انگوٹھی پہننے کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 31 · 26 hadiths · Page 1 of 2

4214Sunan Abu Dawood

انگوٹھی بنانے کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُطَرِّفٍ الرُّوَاسِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى بَعْضِ الْأَعَاجِمِ فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهُمْ لَا يَقْرَءُونَ كِتَابًا إِلَّا بِخَاتَمٍ، فَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بعض شاہان عجم کو خط لکھنے کا ارادہ فرمایا تو آپ سے عرض کیا گیا کہ وہ ایسے خطوط کو جو بغیر مہر کے ہوں نہیں پڑھتے تو آپ ﷺ نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی اور اس میں محمد رسول الله کندہ کرایا۔

Narrated Anas bin Malik (RA): The Messenger of Allah ﷺ wanted to write to some persian rulers. He was told that they would not read a letter without a seal in the form of a silver ring on which he engraved Muhammad the Messenger of Allah.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٤٧ (٥٨٦٨)، ٥٠ (٥٨٧٢)، ٥٢ (٥٨٧٥)، ٥٤ (٥٨٧٧)، (تحفة الأشراف: ١١٦٣، ١١٨٥، ١٢٥٦، ١٣٦٨)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/اللباس ١٢ (٢٠٩٢)، سنن الترمذی/اللباس ١٤ (١٧٣٩)، الشمائل ١١ (٩٢)، الاستئذان (٢٧١٨)، سنن النسائی/الزینة سنن ابن ماجہ/اللباس ٣٩ (٣٦٤١)، ٤١ (٣٦٤٥)، مسند احمد (٣/١٦١، ١٧٠، ١٨١، ١٩٨، ٢٠٩، ٢٢٣) (صحیح )
4215Sunan Abu Dawood

انگوٹھی بنانے کا بیان

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، بِمَعْنَى حَدِيثِ عِيسَى بْنِ يُونُسَ زَادَ فَكَانَ فِي يَدِهِ حَتَّى قُبِضَ وَفِي يَدِ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى قُبِضَ وَفِي يَدِ عُمَرَ حَتَّى قُبِضَ وَفِي يَدِ عُثْمَانَ، فَبَيْنَمَا هُوَ عِنْدَ بِئْرٍ إِذْ سَقَطَ فِي الْبِئْرِ، فَأَمَرَ بِهَا فَنُزِحَتْ فَلَمْ يَقْدِرْ عَلَيْهِ.

اس سند سے بھی انس سے عیسیٰ بن یونس کی روایت کے ہم معنی حدیث مروی ہے، اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ پھر یہ انگوٹھی آپ ﷺ کی وفات تک آپ کے ہاتھ میں رہی پھر ابوبکر صدیق ؓ کے ہاتھ میں رہی یہاں تک کہ ان کی وفات ہوگئی، پھر عمر ؓ کے ہاتھ میں رہی یہاں تک کہ وہ بھی وفات پا گئے، پھر عثمان ؓ کے ہاتھ میں رہی وہ ایک کنویں کے پاس تھے کہ اسی دوران انگوٹھی کنویں میں گرگئی، انہوں نے حکم دیا تو اس کا سارا پانی نکالا گیا لیکن وہ اسے پا نہیں سکے۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Anas through a different chain of narrators. This version as transmitted by Isa bin Yunus adds: It remained in his hand until he died, in the hand of Abu Bakr until he died, in the hand of Umar until he died, and in the hand of Uthman. When he was near a well, it fell down in it. He ordered to take it out, but it could not be found.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١١٨٥) (صحیح الإسناد )
4216Sunan Abu Dawood

انگوٹھی بنانے کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسٌ، قَالَ: كَانَ خَاتَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ وَرِقٍ فَصُّهُ حَبَشِيٌّ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی انگوٹھی چاندی کی تھی، اس کا نگینہ حبشی تھا۔

