں عدم استسعاء کے قائل ہیں

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا مِنْ مَمْلُوكٍ لَهُ، فَعَلَيْهِ عِتْقُهُ كُلِّهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَا يَبْلُغُ ثَمَنَهُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ عَتَقَ نَصِيبَهُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص (مشترک) غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے تو اس پر اس کی مکمل آزادی لازم ہے اگر اس کے پاس اتنا مال ہو کہ اس کی قیمت کو پہنچ سکے، اور اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو صرف اس کا حصہ آزاد ہوگا (اور باقی شرکاء کو اختیار ہوگا چاہیں تو آزاد کریں اور چاہیں تو غلام رہنے دیں) ۔

Ibn Umar reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyone emancipates his share in a slave, he should emancipate him completely if he has enough money to pay the full price ; but if he has none, he will be emancipated to the extent of his share.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٠٨٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العتق ٤ (٢٥٢٣)، صحیح مسلم/الأیمان والنذور ١٢ (١٥٠١)، سنن الترمذی/الأحکام ١٤ (١٣٤٦)، سنن النسائی/البیوع ١٠٤ (٤٧٠٣) (صحیح )
3944Sunan Abu Dawood

ان لوگوں کا بیان جو مال نہ ہونے کی صورت میں عدم استسعاء کے قائل ہیں

حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ،حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَى إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُوسَى.

اس سند سے بھی ابن عمر ؓ سے ابراہیم بن موسیٰ کی روایت کے ہم معنی روایت مرفوعاً مروی ہے۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn Umar from the Prophet ﷺ to the same effect as mentioned by Ibrahim bin Musa through a different chain.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العتق ٤ (٢٥٢٥ تعلیقًا) صحیح مسلم/ العتق ١ (١٥٠١)، سنن النسائی/ الکبری (٤٩٥٨)، (تحفة الأشراف: ٨٥٢١) (صحیح )
3945Sunan Abu Dawood

ان لوگوں کا بیان جو مال نہ ہونے کی صورت میں عدم استسعاء کے قائل ہیں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَى مَالِكٍ وَلَمْ يَذْكُرْ وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ انْتَهَى حَدِيثُهُ إِلَى وَأُعْتِقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ عَلَى مَعْنَاهُ.

اس سند سے بھی ابن عمر ؓ سے مالک کی روایت کے ہم معنی روایت مرفوعاً مروی ہے مگر اس میں: وإلا فقد عتق منه ما عتق کا ٹکڑا مذکور نہیں اور وأعتق عليه العبد کے ٹکڑے ہی پر روایت ختم ہے ١ ؎۔

The tradition mentioned above has also been narrated by Ibn Umar through a different chain of transmitters to the same effect as mentioned by Malik. In this version there is no mention of the words otherwise he will be emancipated to the extent of the first mans share. His version ends and the slave be thus emancipated, to the same effect as he (Malik) mentioned.

Notes · وضاحت
١ ؎: ابوہریرہ اور ابن عمر ؓ کی جملہ روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کرنے والا اگر مالدار ہے تو بقیہ حصہ کی قیمت اپنے شریک کو ادا کرے گا اور غلام آزاد ہوجائے گا، ورنہ غلام سے بقیہ رقم کے لیے بغیر دباؤ کے محنت کرائی جائے گی، اور جب یہ بھی ممکن نہ ہو تو بقیہ حصہ غلام ہی باقی رہے گا، اور اسی کے بقدر وہ اپنے دوسرے مالک کی خدمت کرتا رہے گا۔ اس مفہوم کے اعتبار سے روایات میں کوئی اختلاف نہیں ہے ( فتح الباری )۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ الشرکة ١٤ (٢٥٠٣)، (تحفة الأشراف: ٧٦١٧) (صحیح )