فرائض کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 16 · 43 hadiths · Page 1 of 3

2885Sunan Abu Dawood

علم الفرائض سیکھنے کی فضیلت کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْروِ بْنِ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ التَّنُوخِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْعِلْمُ ثَلَاثَةٌ وَمَا سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ فَضْلٌ آيَةٌ مُحْكَمَةٌ، أَوْ سُنَّةٌ قَائِمَةٌ، أَوْ فَرِيضَةٌ عَادِلَةٌ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (اصل) علم تین ہیں اور ان کے علاوہ علوم کی حیثیت فضل (زائد) کی ہے: آیت محکمہ ٢ ؎، یا سنت قائمہ ٣ ؎، یا فریضہ عادلہ ٤ ؎۔

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Prophet ﷺ said: Knowledge has three categories; anything else is extra; a precise verse, or an established sunnah (practice), or a firm obligatory duty.

Notes · وضاحت
١ ؎: فرائض فریضہ کی جمع ہے یعنی اللہ کے مقرر کردہ حصے۔ ٢ ؎: یعنی غیر منسوخ قرآن کا علم۔ ٣ ؎: یعنی صحیح احادیث کا علم۔ ٤ ؎: فرائض کا علم، جس سے ترکے کی تقسیم انصاف کے ساتھ ہو سکے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ٨ (٥٤)، (تحفة الأشراف: ٨٨٧٦) (ضعیف) (اس کے راوی دونوں عبد الرحمن ضعیف ہیں )
2886Sunan Abu Dawood

کلالہ کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ: مَرِضْتُ فَأَتَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي، هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ مَاشِيَيْنِ وَقَدْ أُغْمِيَ عَلَيَّ فَلَمْ أُكَلِّمْهُ، فَتَوَضَّأَ وَصَبَّهُ عَلَيَّ فَأَفَقْتُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَصْنَعُ فِي مَالِي وَلِي أَخَوَاتٌ ؟ قَالَ: فَنَزَلَتْ آيَةُ الْمَوَارِيثِ يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلالَةِ سورة النساء آية 176.

جابر ؓ کہتے ہیں میں بیمار ہوا تو نبی اکرم ﷺ اور ابوبکر ؓ مجھے دیکھنے کے لیے پیدل چل کر آئے، مجھ پر غشی طاری تھی اس لیے آپ ﷺ سے بات نہ کرسکا تو آپ نے وضو کیا اور وضو کے پانی کا مجھ پر چھینٹا مارا تو مجھے افاقہ ہوا، میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اپنا مال کیا کروں اور بہنوں کے سوا میرا کوئی وارث نہیں ہے، اس وقت میراث کی آیت يستفتونک قل الله يفتيكم في الکلالة آپ سے فتوی پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیجئیے کہ اللہ تعالیٰ (خود) تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے (سورۃ النساء: ١٧٦) ، اتری ١ ؎۔

Narrated Jabir: I fell ill, and the Prophet ﷺ and Abu Bakr came to me on foot to visit me. As I was unconscious, I could not speak to him. He performed ablution and sprinkled water on me ; so I became conscious. I said: Messenger of Allah, how should I do in my property, as I have sisters? Thereafter the verse about inheritance was revealed: They ask thee for legal decision. Say: Allah directs (thus) about those who leave no descendants or ascendants as heirs.

Notes · وضاحت
١ ؎: کلالہ: ایسا شخص جو نہ باپ چھوڑے نہ کوئی اولاد، اس کے سلسلہ میں اللہ کا حکم یہ ہے کہ اگر کوئی مرجائے اور اس کی اپنی کوئی اولاد نہ ہو صرف ایک بہن ہو تو آدھا مال لے گی، دو ہوں تو ثلث لے لیں گی، اگر بہن بھائی دونوں ہوں تو بھائی کو دو حصے اور بہن کو ایک حصہ ملے گا اخیر تک۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر النساء ٢٧ (٤٦٠٥)، المرضی ٥ (٥٦٥١)، الفرائض ١٣ (٦٧٤٣)، صحیح مسلم/الفرائض ٢ (١٦١٦)، سنن الترمذی/الفرائض ٧ (٢٠٩٧)، سنن ابن ماجہ/الفرائض ٥ (٢٧٢٨)، (تحفة الأشراف: ٣٠٢٨)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الطھارة ٥٦ (٧٦٠) (صحیح)
2887Sunan Abu Dawood

جس کی صرف بہنیں ہوں اور اولاد نہ ہو اس کا حکم

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي الدَّسْتُوَائِيَّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: اشْتَكَيْتُ وَعِنْدِي سَبْعُ أَخَوَاتٍ فَدَخَلَ عَلَيّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَفَخَ فِي وَجْهِي فَأَفَقْتُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أُوصِي لِأَخَوَاتِي بِالثُّلُثِ، قَالَ: أَحْسِنْ، قُلْتُ الشَّطْرَ، قَالَ: أَحْسِنْ، ثُمَّ خَرَجَ وَتَرَكَنِي فَقَالَ: يَا جَابِرُ لَا أُرَاكَ مَيِّتًا مِنْ وَجَعِكَ هَذَا، وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ أَنْزَلَ فَبَيَّنَ الَّذِي لِأَخَوَاتِكَ فَجَعَلَ لَهُنَّ الثُّلُثَيْنِ، قَالَ: فَكَانَ جَابِرٌ يَقُولُ: أُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فِيَّ يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلالَةِ سورة النساء آية 176.