Narrated Anas (RA) : The signet-ring of the Prophet ﷺ was of silver with an Abyssinian stone.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ اللباس ٤٧ (٥٨٦٨)، صحیح مسلم/ اللباس ١٢ (٢٠١٢)، سنن الترمذی/ اللباس ١٤ (١٧٣٩)، سنن النسائی/ الزینة ٤٥ (٥١٩٩)، سنن ابن ماجہ/ اللباس ٣٩ (٣٦٤١)، ٤١ (٣٦٤٦)، (تحفة الأشراف: ١٥٥٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٠٩، ٢٢٥) (صحیح )
4217Sunan Abu Dawood

انگوٹھی بنانے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ خَاتَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِضَّةٍ كُلُّهُ فَصُّهُ مِنْهُ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی پوری انگوٹھی چاندی کی تھی، اس کا نگینہ بھی چاندی کا تھا۔

Narrated Anas (RA) : The signet-ring of the Prophet ﷺ was all of silver as was also its stone.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/اللباس ١٥ (١٧٤٠)، الشمائل ١١ (٨٤)، سنن النسائی/الزینة ٤٥ (٥٢٠٣)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٣٩ (٣٦٤١)، (تحفة الأشراف: ٦٦٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس ٤٨ (٥٨٧٠) (صحیح )
4218Sunan Abu Dawood

انگوٹھی بنانے کا بیان

حَدَّثَنَا نُصَيْرُ بْنُ الْفَرَجِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، وَجَعَلَ فَصَّهُ مِمَّا يَلِي بَطْنَ كَفِّهِ وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِمَ الذَّهَبِ فَلَمَّا رَآهُمْ قَدِ اتَّخَذُوهَا رَمَى بِهِ، وَقَالَ: لَا أَلْبَسُهُ أَبَدًا ثُمَّ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ نَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ثُمَّ لَبِسَ الْخَاتَمَ بَعْدَهُ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ لَبِسَهُ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ، عُمَرُ ثُمَّ لَبِسَهُ بَعْدَهُ عُثْمَانُ حَتَّى وَقَعَ فِي بِئْرِ أَرِيسَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَلَمْ يَخْتَلِفِ النَّاسُ عَلَى عُثْمَانَ حَتَّى سَقَطَ الْخَاتَمُ مِنْ يَدِهِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سونے کی انگوٹھی بنائی، اس کے نگینہ کو اپنی ہتھیلی کے پیٹ کی جانب رکھا اور اس میں محمد رسول الله کندہ کرایا، تو لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوا لیں، جب آپ نے انہیں سونے کی انگوٹھیاں پہنے دیکھا تو اسے پھینک دیا، اور فرمایا: اب میں کبھی اسے نہیں پہنوں گا پھر آپ ﷺ نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی جس میں محمد رسول الله کندہ کرایا، پھر آپ کے بعد وہی انگوٹھی ابوبکر ؓ نے پہنی، پھر ابوبکر ؓ کے بعد عمر ؓ نے پھر ان کے بعد عثمان ؓ نے پہنی یہاں تک کہ وہ بئراریس میں گر پڑی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عثمان سے لوگوں کا اختلاف اس وقت تک نہیں ہوا جب تک انگوٹھی ان کے ہاتھ میں رہی (جب وہ گرگئی تو پھر اختلافات اور فتنے رونما ہونے شروع ہوگئے) ۔

Narrated Ibn Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ took a signet-ring of gold, and put the stone next the palm of his hand. He engraved on it Muhammad, the Messenger of Allah. The people then took signet-rings of gold. When he saw that they had taken them (like his ring) he threw it away and said: I shall never wear it. He then fashioned a silver ring and engraved on it Muhammad, the Messenger of Allah. Then Abu Bakr wore it after him, then Umar wore it after Abu Bakr, and the Uthman wore it after Umar till it fell down in a well called Aris. Abu Dawud said: The people did not disagree on Uthman till the signet-rin fell down from his hand.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٤٥ (٥٨٦٦)، الأیمان والنذور ٦ (٦٦٥١)، الاعتصام ٤ (٧٢٩٨)، (تحفة الأشراف: ٧٨٣٢)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/اللباس ١٢ (٢٠٩٢)، سنن الترمذی/الشمائل ١١ (٨٤)، اللباس ١٦ (١٧٤١)، سنن النسائی/الزینة ٤٥ (٥١٩٩)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٣٩ (٣٦٣٩) (صحیح )
4219Sunan Abu Dawood

انگوٹھی بنانے کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، فِي هَذَا الْخَبَرِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، وَقَالَ: لَا يَنْقُشْ أَحَدٌ عَلَى نَقْشِ خَاتَمِي هَذَا، ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ.

