Sunan Abu Dawood 3928

غلام آزاد کرنے کا بیان

3928Sunan Abu Dawood

مکاتب کچھ بدل کتابت دے چکا اور مزید دینے پر وقار نہ ہو یا مرجائے تو کیا حکم ہے

حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ نَبْهَانَ مُكَاتَبِ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ، تَقُولُ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ كَانَ لِإِحْدَاكُنَّ مُكَاتَبٌ فَكَانَ عِنْدَهُ مَا يُؤَدِّي، فَلْتَحْتَجِبْ مِنْهُ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کے مکاتب غلام نبھان کہتے ہیں کہ میں نے ام سلمہ ؓ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا: جب تم عورتوں میں سے کسی کا کوئی مکاتب ہو اور اس کے پاس اتنا مال ہو جس سے وہ اپنا بدل کتابت ادا کرلے جائے تو تمہیں اس سے پردہ کرنا چاہیئے (کیونکہ اب وہ آزاد کی طرح ہے) ۔

Narrated Umm Salamah, Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said to us: If one of you has a slave, and he enters into an agreement to purchase his freedom, and can pay the full price, she must veil herself from him.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/ البیوع ٣٥ (١٢٦١)، سنن ابن ماجہ/العتق ٣ (٢٥٢٠)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٢١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٨٩، ٣٠٨، ٣١١) (ضعیف) (اس کے روای نبھان لین الحدیث ہیں اور ام المومنین عائشہ ؓ کی روایت کے مطابق امھات المؤمنین کا عمل اس کے برعکس تھا، ملاحظہ ہو: ارواء الغلیل: ١٧٦٩ )