جابر ؓ کہتے ہیں میں بیمار ہوا اور میرے پاس سات بہنیں تھیں، رسول اللہ ﷺ میرے پاس آئے اور میرے چہرے پر پھونک ماری تو مجھے ہوش آگیا، میں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میں اپنی بہنوں کے لیے ثلث مال کی وصیت نہ کر دوں؟ آپ نے فرمایا: نیکی کرو ، میں نے کہا آدھے مال کی وصیت کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نیکی کرو ، پھر آپ مجھے چھوڑ کر چلے گئے اور آپ ﷺ نے فرمایا: جابر! میرا خیال ہے تم اس بیماری سے نہیں مرو گے، اور اللہ تعالیٰ نے اپنا کلام اتارا ہے اور تمہاری بہنوں کا حصہ بیان کردیا ہے، ان کے لیے دو ثلث مقرر فرمایا ہے ۔ جابر کہا کرتے تھے کہ یہ آیت يستفتونک قل الله يفتيكم في الکلالة میرے ہی متعلق نازل ہوئی ہے۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : I fell ill, and I had seven sisters. The Messenger of Allah ﷺ came to me and blew on my face. So I became conscious. I said: Messenger of Allah, may I not bequeath one-third of my property to my sisters? He replied: Do good. I asked: Half? He replied: Do good. He then went out and left me, and said: I do not think, Jabir, you will die of this disease. Allah has revealed (verses) and described the share of your sisters. He appointed two-thirds for them. Jabir used to say: This verse was revealed about me: They ask thee for a legal decision. Say: Allah directs (thus) about those who leave no descendants or ascendants as heirs.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٢٩٧٧)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری (٦٣٢٥)، مسند احمد (٣/٣٧٢) (صحیح )
2888Sunan Abu Dawood

جس کی صرف بہنیں ہوں اور اولاد نہ ہو اس کا حکم

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: آخِرُ آيَةٍ نَزَلَتْ فِي الْكَلَالَةِ يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلالَةِ سورة النساء آية 176.

براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کلالہ کے سلسلے میں آخری آیت جو نازل ہوئی ہے وہ: يستفتونک قل الله يفتيكم في الکلالة ہے ١ ؎۔

Narrated Al-Bara bin Azib: The last verse revealed about the decease who left no descendants or ascendants: They ask thee for the legal decision. Say: Allah directs (thus) about those who leave no descendants or ascendants as heirs.

Notes · وضاحت
١ ؎: جو سورة نساء کے اخیر میں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٦٦ (٤٣٦٤)، والتفسیر ٢٧ (٤٦٠٥)، ٣ (٤٦٥٦)، والفرائض ١٤ (٦٧٤٤)، صحیح مسلم/الفرائض ٣ (١٦١٨)، (تحفة الأشراف: ١٨٧٠)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/تفسیر سورة النساء ٢٧ (٤٣٤٦) (صحیح )
2889Sunan Abu Dawood

جس کی صرف بہنیں ہوں اور اولاد نہ ہو اس کا حکم

حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ يَسْتَفْتُونَكَ فِي الْكَلَالَةِ، فَمَا الْكَلَالَةُ ؟ قَالَ: تُجْزِيكَ آيَةُ الصَّيْفِ، فَقُلْتُ لِأَبِي إِسْحَاق: هُوَ مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَدَعْ وَلَدًا وَلَا وَالِدًا، قَالَ: كَذَلِكَ ظَنُّوا أَنَّهُ كَذَلِكَ.

براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول!يستفتونک في الکلالة میں کلالہ سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: آیت صيف ١ ؎ تمہارے لیے کافی ہے۔ ابوبکر کہتے ہیں: میں نے ابواسحاق سے کہا: کلالہ وہی ہے نا جو نہ اولاد چھوڑے نہ والد؟ انہوں نے کہا: ہاں، لوگوں نے ایسا ہی سمجھا ہے۔

Narrated Al-Bara ibn Azib: A man came to the Prophet ﷺ and said: Messenger of Allah, they ask thee for a legal decision about a kalalah. What is meant by kalalah? He replied: The verse revealed in summer is sufficient for you. I asked Abu Ishaq: Does it mean a person who dies and leaves neither children nor father? He said: This is so. The people think it is so.

Notes · وضاحت
١ ؎: سورة نساء کا آخری حصہ گرمی کے زمانہ میں نازل ہوا ہے اس لئے اسے آیت صيف کہا جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الفرائض ٢ عن عمر (١٦١٧)، سنن الترمذی/تفسیر سورة النساء ٢٧ (٣٠٤٢)، (تحفة الأشراف: ١٩٠٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٩٣، ٢٩٥، ٣٠١) (صحیح )
2890Sunan Abu Dawood

اولاد کی میراث کا بیان یعنی بیٹا بیٹی اور پوتا پوتی کی میراث کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ الأَوْدِيِّ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ الْأَوْدِيِّ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، وَسَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ فَسَأَلَهُمَا، عَنِ ابْنَةٍ وَابْنَةِ ابْنٍ، وأخت لأب وأم، فقالا لابنته النصف، وللأخت من الأب، والأم النصف، ولم يورثا ابنة الابن شيئا، وأت ابن مسعود فإنه سيتابعنا فأتاه الرجل فسأله وأخبره بقولهما، فقال لقد ضللت إذا وما أَنَا وَلَكِنِّي سَأَقْضِي فِيهَا بِقَضَاءِ مِنَ الْمُهْتَدِينَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِابْنَتِهِ النِّصْفُ، وَلِابْنَةِ الِابْنِ سَهْمٌ تَكْمِلَةُ الثُّلُثَيْنِ، وَمَا بَقِيَ فَلِلْأُخْتِ مِنَ الأَبِ وَالأُمِّ.