اس سند سے بھی ابن عمر ؓ سے اس روایت میں مرفوعاً مروی ہے اس میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے محمد رسول الله کندہ کرایا، اور فرمایا: کوئی میری اس انگوٹھی کے طرز پر کندہ نہ کرائے پھر راوی نے آگے پوری حدیث بیان کی۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn Umar through a different chain of narrators from the Prophet ﷺ . This version adds: He engraved on it Muhammad, the Messenger of Allah. and said: No one must engrave anything in the manner of this signet-ring of mine. He then transmitted the rest of the tradition.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ اللباس ١٢ (٢٠٩١)، سنن الترمذی/ الشمائل (١٠١)، سنن النسائی/ الزینة من المجتبی ٢٦ (٥٢٩٠)، سنن ابن ماجہ/ اللباس ٣٩ (٣٦٣٩)، ٤١ (٣٦٤٥)، (تحفة الأشراف: ٧٥٩٩) (صحیح )
4220Sunan Abu Dawood

انگوٹھی بنانے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بِنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ بِهَذَا الْخَبَرِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَالْتَمَسُوهُ فَلَمْ يَجِدُوهُ، فَاتَّخَذَ عُثْمَانُ خَاتَمًا وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: فَكَانَ يَخْتِمُ بِهِ أَوْ يَتَخَتَّمُ بِهِ.

اس سند سے بھی ابن عمر ؓ سے مرفوعاً یہی حدیث مروی ہے، اس میں یہ اضافہ ہے کہ لوگوں نے اسے ڈھونڈا لیکن وہ ملی نہیں، تو عثمان ؓ نے ایک دوسری انگوٹھی بنوائی، اور اس میں محمد رسول الله کندہ کرایا۔ راوی کہتے ہیں: وہ اسی سے مہر لگایا کرتے تھے، یا کہا: اسے پہنا کرتے تھے۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn Umar through different chain of narrators from the Prophet ﷺ . This version adds: They searched for it but could not find it. Uthman then fashioned a signet-ring and engraved on it Muhammad, the Messenger of Allah. He used to wear it or stamp with it.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزینة ٥١ (٥٢٢٠)، (تحفة الأشراف: ٨٤٥٠)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس ٤٦ (٥٨٦٦)، صحیح مسلم/اللباس ١٢ (٥٤٧٦)، حم (٢/٢٢) (ضعیف الإسناد ومنکر المتن )
4221Sunan Abu Dawood

انگوٹھی بلا ضرورت نہیں پہننا چاہیے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ: رَأَى فِي يَدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ يَوْمًا وَاحِدًا، فَصَنَعَ النَّاسُ، فَلَبِسُوا وَطَرَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَرَحَ النَّاسُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ، وَشُعَيْبٌ، وَابْنُ مُسَافِرٍ كُلُّهُمْ قَالَ: مِنْ وَرِقٍ.

انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک دن رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ میں چاندی کی ایک انگوٹھی دیکھی تو لوگوں نے بھی انگوٹھیاں بنوا لیں اور پہننے لگے، پھر نبی اکرم ﷺ نے انگوٹھی پھینک دی تو لوگوں نے بھی پھینک دی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے زیاد بن سعد، شعیب اور ابن مسافر نے زہری سے روایت کیا ہے، اور سبھوں نے من ورق کہا ہے۔

Anas bin Malik (RA) said that he saw a silver signet-ring on the hand of the Prophet ﷺ only for a day. The people then fashioned and wore (rings). The Prophet ﷺ then threw it away and the people also threw (them.) Abu Dawud said: Ziyad bin Saad, Shuaib and Ibn Musafir transmitted it from al-Zuhri. Ali said in their versions: of silver.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٤٦ (٥٨٦٨)، صحیح مسلم/اللباس والزینة من المجتبی ٢٧ (٥٢٩٣)، (تحفة الأشراف: ١٤٧٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٦٠، ٢٢٣، ٢٢٥) (صحیح )
4222Sunan Abu Dawood

