ابوالتیاح کہتے ہیں کہ ایک شیخ نے مجھ سے بیان کیا کہ عبداللہ بن عباس ؓ جب بصرہ آئے تو وہ ابوموسیٰ ؓ سے حدیثیں بیان کرتے تھے، ابن عباس ؓ نے ابوموسیٰ ؓ کو خط لکھا جس میں وہ ان سے کچھ چیزوں کے متعلق پوچھ رہے تھے، ابوموسیٰ ؓ نے جواب میں انہیں لکھا کہ ایک روز میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا، آپ ﷺ نے پیشاب کا ارادہ کیا تو ایک دیوار کی جڑ کے پاس نرم زمین میں آئے اور پیشاب کیا، پھر فرمایا جب تم میں سے کوئی پیشاب کرنا چاہے تو وہ اپنے پیشاب کے لیے نرم جگہ ڈھونڈھے ١ ؎۔
Abu al-Tayyah reported on the authority of a shaykh (an old man): When Abdullah ibn Abbas came to Basrah, people narrated to him traditions from Abu Musa. Therefore Ibn Abbas wrote to him asking him about certain things. In reply Abu Musa wrote to him saying: One day I was in the company of the Messenger of Allah ﷺ . He wanted to urinate. Then he came to a soft ground at the foot of a wall and urinated. He (the Prophet) then said: If any of you wants to urinate, he should look for a place (like this) for his urination.
Notes · وضاحت
١ ؎: تاکہ جسم یا کپڑے پر پیشاب کے چھینٹے نہ پڑنے پائیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد به أبوداود، (تحفة الأشراف: ٩١٥٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٩٦، ٣٩٩، ٤١٤) (ضعیف) (سند میں واقع مبہم راوی شيخ کا حال نہ معلوم ہونے کے سبب یہ حدیث ضعیف ہے )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب پاخانہ جاتے (حماد کی روایت میں ہے) تو آپ ﷺ اللهم إني أعوذ بک من الخبث والخبائث اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہتے، اور عبدالوارث کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ أعوذ بالله من الخبث والخبائث میں ناپاک جن مردوں اور ناپاک جن عورتوں (کے شر) سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں کہتے۔
Anas bin Malik (RA) reported: When the Messenger of Allah ﷺ entered the toilet, he used to say (before entering): O Allaah, I seek refuge in Thee. This is according to the version of Hammad. Abd al-Warith has another version: I seek refuge in Allaah from male and female devils.
انس بن مالک ؓ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں اللهم إني أعوذ بك ہے، یعنی اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں ۔ شعبہ کا بیان ہے کہ عبدالعزیز نے ایک بار أعوذ بالله میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں کی بھی روایت کی ہے، اور وہیب نے عبدالعزیز بن صہیب سے جو روایت کی ہے اس میں فليتعوذ بالله چاہیئے کہ اللہ سے پناہ مانگے کے الفاظ ہیں۔
Another tradition on the authority of Anas has: O Allaah, I seek refuge in Thee. Shubah said: Anas sometimes reported the words: I take refuge in Allah.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٩ (١٤٢)، الدعوات ١٥ (٦٣٢٢)، سنن الترمذی/الطہارة ٤ (٥)، (تحفة الأشراف: ١٠٢٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٨٢) (شاذ) (یعنی وہیب کی قولی روایت شاذ ہے، باقی صحیح ہے )
زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کی یہ جگہیں جن اور شیطان کے موجود رہنے کی جگہیں ہیں، جب تم میں سے کوئی شخص بیت الخلاء میں جائے تو یہ دعا پڑھے أعوذ بالله من الخبث والخبائث میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ناپاک جن مردوں اور ناپاک جن عورتوں سے ۔
Narrated Zayd ibn Arqam (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: These privies are frequented by the jinns and devils. So when anyone amongst you goes there, he should say: I seek refuge in Allah from male and female devils.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطھارة ٩ (٢٩٦)، سنن النسائی/الیوم واللیلة (٧٥، ٧٦)، (تحفة الأشراف: ٣٦٨٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٦٩، ٣٧٣) (صحیح )
سلمان ؓ کہتے ہیں کہ ان سے (بطور استہزاء) یہ کہا گیا کہ تمہارے نبی نے تو تمہیں سب چیزیں سکھا دی ہیں حتیٰ کہ پاخانہ کرنا بھی، تو انہوں نے (فخریہ انداز میں) کہا: ہاں، بیشک ہمارے نبی ﷺ نے ہم کو پاخانہ اور پیشاب کے وقت قبلہ رخ ہونے، داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنے، استنجاء میں تین سے کم پتھر استعمال کرنے اور گوبر اور ہڈی سے استنجاء کرنے سے منع فرمایا ہے۔
