انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے زیر ناف کے بال مونڈنے، ناخن کاٹنے، مونچھیں تراشنے اور بغل کے بال اکھاڑنے کی چالیس دن میں ایک بار کی تحدید فرما دی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے جعفر بن سلیمان نے ابوعمران سے اور انہوں نے انس سے روایت کیا ہے اور نبی اکرم ﷺ کا ذکر نہیں کیا ہے اور اس میں وقَّتَ لنا کے بجائے وُقِّتَ لنا بصیغہ مجہول ہے، اور یہ زیادہ صحیح ہے۔
Narrated Anas bin Malik (RA): The Messenger of Allah ﷺ fixed forty days to shave the pubes, paring the nails, clipping the moustaches, and plucking the hair under the armpit. Abu Dawud said: Jafar bin Sulaiman transmitted it from Abu Imran on the authority of Anas. In this version he did not mention the Prophet ﷺ . He said: Forty days were fixed for us. This is a more correct version.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطھارة ١٦ (٢٥٨)، سنن الترمذی/الأدب ١٤ (٢٧٥٨)، سنن النسائی/الطھارة ١٤ (١٤)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٨ (٢٩٥)، (تحفة الأشراف: ١٠٧٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٢٢، ٢٠٣، ٢٥٥) (صحیح )
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سفید بال نہ اکھیڑو، اس لیے کہ جس مسلمان کا کوئی بال حالت اسلام میں سفید ہوا ہو (سفیان کی روایت میں ہے) تو وہ اس کے لیے قیامت کے دن نور ہوگا (اور یحییٰ کی روایت میں ہے) اس کے بدلے اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک نیکی لکھے گا اور اس سے ایک گناہ مٹا دے گا ۔
Amr bin Shuaib, on his fathers authority, told that his grandfather reported the Messenger of Allah ﷺ said: Do not pluck out grey hair. If any believer grows a grey hair in Islam, he will have light on the Day of Resurrection. (This is Sufyans version). Yahyas version says: Allah will record on his behalf a good deed for it, and will blot out a sin for it.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٧٨٣، ٨٨٠١ )، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأدب ٥٩ (٢٨٢١)، سنن النسائی/الزینة ١٣ (٥٠٨٣)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٢٥ (٣٧٢١)، مسند احمد (٢/٢٠٦، ٢٠٧، ٢١٢) (حسن صحیح )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن (ابوبکر ؓ کے والد) ابوقحافہ کو لایا گیا، ان کا سر اور ان کی داڑھی ثغامہ (نامی سفید رنگ کے پودے) کے مانند سفید تھی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے کسی چیز سے بدل دو اور سیاہی سے بچو ۔
Narrated Jabir bin Abdullah (RA) : Abu Quhafah was brought on the day of the conquest of Makkah with head and beard while like hyssop. The Messenger of Allah ﷺ said: Change this something, but avoid black.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللباس ٢٤ (٢١٠٢)، سنن النسائی/الزینة ١٥، (٥٢٤٤)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٣٣ (٣٦٢٤)، (تحفة الأشراف: ٢٨٠٧، ٥٠٧٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣١٦، ٣٢٢، ٣٣٨) (صحیح )
ابورمثہ ؓ کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں گیا تو دیکھا کہ آپ کے سر کے بال کان کی لو تک ہیں، ان میں مہندی لگی ہوئی ہے، اور آپ کے جسم مبارک پر سبز رنگ کی دو چادریں ہیں۔
Narrated Abu Rimthah (RA) : I went with my father to the Prophet ﷺ . He had locks hanging down as far as the lobes of the ears stained with henna, and he was wearing two green garments.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٤٠٦٥)، (تحفة الأشراف: ١٢٠٣٦) (صحیح )
اس سند سے ابورمثہ ؓ سے اس حدیث میں مروی ہے کہ میرے والد نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے آپ اپنی وہ چیز دکھائیں جو آپ کی پشت پر ہے کیونکہ میں طبیب ہوں، آپ نے فرمایا: طبیب تو اللہ ہے، بلکہ تو رفیق ہے (مریض کو تسکین اور دلا سے دیتا ہے) طبیب تو وہی ہے جس نے اسے پیدا کیا ہے ۔
This version adds (to the previous hadith No 4194): My father said to him (the Prophet): Show me what is on your back, for I am a physician. He (the Prophet) said: You are only a soother. Its physician is He Who has credit it.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٤٠٦٥)، (تحفة الأشراف: ١٢٠٣٦) (صحیح )
ابورمثہ ؓ کہتے ہیں کہ میں اور میرے والد نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے آپ نے ایک شخص سے یا میرے والد سے پوچھا: یہ کون ہے؟ وہ بولے: میرا بیٹا ہے، آپ نے فرمایا: یہ تمہارا بوجھ نہیں اٹھائے گا، تم جو کرو گے اس کی باز پرس تم سے ہوگی، آپ نے اپنی داڑھی میں مہندی لگا رکھی تھی ۔
Narrated Abu Rimthah (RA) : I and my father came to the Prophet ﷺ . He said to a man or to my father: Who is this? He replied: He is my son. He said: Do not commit a crime on him. He had stained his beard with henna.