ہزیل بن شرحبیل اودی کہتے ہیں ایک شخص ابوموسیٰ اشعری ؓ اور سلیمان بن ربیعہ کے پاس آیا اور ان دونوں سے یہ مسئلہ پوچھا کہ ایک بیٹی ہو اور ایک پوتی اور ایک سگی بہن (یعنی ایک شخص ان کو وارث چھوڑ کر مرے) تو اس کی میراث کیسے بٹے گی؟ ان دونوں نے جواب دیا کہ بیٹی کو آدھا اور سگی بہن کو آدھا ملے گا، اور انہوں نے پوتی کو کسی چیز کا وارث نہیں کیا (اور ان دونوں نے پوچھنے والے سے کہا) تم عبداللہ بن مسعود ؓ سے بھی جا کر پوچھو تو وہ بھی اس مسئلہ میں ہماری موافقت کریں گے، تو وہ شخص ان کے پاس آیا اور ان سے پوچھا اور انہیں ان دونوں کی بات بتائی تو انہوں نے کہا: تب تو میں بھٹکا ہوا ہوں گا اور راہ یاب لوگوں میں سے نہ ہوں گا، لیکن میں تو رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کروں گا، اور وہ یہ کہ بیٹی کا آدھا ہوگا اور پوتی کا چھٹا حصہ ہوگا دو تہائی پورا کرنے کے لیے (یعنی جب ایک بیٹی نے آدھا پایا تو چھٹا حصہ پوتی کو دے کر دو تہائی پورا کردیں گے) اور جو باقی رہے گا وہ سگی بہن کا ہوگا۔

Narrated Huzail bin Shurahbil al-Awadi: A man came to Abu Musa al-Ashari and Salman bin Rabiah, and asked about a case where there were a daughter, a sons daughter and full sister. They replied: The daughter gets half and the full gets half. The sons daughter gets nothing. Go to Ibn Masud and you will find that he agrees with me. So the man came to him and informed him about their opinion. He said: I would then be in error and not be one of those who are rightly guided. But I decide concerning the matter as the Messenger of Allah ﷺ did: The daughter gets half, and the sons daughter gets a share which complete thirds (i. e. gets a sixth), and what remain to the full sister.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الفرائض ٨ (٦٧٣٦)، سنن الترمذی/الفرائض ٤ (٢٠٩٣)، سنن ابن ماجہ/الفرائض ٢ (٢٧٢١)، (تحفة الأشراف: ٩٥٩٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٨٩، ٤٢٨، ٤٤٠، ٤٦٣)، سنن الدارمی/الفرائض ٧ (٢٩٣٢) (صحیح )
2891Sunan Abu Dawood(2893)

اولاد کی میراث کا بیان یعنی بیٹا بیٹی اور پوتا پوتی کی میراث کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنِي أَبُو حَسَّانَ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، وَرَّثَ أُخْتًا وَابْنَةً فَجَعَلَ لِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا النِّصْفَ، وَهُوَ بِالْيَمَنِ وَنَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ حَيٌّ.

اسود بن یزید کہتے ہیں کہ معاذ بن جبل ؓ نے بہن اور بیٹی میں اس طرح ترکہ تقسیم کیا کہ آدھا مال بیٹی کو ملا اور آدھا بہن کو (کیونکہ بہن بیٹی کے ساتھ عصبہ ہوجاتی ہے) اور وہ یمن میں تھے، اور اللہ کے نبی کریم ﷺ اس وقت باحیات تھے۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : We went out with the Messenger of Allah ﷺ and came to a woman of the Ansar in al-Aswaf. The woman brought her two daughters, and said: Messenger of Allah, these are the daughters of Thabit ibn Qays who was killed as a martyr when he was with you at the battle of Uhud, their paternal uncle has taken all their property and inheritance, and he has not left anything for them. What do you think, Messenger of Allah? They cannot be married unless they have some property. The Messenger of Allah ﷺ said: Allah will decide regarding the matter. Then the verse of Surat an-Nisa was revealed: Allah (thus) directs you as regards your childrens (inheritance). Messenger of Allah ﷺ said: Call to me the woman and her husbands brother. He then said to their paternal uncle: Give them two-thirds and their mother an eighth, and what remains is yours. Abu Dawud said: The narrator Bishr made a mistake. They were the daughters of Saad bin al-Rabi for Thabit bin Qais was killed in the battle of Yamamah.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الفرائض ٦، ١٢ (٦٧٣٤)، (تحفة الأشراف: ١١٣٠٧)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الفرائض ٤ (٢٩٢١) (صحیح )
2892Sunan Abu Dawood(2891)

