عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے اسی مفہوم کی حدیث بیان فرمائی اس میں اتنا اضافہ ہے کہ اگر روزے سے نہ ہو تو کھالے، اور اگر روزے سے ہو تو (کھانے اور کھلانے والوں کے لیے بخشش و برکت کی) دعا کرے ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn Umar to the same effect through a different chain of narrators. This version has the additional words: If he is not fasting, he should eat, and if he is fasting, he should leave it.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٧٨٧١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٧) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں کوئی اپنے بھائی کو ولیمے کی یا اسی طرح کی کوئی دعوت دے تو وہ اسے قبول کرے ۔
Ibn Umar reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: if one of you invites his brother, he should accept (the invitation), whether it is a wedding feast or something of that nature.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ النکاح ١٦ (١٤٢٩)، (تحفة الأشراف: ٧٥٣٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٦٨، ١٠١، ١٢٧، ١٤٦) (صحیح )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کو دعوت دی جائے اسے دعوت قبول کرنی چاہیئے پھر اگر چاہے تو کھائے اور چاہے تو نہ کھائے ۔
Jabir reported the Messenger of Allah ﷺ as sayings: when one of you is invited to a meal, he must accept. If he wishes he may eat, but if he wishes (to leave), he may leave.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النکاح ١٦ (١٤٣٠)، (تحفة الأشراف: ٢٧٤٣)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الصیام ٤٧ (١٧٥١)، مسند احمد (٣/٣٩٢) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جسے دعوت دی گئی اور اس نے قبول نہیں کیا تو اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی، اور جو بغیر دعوت کے گیا تو وہ چور بن کر داخل ہوا اور لوٹ مار کر نکلا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابان بن طارق مجہول راوی ہیں۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ said: He who does not accept an invitation which he receives has disobeyed Allah and His Messenger of, and he who enters without invitation enters as a thief and goes out as a raider. Abu Dawud said: Aban bin Tariq is unknown.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٧٤٦٩) (ضعیف) (اس کے راوی درست ضعیف، اور ابان مجہول ہیں، لیکن پہلا ٹکڑا ابوہریرہ کی اگلی حدیث سے صحیح ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے تھے سب سے برا کھانا اس ولیمہ کا کھانا ہے جس میں صرف مالدار بلائے جائیں اور غریب و مسکین چھوڑ دیئے جائیں، اور جو (ولیمہ کی) دعوت میں نہیں آیا اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ جو ولیمہ ایسا ہو جس میں صرف مالدار اور باحیثیت لوگ ہی بلائے جائیں، اور محتاج و فقیر نہ آنے پائیں وہ برا ہے، نہ یہ کہ خود ولیمہ برا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ النکاح ٧٣ (٥١٧٧)، صحیح مسلم/النکاح ١٦ (١٤٣٢)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٢٥ (١٩١٣)، (٢١١٠)، (تحفة الأشراف: ١٣٩٥٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٤٠)، سنن الدارمی/الأطعمة ٢٨(٢١١٠) (صحیح )
ثابت کہتے ہیں : انس بن مالک ؓ کے پاس ام المؤمنین زینب بنت جحش ؓ کے نکاح کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی بیویوں میں سے کسی کے نکاح میں زینب کے نکاح کی طرح ولیمہ کرتے نہیں دیکھا، آپ نے ان کے نکاح میں ایک بکری کا ولیمہ کیا۔
Thabit said: The marriage of Zainab daughter of Jahsh was mentioned before Anas bin Malik (RA). He said: I did not see that the Messenger of Allah ﷺ held such a wedding feast for any of his wives as he did for her. He held a wedding feast with a sheep.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/النکاح ٦٨ (٥١٦٨)، صحیح مسلم/النکاح ١٣ (١٤٢٨)، سنن النسائی/الکبری ٤ (٦٦٠٢)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٢٤ (١٩٠٨)، (تحفة الأشراف: ٢٨٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٢٧) (صحیح )
جابر ؓ کہتے ہیں جب نبی اکرم ﷺ مدینہ تشریف لائے تو آپ نے ایک اونٹ یا ایک گائے ذبح کی۔
