جابر بن زید اور عکرمہ سے روایت ہے کہ وہ دونوں صرف کچی کھجور کی نبیذ کو مکروہ جانتے تھے، اور اس مذہب کو ابن عباس ؓ سے لیتے تھے۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں: میں ڈرتا ہوں کہیں یہ مزاء نہ ہو جس سے عبدالقیس کو منع کیا گیا تھا ہشام کہتے ہیں: میں نے قتادہ سے کہا: مزاء کیا ہے؟ انہوں نے کہا: حنتم اور مزفت میں تیار کی گئی نبیذ۔
Qatadah said on the authority of Jabir bin Zaid and Ikrimah that they disapprove of drink made exclusively from unripe dates. This they reported on the authority of Ibn Abbas said: I am afraid it may not be muzza from which (the people of) Abd al-Qais were prohibited. I asked Qatadah (RA) : What is muzza’? He replied: Drink of dates made in a green jar and vessels smeared with pitch.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥٣٨٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣١٠، ٣٣٤) (صحیح الإسناد )
دیلمی ؓ کہتے ہیں ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کو معلوم ہے کہ ہم کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں، لیکن کس کے پاس آئے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کے پاس پھر ہم نے عرض کیا: اے رسول اللہ! ہمارے یہاں انگور ہوتا ہے ہم اس کا کیا کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اسے خشک لو ہم نے عرض کیا: اس زبیب (سوکھے ہوئے انگور) کو کیا کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: صبح کو اسے بھگو دو، اور شام کو پی لو، اور جو شام کو بھگوؤ اسے صبح کو پی لو اور چمڑوں کے برتنوں میں اسے بھگویا کرو، مٹکوں اور گھڑوں میں نہیں کیونکہ اگر نچوڑنے میں دیر ہوگی تو وہ سرکہ ہوجائے گا ١ ؎۔
Narrated Ad-Daylami (RA) : We came to the Prophet ﷺ and said to him: Messenger of Allah, you know who we are, from where we are and to whom we have come. He said: To Allah and His Messenger. We said: Messenger of Allah, we have grapes; what should we do with them? He said: Make them raisins. We then asked: What should we do with raisins? He replied: Steep them in the morning and drink in the evening, and steep them in the evening and drink in the morning. Steep them in skin vessels and do not steep them in earthen jar, for it it is delayed in pressing, it becomes vinegar.
Notes · وضاحت
١ ؎: اکثر مٹکوں اور گھڑوں میں تیزی جلد آجاتی ہے، اس لیے نبی کریم ﷺ نے یہ ممانعت فرمائی ہے، اور چمڑے کے مشکیزوں میں نبیذ بھگونے کی اجازت دی، کیونکہ اس میں تیزی جلد آجانے کا اندیشہ نہیں رہتا، اور نچوڑنے میں دیر ہوگی سے مراد مٹکوں اور گھڑوں سے نکال کر بھگوئی ہوئی کشمش کو نچوڑنے میں دیر کرنا ہے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں رسول اللہ ﷺ کے لیے ایک ایسے چمڑے کے برتن میں نبیذ تیار کی جاتی تھی جس کا اوپری حصہ باندھ دیا جاتا، اور اس کے نیچے کی طرف بھی منہ ہوتا، صبح میں نبیذ بنائی جاتی تو اسے شام میں پیتے اور شام میں نبیذ بنائی جاتی تو اسے صبح میں پیتے ١ ؎۔
Aishah said: Dates were steeped for the Apostel of Allah ﷺ in skin which was tied up at the top and had a mouth. What was steeped in the morning he would drink in the evening and what was steeped in the evening he would drink in the morning.