Narrated Salman al-Farsi (RA) : It was said to Salman: Your Prophet teaches you everything, even about excrement. He replied: Yes. He has forbidden us to face the qiblah at the time of easing or urinating, and cleansing with right hand, and cleansing with less than three stones, or cleansing with dung or bone.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطھارة ١٧ (٢٦٢)، سنن الترمذی/الطھارة ١٢ (١٦)، سنن النسائی/الطھارة ٣٧ (٤١)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٦ (٣١٦)، (تحفة الأشراف: ٤٥٠٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤٣٧، ٤٣٨، ٤٣٩) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (لوگو! ) میں تمہارے لیے والد کے درجے میں ہوں، تم کو (ہر چیز) سکھاتا ہوں، تو جب تم میں سے کوئی شخص قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کے لیے جائے تو قبلہ کی طرف منہ اور پیٹھ کر کے نہ بیٹھے، اور نہ (ہی) داہنے ہاتھ سے استنجاء کرے آپ ﷺ (استنجاء کے لیے) تین پتھر لینے کا حکم فرماتے، اور گوبر اور ہڈی کے استعمال سے روکتے تھے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: I am like father to you. When any of you goes to privy, he should not face or turn his back towards the qiblah. He should not cleanse with his right hand. He (the Prophet, ﷺ ) also commanded the Muslims to use three stones and forbade them to use dung or decayed bone.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطھارة ٣٦ (٤٠)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٦ (٣١٣)، (تحفة الأشراف: ١٢٨٥٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٤٧، ٢٥٠) (حسن )
ابوایوب انصاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم قضائے حاجت کے لیے آؤ تو پاخانہ اور پیشاب کرتے وقت قبلہ رو ہو کر نہ بیٹھو، بلکہ پورب یا پچھم کی طرف رخ کرلیا کرو ١ ؎، (ابوایوب ؓ کہتے ہیں) پھر ہم ملک شام آئے تو وہاں ہمیں بیت الخلاء قبلہ رخ بنے ہوئے ملے، تو ہم پاخانہ و پیشاب کرتے وقت قبلہ کی طرف سے رخ پھیر لیتے تھے، اور اللہ سے مغفرت طلب کرتے تھے۔
Narrated Abu Ayyub (RA) : That he (the Holy Prophet, sal Allahu alayhi wa sallam) said: When you go to the privy, neither turn your face nor your back towards the qiblah at the time of excretion or urination, but turn towards the east or the west. (Abu Ayyub said): When we came to Syria, we found that the toilets already built there were facing the qiblah, We turned our faces away from them and begged pardon of Allaah.
Notes · وضاحت
١ ؎: اہل مدینہ کا قبلہ مدینہ سے جنوبی سمت میں واقع ہے، اسی کا لحاظ کرتے ہوئے اہل مدینہ کو مشرق یا مغرب کی جانب منہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور جن کا قبلہ مشرق یا مغرب کی طرف ہے ایسے لوگ قضائے حاجت کے وقت شمال یا جنوب کی طرف منہ اور پیٹھ کر کے بیٹھیں گے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ١١ (١٤٤)، الصلاة ٢٩ (٣٩٤)، صحیح مسلم/الطھارة ١٧ (٢٦٤)، سنن الترمذی/الطھارة ٦ (٨)، سنن النسائی/الطھارة ٢٠ (٢١)، ٢١ (٢٢)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٧ (٣١٨)، (تحفة الأشراف: ٣٤٧٨)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القبلة ١ (١)، مسند احمد (٥/٤١٦، ٤١٧، ٤٢١)، سنن الدارمی/الطھارة ٦ (٦٩٢) (صحیح )
معقل بن ابی معقل اسدی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے پیشاب اور پاخانہ کے وقت دونوں قبلوں (بیت اللہ اور بیت المقدس) کی طرف منہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوزید بنی ثعلبہ کے غلام ہیں۔
Narrated Maqil ibn Abu Maqil al-Asadi (RA) : The Messenger of Allah ﷺ has forbidden us to face the two qiblahs at the time of urination or excretion
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٧ (٣١٩)، (تحفة الأشراف: ١١٤٦٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢١٠) (منکر) (سند میں واقع راوی ابوزید مجہول ہے، نیز اس نے قبلتین کہہ کر ثقات کی مخالفت کی ہے )
مروان اصفر کہتے ہیں میں نے عبداللہ بن عمر ؓ کو دیکھا، انہوں نے قبلہ کی طرف اپنی سواری بٹھائی پھر بیٹھ کر اسی کی طرف رخ کر کے پیشاب کرنے لگے، میں نے پوچھا: ابوعبدالرحمٰن! (عبداللہ بن عمر ؓ کی کنیت ہے) کیا اس سے منع نہیں کیا گیا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: کیوں نہیں، اس سے صرف میدان میں روکا گیا ہے لیکن جب تمہارے اور قبلہ کے بیچ میں کوئی ایسی چیز ہو جو تمہارے لیے آڑ ہو تو کوئی حرج نہیں ١ ؎۔
Marwan al-Asfar said: I saw Ibn Umar make his camel kneel down facing the qiblah, then he sat down urinating in its direction. So I said: Abu Abdur Rahman, has this not been forbidden? He replied: Why not, that was forbidden only in open country; but when there is something between you and the qiblah that conceals you, then there is no harm.
