وصیتوں کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 15 · 23 hadiths · Page 2 of 2

2882Sunan Abu Dawood

جو شخص وصیت کیے بغیر مرجائے اس کی طرف سے صدقہ دینا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاق، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي تُوُفِّيَتْ أَفَيَنْفَعُهَا إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّ لِي مَخْرَفًا وَإِنِّي أُشْهِدُكَ أَنِّي قَدْ تَصَدَّقْتُ بِهِ عَنْهَا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص (سعد بن عبادہ ؓ) نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری ماں کا انتقال ہوگیا ہے، کیا اگر میں ان کی طرف سے خیرات کروں تو انہیں فائدہ پہنچے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں (پہنچے گا) ، اس نے کہا: میرے پاس کھجوروں کا ایک باغ ہے، میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے اسے اپنی ماں کی طرف سے صدقہ کردیا۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : A man said: Messenger of Allah, my mother has died ; will it benefit her if I give sadaqah on her behalf ? He said: Yes. He said: I have a garden, and I call you to witness that I have given it as sadaqah on her behalf.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوصایا ٢٠ (٢٧٧٠)، سنن الترمذی/الزکاة ٣٣ (٦٦٩)، سنن النسائی/الوصایا ٨ (٣٦٨٥)، (تحفة الأشراف: ٦١٦٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٧٠) (صحیح )
2883Sunan Abu Dawood

جو شخص وصیت کیے بغیر مرجائے اس کی طرف سے صدقہ دینا

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ الْعَاصَ بْنَ وَائِلٍ أَوْصَى أَنْ يُعْتِقَ عَنْهُ مِائَةُ رَقَبَةٍ، فَأَعْتَقَ ابْنُهُ هِشَامٌ خَمْسِينَ رَقَبَةً، فَأَرَادَ ابْنُهُ عَمْرٌو أَنْ يُعْتِقَ عَنْهُ الْخَمْسِينَ الْبَاقِيَةَ، فَقَالَ: حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي أَوْصَى بِعَتْقِ مِائَةِ رَقَبَةٍ، وَإِنَّ هِشَامًا أَعْتَقَ عَنْهُ خَمْسِينَ وَبَقِيَتْ عَلَيْهِ خَمْسُونَ رَقَبَة، أَفَأُعْتِقُ عَنْهُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهُ لَوْ كَانَ مُسْلِمًا فَأَعْتَقْتُمْ عَنْهُ، أَوْ تَصَدَّقْتُمْ عَنْهُ، أَوْ حَجَجْتُمْ عَنْهُ، بَلَغَهُ ذَلِكَ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ عاص بن وائل نے سو غلام آزاد کرنے کی وصیت کی تو اس کے بیٹے ہشام نے پچاس غلام آزاد کئے، اس کے بعد اس کے (دوسرے) بیٹے عمرو نے ارادہ کیا کہ باقی پچاس وہ اس کی طرف سے آزاد کردیں، پھر انہوں نے کہا: (ہم رکے رہے) یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھ لیں، چناچہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے باپ نے سو غلام آزاد کرنے کی وصیت کی تھی تو ہشام نے اس کی طرف سے پچاس غلام آزاد کردیئے ہیں، اور پچاس غلام ابھی آزاد کرنے باقی ہیں تو کیا میں انہیں اس کی طرف سے آزاد کر دوں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر وہ (باپ) مسلمان ہوتا اور تم اس کی طرف سے آزاد کرتے یا صدقہ دیتے یا حج کرتے تو اسے ان کا ثواب پہنچتا ١ ؎۔

Narrated Amr bin Suhaib: On his fathers authority, said that his grandfather told that al-As ibn Wail left his will that a hundred slaves should be emancipated on his behalf. His son Hisham emancipated fifty slaves and his son Amr intended to emancipate the remaining fifty on his behalf, but he said: I should ask first the Messenger of Allah ﷺ . He, therefore, came to the Prophet ﷺ and said: Messenger of Allah, my father left in his will that a hundred slaves should be emancipated on his behalf and Hisham has emancipated fifty on his behalf and fifty remain. Shall I emancipate them on his behalf? The Messenger of Allah ﷺ said: Had he been a Muslim and you had emancipated slaves on his behalf, or given sadaqah on his behalf, or performed the pilgrimage, that would have reached him.