Notes · وضاحت
١ ؎: فجر سے لیکر سورج چڑہنے تک کے درمیانی وقت کو غدو ۃ کہتے ہیں، اور زوال کے بعد سے سورج ڈوبنے تک کے وقت کو عشاء کہتے ہیں۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے لیے صبح کو نبیذ بھگوتی تھیں تو جب شام کا وقت ہوتا تو آپ شام کا کھانا کھانے کے بعد اسے پیتے، اور اگر کچھ بچ جاتی تو میں اسے پھینک دیتی یا اسے خالی کردیتی، پھر آپ کے لیے رات میں نبیذ بھگوتی اور صبح ہوتی تو آپ اسے دن کا کھانا تناول فرما کر پیتے۔ وہ کہتی ہیں: مشک کو صبح و شام دھویا جاتا تھا۔ مقاتل کہتے ہیں: میرے والد (حیان) نے ان سے کہا: ایک دن میں دو بار؟ وہ بولیں: ہاں دو بار۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : Amrah said on the authority of Aisha (RA) that she would steep dates for the Messenger of Allah ﷺ in the morning. When the evening came, he took his dinner and drank it after his dinner. If anything remained, she poured it out. She then would steep for him at night. When the morning came, he took his morning meal and drank it after his morning meal. She said: The skin vessel was washed in the morning and in the evening. My father (Hayyan) said to her: Twice a day? She said: Yes.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧٩٥٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٢٤) (حسن الإسناد )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں نبی اکرم ﷺ کے لیے کشمش کی نبیذ تیار کی جاتی تو آپ اس دن پیتے، دوسرے دن پیتے اور تیسرے دن کی شام تک پیتے پھر حکم فرماتے تو جو بچا ہوتا اسے خدمت گزاروں کو پلا دیا جاتا یا بہا دیا جاتا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: خادموں کو پلانے کا مطلب یہ ہے کہ خراب ہونے سے پہلے پہلے انہیں پلا دیا جاتا۔
Ibn abbas said: Raisins were steeped for the Prophet ﷺ and he would drink it in the morning and the night after, the following day and the night after. He then gave orders and it was given to servants to drinks or poured away. Abu Dawud said: That it was given to servants to drink means before it spoiled. Abu Dawud said: Abu Umar Yahya al-Bahrani.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأشربة ٩ (٢٠٠٤)، سنن النسائی/الأشربة ٥٥ (٥٧٤٠)، سنن ابن ماجہ/الأشربة ١٢ (٣٣٩٩)، (تحفة الأشراف: ٦٥٤٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣٢، ٢٤٠، ٢٨٧، ٣٥٥) (صحیح )
عبید بن عمیر کہتے ہیں میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے سنا وہ خبر دے رہی تھیں کہ نبی اکرم ﷺ زینب بنت حجش ؓ کے پاس ٹھہرتے اور شہد پیتے تھے تو ایک روز میں نے اور حفصہ ؓ نے مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس آپ ﷺ تشریف لائیں وہ کہے: مجھے آپ سے مغافیر ١ ؎ کی بو محسوس ہو رہی ہے، چناچہ آپ ﷺ ان میں سے ایک کے پاس تشریف لائے، تو اس نے آپ سے ویسے ہی کہا، آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، بلکہ میں نے تو زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے اور اب دوبارہ ہرگز نہیں پیوں گا تو قرآن کریم کی آیت: لم تحرم ما أحل الله لک تبتغي ٢ ؎ سے لے کر إن تتوبا إلى الله ٣ ؎ تک عائشہ اور حفصہ ؓ کے متعلق نازل ہوئی۔ إن تتوبا میں خطاب عائشہ اور حفصہ ؓ کو ہے اور وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه حديثا میں حديثا سے مراد آپ کا: بل شربت عسلا (بلکہ میں نے شہد پیا ہے) کہنا ہے۔
Aishah said that the prophet ﷺ used to stay with Zainab, daughter of Jahsh, and drink honey. I and Hafsah counseled each other that if the Prophet ﷺ enters upon any of us, she must say: I find the smell of gum (maghafir) from you. He then entered upon one of them; she said that to him. Thereupon he said: No, I drank honey at (the house of) Zainab daughter of jahsh, and I will not do it again. Then the following verse came down: ’’O Prophet!why holdest thou to be forbidden that which Allah has made lawful to thee ? ‘’Thou seekest. . . If you two turn in repentance to Allah ‘’ refers to Hafsah and Aisha (RA) , and the verse: ‘’When the Prophet disclosed a matter in confidence to one of his consorts’’ refers to the statements of the Prophet ﷺ disclosed a matter in confidence to one of his consorts’’ refers to the statement of the Prophet ﷺ : No, I drank honey.
Notes · وضاحت
١ ؎: مغافیر ایک قسم کا گوند ہے جس میں بدبو ہوتی ہے اور نبی اکرم ﷺ کو اس بات سے سخت نفرت تھی کہ آپ کے جسم اطہر سے کسی کو کوئی بو محسوس ہو۔ ٢ ؎: سورة التحريم: (١) ٣ ؎: سورة التحريم: (٤ )
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر سورة التحریم (٤٩١٢) الطلاق ٨ (٥٢٦٧)، الأیمان ٢٥ (٦٦٩١)، صحیح مسلم/الطلاق ٣ (١٤٧٤)، سنن النسائی/عشرة النساء ٤ (٣٤١٠)، الطلاق ١٧ (٣٤٥٠)، الأیمان ٤٠ (٣٨٦٦)، (تحفة الأشراف: ١٦٣٢٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٢١) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میٹھی چیزیں اور شہد پسند کرتے تھے، اور پھر انہوں نے اسی حدیث کا کچھ حصہ ذکر کیا اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ کو یہ بہت ناگوار لگتا کہ آپ سے کسی قسم کی بو محسوس کی جائے اور اس حدیث میں یہ ہے کہ سودہ ١ ؎ نے کہا: بلکہ آپ نے مغافیر کھائی ہے آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، بلکہ میں نے شہد پیا ہے، جسے حفصہ نے مجھے پلایا ہے تو میں نے کہا: شاید اس کی مکھی نے عرفط ٢ ؎ چاٹا ہو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مغافیر: مقلہ ہے اور وہ گوند ہے، اور جرست: کے معنی چاٹنے کے ہیں، اور عرفط شہد کی مکھی کے پودوں میں سے ایک پودا ہے۔
Aishah said: The Messenger of Allah ﷺ liked sweet meats and honey. The narrator then mentioned a part of the tradition mentioned above. The Messenger of Allah ﷺ felt it hard on him to find smell from him. In this tradition saudah said: but you ate gum ? He said: No, I drank honey. Hafsah gave it to me to drank. I said: Its bees ate ‘urfut. Abu Dawud said: Maghafir is a gum ; jarasat means ate; ’urfut is a bees ‘ plant.
