Sunan Abu Dawood 3926

غلام آزاد کرنے کا بیان

3926Sunan Abu Dawood

مکاتب کچھ بدل کتابت دے چکا اور مزید دینے پر وقار نہ ہو یا مرجائے تو کیا حکم ہے

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو عُتْبَةَ إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْعَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْمُكَاتَبُ عَبْدٌ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنْ مُكَاتَبَتِهِ دِرْهَمٌ.

عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مکاتب ١ ؎ اس وقت تک غلام ہے جب تک اس کے بدل کتابت (آزادی کی قیمت) میں سے ایک درہم بھی اس کے ذمہ باقی ہے ۔

Narrated Amr bin Shuaib: on his fathers authority, told that his grandfather reported the Prophet ﷺ said: A slave who has entered into an agreement to purchase his freedom is a slave as long as a dirham of the agreed price remains to be paid.

Notes · وضاحت
١ ؎: مکاتب اس غلام کو کہتے ہیں جو اپنے مالک سے کسی مخصوص رقم کی ادائیگی کے بدلے اپنی آزادی کا معاہدہ کرلے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٧٠٧)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع ٣٥ (١٢٦٠)، سنن ابن ماجہ/العتق ٣ (٢٥١٩)، مسند احمد (٢/١٧٨، ٢٠٦، ٢٠٩) (حسن )