Notes · وضاحت
١ ؎: لیکن جب وہ کافر مرا ہے اور کافر کا کوئی عمل اللہ کے یہاں مقبول نہیں لہٰذا اس کی طرف سے تمہارے غلام آزاد کرنے سے اسے کوئی فائدہ نہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٦٧٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٨١) (حسن )
2884Sunan Abu Dawood

اگر کوئی شخص قرض داری کی حالت میں وفات پا جائے اور اسکا مال موجود ہو تو اس کے وارث کو قرض خواہوں سے مہلت دلوائی جائیگی

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَنَّ شُعَيْبَ بْنَ إِسْحَاق حَدَّثَهُمْ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ: أَنَّ أَبَاهُ تُوُفِّيَ وَتَرَكَ عَلَيْهِ ثَلَاثِينَ وَسْقًا لِرَجُلٍ مِنْ يَهُودَ فَاسْتَنْظَرَهُ جَابِرٌ، فَأَبَى فَكَلَّمَ جَابِرٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَشْفَعَ لَهُ إِلَيْهِ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَلَّمَ الْيَهُودِيَّ لِيَأْخُذَ ثَمَرَ نَخْلِهِ بِالَّذِي لَهُ عَلَيْهِ فَأَبَى عَلَيْهِ، وَكَلَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنْظِرَهُ فَأَبَى، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ ان کے والد انتقال کر گئے اور اپنے ذمہ ایک یہودی کا تیس وسق کھجور کا قرضہ چھوڑ گئے، جابر ؓ نے اس سے مہلت مانگی تو اس نے (مہلت دینے سے) انکار کردیا، تو آپ نے نبی اکرم ﷺ سے بات کی کہ آپ چل کر اس سے سفارش کردیں، رسول اللہ ﷺ اس کے پاس تشریف لائے اور یہودی سے بات کی کہ وہ (اپنے قرض کے بدلے میں) ان کے کھجور کے باغ میں جتنے پھل ہیں لے لے لیکن اس نے انکار کیا پھر رسول اللہ ﷺ نے اس سے کہا: اچھا جابر کو مہلت دے دو ، اس نے اس سے بھی انکار کیا، اور راوی نے پوری حدیث بیان کی ١ ؎۔

Narrated Jabir bin Abdullah (RA) : That his father died and left a debt of thirty wasqs of a Jew on him. Jabir asked him to defer, but he refused. Jabir then spoke to the Messenger of Allah ﷺ asking him to mediate to him on his behalf. The Messenger of Allah ﷺ came to the Jew and spoke to him about taking fruit-dates in lieu of the debt that was on him. But he refused. The Messenger of Allah ﷺ asked him to defer (the debt) to him, but he refused. He then narrated the rest of the tradition.

Notes · وضاحت
١ ؎: پھر رسول اللہ ﷺ نے خود اپنے مبارک ہاتھوں سے جابر ؓ کے باغ کے کھجوروں کو قرض خواہوں کے مابین تقسیم کرنا شروع کردیا، بفضل الٰہی سب کا قرضہ اداء ہوگیا اور کھجوروں کا ڈھیر ویسا ہی رہا، یہ آپ کا معجزہ تھا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٥١ (٢١٢٧)، الاستقراض ٨ (٢٣٩٥)، ٩ (٢٣٩٦)، ١٨ (٢٤٠٥)، الھبة ٢١ (٢٦٠١)، الصلح ١٣ (٢٧٠٩)، الوصایا ٣٦ (٢٧٨١)، المناقب ٢٥ (٣٥٨٠)، المغازي ١٨ (٤٠٥٣)، سنن النسائی/الوصایا ٤ (٣٦٧٠)، سنن ابن ماجہ/الصدقات ٢٠ (٢٤٣٤)، (تحفة الأشراف: ٣١٢٦) (صحیح )