کنگھی کرنے کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 30 · 55 hadiths · Page 2 of 3

4179Sunan Abu Dawood

مردوں کے لئے خلوق کا استعمال کیسا ہے؟

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَنَّ حَمَّادَ بْنَ زَيْدٍ، وَإِسْمَاعِيل بْنَ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَاهُمْ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ التَّزَعْفُرِ لِلرِّجَالِ، وَقَالَ عَنْ إِسْمَاعِيل، أَنْ يَتَزَعْفَرَ الرَّجُلُ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مردوں کو زعفران لگانے سے منع فرمایا ہے۔ اور اسماعیل کی روایت میں عن التزعفر للرجال کے بجائے أن يتزعفرالرجل ہے۔

Anas said: The Messenger of Allah ﷺ forbade men to use saffron. Ismail version has: (forbade) man to use saffron.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللباس ٢٣ (٢١٠١)، سنن الترمذی/الأدب ٥١ (٢٨١٥)، سنن النسائی/الحج ٤٣ (٢٧٠٧)، الزینة من المجتبی ١٩ (٥٢٥٨)، (تحفة الأشراف: ١٠١١، ٩٩٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس ٣٣ (٥٨٤٦) (صحیح )
4180Sunan Abu Dawood

مردوں کے لئے خلوق کا استعمال کیسا ہے؟

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ثَلَاثَةٌ لَا تَقْرَبُهُمُ الْمَلَائِكَةُ: جِيفَةُ الْكَافِرِ، وَالْمُتَضَمِّخُ بِالْخَلُوقِ، وَالْجُنُبُ إِلَّا أَنْ يَتَوَضَّأَ.

عمار بن یاسر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین آدمی ایسے ہیں کہ فرشتے ان کے قریب نہیں جاتے: ایک کافر کی لاش کے پاس، دوسرے جو زعفران میں لت پت ہو اور تیسرے جنبی (ناپاک) إلا یہ کہ وہ وضو کرلے ۔

Narrated Ammar ibn Yasir: The Prophet ﷺ said: The angels do not come near three: the dead body of the unbeliever, one who smears himself with khaluq, and the one who is sexually defiled except that he performs ablution.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠٣٤٧) (حسن )
4181Sunan Abu Dawood

مردوں کے لئے خلوق کا استعمال کیسا ہے؟

حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيِّ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ، قَالَ: لَمَّا فَتَحَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ جَعَلَ أَهْلُ مَكَّةَ يَأْتُونَهُ بِصِبْيَانِهِمْ، فَيَدْعُو لَهُمْ بِالْبَرَكَةِ وَيَمْسَحُ رُءُوسَهُمْ، قَالَ: فَجِيءَ بِي إِلَيْهِ وَأَنَا مُخَلَّقٌ فَلَمْ يَمَسَّنِي مِنْ أَجْلِ الْخَلُوقِ.

ولید بن عقبہ کہتے ہیں کہ جب اللہ کے نبی اکرم ﷺ نے مکہ فتح کیا تو ابن مکہ اپنے بچوں کو لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہونے لگے، آپ ﷺ ان کے لیے برکت کی دعا فرماتے اور ان کے سروں پر ہاتھ پھیرتے، مجھے بھی آپ کی خدمت میں لایا گیا، لیکن مجھے خلوق لگا ہوا تھا اسی لیے آپ ﷺ نے مجھے ہاتھ نہیں لگایا۔

Narrated Al-Walid ibn Uqbah (RA) : When the Prophet of Allah ﷺ conquered Makkah. The people of Makkah began to bring their boys and he would invoke a blessing on them and rub their heads. I was brought, but as I had been perfumed with khaluq, he did not touch me because of the khaluq.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١١٧٩٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٢) (منکر )
4182Sunan Abu Dawood

مردوں کے لئے خلوق کا استعمال کیسا ہے؟

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا سَلْمٌ الْعَلَوِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ أَثَرُ صُفْرَةٍ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَلَّمَا يُوَاجِهُ رَجُلًا فِي وَجْهِهِ بِشَيْءٍ يَكْرَهُهُ فَلَمَّا خَرَجَ، قَالَ: لَوْ أَمَرْتُمْ هَذَا أَنْ يَغْسِلَ هَذَا عَنْهُ.

انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اس پر (زعفران کی) زردی کا نشان تھا، اور نبی اکرم ﷺ بہت کم کسی ایسے شخص کا سامنا فرماتے جس کے چہرہ پہ کوئی ایسی چیز ہوتی جسے آپ ناپسند فرماتے، چناچہ جب وہ چلا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: کاش تم لوگ اسے حکم دیتے کہ وہ اسے اپنے سے دھو ڈالے ۔

Narrated Anas ibn Malik: A man came to the Messenger of Allah ﷺ and he had the mark of yellowness (of saffron). The Prophet (peace be upon him rarely mentioned a thing which he disliked before a man. When he went away, he said: Would that you tell this man that he should wash this off him.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٨٦٧)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/ الشمائل ٣٤٦)، سنن النسائی/ الیوم واللیلة (٢٣٥)، وأعادہ المؤلف فی الأدب (٤٧٨٩)، مسند احمد (٣/١٣٣، ١٥٤، ١٦٠) (ضعیف )
4183Sunan Abu Dawood

بال رکھنے کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِالْبَرَاءِ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ مِنْ ذِي لِمَّةٍ أَحْسَنَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، زَادَ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لَهُ شَعْرٌ يَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: كَذَا رَوَاهُ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، قَالَ: يَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ، وَقَالَ شُعْبَةُ: يَبْلُغُ شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ.

براء ؓ کہتے ہیں کہ میں نے کسی شخص کو جو کان کی لو سے نیچے بال رکھے ہو اور سرخ جوڑے میں ملبوس ہو رسول اللہ ﷺ سے زیادہ خوبصورت نہیں دیکھا (محمد بن سلیمان کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ) آپ کے بال دونوں شانوں سے لگ رہے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے اسرائیل نے ابواسحاق سے روایت کیا ہے کہ وہ بال آپ کے دونوں شانوں سے لگ رہے تھے اور شعبہ کہتے ہیں: وہ آپ کے دونوں کانوں کی لو تک پہنچ رہے تھے ۔

Narrated Al-Bara (RA) : I did not see any man with locks hanging down to shoulders in red robe more beautiful than the Messenger of Allah ﷺ . Muhammad bin Sulaiman added: He had hair which touched his shoulders. Abu Dawud said: Israil also transmitted it in a similar way from Abu Ishaq saying: (his hair) touched his shoulders. Shubah added: (His hair) reached the lobes of his ears.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الفضائل ٢٥ (٢٣٣٧)، سنن الترمذی/اللباس ٤ (١٧٢٤)، الأدب ٤٧ (٢٨١١)، المناقب ٨ (٣٦٣٥)، الشمائل ١ (٣)، ٣ (٢٥)، سنن النسائی/الزینة ٩ (٥٠٦٣)، الزینة من المجتبی ٥ (٥٢٣٥)، ٣٩ (٥٣١٦)، (تحفة الأشراف: ١٨٤٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المناقب ٣٣ (٣٥٥١)، واللباس ٣٥ (٥٨٤٨)، ٦٨ (٥٩٠٣)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٢٠ (٣٥٩٩)، مسند احمد (٤/٢٨١، ٢٩٥) (صحیح )
4184Sunan Abu Dawood(4185)

بال رکھنے کا بیان

حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شَحْمَةِ أُذُنَيْهِ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے بال آپ کے دونوں کانوں کی لو تک رہتے تھے۔

Narrated Anas ibn Malik: The hair of the Messenger of Allah ﷺ were up to the lobes of his ears.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الشمائل ٣ (٢٩)، سنن النسائی/الزینة ٩ (٥٠٦٤)، الزینة من المجتبی ٥ (٥٢٣٦)، (تحفة الأشراف: ٤٦٩، ١٨٩٦٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس ٦٨ (٥٩٠٤)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٣٦ (٣٦٣٤)، مسند احمد (٣/١١٣، ١٦٥) (صحیح )
4185Sunan Abu Dawood(4186)

بال رکھنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے بال آپ کے آدھے کانوں تک رہتے تھے۔

Narrated Anas bin Malik (RA): The hair of Messenger of Allah ﷺ were halfway down his ears.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ الفضائل ٢٦ (٢٣٣٨)، سنن الترمذی/ الشمائل (٢٤)، سنن النسائی/ الزینة من المجتبی ٥ (٥٢٣٦)، (تحفة الأشراف: ٥٦٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٤٢، ٢٤٩) (صحیح )
4186Sunan Abu Dawood(4187)

بال رکھنے کا بیان

حَدَّثَنَا ابْنُ نُفَيْلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوْقَ الْوَفْرَةِ وَدُونَ الْجُمَّةِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے بال وفرہ ١ ؎ سے بڑے اور جمہ ٢ ؎ سے چھوٹے تھے۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The hair of the Messenger of Allah ﷺ were above wafrah and below jummah.