Narrated Zubayr ibn Uthman (RA) : The Prophet ﷺ said: The wedding feast on the first day is a duty, that on the second is a good practice, but that on the third day is to make men hear of it and show it to them. Qatadah said: A man told me that Saeed ibn al-Musayyab was invited (to a wedding feast on the first day and he accepted it. He was again invited on the second day, and he accepted. When he was invited on the third day, he did not accept; he said: They are the people who make men hear of it and show it to them.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ١٩٩، ٣٠٨٩)، (تحفة الأشراف: ٢٥٨١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٩٩، ٣٠٢، ٣١٩، ٣٦٣) (صحیح الإسنادِ )
ابوشریح کعبی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے مہمان کی خاطر تواضع کرنی چاہیئے، اس کا جائزہ ایک دن اور ایک رات ہے اور ضیافت تین دن تک ہے اور اس کے بعد صدقہ ہے، اور اس کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اس کے پاس اتنے عرصے تک قیام کرے کہ وہ اسے مشقت اور تنگی میں ڈال دے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حارث بن مسکین پر پڑھا گیا اور میں موجود تھا کہ اشہب نے آپ کو خبر دی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: امام مالک سے نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان جائزته يوم وليلة کے متعلق پوچھا گیا: تو انہوں نے کہا: اس کا مطلب یہ ہے کہ میزبان ایک دن اور ایک رات تک اس کی عزت و اکرام کرے، تحفہ و تحائف سے نوازے، اور اس کی حفاظت کرے اور تین دن تک ضیافت کرے ١ ؎۔
Qatadah reported this story from Saeed bin al-Musayyab. This version adds: When he was invited on the third day, he did not accept but threw pebbles on the messenger.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی پہلے دن اپنی حیثیت کے مطابق خصوصی اہتمام کرے اور باقی دو دنوں میں بغیر تکلف و اہتمام کے ماحضر پیش کرے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأدب ٣١ (٦٠١٩)، ٨٥ (٦١٣٥)، الرقاق ٢٣ (٦٤٧٦)، صحیح مسلم/الإیمان ١٩ (٤٨)، سنن الترمذی/البر والصلة ٤٣ (١٩٦٧)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٥ (٣٦٧٥)، (تحفة الأشراف: ١٢٠٥٦)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صفة النبي ﷺ ١٠ (٢٢) مسند احمد (٤/٣١، ٦/٣٨٤، ٣٨٥)، سنن الدارمی/الأطعمة ١١ (٢٠٧٨) (صحیح)
عبداللہ بن عثمان ثقفی بنو ثقیف کے ایک کانے شخص سے روایت کرتے ہیں (جسے اس کی بھلائیوں کی وجہ سے معروف کہا جاتا تھا، یعنی خیر کے پیش نظر اس کی تعریف کی جاتی تھی، اگر اس کا نام زہیر بن عثمان نہیں تو مجھے نہیں معلوم کہ اس کا کیا نام تھا) کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ولیمہ پہلے روز حق ہے، دوسرے روز بہتر ہے، اور تیسرے روز شہرت و ریاکاری ہے ۔ قتادہ کہتے ہیں: مجھ سے ایک شخص نے بیان کیا کہ سعید بن مسیب کو پہلے دن دعوت دی گئی تو انہوں نے قبول کیا اور دوسرے روز بھی دعوت دی گئی تو اسے بھی قبول کیا اور تیسرے روز دعوت دی گئی تو قبول نہیں کیا اور کہا: (دعوت دینے والے) نام و نمود والے اور ریا کار لوگ ہیں۔
Abu Shuraih al-Kaabi reported the Messenger of Allah ﷺ as sayings: He who believes in Allah and the Last Day should honour his guest provisions for the road are what will serve for a day and night: hospitality extends for three days; what goes after that is sadaqah (charity): and it is not allowable that a guest should stay till he makes himself an encumbrance. Abu Dawud said: Malik was asked about the saying of the Prophet: Provisions for the road what will serve for a day a night. He said: He should honor him, present him some gift, and protect him for a day and night, and hospitality for three days.
Takhrij · تخریج
سنن الدارمی/الأطعمة ٢٨ (٢١٠٩)، (تحفة الأشراف: ٣٦٥١، ١٨٧١٩) (ضعیف) (اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے )
اس سند سے بھی سعید بن مسیب سے یہی واقعہ مروی ہے اور اس میں یہ ہے کہ پہلے اور دوسرے روز انہوں نے دعوت قبول کرلی پھر جب تیسرے روز انہیں دعوت دی گئی تو قبول نہیں کیا اور قاصد کو کنکری ماری۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: Hospitality extend for three days, and what goes beyond that is sadaqah (charity).