اولاد کی میراث کا بیان یعنی بیٹا بیٹی اور پوتا پوتی کی میراث کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جِئْنَا امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ فِي الْأَسْوَاقِ فَجَاءَتِ الْمَرْأَةُ بِابْنَتَيْنِ لَهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَاتَانِ بِنْتَا ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ، قُتِلَ مَعَكَ يَوْمَ أُحُدٍ وَقَدِ اسْتَفَاءَ عَمُّهُمَا مَالَهُمَا وَمِيرَاثَهُمَا كُلَّهُ فَلَمْ يَدَعْ لَهُمَا مَالًا إِلَّا أَخَذَهُ، فَمَا تَرَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَوَاللَّهِ لَا تُنْكَحَانِ أَبَدًا إِلَّا وَلَهُمَا مَالٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقْضِي اللَّهُ فِي ذَلِكَ قَالَ: وَنَزَلَتْ سُورَةُ النِّسَاءِ يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلادِكُمْ سورة النساء آية 11 الْآيَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ادْعُوا لِي الْمَرْأَةَ وَصَاحِبَهَا، فَقَالَ: لِعَمِّهِمَا أَعْطِهِمَا الثُّلُثَيْنِ، وَأَعْطِ أُمَّهُمَا الثُّمُنَ، وَمَا بَقِيَ فَلَكَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَخْطَأَ بِشْرٌ فِيهِ إِنَّمَا هُمَا ابْنَتَا سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، وَثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ قُتِلَ يَوْمَ الْيَمَامَةِ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے تو اسواف (مدینہ کے حرم) میں ایک انصاری عورت کے پاس پہنچے، وہ عورت اپنی دو بیٹیوں کو لے کر آئی، اور کہنے لگی: اللہ کے رسول! یہ دونوں ثابت بن قیس ؓ کی بیٹیاں ہیں، جو جنگ احد میں آپ کے ساتھ لڑتے ہوئے شہید ہوگئے ہیں، ان کے چچا نے ان کا سارا مال اور میراث لے لیا، ان کے لیے کچھ بھی نہ چھوڑا، اب آپ کیا فرماتے ہیں؟ اللہ کے رسول! قسم اللہ کی! ان کا نکاح نہیں ہوسکتا جب تک کہ ان کے پاس مال نہ ہو، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس کا فیصلہ فرمائے گا ، پھر سورة نساء کی یہ آیتیں يوصيكم الله في أولادکم نازل ہوئیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس عورت کو اور اس کے دیور کو بلاؤ ، تو آپ ﷺ نے ان دونوں لڑکیوں کے چچا سے کہا: دو تہائی مال انہیں دے دو، اور ان کی ماں کو آٹھواں حصہ دو، اور جو انہیں دینے کے بعد بچا رہے وہ تمہارا ہے ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس میں بشر نے غلطی کی ہے، یہ دونوں بیٹیاں سعد بن ربیع کی تھیں، ثابت بن قیس ؓ تو جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔

Narrated Jabir bin Abdullah (RA) : The wife of Saad bin al-Rabi said: Messenger of Allah, Saad died and left two daughters. He then narrated the rest of the tradition in a similar way. Abu Dawud said: This is the most correct tradition.

Notes · وضاحت
١ ؎: لہذا مسئلہ (٢٤) سے ہوگا، (١٦) دونوں بیٹیوں کے اور (٣) ان کی ماں کے اور (٥) ان کے چچا کے ہوں گے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الفرائض ٣ (٢٠٩٢)، سنن ابن ماجہ/الفرائض ٢ (٢٧٢٠)، (تحفة الأشراف: ٢٣٦٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٥٢) (حسن) (اس روایت میں ثابت بن قیس کا تذکرہ صحیح نہیں ہے جیسا کہ مؤلف نے بیان کیا ہے )
2893Sunan Abu Dawood(2892)

اولاد کی میراث کا بیان یعنی بیٹا بیٹی اور پوتا پوتی کی میراث کا بیان

حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ وَغَيْرُهُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ امْرَأَةَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ سَعْدًا هَلَكَ وَتَرَكَ ابْنَتَيْنِ وَسَاقَ نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا هُوَ أَصَحُّ.

جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ سعد بن ربیع کی عورت نے کہا: اللہ کے رسول! سعد مرگئے اور دو بیٹیاں چھوڑ گئے ہیں، پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ روایت زیادہ صحیح ہے۔

Narrated Al-Aswad bin Yazid: Muadh bin Jabal gave shares of inheritance to a sister and a daughter. He gave each of them half. He was at Yemen while the Prophet ﷺ was alive.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٢٣٦٥) (حسن )
2894Sunan Abu Dawood

دادی اور نانی کی میراث کا بیان

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ إِسْحَاق بْنِ خَرَشَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، أَنَّهُ قَالَ: جَاءَتِ الْجَدَّةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا، فَقَالَ: مَا لَكِ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى شَيْءٌ، وَمَا عَلِمْتُ لَكِ فِي سُنَّةِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، فَارْجِعِي حَتَّى أَسْأَلَ النَّاسَ، فَسَأَلَ النَّاسَ، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ: حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهَا السُّدُسَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَلْ مَعَكَ غَيْرُكَ ؟، فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَقَالَ: مِثْلَ مَا قَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَأَنْفَذَهُ لَهَا أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ جَاءَتِ الْجَدَّةُ الأُخْرَى إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا، فَقَالَ: مَا لَكِ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى شَيْءٌ، وَمَا كَانَ الْقَضَاءُ الَّذِي قُضِيَ بِهِ إِلَّا لِغَيْرِكِ وَمَا أَنَا بِزَائِدٍ فِي الْفَرَائِضِ، وَلَكِنْ هُوَ ذَلِكَ السُّدُسُ فَإِنِ اجْتَمَعْتُمَا فِيهِ فَهُوَ بَيْنَكُمَا وَأَيَّتُكُمَا خَلَتْ بِهِ فَهُوَ لَهَا.