سونے کی انگوٹھی کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ الرُّكَيْنَ بْنَ الرَّبِيعِ يُحَدِّثُ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يَقُولُ: كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ عَشْرَ خِلَالٍ الصُّفْرَةَ يَعْنِي الْخَلُوقَ، وَتَغْيِيرَ الشَّيْبِ وَجَرَّ الْإِزَارِ وَالتَّخَتُّمَ بِالذَّهَبِ وَالتَّبَرُّجَ بِالزِّينَةِ لِغَيْرِ مَحَلِّهَا وَالضَّرْبَ بِالْكِعَابِ وَالرُّقَى إِلَّا بِالْمُعَوِّذَاتِ وَعَقْدَ التَّمَائِمِ وَعَزْلَ الْمَاءِ لِغَيْرِ أَوْ غَيْرَ مَحَلِّهِ أَوْ عَنْ مَحَلِّهِ وَفَسَادَ الصَّبِيِّ غَيْرَ مُحَرِّمِهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: انْفَرَدَ بِإِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثِ أَهْلُ الْبَصْرَةِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے تھے کہ اللہ کے نبی کریم ﷺ دس خصلتیں ناپسند فرماتے تھے، زردی یعنی خلوق کو، سفید بالوں کے تبدیل کرنے کو ١ ؎، تہ بند ٹخنوں سے نیچے لٹکانے کو، سونے کی انگوٹھی پہننے کو، بےموقع و محل اجنبیوں کے سامنے عورتوں کے زیب و زینت کے ساتھ اور بن ٹھن کر نکلنے کو، شطرنج کھیلنے کو، معوذات کے علاوہ سے جھاڑ پھونک کرنے کو، تعویذ اور گنڈے لٹکانے کو اور ناجائز جگہ منی ڈالنے کو، اور بچے کے فساد کو یعنی اسے کمزور کرنے کو اس طرح پر کہ ایام رضاعت میں اس کی ماں سے صحبت کرے البتہ اسے حرام نہیں ٹھہراتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اہل بصرہ اس حدیث کی سند میں منفرد ہیں، واللہ اعلم

Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : The Prophet of Allah ﷺ disliked ten things: Yellow colouring, meaning khaluq, dyeing grey hair, trailing the lower garment, wearing a gold signet-ring, a woman decking herself before people who are not within the prohibited degrees, throwing dice, using spells except with the Muawwidhatan, wearing amulets, withdrawing the penis before the semen is discharged, in the case of a woman who is wife or not a wife, and having intercourse with a woman who is suckling a child; but he did not declare them to be prohibited. Abu Dawud said: Only the transmitters of Basrah have transmitted this tradition.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی انہیں اکھیڑنے یا ان میں کالا خضاب لگانے کو۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزینة ١٧ (٥١٠٣)، (تحفة الأشراف: ٩٣٥٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٨٠، ٣٩٧، ٤٣٩) (منکر) (اس کے رواة قاسم اور عبدالرحمن دونوں لین الحدیث ہیں )
4223Sunan Abu Dawood

لوہے کی انگوٹھی پہننا

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ الْمَعْنَى، أَنَّ زَيْدَ بْنَ حُبَابٍ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ السُّلَمِيِّ الْمَرْوَزِيِّ أَبِي طَيْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ شَبَهٍ، فَقَالَ لَهُ: مَا لِي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ الْأَصْنَامِ، فَطَرَحَهُ ثُمَّ جَاءَ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ، فَقَالَ: مَا لِي أَرَى عَلَيْكَ حِلْيَةَ أَهْلِ النَّارِ، فَطَرَحَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ أَيِّ شَيْءٍ أَتَّخِذُهُ ؟ قَالَ: اتَّخِذْهُ مِنْ وَرِقٍ وَلَا تُتِمَّهُ مِثْقَالًا، وَلَمْ يَقُلْ مُحَمَّدٌ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يَقُلْ الْحَسَنُ السُّلَمِيَّ الْمَرْوَزِيَّ.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آیا، وہ پتیل کی انگوٹھی پہنے ہوئے تھا تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: کیا بات ہے، میں تجھ سے بتوں کی بدبو محسوس کر رہا ہوں؟ تو اس نے اپنی انگوٹھی پھینک دی، پھر لوہے کی انگوٹھی پہن کر آیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: کیا بات ہے، میں تجھے جہنمیوں کا زیور پہنے ہوئے دیکھتا ہوں؟ تو اس نے پھر اپنی انگوٹھی پھینک دی، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! پھر کس چیز کی انگوٹھی بنواؤں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: چاندی کی بنواؤ اور اسے ایک مثقال سے کم رکھو ١ ؎۔

