پینے کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 23 · 67 hadiths · Page 4 of 4

3729Sunan Abu Dawood

پینے کے پانی میں پھونک مارنا

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ مَنْ بَنِي سُلَيْمٍ، قَالَ: جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي فَنَزَلَ عَلَيْهِ، فَقَدَّمَ إِلَيْهِ طَعَامًا، فَذَكَرَ حَيْسًا أَتَاهُ بِهِ، ثُمَّ أَتَاهُ بِشَرَابٍ، فَشَرِبَ فَنَاوَلَ مَنْ عَلَى يَمِينِهِ، وَأَكَلَ تَمْرًا، فَجَعَلَ يُلْقِي النَّوَى عَلَى ظَهْرِ أُصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةُ وَالْوُسْطَى، فَلَمَّا قَامَ قَامَ أَبِي فَأَخَذَ بِلِجَامِ دَابَّتِهِ، فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ لِي، فَقَالَ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ، وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ.

عبداللہ بن بسر جو بنی سلیم سے تعلق رکھتے ہیں کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ میرے والد کے پاس تشریف لائے اور ان کے پاس قیام کیا تو انہوں نے آپ ﷺ کی خدمت میں کھانا پیش کیا، پھر انہوں نے حیس ١ ؎ کا ذکر کیا جسے وہ آپ ﷺ کے پاس لے کر آئے پھر وہ آپ کے پاس پانی لائے تو آپ ﷺ نے پیا پھر جو آپ کے داہنے تھا اسے دیدیا، آپ ﷺ نے کھجوریں کھائیں اور ان کی گٹھلیاں درمیانی اور شہادت والی انگلیوں کی پشت پر رکھ کر پھینکنے لگے، جب آپ ﷺ کھڑے ہوئے تو میرے والد بھی کھڑے ہوئے اور انہوں نے آپ کی سواری کی لگام پکڑ کر عرض کیا: میرے لیے اللہ سے دعا کر دیجئیے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللهم بارک لهم فيما رزقتهم واغفر لهم وارحمهم اے اللہ جو روزی تو نے انہیں دی ہے اس میں برکت عطا فرما، انہیں بخش دے، اور ان پر رحم فرما ۔

Abdullah bin Busr from Banu Sulaim said: The Messenger of Allah ﷺ came to my father and he was a guest with him. He offered food to him and brought hais. He then brought a drink which he drank and he gave it to the one on his right. He ate dried dates and began to put the kernels on the back of his ring finger and middle finger. When he got up, my father also got up, and held the rein of his mount. He said: Pray to Allah for me. He said: O Allah, bless them in what you provided them, and have mercy on them.

Notes · وضاحت
١ ؎: ایک کھانے کا نام ہے جو کھجور وغیرہ سے تیار کیا جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأشربة ٢٢ (٢٠٤٢)، سنن الترمذی/الدعوات ١١٨ (٣٥٧٦)، (تحفة الأشراف: ٥٢٠٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٨٨، ١٩٠)، سنن الدارمی/الأطعمة ٢ (٢٠٦٥) (صحیح )
3730Sunan Abu Dawood