Notes · وضاحت
١ ؎: گویا قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کے وقت کھلی جگہ میں قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنا منع ہے البتہ ایسی جگہ جہاں قبلہ کی طرف سے کوئی چیز آڑ کا کام دے وہاں قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کر کے قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کرنے میں کوئی حرج نہیں، لیکن احتیاط کی بات یہی ہے کہ ہر جگہ قبلہ کا احترام ملحوظ رہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ (ایک روز) میں (کسی ضرورت سے) گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کے لیے دو اینٹوں پر اس طرح بیٹھے دیکھا کہ آپ ﷺ کا رخ بیت المقدس کی طرف تھا ١ ؎۔
Narrated Abd Allaah bin Umar (RA) : I ascended the roof of the house and saw the Messenger of Allah ﷺ sitting on two bricks facing Jerusalem (Bait al-Maqdis) for relieving himself.
Notes · وضاحت
١ ؎: مدینہ منورہ سے بیت المقدس اتر کی طرف واقع ہے۔
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ہمیں پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف رخ کرنے سے منع فرمایا، (لیکن) میں نے وفات سے ایک سال پہلے آپ ﷺ کو (قضائے حاجت کی حالت میں) قبلہ رو دیکھا ١ ؎۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Prophet of Allah ﷺ forbade us to face the qiblah at the time of making water. Then I saw him facing it (qiblah) urinating or easing himself one year before his death.
Notes · وضاحت
١ ؎: گویا جابر ؓ کو یہ وہم تھا کہ ممانعت عام تھی، صحراء اور آباد علاقہ دونوں کو شامل تھی، اسی وجہ سے آپ نے اسے نسخ پر محمول کیا کہ رسول اکرم ﷺ کے آخری فعل سے یہ نہی ( ممانعت) منسوخ ہوگئی۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کا ارادہ فرماتے تو اپنا کپڑا (شرمگاہ سے اس وقت تک) نہ اٹھاتے جب تک کہ زمین سے قریب نہ ہوجاتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عبدالسلام بن حرب نے اعمش سے، انہوں نے انس بن مالک ؓ سے روایت کی ہے، مگر یہ ضعیف ہے ١ ؎۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : When the Prophet ﷺ wanted to relieve himself, he would not raise his garment, until he lowered himself near the ground. Abu DAwud said: This tradition has been transmitted by Abd al-Salam bin Harb on the authority of al-Amash from Anas bin Malik (RA). This chain of narrators is weak (because Amashs hearing tradition from Anas bin Malik (RA) is not established).