Narrated Buraydah ibn al-Hasib: A man came to the Prophet ﷺ and he was wearing a signet-ring of yellow copper. He said to him: How is it that I notice the odour of idols in you? So he threw it away, and came wearing an iron signet ring. He (the Prophet) said: What is it that I see you wearing the adornment of the inhabitants of Hell? So he threw it away. He asked: Messenger of Allah, what material I must use? He said: Make it of silver, but do not weigh it as much as a mithqal, The narrator Muhammad did not say: Abdullah bin Muslim, and al-Hasan did not say: al-Sulami al-Marwazi.

Notes · وضاحت
١ ؎: ایک مثقال ساڑھے چار ماشے کا ہوتا ہے اگر اس کے برابر ہوگی تو بھاری اور بد وضع ہوگی یا مردوں کے لئے اس سے زیادہ چاندی کا استعمال درست نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/اللباس ٤٣ (١٧٨٥)، سنن النسائی/الزینة ٤٤ (٥١٩٨)، (تحفة الأشراف: ١٩٨٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٥٩) (ضعیف) (ابوطیبہ عبداللہ بن مسلم کثیرالوہم راوی ہیں )
4224Sunan Abu Dawood

لوہے کی انگوٹھی پہننا

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَزِيَادُ بْنُ يَحْيَى، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ أَبُو عَتَّابٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مَكِينٍ نُوحُ بْنُ رَبِيعَةَ، حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ الْمُعَيْقِيبِ، وَجَدُّهُ مِنْ قِبَلِ أُمِهِ أَبُو ذُبَابٍ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: كَانَ خَاتَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حَدِيدٍ مَلْوِيٌّ عَلَيْهِ فِضَّةٌ، قَالَ: فَرُبَّمَا كَانَ فِي يَدِهِ، قَالَ: وَكَانَ الْمُعَيْقِيبُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

معیقیب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی انگوٹھی لوہے کی تھی اس پر چاندی کی پالش تھی کبھی کبھی وہ انگوٹھی میرے ہاتھ میں ہوتی۔ ٍ راوی کہتے ہیں: اور نبی اکرم ﷺ کی انگوٹھی کے امین معیقیب تھے۔

Iyas bin al-Harith bin al-Muaiqib quoting his grandfather said and his grandfather from his mothers side was Abu Dhubab: The signet-ring of the Prophet ﷺ was of iron polished with silver. Sometimes it remained in my possession. Al-Muayqib was in charge of the signet-ring of the Prophet ﷺ .

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزینة ٤٧ (٥٢٠٨)، (تحفة الأشراف: ١١٤٨٦) (ضعیف )
4225Sunan Abu Dawood