قبیصہ بن ذویب کہتے ہیں کہ میت کی نانی ابوبکر صدیق ؓ کے پاس میراث میں اپنا حصہ دریافت کرنے آئی تو انہوں نے کہا: اللہ کی کتاب (قرآن پاک) میں تمہارا کچھ حصہ نہیں ہے، اور مجھے نبی اکرم ﷺ کی سنت میں بھی تمہارے لیے کچھ نہیں معلوم، تم جاؤ میں لوگوں سے دریافت کر کے بتاؤں گا، پھر انہوں نے لوگوں سے پوچھا تو مغیرہ بن شعبہ ؓ نے کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھا، آپ نے اسے چھٹا حصہ دلایا ہے، اس پر ابوبکر ؓ نے کہا: کیا تمہارے ساتھ کوئی اور بھی ہے (جو اس معاملے کو جانتا ہو) تو محمد بن مسلمہ ؓ کھڑے ہوئے اور انہوں نے بھی وہی بات کہی جو مغیرہ ؓ نے کہی تھی، تو ابوبکر ؓ نے اس کے لیے اسی کو نافذ کردیا، پھر عمر ؓ کی خلافت میں دادی عمر ؓ کے پاس اپنا میراث مانگنے آئی، عمر ؓ نے کہا: اللہ کی کتاب (قرآن) میں تمہارے حصہ کا ذکر نہیں ہے اور پہلے (رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر ؓ کے زمانہ میں) جو حکم ہوچکا ہے وہ نانی کے معاملے میں ہوا ہے، میں اپنی طرف سے فرائض میں کچھ بڑھا نہیں سکتا، لیکن وہی چھٹا حصہ تم بھی لو، اگر نانی بھی ہو تو تم دونوں ( سدس ) کو بانٹ لو اور جو تم دونوں میں اکیلی ہو (یعنی صرف نانی یا صرف دادی) تو اس کے لیے وہی چھٹا حصہ ہے۔

Narrated Qabisah ibn Dhuwayb: A grandmother came to Abu Bakr asking him for her share of inheritance. He said: There is nothing prescribed for you in Allahs Book, nor do I know anything for you in the Sunnah of the Prophet of Allah ﷺ Go home till I question the people. He then questioned the people, and al-Mughirah ibn Shubah said: I had been present with the Messenger of Allah ﷺ when he gave grandmother a sixth. Abu Bakr said: Is there anyone with you? Muhammad ibn Maslamah stood and said the same as al-Mughirah ibn Shubah had said. So Abu Bakr made it apply to her. Another grandmother came to Umar ibn al-Khattab asking him for her share of inheritance. He said: Nothing has been prescribed for you in Allahs Book. The decision made before you was made for a grandmother other than you. I am not going to add in the shares of inheritance; but it is that sixth. If there are two of you, it is shared between you, but whichever of you is the only one left gets it all.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الفرائض ١٠ (٢١٠١)، سنن ابن ماجہ/الفرائض ٤ (٢٧٢٤)، (تحفة الأشراف: ١١٢٣٢، ١١٥٢٢)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ الفرائض ٨ (٤)، مسند احمد (٤/٢٢٥) (ضعیف) (اس کی سند میں قبیصہ اور ابوبکر صدیق کے درمیان انقطاع ہے )
2895Sunan Abu Dawood

دادی اور نانی کی میراث کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، أَخْبَرَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ أَبُو الْمُنِيبِ الْعَتَكِيِّ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: جَعَلَ لِلْجَدَّةِ السُّدُسَ إِذَا لَمْ يَكُنْ دُونَهَا أُمٌّ.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے نانی کا چھٹا حصہ مقرر فرمایا ہے اگر ماں اس کے درمیان حاجب نہ ہو (یعنی اگر میت کی ماں زندہ ہوگی تو وہ نانی کو حصے سے محروم کر دے گی) ۔

Narrated Buraydah (RA) : The Prophet ﷺ appointed a sixth to a grandmother if no mother is left to inherit before her.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٩٨٥) (ضعیف) (اس کے راوی عبیداللہ کے بارے میں کلام ہے )
2896Sunan Abu Dawood

داداکی میراث کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنً، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ ابْنَ ابْنِي مَاتَ فَمَا لِي مِنْ مِيرَاثِهِ، فَقَالَ: لَكَ السُّدُسُ فَلَمَّا أَدْبَرَ دَعَاهُ، فَقَالَ: لَكَ سُدُسٌ آخَرُ فَلَمَّا أَدْبَرَ دَعَاهُ، فَقَالَ: إِنَّ السُّدُسَ الْآخَرَ طُعْمَةٌ، قَالَ قَتَادَةُ: فَلَا يَدْرُونَ مَعَ أَيِّ شَيْءٍ وَرَّثَهُ قَالَ قَتَادَةُ: أَقَلُّ شَيْءٍ وَرِثَ الْجَدُّ السُّدُسُ.

عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: میرا پوتا مرگیا ہے، مجھے اس کی میراث سے کیا ملے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارے لیے چھٹا حصہ ہے ، جب وہ واپس ہونے لگا تو آپ نے اس کو بلایا اور فرمایا: تمہارے لیے ایک اور چھٹا حصہ ہے ، جب وہ واپس ہونے لگا تو آپ ﷺ نے پھر اسے بلایا اور فرمایا: یہ دوسرا سدس تمہارے لیے تحفہ ہے ۔ قتادہ کہتے ہیں: معلوم نہیں دادا کو کس کے ساتھ سدس حصہ دار بنایا؟۔ قتادہ کہتے ہیں: سب سے کم حصہ جو دادا پاتا ہے وہ سدس ہے۔