دودھ پینے کے بعد کیا کہے

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ. ح وحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كُنْتُ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَجَاءُوا بِضَبَّيْنِ مَشْوِيَّيْنِ عَلَى ثُمَامَتَيْنِ، فَتَبَزَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ خَالِدٌ: إِخَالُكَ تَقْذُرُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟، قَالَ: أَجَلْ، ثُمَّ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَبَنٍ فَشَرِبَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَأَطْعِمْنَا خَيْرًا مِنْهُ، وَإِذَا سُقِيَ لَبَنًا فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَزِدْنَا مِنْهُ فَإِنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ يُجْزِئُ مِنَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ إِلَّا اللَّبَنُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا لَفْظُ مُسَدَّدٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں میں ام المؤمنین میمونہ ؓ کے گھر میں تھا کہ اتنے میں رسول اللہ ﷺ تشریف لائے، آپ ﷺ کے ساتھ خالد بن ولید ؓ بھی تھے، لوگ دو بھنی ہوئی گوہ دو لکڑیوں پر رکھ کر لائے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں دیکھ کر تھوکا، تو خالد ؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرا خیال ہے اس سے آپ کو گھن (کراہت) ہو رہی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس دودھ لایا گیا تو آپ ﷺ نے اسے پیا اور فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اسے یہ دعا پڑھنی چاہیے اللهم بارک لنا فيه وأطعمنا خيرا منه اے اللہ! تو ہمارے لیے اس میں برکت عطا فرما اور ہمیں اس سے بہتر کھانا کھلا اور آپ ﷺ نے فرمایا: اور جب اسے کوئی دودھ پلائے تو اسے چاہیئے کہ یہ دعا پڑھے اللهم بارک لنا فيه وزدنا منه اے اللہ! تو ہمارے لیے اس میں برکت عطا فرما اور اسے ہمیں اور دے کیونکہ دودھ کے علاوہ کوئی ایسی چیز نہیں جو کھانے اور پینے دونوں سے کفایت کرے ۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : I was in the house of Maymunah. The Messenger of Allah ﷺ accompanied by Khalid ibn al-Walid entered. Two roasted long-tailed lizards (dabb) placed on the sticks were brought to him. The Messenger of Allah ﷺ spat. Khalid said: I think that you abominate it, Messenger of Allah. He said: Yes. Then the Messenger of Allah ﷺ was brought milk, and he drank (it). The Messenger of Allah ﷺ then said: When one of you eats food, he should say: O Allah, bless us in it, and give us food (or nourishment) better than it. When he is given milk to drink he should say: O Allah! bless us in it and give us more of it, for no food or drink satisfies like milk. Abu Dawud said: This is the Musaddads version.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ٥٥ (٣٤٥٥)، (تحفة الأشراف: ٦٢٩٨)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٣٥ (٣٣٢٢)، مسند احمد (١/٢٢٥)، سنن النسائی/ الیوم واللیلة (٢٨٦) (حسن) (علی بن زید بن جدعان ضعیف ہیں، لیکن دوسرے طریق سے تقویت پاکر یہ حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحہ ٢٣٢٠ )
3731Sunan Abu Dawood

برتن ڈھانکنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَغْلِقْ بَابَكَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ بَابًا مُغْلَقًا، وَأَطْفِ مِصْبَاحَكَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ، وَخَمِّرْ إِنَاءَكَ وَلَوْ بِعُودٍ تَعْرُضُهُ عَلَيْهِ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ، وَأَوْكِ سِقَاءَكَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ.

جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ کا نام لے کر اپنے دروازے بند کرو کیونکہ شیطان بند دروازوں کو نہیں کھولتا، اللہ کا نام لے کر اپنے چراغ بجھاؤ، اللہ کا نام لے کر اپنے برتنوں کو ڈھانپو خواہ کسی لکڑی ہی سے ہو جسے تم اس پر چوڑائی میں رکھ دو، اور اللہ کا نام لے کر مشکیزے کا منہ باندھو ۔

Jabir reported the Prophet ﷺ as saying: Shut your door and make mention of Allahs name, for the devil does not open a door which has been shut; extinguish your lamp and make mention of Allahs name, cover up your vessel even by a piece of wood that you just put on it and make mention of Allahs name, and tie up your water-skin mentioning Allahs name.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأشربة ٢٢ (٥٦٢٣)، صحیح مسلم/الأشربة ١٢ (٢٠١٢)، (تحفة الأشراف: ٢٤٤٦)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأدب ٧٤ (٢٨٥٧)، سنن ابن ماجہ/الأشربة ١٦ (٣٤١٠)، والأدب ٤٦ (٣٧٧١)، مسند احمد (٣/٣٥٥) (صحیح )
3732Sunan Abu Dawood

برتن ڈھانکنے کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْخَبَرِ وَلَيْسَ بِتَمَامِهِ، قَالَ: فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ بَابًا غَلَقًا، وَلَا يَحُلُّ وِكَاءً، وَلَا يَكْشِفُ إِنَاءً، وَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ تُضْرِمُ عَلَى النَّاسِ بَيْتَهُمْ أَوْ بُيُوتَهُمْ.