Notes · وضاحت
١ ؎: پچھلی حدیث میں مغافیر کی بات کہنے والی عائشہ ؓ یا حفصہ ؓ ہیں، اور اس حدیث میں سودہ ؓ، یہ دونوں دو الگ الگ واقعات ہیں، اس حدیث میں مذکور واقعہ پہلے کا ہے، اور پچھلی حدیث میں مذکور واقعہ بعد کا ہے جس کے بعد سورة التحریم والی آیت نازل ہوئی۔ ٢ ؎: عرفط: ایک قسم کی کانٹے دار گھاس ہے جس میں بدبو ہوتی ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں مجھے معلوم تھا کہ رسول اللہ ﷺ روزے رکھا کرتے ہیں تو میں اس نبیذ کے لیے جو میں نے ایک تمبی میں بنائی تھی آپ کے روزہ نہ رکھنے کا انتظار کرتا رہا پھر میں اسے لے کر آپ ﷺ کے پاس آیا وہ جوش مار رہی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: اسے اس دیوار پر مار دو یہ تو اس شخص کا مشروب ہے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتا ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : I knew that the Messenger of Allah ﷺ used to keep fast. I waited for the day when he did not fast to present him the drink (nabidh) which I made in a pumpkin. I then brought it to him while it fermented. He said: Throw it to this wall, for this is a drink of the one who does not believe in Allah and the Last Day.
نزال بن سبرہ ؓ کہتے ہیں کہ علی ؓ نے پانی منگوایا اور اسے کھڑے ہو کر پیا اور کہا: بعض لوگ ایسا کرنے کو مکروہ اور ناپسند سمجھتے ہیں حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے جیسے تم لوگوں نے مجھے کرتے دیکھا ہے ١ ؎۔
Nazzal bin Samurah said: Ali asked for water and he drank it while standing. He then said: some people disapprove of doing this (drinking while standing ), but I saw the Messenger of Allah ﷺ doing as I have done.
Notes · وضاحت
١ ؎: پچھلی حدیث میں جو فرمان ہے وہ عام اوقات کے لئے ہے اور اس حدیث میں صرف جواز کی بات ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مشکیزے میں منہ لگا کر پینے سے، نجاست کھانے والے جانور کی سواری سے اور جس پرندہ کو باندھ کر تیر وغیرہ سے نشانہ لگا کر مارا گیا ہو اسے کھانے سے منع فرمایا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جلّالہ وہ جانور ہے جو نجاست کھاتا ہے۔
Ibn Abbas said: The Messenger of Allah ﷺ forbade drinking from the mouth of a water-skin, and riding the animal which feeds on filth and eating the animal which is killed in confinement. Abu Dawud said: Jallalah means an animal which eats filth and impurities.
