طب کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 25 · 70 hadiths · Page 4 of 4

3916Sunan Abu Dawood

شگون لینے اور رمل کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ قال: قُلْتُ لِمُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ، قَوْلُهُ هَامَ، قَالَ: كَانَت الْجَاهِلِيَّةُ تَقُولُ: لَيْسَ أَحَدٌ يَمُوتُ، فَيُدْفَنُ، إِلَّا خَرَجَ مِنْ قَبْرِهِ هَامَةٌ، قُلْتُ: فَقَوْلُهُصَفَرَقَالَ: سَمِعْتُ أَنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ يَسْتَشْئِمُونَ بِصَفَرَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا صَفَرَ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَقَدْ سَمِعْنَا مَنْ يَقُولُ هُوَ وَجَعٌ يَأْخُذُ فِي الْبَطْنِ، فَكَانُوا يَقُولُونَ هُوَ يُعْدِي، فَقَالَ: لَا صَفَرَ.

بقیہ کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن راشد سے پوچھا کہ نبی اکرم ﷺ کے قول هام کے کیا معنی ہیں؟ تو انہوں نے کہا: جاہلیت کے لوگ کہا کرتے تھے: جو آدمی مرتا ہے اور دفن کردیا جاتا ہے تو اس کی روح قبر سے ایک جانور کی شکل میں نکلتی ہے، پھر میں نے پوچھا آپ کے قول لا صفر کے کیا معنی ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں نے سنا ہے کہ جاہلیت کے لوگ صفر کو منحوس جانتے تھے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: صفر میں نحوست نہیں ہے۔ محمد بن راشد کہتے ہیں: میں نے کچھ لوگوں کو کہتے سنا ہے: صفر پیٹ میں ایک قسم کا درد ہے، لوگ کہتے تھے: وہ متعدی ہوتا ہے (یعنی ایک کو دوسرے سے لگ جاتا ہے) تو آپ نے فرمایا: صفر کوئی چیز نہیں ہے ۔

Narrated Anas (RA) : The Prophet ﷺ as saying: There is no infection and no evil omen, and I like a good omen. Good omen means a good word.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود (صحیح )
3917Sunan Abu Dawood

شگون لینے اور رمل کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ سُهَيلٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ كَلِمَةً فَأَعْجَبَتْهُ، فَقَالَ: أَخَذْنَا فَأْلَكَ مِنْ فِيكَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک بات سنی جو آپ کو بھلی لگی تو آپ نے فرمایا: ہم نے تیری فال تیرے منہ سے سن لی (یعنی انجام بخیر ہے ان شاء اللہ) ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ heard a word, and he liked it, he said: We took your omen from your mouth.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٥٠١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٨٨) (صحیح )
3918Sunan Abu Dawood

شگون لینے اور رمل کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: يَقُولُ: وَجَعٌ يَأْخُذُ فِي الْبَطْنِ، النَّاسُ الصَّفَرُ، قُلْتُ: فَمَا الْهَامَةُ ؟، قَالَ: يَقُولُ النَّاسُ: الْهَامَةُ الَّتِي تَصْرُخُ هَامَةُ النَّاسِ وَلَيْسَتْ بِهَامَةِ الْإِنْسَانِ إِنَّمَا هِيَ دَابَّةٌ.

عطاء سے روایت ہے کہ لوگ کہتے تھے کہ صفر ایک قسم کا درد ہے جو پیٹ میں ہوتا ہے تو میں نے پوچھا: ہامہ کیا ہے؟ کہا: لوگ کہتے تھے: الو جو بولتا ہے وہ لوگوں کی روح ہے، حالانکہ وہ انسان کی روح نہیں بلکہ وہ ایک جانور ہے (اگلے لوگ جہالت سے اسے انسان کی روح سمجھتے تھے) ۔

Narrated Ata (RA) : People said: safar is a pain within the belly. I asked: What is hamah ? He said: People said (believed) that hamah which is an owl or a nightbird and which shrieks is the spirit of men. It is not the spirit of men. It is an animal.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود (صحیح )
3919Sunan Abu Dawood

شگون لینے اور رمل کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَأبُو بَكْرِ بْنُ شَيْبَةَ الْمَعْنَى، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْعُرْوَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ أَحْمَدُ، الْقُرَشِيُّ قَالَ: ذُكِرَتِ الطِّيَرَةُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَحْسَنُهَا الْفَأْلُ وَلَا تَرُدُّ مُسْلِمًا فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يَكْرَهُ، فَلْيَقُلِ اللَّهُمَّ لَا يَأْتِي بِالْحَسَنَاتِ إِلَّا أَنْتَ، وَلَا يَدْفَعُ السَّيِّئَاتِ إِلَّا أَنْتَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ.