Notes · وضاحت
١ ؎: کان تک کے بال کو وفرہ کہتے ہیں۔ ٢ ؎: اور شانہ تک کے بال کو جمہ کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/اللباس ٢١ (١٧٥٥)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٣٦ (٣٦٣٥)، (تحفة الأشراف: ١٧٠١٩) (حسن صحیح )
4187Sunan Abu Dawood(4184)

بال رکھنے کا بیان

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ شَعْرٌ يَبْلُغُ شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ.

براء ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے بال آپ کے دونوں کانوں کی لو تک پہنچتے تھے۔

Narrated Al-Bara (RA) : The Messenger of Allah ﷺ had hair which reached the lobes of his ears.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٤٠٧٢)، (تحفة الأشراف: ١٨٦٩) (صحیح )
4188Sunan Abu Dawood

مانگ نکالنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَعْنِي يَسْدِلُونَ أَشْعَارَهُمْ وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ رُءُوسَهُمْ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُعْجِبُهُ مُوَافَقَةُ أَهْلِ الْكِتَابِ فِيمَا لَمْ يُؤْمَرْ بِهِ فَسَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاصِيَتَهُ ثُمَّ فَرَقَ بَعْدُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ اہل کتاب اپنے بالوں کا سدل کرتے یعنی انہیں لٹکا ہوا چھوڑ دیتے تھے، اور مشرکین اپنے سروں میں مانگ نکالتے تھے، اور رسول اللہ ﷺ کو جن باتوں میں کوئی حکم نہ ملتا اہل کتاب کی موافقت پسند فرماتے تھے اسی لیے آپ اپنی پیشانی کے بالوں کو لٹکا چھوڑ دیتے تھے پھر بعد میں آپ مانگ نکالنے لگے۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : The people of the Book used to let their hair hand down, and the polytheists used to part their hair. The Messenger of Allah ﷺ like to confirm with the People of the Book in the matters about which he had received no command. Hence he Messenger of Allah ﷺ let his forelock hang down but afterwards he parted it.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المناقب ٢٣ (٣٥٥٨)، ومناقب الأنصار ٥٢ (٣٩٤٤)، واللباس ٧٠ (٥٩١٧)، صحیح مسلم/الفضائل ٢٤ (٢٣٣٦)، سنن الترمذی/الشمائل ٣ (٢٩)، سنن النسائی/الزینة من المجتبی ٧ (٥٢٤٠)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٣٦ (٣٦٣٢)، (تحفة الأشراف: ٥٨٣٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٤٦، ٢٦١، ٢٨٧، ٣٢٠) (صحیح )
4189Sunan Abu Dawood

مانگ نکالنے کا بیان

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كُنْتُ إِذَا أَرَدْتُ أَنْ أَفْرُقَ رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَعْتُ الْفَرْقَ مِنْ يَافُوخِهِ وَأُرْسِلُ نَاصِيَتَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جب میں رسول اللہ ﷺ کے سر میں مانگ نکالنی چاہتی تو سر کے بیچ سے نکالتی، اور پیشانی کے بالوں کو دونوں آنکھوں کے بیچ کی سیدھ سے آدھا ایک طرف اور آدھا دوسری طرف لٹکا دیا کرتی تھی۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : When I parted the hair of the Messenger of Allah ﷺ I made a parting from the crow of his head and let his forelock hang between his eyes.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٦٣٨٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٩٠، ٢٧٥) (حسن )
4190Sunan Abu Dawood

لمبے بال (زلفیں) رکھنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُقْبَةَ السُّوَائِيُّ هُوَ أَخُو قَبِيصَةَ، وَحُمَيْدُ بْنُ خُوَارٍ، عَنْسُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ،عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِي شَعْرٌ طَوِيلٌ فَلَمَّا رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ذُبَابٌ ذُبَابٌ، قَالَ: فَرَجَعْتُ فَجَزَزْتُهُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ مِنَ الْغَدِ، فَقَالَ: إِنِّي لَمْ أَعْنِكَ وَهَذَا أَحْسَنُ.

وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، میرے بال لمبے تھے تو جب آپ نے مجھے دیکھا تو فرمایا: نحوست ہے، نحوست تو میں واپس لوٹ گیا اور جا کر اسے کاٹ ڈالا، پھر دوسرے دن آپ کی خدمت میں آیا تو آپ نے فرمایا: میں نے تیرے ساتھ کوئی برائی نہیں کی، یہ اچھا ہے ۔

Narrated Wail ibn Hujr (RA) : I came to the Prophet ﷺ and I had long hair. When the Messenger of Allah ﷺ saw me, he said: Evil, evil! He said: I then returned and cut them off. I then came to him in the morning. He said (to me): I did not intend to do evil to you. This is much better.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزینة ٦ (٥٠٥٥)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٣٧ (٣٦٣٦)، (تحفة الأشراف: ١١٧٨٢) (صحیح )
4191Sunan Abu Dawood

مرد کے لئے بالوں کو گوندھ کر جوڑا بنانے کا حکم

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ هَانِئٍقَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ وَلَهُ أَرْبَعُ غَدَائِرَ تَعْنِي عَقَائِصَ.