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٣٦٥١، ١٨٧١٩) (ضعیف) (اس کے راوی قتادہ مدلس اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں )
ا
ابوکریمہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر مسلمان پر مہمان کی ایک رات کی ضیافت حق ہے، جو کسی مسلمان کے گھر میں رات گزارے تو ایک دن کی مہمانی اس پر قرض ہے، چاہے تو اسے وصول کرلے اور چاہے تو چھوڑ دے ۔
Narrated AbuKarimah (RA) : The Prophet ﷺ said: It is a duty of every Muslim (to provide hospitality) to a guest for a night. If anyone comes in the morning to his house, it is a debt due to him. If he wishes, he may fulfil it, and if he wishes he may leave it.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأدب ٥ (٣٦٧٧)، (تحفة الأشراف: ١١٥٦٨) (صحیح )
ابوکریمہ مقدام بن معدیکرب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی قوم کے پاس بطور مہمان آئے اور صبح تک ویسے ہی محروم رہے تو ہر مسلمان پر اس کی مدد لازم ہے یہاں تک کہ وہ ایک رات کی مہمانی اس کی زراعت اور مال سے لے لے ۔
Narrated Al-Miqdam AbuKarimah (RA) : The Prophet ﷺ said: If any Muslim is a guest of people and is given nothing, it is the duty of every Muslim to help him to the extent of taking for him from their crop and property for the entertainment of one night.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١١٥٦٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٣١، ١٣٣)، دی/ الأطعمة ١١ (٢٠٨٠) (ضعیف) (اس کے راوی سعید بن ابی المہاجر مجہول ہیں )
عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ہمیں (جہاد یا کسی دوسرے کام کے لیے) بھیجتے ہیں تو (بسا اوقات) ہم کسی قوم میں اترتے ہیں اور وہ لوگ ہماری مہمان نوازی نہیں کرتے تو اس سلسلے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا: اگر تم کسی قوم میں جاؤ اور وہ لوگ تمہارے لیے ان چیزوں کا انتظام کردیں جو مہمان کے لیے چاہیئے تو اسے تم قبول کرو اور اگر وہ نہ کریں تو ان سے مہمانی کا حق جو ان کے حسب حال ہو لے لو ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ اس شخص کے لیے دلیل ہے جس کا حق کسی کے ذمہ ہو تو وہ اپنا حق لے سکتا ہے۔
Uqbah bin Amir said: we said: Messenger of Allah! You send us out and we come to people who do not give hospitality, so what is your opinion? The Messenger of Allah ﷺ said: If you come to people who order for you what is fitting for a guest, accept it; but if they do not, take from them what is fitting for them to give to a guest. Abu Dawud said: And this is an authority for a man to take a thing if it is due to him.
Notes · وضاحت
١ ؎: رسول اللہ ﷺ نے جب کافروں سے صلح کی تھی تو اس صلح میں یہ بھی طے ہوا تھا کہ اگر مسلمان تمہارے ملک میں آئیں جائیں تو ان کی ضیافت لازمی ہے، اس حدیث میں وہی لوگ مراد ہیں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ مسافر مسلمانوں کو اپنی مہمان نوازی پر مجبور کرے، یہ اور بات ہے کہ مہمان نوازی اور ضیافت مسنون و مستحب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المظالم ١٨ (٢٤٦١)، الأدب ٨٥ (٦١٣٧)، صحیح مسلم/اللقطة ٣ (١٧٢٧)، سنن الترمذی/السیر ٣٢ (١٥٨٩)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٥ (٣٦٧٦)، (تحفة الأشراف: ٩٩٥٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٤٩) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ آیت کریمہ: لا تأکلوا أموالکم بينكم بالباطل إلا أن تکون تجارة عن تراض منکم (سورۃ النساء: ٢٩) کے نازل ہونے کے بعد لوگ ایک دوسرے کے یہاں کھانا کھانے میں گناہ محسوس کرنے لگے تو یہ آیت سورة النور کی آیت: ليس عليكم جناح أن تأکلوا من بيوتکم ..... أشتاتا ( سورة النساء: ٦١) سے منسوخ ہوگئی، جب کوئی مالدار شخص اپنے اہل و عیال میں سے کسی کو دعوت دیتا تو وہ کہتا: میں اس کھانے کو گناہ سمجھتا ہوں اس کا تو مجھ سے زیادہ حقدار مسکین ہے چناچہ اس میں مسلمانوں کے لیے ایک دوسرے کا