عروہ بن عامر قرشی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس طیرہ (بدشگونی) کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: اس کی سب سے اچھی قسم نیک فال، اور اچھا (شگون) ہے، اور فال (شگون) کسی مسلمان کو اس کے ارادہ سے باز نہ رکھے پھر جب تم میں سے کوئی ایسی چیز دیکھے جو اسے ناگوار ہو تو وہ یہ دعا پڑھے: اللهم لا يأتي بالحسنات إلا أنت ولا يدفع السيئات إلا أنت ولا حول ولا قوة إلا بك اے اللہ! تیرے سوا کوئی بھلائی نہیں پہنچا سکتا اور سوائے تیرے کوئی برائیوں کو روک بھی نہیں سکتا اور برائی سے باز رہنے اور نیکی کے کام کرنے کی طاقت و قوت صرف تیری توفیق ہی سے ملتی ہے ۔

Narrated Urwah ibn Amir al-Qurashi (RA) : When taking omens was mentioned in the presence of the Prophet ﷺ , he said: The best type is the good omen, and it does not turn back a Muslim. If one of you sees anything he dislikes, he should say: O Allah, no one brings good things except Thee, and no one averts evil things except Thee and there is no might and power but in Allah.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٩٨٩٩) (ضعیف) (اس کے راوی عروہ قرشی تابعی ہیں اس لئے یہ روایت مرسل ہے )
3920Sunan Abu Dawood

شگون لینے اور رمل کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ لَا يَتَطَيَّرُ مِنْ شَيْءٍ، وَكَانَ إِذَا بَعَثَ عَامِلًا سَأَلَ عَنِ اسْمِهِ، فَإِذَا أَعْجَبَهُ اسْمُهُ فَرِحَ بِهِ وَرُئِيَ بِشْرُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، وَإِنْ كَرِهَ اسْمَهُ رُئِيَ كَرَاهِيَةُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، وَإِذَا دَخَلَ قَرْيَةً سَأَلَ عَنِ اسْمِهَا، فَإِنْ أَعْجَبَهُ اسْمُهَا فَرِحَ وَرُئِيَ بِشْرُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، وَإِنْ كَرِهَ اسْمَهَا رُئِيَ كَرَاهِيَةُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کسی چیز سے فال بد (بدشگونی) نہیں لیتے تھے اور جب آپ کسی عامل کو بھیجتے تو اس کا نام پوچھتے، اگر آپ ﷺ کو اس کا نام پسند آتا تو اس سے خوش ہوتے اور خوشی آپ کے چہرے پر نظر آتی اور اگر وہ پسند نہ آتا تو یہ ناپسندیدگی آپ کے چہرے پر دکھائی پڑتی، اور جب کسی بستی میں داخل ہوتے تو اس کا نام پوچھتے اگر وہ نام اچھا لگتا تو اس سے خوش ہوتے اور یہ خوشی آپ ﷺ کے چہرے پر دکھائی پڑتی اور اگر وہ ناپسند ہوتا تو یہ ناپسندیدگی آپ کے چہرے پر دکھائی پڑتی۔

Narrated Buraydah ibn al-Hasib: The Prophet ﷺ did not take omens from anything, but when he sent out an agent he asked about his name. If it pleased him, he was glad about it, and his cheerfulness on that account was visible in his face. If he disliked his name, his displeasure on that account was visible in his face. When he entered a village, he asked about its name, and if it pleased him, he was glad about it, and his cheerfulness on that account was visible in his face. But if he disliked its name, his displeasure on that account was visible in his face.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٩٩٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٤٧) (صحیح )
3921Sunan Abu Dawood

شگون لینے اور رمل کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنِي يَحْيَى، أَنَّ الْحَضْرَمِيَّ بْنَ لَاحِقٍ، حَدَّثَهُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْسَعْدِ بْنِ مَالِكٍ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: لَا هَامَةَ وَلَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ، وَإِنْ تَكُنْ الطِّيَرَةُ فِي شَيْءٍ، فَفِي الْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ وَالدَّارِ.

سعد بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے: مردے کی روح جانور کی شکل میں نہیں نکلتی، اور نہ کسی کی بیماری کسی کو لگتی ہے، اور نہ کسی چیز میں نحوست ہے، اور اگر کسی چیز میں نحوست ہوتی تو گھوڑے، عورت اور گھر میں ہوتی ۔

Narrated Saad ibn Malik: The Prophet ﷺ said: There is no hamah, no infection and no evil omen; if there is in anything an evil omen, it is a house, a horse, and a woman.

