مشترک غلام میں سے کوئی اپنا حصہ آزاد کرے تو کیا حکم ہے؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سُوَيْدٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، قَالَا: حَدَّثَنَاشُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ بِإِسْنَادِهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أَعْتَقَ مَمْلُوكًا بَيْنَهُ وَبَيْنَ آخَرَ، فَعَلَيْهِ خَلَاصُهُ، وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ سُوَيْدٍ.
قتادہ اس سند سے بھی نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جس نے کسی ایسے غلام کو جو اس کے اور کسی اور کے درمیان مشترک ہے آزاد کیا تو اس کے ذمہ اس کی مکمل خلاصی ہوگی ١ ؎، یہ ابن سوید کے الفاظ ہیں۔
Qatadah narrated with his chain of narrators: The Prophet ﷺ said: If a man emancipates a slave shared by him with another man, his emancipation rests with him (who emancipated his share). This is the version of Ibn Suwaid.