کھانا جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو حلال کردیا گیا ہے اور اہل کتاب کا کھانا بھی حلال کردیا گیا۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas (RA) : When the verse: O ye who believe! eat not up your property among yourselves in vanities, but let there be amongst you traffic and trade by mutual good will was revealed, a man thought it a sin to eat in the house of another man after the revelation of this verse. Then this (injunction) was revealed by the verse in Surat an-Nur: No blame on you whether you eat in company or separately. When a rich man (after revelation) invited a man from his people to eat food in his house, he would say: I consider it a sin to eat from it, and he said: a poor man is more entitled to it than I. The Arabic word tajannah means sin or fault. It was then declared lawful to eat something on which the name of Allah was mentioned, and it was made lawful to eat the flesh of an animal slaughtered by the people of the Book.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٦٢٦٤) (حسن الإسناد )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے تھے کہ نبی اکرم ﷺ نے دو باہم فخر کرنے والوں کی دعوت کھانے سے منع فرمایا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جریر سے روایت کرنے والوں میں سے اکثر لوگ اس روایت میں ابن عباس ؓ کا ذکر نہیں کرتے ہیں نیز ہارون نحوی نے بھی اس میں ابن عباس کا ذکر کیا ہے اور حماد بن زید نے ابن عباس ؓ کا ذکر نہیں کیا ہے ١ ؎۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ forbade that the food of two people who were rivalling on another should be eaten Abu Dawud said: Most of those who narrated it from Jarir did not mentione the name of Ibn Abbas. Harun al-Nahwi mentioned Ibn Abbas in it, and Hammad bin Zaid did not mention Ibn Abbas.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی دونوں میں سے ہر ایک یہ چاہے کہ میں دوسرے سے بڑھ جاؤں اور اسے مغلوب کر دوں، ایسے لوگوں کی دعوت کو قبول کرنا منع ہے، کیوں کہ یہ اللہ کی رضا کے واسطے نہیں ہے۔
سفینہ ابوعبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ ایک شخص نے علی ؓ کی دعوت کی اور ان کے لیے کھانا بنایا (اور بھیج دیا) تو فاطمہ ؓ نے کہا: کاش ہم رسول اللہ ﷺ کو بلا لیتے آپ بھی ہمارے ساتھ کھانا تناول فرما لیتے چناچہ انہوں نے آپ کو بلوایا، آپ ﷺ تشریف لائے اور اپنا ہاتھ دروازے کے دونوں پٹ پر رکھا، تو کیا دیکھتے ہیں کہ گھر کے ایک کونے میں ایک منقش پردہ لگا ہوا ہے، (یہ دیکھ کر) آپ لوٹ گئے تو فاطمہ ؓ نے علی ؓ سے کہا: جا کر ملئیے اور دیکھئیے آپ کیوں لوٹے جا رہے ہیں؟ (علی ؓ کہتے ہیں) میں نے آپ ﷺ کا پیچھا کیا اور پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کیوں واپس جا رہے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: میرے لیے یا کسی نبی کے لیے یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی آرائش و زیبائش والے گھر میں داخل ہو ۔
Narrated Ali ibn Abu Talib: Safinah Abu Abdur Rahman said that a man prepared food for Ali ibn Abu Talib who was his guest, and Fatimah said: I wish we had invited the Messenger of Allah ﷺ and he had eaten with us. They invited him, and when he came he put his hands on the side-ports of the door, but when he saw the figured curtain which had been put at the end of the house, he went away. So Fatimah said to Ali (RA) : Follow him and see what turned him back. I (Ali) followed him and asked: What turned you back, Messenger of Allah? He replied: It is not fitting for me or for any Prophet to enter a house which is decorated.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٥٦ (٣٣٦٠)، (تحفة الأشراف: ٤٤٨٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٢٠، ٢٢١، ٢٢٢) (حسن )