Takhrij · تخریج
تفردبہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٣٨٦١)، وقد أخرجہ: حم (١/١٨٠، ١٨٦) (صحیح )
3922Sunan Abu Dawood

شگون لینے اور رمل کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حَمْزَةَ، وَسَالِمٍ ابْنَيْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الشُّؤْمُ فِي الدَّارِ وَالْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قُرِئَ عَلَى الْحَارِثِ بْنِ مِسْكِينٍ وَأَنَا شَاهِدٌ، أَخْبَرَكَ ابْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ: سُئِلَ مَالِكٌ عَنِ الشُّؤْمِ فِي الْفَرَسِ وَالدَّارِ، قَالَ: كَمْ مِنْ دَارٍ سَكَنَهَا نَاسٌ، فَهَلَكُوا ثُمَّ سَكَنَهَا آخَرُونَ، فَهَلَكُوا ؟ فَهَذَا تَفْسِيرُهُ فِيمَا نَرَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: حَصِيرٌ فِي الْبَيْتِ خَيْرٌ مِنَ امْرَأَةٍ لَا تَلِدُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نحوست گھر، عورت اور گھوڑے میں ہے ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حارث بن مسکین پر پڑھا گیا اور میں موجود تھا کہ ابن قاسم نے آپ کو خبر دی ہے کہ امام مالک سے گھوڑے اور گھر کی نحوست کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: بہت سے گھر ایسے ہیں جس میں لوگ رہے تو وہ مرگئے پھر دوسرے لوگ رہنے لگے تو وہ بھی مرگئے، جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہی اس کی تفسیر ہے، واللہ اعلم۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عمر ؓ نے کہا کہ گھر کی ایک چٹائی بانجھ عورت سے اچھی ہے۔

It was narrated from Abdullah bin Umar (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: An omen is in a dwelling, a woman or a horse. Abu Dawud said: This tradition was read out to al-Harith bin Miskin and I was witness. It was said to him that Ibn Qasim told him that Malik was asked about evil omen in a horse and in a house. He replied: There are many houses in which people lived and perished and again others lived therein and they also perished. This is its explanation so far as we know. Allah knows best. Abu Dawud said: Umar (ra) said: A mat in a house better than a woman who does not give birth to a child.

Notes · وضاحت
١ ؎: عبداللہ بن عمر ؓ کی یہی روایت صحیح مسلم میں کئی سندوں سے اس طرح ہے: اگر نحوست کسی چیز میں ہوتی تو ان تین چیزوں میں ہوتی اور یہی مطلب اس عام روایت کا بھی ہے، اس کی وضاحت سعد بن مالک کی پچھلی روایت سے بھی ہو رہی ہے، اور وہ جو دیگر روایات میں ہے، جیسے حدیث نمبر ( ٣٩٢٤) تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ ظاہر کو حقیقت سمجھ بیٹھیں اور ان کا عقیدہ خراب ہوجائے اسی لئے اس گھر کو چھوڑ دینے کا حکم دیا جیسے کوڑھی سے بھاگنے کا حکم دیا، حالانکہ آپ نے ﷺ خود فرمایا ہے کہ: چھوت کی کوئی حقیقت نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجھاد ٤٧ (٢٨٥٨)، النکاح ١٧ (٥٠٩٣)، الطب ٤٣ (٥٧٥٣)، ٥٤ (٥٧٧٢)، صحیح مسلم/السلام ٣٤ (٢٢٢٥)، سنن الترمذی/الأدب ٥٨ (٢٨٢٤)، سنن النسائی/الخیل ٤ (٣٥٩٩)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٥٥ (١٩٩٥)، (تحفة الأشراف: ٦٨٦٤، ١٨٢٧٦، ٦٦٩٩)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الاستئذان ٨ (٢٢)، مسند احمد (٢/٨، ٣٦، ١١٥، ١٢٦) (صحیح) (اس حدیث میں الشؤم کا لفظ آیا ہے، اور بعض روایتوں میں إنما الشؤم ہے جبکہ صحیحین وغیرہ میں ابن عمر سے إن کان الشؤم ثابت ہے، جس کے شواہد سعد بن أبی وقاص (کما تقدم: ٣٩٢١)، سہل بن سعد (صحیح البخاری/٥٠٩٥)، و جابر (صحیح مسلم/٢٢٢٧) کی احادیث میں ہیں، اس لئے بعض اہل علم نے پہلے لفظ کو شاذ قرار دیا ہے، (ملاحظہ ہو: الصحیحة: ٧٩٩، ٧٨٩، ١٨٥٧)۔
3923Sunan Abu Dawood

شگون لینے اور رمل کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، وَعَبَّاسُ الْعَنْبَرِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَحِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ فَرْوَةَ بْنَ مُسَيْكٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرْضٌ عِنْدَنَا يُقَالُ لَهَا أَرْضُ أَبْيَنَ هِيَ أَرْضُ رِيفِنَا وَمِيرَتِنَا وَإِنَّهَا وَبِئَةٌ، أَوْ قَالَ: وَبَاؤُهَا شَدِيدٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعْهَا عَنْكَ فَإِنَّ مِنَ الْقَرَفِ التَّلَفَ.

