Sunan Abu Dawood 3711

پینے کا بیان

3711Sunan Abu Dawood

نبیذ کی کیفیت کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيِّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيدٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ يُنْبَذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ يُوكَأُ أَعْلَاهُ، وَلَهُ عَزْلَاءُ يُنْبَذُ غُدْوَةً فَيَشْرَبُهُ عِشَاءً، وَيُنْبَذُ عِشَاءً فَيَشْرَبُهُ غُدْوَةً.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں رسول اللہ ﷺ کے لیے ایک ایسے چمڑے کے برتن میں نبیذ تیار کی جاتی تھی جس کا اوپری حصہ باندھ دیا جاتا، اور اس کے نیچے کی طرف بھی منہ ہوتا، صبح میں نبیذ بنائی جاتی تو اسے شام میں پیتے اور شام میں نبیذ بنائی جاتی تو اسے صبح میں پیتے ١ ؎۔

Aishah said: Dates were steeped for the Apostel of Allah ﷺ in skin which was tied up at the top and had a mouth. What was steeped in the morning he would drink in the evening and what was steeped in the evening he would drink in the morning.

Notes · وضاحت
١ ؎: فجر سے لیکر سورج چڑہنے تک کے درمیانی وقت کو غدو ۃ کہتے ہیں، اور زوال کے بعد سے سورج ڈوبنے تک کے وقت کو عشاء کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأشربة ٩ (٢٠٠٥)، سنن الترمذی/الأشربة ٧ (١٨٧١)، (تحفة الأشراف: ١٧٨٣٦) (صحیح )