عبداللہ انصاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے احد کے دن ایک مشکیزہ منگوایا اور فرمایا: مشکیزے کا منہ موڑو پھر آپ ﷺ نے اس کے منہ سے پیا۔
A man of the Ansar quoting from his father said that the Prophet ﷺ called for a skin-vessel on the day of the battle of Uhud. He then said: Invert the head of the vessel and he drank from its mouth.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأشربة ١٨ (١٨٩١)، (تحفة الأشراف: ٥١٤٩) (منکر) (سند میں عبیداللہ بن عمر ہیں، ابوعبیدالآجری سے روایت ہے کہ امام ابوداود نے کہا: ہذا لا یعرف عن عبیداللہ بن عمر، والصحیح حدیث عبدالرزاق عن عبداللہ بن عمر (تحفة الأشراف: ٥١٤٩) (یہ حدیث عبیداللہ بن عمر سے نہیں جانی جاتی، اس کو عبدالرزاق نے عبداللہ بن عمر سے روایت کیا ہے، واضح رہے کہ امام ترمذی نے عبدالرزاق سے اس طریق کی روایت کے بعد فرمایا: اس کی سند صحیح نہیں ہے، عبداللہ العمری حفظ کے اعتبار سے ضعیف ہیں، اور مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے عیسیٰ بن عبداللہ سے سنا ہے یا نہیں سنا ہے، خلاصہ یہ ہے کہ عبیداللہ بن عمر سے یہ روایت غلط ہے صحیح یہ ہے کہ اس کو عبدالرزاق نے عبداللہ بن عمرالعمری سے روایت کیا جس کے بارے میں امام ابوداود نے اوپر اشارہ کیا اور امام ترمذی نے اس پر تنقید فرمائی، نیز اوپر کی حدیث جو عبیداللہ بن عمر سے مروی ہے اس میں رسول اللہ صلی+اللہ+علیہ+وسلم سے مشک کے منہ سے موڑ کر پینے سے منع کیا گیا ہے )
ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ حذیفہ ؓ مدائن میں تھے، آپ نے پانی طلب کیا تو ایک زمیندار چاندی کے برتن میں پانی لے کر آیا تو آپ نے اسے اسی پر پھینک دیا، اور کہا: میں نے اسے اس پر صرف اس لیے پھینکا ہے کہ میں اسے منع کرچکا ہوں لیکن یہ اس سے باز نہیں آیا، حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے ریشم اور دیبا پہننے سے اور سونے، چاندی کے برتن میں پینے سے منع کیا ہے، اور فرمایا ہے: یہ ان (کافروں) کے لیے دنیا میں ہیں اور تمہارے لیے آخرت میں ہیں ۔
Ibn Abi Laila said: Whan Hudhaifah was in al-Mada’in, he asked for water. A peasant brought him a silver vessel. He threw it away and said: I threw it away, for I prohibited (him) but he did not stop. The Messenger of Allah ﷺ forbade to wear silk or brocade, and to drink from gold and silver vessels. He said: Others have them in this world and you will have them in the next.
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص ایک انصاری کے پاس آئے وہ اپنے باغ کو پانی دے رہا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر تمہارے پاس مشکیزہ میں رات کا باسی پانی ہو تو بہتر ہے، ورنہ ہم منہ لگا کر نہر ہی سے پانی پی لیتے ہیں اس نے کہا: نہیں بلکہ میرے پاس مشکیزہ میں رات کا باسی پانی موجود ہے ١ ؎۔
Jabir bin Abdullah said: The Prophet ﷺ went to visit a man of the Ansar accompanied by one of his Companions who was watering his garden. The Messenger of Allah ﷺ said: If you have any water which has remained over night in a skin (we should like it), or shall sip (from a streamlet).
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نہر، نالی اور دریا سے منہ لگا کر پانی پی لینا اس صورت میں صحیح ہے کہ جب کوئی برتن ساتھ میں نہ ہو، لیکن ہاتھ سے پینا بہتر ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأشربة ٢٠ (٥٦١٣)، سنن ابن ماجہ/الأشربة ٢٥ (٣٤٣٢)، (تحفة الأشراف: ٢٢٥٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٢٨، ٣٤٣، ٣٤٤)، سنن الدارمی/الأشربة ٢٢ (٢١٦٩) (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں نبی اکرم ﷺ کے پاس دودھ لایا گیا جس میں پانی ملایا گیا تھا، آپ کے دائیں ایک دیہاتی اور بائیں ابوبکر بیٹھے ہوئے تھے، آپ ﷺ نے دودھ نوش فرمایا پھر دیہاتی کو (پیالہ) دے دیا اور فرمایا: دائیں طرف والا زیادہ حقدار ہے پھر وہ جو اس کے دائیں ہو ١ ؎۔
Anas bin Malik (RA) said: The Prophet ﷺ was brought milk that was mixed with water. A nomad Arab was on his right and Abu Bakr was on his left. He himself drank and gave it to the nomad Arab, and said: He who is on the right, then he who is on his right then he who is on his right.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر چیز کی ابتدا داہنی طرف سے مسنون و مستحب ہے، گرچہ بائیں طرف والے لوگ معاشرہ کے معزز افراد ہوں، ہاں اگر کسی نے پانی مانگا تو وہ سب سے پہلے اس کا مستحق ہے، لیکن وہ اپنے دائیں طرف والوں کو دے دے، جیسا کہ حدیث نمبر (٣٧٢٩) میں آ رہا ہے۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ پیتے تو تین سانس میں پیتے اور فرماتے: یہ خوب پیاس کو مارنے والا، ہاضم اور صحت بخش ہے ۔
Anas bin Malik (RA) said: when the prophet ﷺ drank, he used to breathe three times in the course of a drink and say: It is more whole some, thrist-quenching and healthier.