اس سند سے بھی جابر بن عبداللہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے یہی حدیث روایت کی ہے لیکن یہ پوری نہیں ہے، اس میں ہے کہ شیطان کسی بند دروازے کو نہیں کھولتا، نہ کسی بندھن کو کھولتا ہے اور نہ کسی برتن کے ڈھکنے کو، اور چوہیا لوگوں کا گھر جلا دیتی ہے، یا کہا ان کے گھروں کو جلا دیتی ہے ۔

Jabir bin Abdullah reported the Prophet ﷺ as saying this version is not complete ‘’for the devil does not open a shut door, or loosen a water-skin, or uncover a vessel, for a mouse sets a house on fire over its inhabitants’’.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ الأشربة ١٢ (٢٠١٢)، سنن الترمذی/ الأطعمة ١٥ (١٨١٢)، (تحفة الأشراف: ٢٩٣٤) (صحیح )
3733Sunan Abu Dawood

برتن ڈھانکنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَفُضَيْلُ بْنُ عَبْدُ الْوَهَّابِ السُّكَّرِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، رَفَعَهُ، قَالَ: وَاكْفِتُوا صِبْيَانَكُمْ عِنْدَ الْعِشَاءِ، وَقَالَ مُسَدَّدٌ: عِنْدَ الْمَسَاءِ فَإِنَّ لِلْجِنِّ انْتِشَارًا وَخَطْفَةً.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عشاء کے وقت اپنے بچوں کو اپنے پاس ہی رکھو (اور مسدد کی روایت میں ہے: شام کے وقت اپنے بچوں کو اپنے پاس رکھو) کیونکہ یہ جنوں کے پھیلنے اور (بچوں کو) اچک لینے کا وقت ہے ۔

Jabir bin Abdullah reported the Prophet ﷺ as saying: Gather your children when darkness spreads, or in the evening (according to Musaddad), for the jinn are abroad and seize them.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ بدء الخلق ١٦ (٣٣١٦)، الاستئذان ٤٩ (٦٢٩٥)، سنن الترمذی/ الأدب ٧٤ (٢٨٥٧)، (تحفة الأشراف: ٢٤٧٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٨٨) (صحیح )
3734Sunan Abu Dawood

برتن ڈھانکنے کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَسْقَى، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَلَا نَسْقِيكَ نَبِيذًا ؟، قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَخَرَجَ الرَّجُلُ يَشْتَدُّ، فَجَاءَ بِقَدَحٍ فِيهِ نَبِيذٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا خَمَّرْتَهُ وَلَوْ أَنْ تَعْرِضَ عَلَيْهِ عُودًا، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ الْأَصْمَعِيُّ: تَعْرِضُهُ عَلَيْهِ.

جابر ؓ کہتے ہیں ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے آپ نے پانی طلب کیا تو قوم میں سے ایک شخص نے عرض کیا: کیا ہم آپ کو نبیذ نہ پلا دیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں (کوئی مضائقہ نہیں) تو وہ نکلا اور دوڑ کر ایک پیالہ نبیذ لے آیا، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تو نے اسے ڈھک کیوں نہیں لیا؟ ایک لکڑی ہی سے سہی جو اس کے عرض (چوڑان) میں رکھ لیتا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اصمعی نے کہا: تعرضه عليه یعنی تو اسے اس پر چوڑان میں رکھ لیتا۔

Jabir said: We were with Prophet ﷺ and he asked for something to drink. A man from the company asked: Should we not give you nabidh (drink made from dates) to drink ? He replied: Yes. The man went quickly and bought a cup of nabidh. The Messenger of Allah ﷺ said: Why did you not cover it up even by putting a piece of wood on it ? Abu Dawud said: Al-Asmais version has: You put it on it. . .

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ الأشرابة ١٢ (٥٦٠٦)، صحیح مسلم/ الأشربة ١٢ (٢٠١١)، (تحفة الأشراف: ٢٢٣٣) (صحیح )
3735Sunan Abu Dawood

برتن ڈھانکنے کا بیان

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنَ سَعِيدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْهِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: أَنّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيهِ وَسِلَّمَ كَانَيُسْتَعْذَبُ لَهُ الْمَاءُ مِنْ بُيُوتِ السُّقْيَا، قِالَ قُتَيْبَةُ: عَيْنٌ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْمَدِينَةِ يَوْمَانِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے لیے سقیا کے گھروں سے میٹھا پانی لایا جاتا۔ قتیبہ کہتے ہیں: سقیا ایک چشمہ ہے جس کی مسافت مدینہ سے دو دن کی ہے۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The water from as-Suqya was considered sweetest by the Prophet ﷺ . Qutaybah said: it was a well on two days journey from Madina.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٧٠٣٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٠٠، ١٠٨) (صحیح )