ام ہانی ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ مکہ آئے اور (اس وقت) آپ کی چار چوٹیاں تھیں۔

Narrated Umm Hani (RA) : The Prophet ﷺ came to Makkah and he had four plaits of hair.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/اللباس ٣٩ (١٧٨١)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٣٦ (٣٦٣١)، (تحفة الأشراف: ١٨٠١١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٤١، ٤٢٥) (صحیح )
4192Sunan Abu Dawood

سر منڈا نے کا بیان

حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، وَابْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي يَعْقُوبَيُحَدِّثُ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمْهَلَ آلَ جَعْفَرٍ ثَلَاثًا أَنْ يَأْتِيَهُمْ ثُمَّ أَتَاهُمْ، فَقَالَ: لَا تَبْكُوا عَلَى أَخِي بَعْدَ الْيَوْمِ، ثُمَّ قَالَ: ادْعُوا لِي بَنِي أَخِي فَجِيءَ بِنَا كَأَنَّا أَفْرُخٌ، فَقَالَ: ادْعُوا لِي الْحَلَّاقَ، فَأَمَرَهُ فَحَلَقَ رُءُوسَنَا.

عبداللہ بن جعفر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے جعفر کے گھر والوں کو تین دن کی مہلت دی پھر آپ ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: آج کے بعد میرے بھائی پر تم نہ رونا ١ ؎ پھر فرمایا: میرے پاس میرے بھتیجوں کو بلاؤ تو ہمیں آپ کی خدمت میں لایا گیا، ایسا لگ رہا تھا گویا ہم چوزے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: حجام کو بلاؤ اور آپ نے اسے حکم دیا تو اس نے ہمارے سر مونڈے۔

Narrated Abdullah ibn Jafar (RA) : The Prophet ﷺ gave the children of Jafar three day time to visit them. He then came to visit them, and said: Do not weep over my brother after this day. He said: Call to me the children of my brother. We were brought to him as if we were chicken. He said: Call a barber to me. He then ordered and our heads were shaved.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے پتہ چلا کہ چیخ و پکار اور سینہ کو بی کے بغیر میت پر تین دن تک رونا اور اظہار غم کرنا جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزینة من المجتبی ٣ (٥٢٢٩)، (تحفة الأشراف: ٥٢١٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٠٤) (صحیح )
4193Sunan Abu Dawood

بچوں کو دراز گیسو رکھنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: أَحْمَدُ كَانَ رَجُلًا صَالِحًا، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقَزَعِ وَالْقَزَعُ أَنْ يُحْلَقَ رَأْسُ الصَّبِيِّ فَيُتْرَكَ بَعْضُ شَعْرِهِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قزع سے منع فرمایا ہے، اور قزع یہ ہے کہ بچے کا سر مونڈ دیا جائے اور اس کے کچھ بال چھوڑ دئیے جائیں۔

Narrated Ibn Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ forbade qaza. Qaza means having part of a boys head shaved and leaving part unshaven.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٧٢ (٥٩٢١)، صحیح مسلم/اللباس ٣١ (٢١٢٠)، سنن النسائی/الزینة ٥ (٥٠٥٣)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٣٨ (٣٦٣٧)، (تحفة الأشراف: ٨٢٤٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢ /٤، ٣٩، ٥٥، ٦٧، ٨٢، ٨٣، ١٠١، ١٠٦، ١١٨، ١٣٧، ١٤٣، ١٥٤) (صحیح )
4194Sunan Abu Dawood

بچوں کو دراز گیسو رکھنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنِ الْقَزَعِ، وَهُوَ أَنْ يُحْلَقَ رَأْسُ الصَّبِيِّ فَتُتْرَكَ لَهُ ذُؤَابَةٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے قزع سے منع فرمایا ہے، اور قزع یہ ہے کہ بچے کا سر مونڈ دیا جائے اور اس کی چوٹی چھوڑ دی جائے۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : the Prophet ﷺ forbade qaza which means that the head of a boy is shaved and a lock is left.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٧٥٨٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٠١، ١٤٣، ١٥٤) (صحیح )
4195Sunan Abu Dawood