Narrated Imran ibn Husayn: A man came to the Prophet ﷺ and said: My son has died; what do I receive from his estate? He replied: You receive a sixth. When he turned away he called him and said: You receive another sixth. When he turned away, he called him and said: The other sixth is an allowance (beyond what is due). Qatadah said: They (the Companions) did not know the heirs with whom he was given (a sixth). Qatadah said: The minimum share given to the grandfather was a sixth.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الفرائض ٩ (٢٠٩٩)، (تحفة الأشراف: ١٠٨٠١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٢٨، ٤٣٦) (ضعیف) (اس کے رواة قتادة اور حسن مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں، نیز حسن کے عمران بن حصین ؓ سے سماع میں بھی سخت اختلاف ہے )
2897Sunan Abu Dawood

داداکی میراث کا بیان

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ، أَنَّ عُمَرَ قَالَ: أَيُّكُمْ يَعْلَمُ مَا وَرَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَدَّ، فَقَالَ مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ: أَنَا وَرَّثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السُّدُسَ قَالَ: مَعَ مَنْ ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي، قَالَ: لَا دَرَيْتَ فَمَا تُغْنِي إِذًا ؟.

حسن بصری کہتے ہیں کہ عمر ؓ نے پوچھا: رسول اللہ ﷺ نے دادا کو ترکے میں سے جو دلایا ہے اسے تم میں کون جانتا ہے؟ معقل بن یسار ؓ نے کہا: میں (جانتا ہوں) رسول اللہ ﷺ نے اس کو چھٹا حصہ دلایا ہے، انہوں نے پوچھا: کس وارث کے ساتھ؟ وہ کہنے لگے: یہ تو معلوم نہیں، اس پر انہوں نے کہا: تمہیں پوری بات معلوم نہیں پھر کیا فائدہ تمہارے جاننے کا؟۔

Al-Hasan reported that Umar asked: Which of your knows what share the Messenger of Allah ﷺ had given to the grandfather from the estate? Maqil ibn Yasar said: The Messenger of Allah ﷺ gave him a sixth. He asked: Along with whom? He replied: I do not know. He said: You do not know; what is the use then?

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/ الکبری (٦٣٣٥)، سنن ابن ماجہ/الفرائض ٣ (٢٧٢٣)، (تحفة الأشراف: ١١٤٦٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٧) (صحیح) (حسن بصری کا عمر ؓ سے سماع نہیں ہے، لیکن دوسرے طرق اور شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود ٨ ؍ ٢٥١ )
2898Sunan Abu Dawood

عصبات کی میراث کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَمخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، وَهَذَا حَدِيثُ مَخْلَدٍ، وَهُوَ الأَشْبَعُ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْسِمْ الْمَالَ بَيْنَ أَهْلِ الْفَرَائِضِ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ، فَمَا تَرَكَتِ الْفَرَائِضُ فَلِأَوْلَى ذَكَرٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ذوی الفروض ١ ؎ میں مال کتاب اللہ کے مطابق تقسیم کر دو اور جو ان کے حصوں سے بچ رہے وہ اس مرد کو ملے گا جو میت سے سب سے زیادہ قریب ہو ٢ ؎۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ said: Divide the property among those whose share have been prescribed in the Book of Allah, and what remains from the prescribed shares goes to the nearest male heirs.

Notes · وضاحت
١ ؎: ذوی الفروض: وہ وارثین ہیں جن کے حصے کتاب اللہ میں مقرر ہیں۔ ٢ ؎: جیسے بھائی چچا کے بہ نسبت اور چچا زاد بھائی کی بہ نسبت اور بیٹا پوتے کی بہ نسبت میت سے زیادہ قریب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الفرائض ٥ (٦٧٣٢)، صحیح مسلم/الفرائض ١ (١٦١٥)، سنن الترمذی/الفرائض ٨ (٢٠٩٨)، سنن ابن ماجہ/الفرائض ١٠ (٢٧٤٠)، (تحفة الأشراف: ٥٧٠٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٩٢، ٣١٣، ٣٢٥)، سنن الدارمی/الفرائض ٢٨ (٣٠٣٠) (صحیح )
2899Sunan Abu Dawood

ذوی الارحام کی میراث کا بیان

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ بُدَيْلٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ لُحَيٍّ، عَنْ الْمِقْدَامِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَرَكَ كَلًّا فَإِلَيَّ، وَرُبَّمَا قَالَ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ وَأَنَا وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ أَعْقِلُ لَهُ وَأَرِثُهُ وَالْخَالُ وَارِثُ، مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ يَعْقِلُ عَنْهُ وَيَرِثُهُ.

مقدام ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص بوجھ (قرضہ یا بال بچے) چھوڑ جائے تو وہ میری طرف ہے، اور کبھی راوی نے کہا اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہے ٢ ؎ اور جو مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے، اور جس کا کوئی وارث نہیں اس کا میں وارث ہوں، میں اس کی طرف سے دیت دوں گا اور اس شخص کا ترکہ لوں گا، ایسے ہی ماموں اس کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہیں وہ اس کی دیت دے گا اور اس کا وارث ہوگا۔

Narrated Al-Miqdam al-Kindi: The Prophet ﷺ said: If anyone leaves a debt or a helpless family I shall be responsible-and sometimes the narrator said: Allah and His Messenger will be responsible-but if anyone leaves property, it goes to his heirs. I am the heirs of him who has none, paying blood-wit for him and inheriting from him; and a maternal uncle is the heir of him who has none, paying blood-wit for him and inheriting from him.