لوہے کی انگوٹھی پہننا

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُلِ اللَّهُمَّ اهْدِنِي وَسَدِّدْنِي وَاذْكُرْ بِالْهِدَايَةِ هِدَايَةَ الطَّرِيقِ وَاذْكُرْ بِالسَّدَادِ تَسْدِيدَكَ السَّهْمَ، قَالَ: وَنَهَانِي أَنْ أَضَعَ الْخَاتَمَ فِي هَذِهِ أَوْ فِي هَذِهِ لِلسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى شَكَّ عَاصِمٌ، وَنَهَانِي عَنِ الْقَسِّيَّةِ وَالْمِيثَرَةِ، قَالَ أَبُو بُرْدَةَ: فَقُلْنَا لِعَلِيٍّ: مَا الْقَسِّيَّةُ ؟ قَالَ: ثِيَابٌ تَأْتِينَا مِنَ الشَّامِ، أَوْ مِنْ مِصْرَ مُضَلَّعَةٌ فِيهَا أَمْثَالُ الْأُتْرُجِّ، قَالَ: وَالْمِيثَرَةُ شَيْءٌ كَانَتْ تَصْنَعُهُ النِّسَاءُ لِبُعُولَتِهِنَّ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: کہو: اے اللہ! مجھے ہدایت دے، اور درستگی پر قائم رکھ، اور ہدایت سے سیدھی راہ پر چلنے کی نیت رکھو، درستگی سے تیر کی طرح سیدھا رہنے یعنی سیدھی راہ پر جمے رہنے کی نیت کرو اور آپ ﷺ نے مجھے منع فرمایا کہ انگوٹھی اس انگلی یا اس انگلی میں رکھوں انگشت شہادت یعنی کلمہ کی یا درمیانی انگلی میں (عاصم جو حدیث کے راوی ہیں نے شک کیا ہے) اور مجھے قسیہ اور میثرہ سے منع فرمایا۔ ابوبردہ ؓ کہتے ہیں: تو ہم نے علی ؓ سے پوچھا: قسیہ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ایک قسم کے کپڑے ہیں جو شام یا مصر سے آتے تھے، ان کی دھاریوں میں ترنج (چکوترہ) بنے ہوئے ہوتے تھے اور میثرہ وہ بچھونا (بستر) ہے جسے عورتیں اپنے خاوندوں کے لیے بنایا کرتی تھیں۔

Narrated Ali (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said to me: Say: O Allah, guide me, and set me right. Remember by guidance (hidayah) the showing of the straight path, and remember by setting right (sadad) the setting right of an arrow. Then pointing to the middle finger and the one next to it, he said: He forbade me to wear a signet-ring on this finger of mine or on this (Asim was doubtful). He forbade me to wear qassiyyah (qasi garments) and mitharah. Abu Burdah said: We asked Ali (RA) : What is qasiyyah ? He said: These are garments imported to us from Syria or Egypt. They are stripped and marked like citrons. And mitharah was a thing made by women for their husbands.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللباس ١٦ (٢٠٨٧)، سنن الترمذی/اللباس ٤٤ (١٧٨٦)، سنن النسائی/الزینة ٥٠ (٥٢١٤)، الزینة من المجتبی ٢٥ (٥٢٨٨، ٥٢٨٩)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٤٣ (٣٦٤٨)، (تحفة الأشراف: ١٠٣١٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٨٨، ١٣٤، ١٣٨) (صحیح )
4226Sunan Abu Dawood

انگوٹھی دائیں ہاتھ میں پہننا بہتر ہے یا بائیں ہاتھ میں؟

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: شَرِيكٌ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَتَخَتَّمُ فِي يَمِينِهِ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بھی بیان کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ انگوٹھی اپنے داہنے ہاتھ میں پہنتے تھے۔

Narrated Ali ibn Abu Talib: The Prophet ﷺ used to wear the signet-ring on his right hand.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الشمائل ١٢ (٩٠)، سنن النسائی/الزینة ٤٦ (٥٢٠٦)، (تحفة الأشراف: ١٠١٨٠) (صحیح )
4227Sunan Abu Dawood

انگوٹھی دائیں ہاتھ میں پہننا بہتر ہے یا بائیں ہاتھ میں؟

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَتَخَتَّمُ فِي يَسَارِهِ، وَكَانَ فَصُّهُ فِي بَاطِنِ كَفِّهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ ابْنُ إِسْحَاق، وَأُسَامَةُ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، بِإِسْنَادِهِ فِي يَمِينِهِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ انگوٹھی اپنے بائیں ہاتھ میں پہنتے تھے اور اس کا نگینہ آپ کی ہتھیلی کے نچلے حصہ کی طرف ہوتا تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن اسحاق اور اسامہ نے یعنی ابن زید نے نافع سے اسی سند سے روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ اسے اپنے دائیں ہاتھ میں پہنتے تھے۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ used to wear the signet-ring on his left hand, and put its stone next the palm of his hand. Abu Dawud said: Ibn Ishaq and Usamah bin Zaid transmitted from Nafi (RA) : On his right hand.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٧٧٦٦) (شاذ) (محفوظ اور صحیح دائیں ہاتھ میں پہننا ہے )
4228Sunan Abu Dawood

انگوٹھی دائیں ہاتھ میں پہننا بہتر ہے یا بائیں ہاتھ میں؟

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَلْبَسُ خَاتَمَهُ فِي يَدِهِ الْيُسْرَى.

نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر ؓ انگوٹھی اپنے بائیں ہاتھ میں پہنتے تھے۔

Nafi said that Ibn Umar used to wear his signet-ring on his left hand.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٧٧٦٦) (صحیح الإسناد )
4229Sunan Abu Dawood

انگوٹھی دائیں ہاتھ میں پہننا بہتر ہے یا بائیں ہاتھ میں؟

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، قَالَ: رَأَيْتُ عَلَى الصَّلْتِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ خَاتَمًا فِي خِنْصَرِهِ الْيُمْنَى، فَقُلْتُ: مَا هَذَا ؟ قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَلْبَسُ خَاتَمَهُ هَكَذَا وَجَعَلَ فَصَّهُ عَلَى ظَهْرِهَا، قَالَ: وَلَا يَخَالُ ابْنَ عَبَّاسٍ إِلَّا قَدْ كَانَ يَذْكُرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَلْبَسُ خَاتَمَهُ كَذَلِكَ.

محمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے صلت بن عبداللہ بن نوفل بن عبدالمطلب کو اپنے داہنے ہاتھ کی چھنگلی میں انگوٹھی پہنے دیکھا تو کہا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے ابن عباس ؓ کو اسی طرح اپنی انگوٹھی پہنے اور اس کے نگینہ کو اپنی ہتھیلی کی پشت کی طرف کئے دیکھا، اور کہا: یہ مت سمجھنا کہ صرف ابن عباس ؓ ہی ایسا کرتے تھے، بلکہ وہ ذکر کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ بھی اپنی انگوٹھی ایسا ہی پہنی کرتے تھے۔

Muhammad ibn Ishaq said: I saw as-Salt ibn Abdullah ibn Nawfal ibn Abdul Muttalib wearing the signet-ring on his right small finger. I asked: What is this? He replied: I saw Ibn Abbas wearing his ring in this manner. He put its stone towards the upper part of his palm. Ibn Abbas also mentioned that the Messenger of Allah ﷺ used to wear his signet-ring in his manner.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/اللباس ١٦ (١٧٤٢)، (تحفة الأشراف: ٥٦٨٦) (حسن صحیح )
4230Sunan Abu Dawood

گھنگرو پہننے کا بیان

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، أَنَّ عَامِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ عَلِيُّ بْنُ سَهْلِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ مَوْلَاةً لَهُمْ ذَهَبَتْ بِابْنَةِ الزُّبَيْرِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَفِي رِجْلِهَا أَجْرَاسٌ، فَقَطَعَهَا عُمَرُ ثُمّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ مَعَ كُلِّ جَرَسٍ شَيْطَانًا.

عامر بن عبداللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ ان کی ایک لونڈی زبیر کی ایک بچی کو عمر بن خطاب ؓ کے پاس لے کرگئی، اس بچی کے پاؤں میں گھنٹیاں تھیں یعنی گھونگھرو تھے تو عمر ؓ نے اسے کاٹ دیا، اور کہنے لگے: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ ہر گھنٹی کے ساتھ شیطان ہوتا ہے۔

Ibn az-Zubayr told that a woman client of theirs took az-Zubayrs daughter to Umar ibn al-Khattab wearing bells on her legs. Umar cut them off and said that he had heard the Messenger of Allah ﷺ say: There is a devil along with each bell.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠٦٨١) (ضعیف )
4231Sunan Abu Dawood

گھنگرو پہننے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ بُنَانَةَ مَوْلَاةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَّانَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: بَيْنَمَا هِيَ عِنْدَهَا إِذْ دُخِلَ عَلَيْهَا بِجَارِيَةٍ وَعَلَيْهَا جَلَاجِلُ يُصَوِّتْنَ، فَقَالَتْ: لَا تُدْخِلْنَهَا عَلَيَّ إِلَّا أَنْ تَقْطَعُوا جَلَاجِلَهَا، وَقَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ جَرَسٌ.