بچوں کو دراز گیسو رکھنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى صَبِيًّا قَدْ حُلِقَ بَعْضُ شَعْرِهِ وَتُرِكَ بَعْضُهُ فَنَهَاهُمْ عَنْ ذَلِكَ، وَقَالَ: احْلِقُوهُ كُلَّهُ أَوِ اتْرُكُوهُ كُلَّهُ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک بچے کو دیکھا کہ اس کے کچھ بال منڈے ہوئے تھے اور کچھ چھوڑ دئیے گئے تھے تو آپ نے انہیں اس سے منع کیا اور فرمایا: یا تو پورا مونڈ دو، یا پورا چھوڑے رکھو ۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ saw a boy with part of his head shaved and part left unshaven. He forbade them to do that, saying: Shave it all or leave it all.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزینة ٣ (٥٠٥١)، مسند احمد (٢/٨٨) وانظر رقم: (٤١٩٣)، (تحفة الأشراف: ٧٥٢٥)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/اللباس ٣١ (٢١٢٠) (صحیح )
4196Sunan Abu Dawood

بچوں کو لمبے بال رکھنے کی اجازت کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَتْ لِي ذُؤَابَةٌ، فَقَالَتْ لِي أُمِّي: لَا أَجُزُّهَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمُدُّهَا وَيَأْخُذُ بِهَا.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میرے ایک چوٹی تھی، میری ماں نے مجھ سے کہا: میں اس کو نہیں کاٹوں گی، رسول اللہ ﷺ (ازراہ شفقت) اسے پکڑ کر کھینچتے تھے۔

Narrated Anas ibn Malik: I had a hanging lock of hair. My mother said to me: I shall not cut it, for the Messenger of Allah ﷺ used to stretch it our and hold it.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٨٣٢٦) (ضعیف الإسناد )
4197Sunan Abu Dawood

بچوں کو لمبے بال رکھنے کی اجازت کا بیان

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ حَسَّانَ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، فَحَدَّثَتْنِي أُخْتِي الْمُغِيرَةُ، قَالَتْ: وَأَنْتَ يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ وَلَكَ قَرْنَانِ أَوْ قُصَّتَانِ، فَمَسَحَ رَأْسَكَ وَبَرَّكَ عَلَيْكَ، وَقَالَ: احْلِقُوا هَذَيْنِ أَوْ قُصُّوهُمَا فَإِنَّ هَذَا زِيُّ الْيَهُودِ.

حجاج بن حسان کا بیان ہے ہم انس بن مالک ؓ کے پاس آئے، مجھ سے میری بہن مغیرہ نے بیان کیا: تو اس وقت لڑکا تھا اور تیرے سر پر دو چوٹیاں یا دو لٹیں تھیں تو انہوں نے تمہارے سر پر ہاتھ پھیرا اور برکت کی دعا کی اور کہا: ان دونوں کو مونڈوا ڈالو، یا انہیں کاٹ ڈالو کیونکہ یہ یہود کا طریقہ ہے۔

Narrated Anas ibn Malik: Al-Hajjaj ibn Hassan said: We entered upon Anas ibn Malik. My sister al-Mughirah said: You were a boy in those days and you had two locks of hair. He (Anas) rubbed your head and invoked blessing on you. He said: Shave them (i. e. the locks) or clip them, for this is the fashion of the Jews.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥٢٢) (ضعیف الإسناد )
4198Sunan Abu Dawood

بچوں کو لمبے بال رکھنے کی اجازت کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْفِطْرَةُ خَمْسٌ أَوْ خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: الْخِتَانُ وَالِاسْتِحْدَادُ وَنَتْفُ الْإِبِطِ وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ وَقَصُّ الشَّارِبِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ فرمایا: پانچ چیزیں فطرت ہیں یا فطرت میں سے ہیں: ختنہ کرنا، زیر ناف کے بال مونڈنا، بغل کا بال اکھیڑنا، ناخن تراشنا اور مونچھ کاٹنا ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ as saying: The inborn characteristics of man are five. Another version says: Five things are of the inborn characteristics of man: circumcision, shaving the pubes, plucking out hair under the armpit, paring the nails and clipping the moustaches.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٦٣ (٥٨٨٩)، ٦٤ (٥٨٩١) الاستئذان ٥١ (٦٢٩٧)، صحیح مسلم/الطھارة ١٦ (٢٥٧)، سنن النسائی/الطھارة ٩ (٩)، الزینة من المجتبی ١ (٥٢٢٧)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٨ (٢٩٢)، (تحفة الأشراف: ١٣١٢٦)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأدب ١٤ (٢٧٥٦)، موطا امام مالک/صفة النبی ٣ (٣ موقوفاً ) مسند احمد (٢/٢٣٩) (صحیح )