فروہ بن مسیک ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے پاس ایک زمین ہے جسے ابین کہا جاتا ہے یہی ہمارا کھیت ہے جہاں سے ہمیں غلہ ملتا ہے لیکن یہ وبا والی زمین ہے یا کہا کہ اس کی وبا سخت ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم اس زمین کو اپنے سے علیحدہ کر دے کیونکہ اس کے ساتھ وبا لگی رہنے سے ہلاکت ہے ۔

Yahya ibn Abdullah ibn Buhayr said that he was informed by one who had heard Farwah ibn Musayk tell that he said: Messenger of Allah! we have land called Abyan, which is the land where we have our fields and grow our crops, but it is very unhealthy. The Prophet ﷺ said: Leave it, for destruction comes from being near disease.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١٠٢٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٥١) (ضعیف الإسناد) (فروة کے شاگرد مبہم ہیں )
3924Sunan Abu Dawood

شگون لینے اور رمل کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا فِي دَارٍ كَثِيرٌ فِيهَا عَدَدُنَا، وَكَثِيرٌ فِيهَا أَمْوَالُنَا، فَتَحَوَّلْنَا إِلَى دَارٍ أُخْرَى فَقَلَّ فِيهَا عَدَدُنَا وَقَلَّتْ فِيهَا أَمْوَالُنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ذَرُوهَا ذَمِيمَةً.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم ایک گھر میں تھے تو اس میں ہمارے لوگوں کی تعداد بھی زیادہ تھی اور ہمارے پاس مال بھی زیادہ رہتا تھا پھر ہم ایک دوسرے گھر میں آگئے تو اس میں ہماری تعداد بھی کم ہوگئی اور ہمارا مال بھی گھٹ گیا، اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: اسے چھوڑ دو، مذموم حالت میں ١ ؎۔

Narrated Anas ibn Malik: A man said: Messenger of Allah! we were in an abode in which our numbers and our goods were many and changed to an abode in which our numbers and our goods became few. The Messenger of Allah ﷺ said: Leave it, for it is reprehensible.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس گھر کو چھوڑ دینے کا حکم آپ ﷺ نے اس لئے دیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ گھر ہی کو مؤثر سمجھنے لگ جائیں اور شرک میں پڑجائیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٩٣) (حسن )
3925Sunan Abu Dawood

شگون لینے اور رمل کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَخَذَ بِيَدِ مَجْذُومٍ فَوَضَعَهَا مَعَهُ فِي الْقَصْعَةِ، وَقَالَ: كُلْ ثِقَةً بِاللَّهِ وَتَوَكُّلًا عَلَيْهِ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک کوڑھی کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ پیالہ میں رکھ لیا اور فرمایا: اللہ پر بھروسہ اور اعتماد کر کے کھاؤ ۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ took a man who was suffering from tubercular leprosy by the hand; he then put it along with his own hand in the dish and said: Eat with confidence in Allah and trust in Him.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأطعمة ١٩ (١٨١٧)، سنن ابن ماجہ/ الطب ٤٤ (٣٥٤٢)، (تحفة الأشراف: ٣٠١٠) (ضعیف) (اس کے راوی مفضّل بن فضالة بصری ضعیف ہیں )
3914Sunan Abu Dawood

قَالَ أَبُو دَاوُد: قُرِئَ عَلَى الْحَارِثِ بْنِ مِسْكِينٍ وَأَنَا شَاهِدٌ، أَخْبَرَكُمْ أَشْهَبُ، قَالَ: سُئِلَ مَالِكٌ: عَنْ قَوْلِهِ: لَا صَفَرَ، قَالَ: إِنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا يُحِلُّونَ صَفَرَ يُحِلُّونَهُ عَامًا، وَيُحَرِّمُونَهُ عَامًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا صَفَرَ،

حارث بن مسکین پر پڑھا گیا، اور میں موجود تھا کہ اشہب نے آپ کو خبر دی ہے کہ امام مالک سے نبی اکرم ﷺ کے قول: «لا صفر» کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: جاہلیت میں لوگ «صفر» کو کسی سال حلال قرار دے لیتے تھے اور کسی سال اسے ( محرم کا مہینہ قرار دے کر ) حرام رکھتے تھے، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: «صفر» ( اب ایسا ) نہیں ہے۔

Abu Dawud said: Malik was asked about the meaning of his saying: There is no safar. He replied: The people of pre-Islamic Arabia used to make the month of safar lawful (for war). They made it lawful in one year and unlawful in another year. The Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said: There is no safar.