عبدالرحمٰن بن حسان کی لونڈی بنانہ کہتی ہیں کہ وہ ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس تھیں کہ اسی دوران ایک لڑکی آپ کے پاس آئی، اس کے پاؤں میں گھونگھرو بج رہے تھے تو آپ نے کہا: اسے میرے پاس نہ آنے دو جب تک تم انہیں کاٹ نہ دو، اور کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں گھنٹی ہو ۔

Bunanah, female client of Abdur-Rahman bin Hayyan al-Ansari told that when she was with Aisha (RA) a girl wearing little tinkling bells was brought in to her. She ordered that they were not to bring her in where she was unless they cut off her little bells. She said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: The angels do not enter a house in which there is a bell.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٧٨٥٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٤٢، ٢٤٣) (حسن )
4232Sunan Abu Dawood

دانتوں کو سونے سے باندھنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ طَرَفَةَ، أَنَّ جَدَّهُ عَرْفَجَةَ بْنَ أَسْعَدَ قُطِعَ أَنْفُهُ يَوْمَ الْكُلَابِ فَاتَّخَذَ أَنْفًا مِنْ وَرِقٍ فَأَنْتَنَ عَلَيْهِ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاتَّخَذَ أَنْفًا مِنْ ذَهَبٍ.

عبدالرحمٰن بن طرفہ کہتے ہیں کہ کے دادا عرفجہ بن اسعد کی ناک جنگ کلاب ١ ؎ کے دن کاٹ لی گئی، تو انہوں نے چاندی کی ایک ناک بنوائی، انہیں اس کی بدبو محسوس ہوئی، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا، تو انہوں نے سونے کی ناک بنوا لی ٢ ؎۔

Abdur Rahman ibn Tarafah said that his grandfather Arfajah ibn Asad who had his nose cut off at the battle of al-Kilab got a silver nose, but it developed a stench, so the Prophet ﷺ ordered him to get a gold nose.

Notes · وضاحت
١ ؎: بصرہ اور کوفہ کے مابین ایک چشمہ کا نام ہے، زمانہ جاہلیت میں یہاں ایک جنگ ہوئی تھی (النہا یۃ لا بن الا ثیر) ٢ ؎: اگرچہ حدیث میں دانت بندھوانے کا ذکر نہیں ہے، مگر مصنف نے دانت کو ناک پر قیاس کیا کہ جب ناک جو ایک عضو ہے سونے کی بنوانی جائز ہے تو سونے سے دانتوں کا بندھوانا بھی جائز ہوگا، اسی لئے دانت بندھوانے کا باب باندھا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/اللباس ٣١ (١٧٧٠)، سنن النسائی/الزینة ٤١ (٥١٦٤)، (تحفة الأشراف: ٨٩٩٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٤٢، ٥/٢٣) (حسن )
4233Sunan Abu Dawood

دانتوں کو سونے سے باندھنے کا بیان

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَأَبُو عَاصِمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ طَرَفَةَعَنْ عَرْفَجَةَ بْنِ أَسْعَدَ بِمَعْنَاهُ، قَالَ يَزِيدُ قُلْتُ لِأَبِي الْأَشْهَبِ: أَدْرَكَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ طَرَفَةَ جَدَّهُ عَرْفَجَةَ ؟ قَالَ: نَعَمْ.

اس سند سے بھی عرفجہ بن اسعد سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، یزید کہتے ہیں میں نے ابواشہب سے پوچھا: عبدالرحمٰن بن طرفہ نے اپنے دادا عرفجہ کا زمانہ پایا ہے، تو انہوں نے کہا: ہاں (پایا ہے) ۔

The tradition mentioned above (No. 4220) has also been transmitted by Arfajah ibn Asad through a different chain to the same effect. Yazid said: I asked AbulAshhab: Did Abdur Rahman ibn Tarafah meet his grandfather Arfajah? He replied: Yes.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٩٨٩٥) (حسن )