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کھال کی سبتی جوتیاں پہنتے تھے جس پر بال نہیں ہوتے تھے، اور اپنی داڑھی ورس ١ ؎ اور زعفران سے رنگتے تھے، اور ابن عمر ؓ بھی ایسا کرتے تھے۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ used to wear tanned leather sandals and dye his beard yellow with wars and saffron, and Ibn Umar used to do that too.
Notes · وضاحت
١ ؎: ورس ایک قسم کی گھاس ہے جس سے رنگتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزینة من المجتبی ١٢ (٥٢٤٦)، (تحفة الأشراف: ٧٧٦٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١١٤) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس سے ایک شخص گزرا جس نے مہندی کا خضاب لگا رکھا تھا، تو آپ نے فرمایا: یہ کتنا اچھا ہے پھر ایک اور شخص گزرا جس نے مہندی اور کتم کا خضاب لگا رکھا تھا، تو آپ نے فرمایا: یہ اس سے بھی اچھا ہے اتنے میں ایک تیسرا شخص زرد خضاب لگا کے گزرا تو آپ نے فرمایا: یہ ان سب سے اچھا ہے ۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : When a man who had dyed himself with henna passed by the Prophet ﷺ , he said: How fine this is! When another man who had dyed himself with henna and katam passed by, he said: This is better than that. Then another man who had dyed himself with yellow dye, passed by, he said: This is better than all that.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/اللباس ٣٤ (٣٦٢٧)، (تحفة الأشراف: ٥٧٢٠) (ضعیف )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آخر زمانے میں کچھ لوگ کبوتر کے سینے کی طرح سیاہ خضاب لگائیں گے وہ جنت کی بو تک نہ پائیں گے ۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ said: At the end of time there will be people who will use this black dye like the crops of doves who will not experience the fragrance of Paradise.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزینة ١٥ (٥٠٧٨)، (تحفة الأشراف: ٥٥٤٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٧٣) (صحیح )
ثوبان مولیٰ رسول اللہ ﷺ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی سفر پر تشریف لے جاتے تو اپنے گھر والوں میں سب سے اخیر میں فاطمہ ؓ سے ملتے اور جب سفر سے واپس آتے تو سب سے پہلے فاطمہ ؓ سے ملاقات کرتے، چناچہ آپ ﷺ ایک غزوہ سے تشریف لائے، فاطمہ ؓ نے اپنے دروازے پر ایک ٹاٹ یا پردہ لٹکا رکھا تھا اور حسن و حسین ؓ دونوں کو چاندی کے دو کنگن پہنا رکھے تھے، آپ ﷺ تشریف لائے تو گھر میں داخل نہیں ہوئے تو وہ سمجھ گئیں کہ آپ کے اندر آنے سے یہی چیز مانع رہی ہے جو آپ نے دیکھا ہے، تو انہوں نے دروازے سے پردہ اتار دیا، پھر دونوں صاحبزادوں کے کنگن کو اتار لیا، اور کاٹ کر ان کے سامنے ڈال دیا، تو وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس روتے ہوئے آئے، آپ نے ان سے کٹے ہوئے ٹکڑے لے کر فرمایا: ثوبان! اسے مدینہ میں فلاں گھر والوں کو جا کر دے آؤ پھر فرمایا: یہ لوگ میرے اہل بیت ہیں مجھے یہ ناپسند ہے کہ یہ اپنے مزے دنیا ہی میں لوٹ لیں، اے ثوبان! فاطمہ کے لیے مونگوں والا ایک ہار اور ہاتھی دانت کے دو کنگن خرید کرلے آؤ ۔
Narrated Thawban (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ went on a journey, the last member of his family he saw was Fatimah, and the first he visited on his return was Fatimah. Once when he returned from an expedition she had hung up a hair-cloth, or a curtain, at her door, and adorned al-Hasan and al-Husayn with silver bracelets. So when he arrived, he did not enter. Thinking that he had been prevented from entering by what he had seen, she tore down the curtain, unfastened the bracelets from the boys and cut them off. They went weeping to the Messenger of Allah ﷺ , and when he had taken them from them, he said: Take this to so and sos family. Thawban. In Madina, these are my family, and I did not like them to enjoy their good things in the present life. Buy Fatimah a necklace or asb, Thawban, and two ivory bracelets.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٢٠٨٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٧٥، ٢٧٩) (ضعیف الإسناد منکر )