Notes · وضاحت
١ ؎: میت کا ایسا رشتہ دار جو نہ ذوی الفروض میں سے ہو اور نہ عصبہ میں سے۔ ٢ ؎: یعنی میں اس کا قرض ادا کروں گا اور اس کی اولاد کی خبر گیری کروں گا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الفرائض ٩ (٢٧٣٨)، والدیات ٧ (٢٦٣٤)، (تحفة الأشراف: ١١٥٦٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٣١، ١٣٣) (حسن صحیح )
2900Sunan Abu Dawood

ذوی الارحام کی میراث کا بیان

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، فِي آخَرِينَ قَالُوا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ بُدَيْلٍ يَعْنِي ابْنَ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْرَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ، عَنْ الْمِقْدَامِ الْكِنْدِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ، فَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيْعَةً فَإِلَيَّ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ وَأَنَا مَوْلَى مَنْ لَا مَوْلَى لَهُ أَرِثُ مَالَهُ وَأَفُكُّ عَانَهُ، وَالْخَالُ مَوْلَى مَنْ لَا مَوْلَى لَهُ يَرِثُ مَالَهُ وَيَفُكُّ عَانَهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد، رَوَاهُ الزُّبَيْدِيُّ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ عَائِذٍ، عَنْ الْمِقْدَامِ، وَرَوَاهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ رَاشِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمِقْدَامَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: يَقُولُ الضَّيْعَةُ مَعْنَاهُ عِيَالٌ.

مقدام کندی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں ہر مسلمان سے اس کی ذات کی نسبت قریب تر ہوں، جو کوئی اپنے ذمہ قرض چھوڑ جائے یا عیال چھوڑ جائے تو اس کا قرض ادا کرنا یا اس کے عیال کی پرورش کرنا میرے ذمہ ہے، اور جو کوئی مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا حق ہے، اور جس کا کوئی والی نہیں اس کا والی میں ہوں، میں اس کے مال کا وارث ہوں گا، اور میں اس کے قیدیوں کو چھڑاؤں گا، اور جس کا کوئی والی نہیں، اس کا ماموں اس کا والی ہے (یہ) اس کے مال کا وارث ہوگا اور اس کے قیدیوں کو چھڑائے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس روایت کو زبیدی نے راشد بن سعد سے، راشد نے ابن عائذ سے، ابن عائذ نے مقدام سے روایت کیا ہے اور اسے معاویہ بن صالح نے راشد سے روایت کیا ہے اس میں عن المقدام کے بجائے سمعت المقدام ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ضيعة کے معنی عیال کے ہیں۔

Narrated Al-Miqdam al-Kindi: The Prophet ﷺ said: I am nearer to every believer than himself, so if anyone leaves a debt or a helpless family, I shall be responsible, but if anyone leaves property, it goes to his heirs. I am patron of him who has none, inheriting his property and freeing him from his liabilities. A maternal uncle is patron of him who has none, inheriting his property and freeing him from his liabilities. Abu Dawud said: daiah means dependants or helpless family. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by al-Zubaidi from Rashid bin Saad from Ibn Aidh on the authority of al-Miqdam. It has also been transmitted by Muawiyah bin Salih from Rashid who said: I heard al-Miqdam (say).

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١١٥٦٩) (حسن صحیح )
2901Sunan Abu Dawood

ذوی الارحام کی میراث کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ عَتِيقٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حُجْرٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: أَنَا وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ أَفُكُّ عَانِيَهُ وَأَرِثُ مَالَهُ وَالْخَالُ وَارِثُ، مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ يَفُكُّ عَانِيَهُ وَيَرِثُ مَالَهُ.

مقدام ؓ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس کا کوئی وارث نہیں اس کا وارث میں ہوں اس کے قیدیوں کو چھڑاؤں گا، اور اس کے مال کا وارث ہوں گا، اور ماموں اس کا وارث ہے ١ ؎ جس کا کوئی وارث نہیں وہ اس کے قیدیوں کو چھڑائے گا، اور اس کے مال کا وارث ہوگا۔

Narrated Al-Miqdam (RA) : I heard the Messenger of Allah ﷺ say: I am the heirs of Him who has none, freeing him from his liabilities, and inheriting what he possesses. A maternal uncle is the heir of Him who has none, freeing him from his liabilities, and inheriting his property.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اپنے بھانجے کا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١٥٧٦) (حسن صحیح )
2902Sunan Abu Dawood

ذوی الارحام کی میراث کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ. ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ سُفْيَانَجَمِيعًا، عَنْ ابْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ وَرْدَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ مَوْلًى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاتَ وَتَرَكَ شَيْئًا وَلَمْ يَدَعْ وَلَدًا وَلَا حَمِيمًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَعْطُوا مِيرَاثَهُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ قَرْيَتِهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ سُفْيَانَ أَتَمُّ، وقَالَ مُسَدَّدٌ: قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَاهُنَا أَحَدٌ مَنْ أَهْلِ أَرْضِهِ، قَالُوا: نَعَمْ قَالَ: فَأَعْطُوهُ مِيرَاثَهُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا ایک غلام مرگیا، کچھ مال چھوڑ گیا اور کوئی وارث نہ چھوڑا، نہ کوئی اولاد، اور نہ کوئی عزیز، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس کا ترکہ اس کی بستی کے کسی آدمی کو دے دو ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سفیان کی روایت سب سے زیادہ کامل ہے، مسدد کی روایت میں ہے: نبی اکرم ﷺ نے پوچھا: یہاں کوئی اس کا ہم وطن ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اس کا ترکہ اس کو دے دو ۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : A client of the Prophet ﷺ died and left some property, but he left no child or relative. The Messenger of Allah ﷺ said: Give what he has left to a man belonging to his village. Abu Dawud said: The tradition of Sufyan is more perfect. Musaddad said: Thereupon the Prophet ﷺ said: Is there anyone belonging to his land ? They replied: Yes. He said: Then give him what he has left.