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ اعمش کا سماع انس بن مالک ؓ سے ثابت نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٩٢، ٨٥٩٧)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطھارة ١٠ (١٤)، سنن الدارمی/الطھارة (٧/٦٩٣) (صحیح) (سنن بیہقی میں رجل مبہم کی صراحت ہے کہ وہ قاسم بن محمد ہیں، اور یہ ثقہ راوی ہیں )
ابوسعید ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا دو آدمی قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کے وقت شرمگاہ کھولے ہوئے آپس میں باتیں نہ کریں کیونکہ اس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو عکرمہ بن عمار کے علاوہ کسی اور نے مسنداً (مرفوعاً ) روایت نہیں کیا ہے۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : I heard the Messenger of Allah ﷺ say: When two persons go together for relieving themselves uncovering their private parts and talking together, Allah, the Great and Majestic, becomes wrathful at this (action). Abu Dawud said: This tradition has been narrated only by Ikrimah bin Ammar.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطھارة ٢٤ (٣٤٢)، (تحفة الأشراف: ٤٣٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٦) (صحیح لغیرہ) (الصحیحہ: ٣١٢٠، وتراجع الألباني: ٧، ) ( لیکن دوسرے طریق کی وجہ سے حدیث صحیح ہے )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ (ایک دن) پیشاب کر رہے تھے (کہ اسی حالت میں) ایک شخص آپ کے پاس سے گزرا اور اس نے آپ کو سلام کیا، تو آپ ﷺ نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن عمر وغیرہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے تیمم کیا، پھر اس آدمی کے سلام کا جواب دیا۔
Narrated Ibn Umar (RA) : A man passed by the Prophet ﷺ while he was urinating, and saluted him. The Prophet ﷺ did not return the salutation to him. Abu Dawud said: It is narrated on the authority of Ibn Umar that the Prophet ﷺ performed tayammum, then he returned the salutation to the man.
مہاجر بن قنفذ ؓ کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، آپ ﷺ پیشاب کر رہے تھے تو انہوں نے آپ کو سلام کیا، آپ ﷺ نے سلام کا جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ وضو کیا پھر (سلام کا جواب دیا اور) مجھ سے معذرت کی اور فرمایا مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ میں اللہ کا ذکر بغیر پاکی کے کروں ۔ راوی کو شک ہے على طهر کہا، یا على طهارة کہا۔
Narrated Muhajir ibn Qunfudh (RA) : Muhajir came to the Prophet ﷺ while he was urinating. He saluted him. The Prophet ﷺ did not return the salutation to him until he performed ablution. He then apologised to him, saying: I disliked remembering Allah except in the state of purification.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطھارة ٣٤ (٣٨)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٢٧ (٣٥٠)، (تحفة الأشراف: ١١٥٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٨٠)، سنن الدارمی/الاستئذان ١٣ (٦٢٨٣) (صحیح )
انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب پاخانہ میں داخل ہوتے تو اپنی انگوٹھی نکال کر رکھ دیتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ یہ حدیث منکر ہے، معروف وہ روایت ہے جسے ابن جریج نے زیاد بن سعد سے، زیاد نے زہری سے اور زہری نے انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی (اسے پہنا) پھر اسے نکال کر پھینک دیا۔ اس حدیث میں ہمام راوی سے وہم ہوا ہے، اسے صرف ہمام ہی نے روایت کیا ہے۔
Narrated Anas ibn Malik (RA) : When the Prophet ﷺ entered the privy, he removed his ring. Abu Dawud said: This is a munkar tradition, i. e. it contradicts the well-known version reported by reliable narrators. On the authority of Anas the well-known version says: The Prophet ﷺ had a silver ring made for him. Then he cast it off. The misunderstanding is on the part of Hammam (who is the narrator of the previous tradition mentioned in the text). This is transmitted only by Hammam.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/ اللباس ١٦ (١٧٤٦)، الشمائل ١١ (٨٨)، سنن النسائی/الزینة ٥١ (٥٢١٦)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١١ (٣٠٣)، (تحفة الأشراف: ١٥١٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٩٩، ١٠١، ٢٨٢) (منکر) (مؤلف نے اس کی علت بیان کردی ہے )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا گزر دو قبروں پر ہوا، آپ ﷺ نے فرمایا (قبر میں مدفون) ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے اور کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں، ان میں سے یہ شخص تو پیشاب سے پاکی حاصل نہیں کرتا تھا، اور رہا یہ تو یہ چغل خوری میں لگا رہتا تھا پھر آپ ﷺ نے کھجور کی ایک تازہ ٹہنی منگوائی، اور اسے بیچ سے پھاڑ کر دونوں قبروں پر ایک ایک شاخ گاڑ دی پھر فرمایا جب تک یہ ٹہنیاں خشک نہ ہوں شاید ان کا عذاب کم رہے ۔ ھناد نے يستنزه کی جگہ يستتر (پردہ نہیں کرتا تھا) ذکر کیا ہے۔
Narrated Ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ passed by two graves. He said: Both (the dead) are being punished, but they are not being punished for a major (sin). One did not safeguard himself from urine. The other carriedtales. He then called for a fresh twig and split it into two parts and planted one part on each grave and said: Perhaps their punishment may be mitigated as long as the twigs remain fresh. Another version of Hannad has: One of them did not cover himself while urinating. This version does not have the words: He did not safeguard himself from urine.