Notes · وضاحت
١ ؎: وہ ترکہ آپ کا حق تھا مگر آپ نے اس کے ہم وطن پر اسے صدقہ کردیا، امام کو ایسا اختیار ہے اس میں کوئی مصلحت ہی ہوگی۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الفرائض ١٣ (٢١٠٥)، سنن ابن ماجہ/الفرائض ٧ (٢٧٣٣)، (تحفة الأشراف: ١٦٣٨١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٣٧، ١٧٤، ١٨١) (صحیح )
2903Sunan Abu Dawood

ذوی الارحام کی میراث کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ جِبْرِيلَ بْنِ أَحْمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّ عِنْدِي مِيرَاثَ رَجُلٍ مِنْ الْأَزْدِ وَلَسْتُ أَجِدُ أَزْدِيًّا أَدْفَعُهُ إِلَيْهِ قَالَ: اذْهَبْ فَالْتَمِسْ أَزْدِيًّا حَوْلًا، قَالَ: فَأَتَاهُ بَعْدَ الْحَوْلِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَجِدْ أَزْدِيًّا أَدْفَعُهُ إِلَيْهِ، قَالَ: فَانْطَلِقْ فَانْظُرْ أَوَّلَ خُزَاعِيٍّ تَلْقَاهُ فَادْفَعْهُ إِلَيْهِ، فَلَمَّا وَلَّى قَالَ: عَلَيَّ الرَّجُلُ، فَلَمَّا جَاءَهُ قَالَ: انْظُرْ كُبْرَ خُزَاعَةَ فَادْفَعْهُ إِلَيْهِ.

بریدہ ؓ کہتے ہیں ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: قبیلہ ازد کے ایک آدمی کا ترکہ میرے پاس ہے اور مجھے کوئی ازدی مل نہیں رہا ہے جسے میں یہ ترکہ دے دوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ایک سال تک کسی ازدی کو تلاش کرتے رہو ۔ وہ شخص پھر ایک سال بعد آپ ﷺ کے پاس آیا اور بولا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ازدی نہیں ملا کہ میں اسے ترکہ دے دیتا آپ ﷺ نے فرمایا: جاؤ کسی خزاعی ہی کو تلاش کرو، اگر مل جائے تو مال اس کو دے دو ، جب وہ شخص پیٹھ پھیر کر چلا تو آپ ﷺ نے فرمایا: آدمی کو میرے پاس بلا کے لاؤ ، جب وہ آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: دیکھو جو شخص خزاعہ میں سب سے بڑا ہو اس کو یہ مال دے دینا ١ ؎۔

Narrated Buraydah ibn al-Hasib: A man came to the Messenger of Allah ﷺ and said: I have property left by a man of Azd. I do not find any man of Azd to give it to him. He said: Go and look for man of Azd for a year. He then came to him after one year and said: Messenger of Allah, I did not find any man of Azd to give it to him. He said: Look for a man of Khuzaah whom you meet first and give it to him. When he turned away, he said; Call the man to me. When he came to him, he said: Look for the leading man of Khuzaah and give it to him.

Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ جو سب سے بڑا ہوگا وہ اپنے جد اعلیٰ سے زیادہ قریب ہوگا اور جو اپنے جد اعلیٰ سے قریب ہوگا ازد سے بھی زیادہ قریب ہوگا کیونکہ خزاعہ ازد ہی کی ایک شاخ ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٩٥٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٤٧) (ضعیف) (اس کے راوی ” جبریل بن احمر “ ضعیف ہیں )
2904Sunan Abu Dawood

ذوی الارحام کی میراث کا بیان

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَسْوَدَ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ جِبْرِيلَ بْنِ أَحْمَرَ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: مَاتَ رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَةَ فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِيرَاثِهِ، فَقَالَ: الْتَمِسُوا لَهُ وَارِثًا، أَوْ ذَا رَحِمٍ فَلَمْ يَجِدُوا لَهُ وَارِثًا وَلَا ذَا رَحِمٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَعْطُوهُ الْكُبْرَ مِنْ خُزَاعَةَ، وَقَالَ يَحْيَى: قَدْ سَمِعْتُهُ مَرَّةً يَقُولُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: انْظُرُوا أَكْبَرَ رَجُلٍ مِنْ خُزَاعَةَ.

بریدہ ؓ کہتے ہیں خزاعہ (قبیلہ) کے ایک شخص کا انتقال ہوگیا، اس کی میراث رسول اللہ ﷺ کے پاس لائی گئی تو آپ نے فرمایا: اس کا کوئی وارث یا ذی رحم تلاش کرو تو نہ اس کا کوئی وارث ملا، اور نہ ہی کوئی ذی رحم، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: خزاعہ میں سے جو بڑا ہو اسے میراث دیدو ۔ یحییٰ کہتے ہیں: ایک بار میں نے شریک سے سنا وہ اس حدیث میں یوں کہتے تھے: دیکھو جو شخص خزاعہ میں سب سے بڑا ہو اسے دے دو۔

Narrated Buraydah ibn al-Hasib: A man of Khuzaah died and his estate was brought to the Prophet ﷺ . He said: Look for his heir or some relative. But they found neither heir nor relative. The Messenger of Allah ﷺ said: Give it to the leading man of Khuzaah. The narrator Yahya said: Sometimes I heard him (al-Husayn ibn Aswad) say in this tradition: Look for the greatest man of Khuzaah.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اوپری نسب میں خزاعہ سے نزدیک ہو۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٩٥٥) (ضعیف )