عمر ؓ کہتے ہیں کہ شراب کی حرمت نازل ہوئی تو اس وقت شراب پانچ چیزوں: انگور، کھجور، شہد، گیہوں اور جو سے بنتی تھی، اور شراب وہ ہے جو عقل کو ڈھانپ لے، اور تین باتیں ایسی ہیں کہ میری خواہش تھی کہ رسول اللہ ﷺ ہم سے جدا نہ ہوں جب تک کہ آپ انہیں ہم سے اچھی طرح بیان نہ کردیں: ایک دادا کا حصہ، دوسرے کلالہ کا معاملہ اور تیسرے سود کے کچھ مسائل۔
Umar said: The prohibition of wine came down when (the Quranic verse) came down. It was made from five thing namely, grapes, dates, honey, wheat, barley. Wine is what infects (khamara) the mind. There are three things I wished that the prophet ﷺ would not leave us until he explained them fully to our satisfaction: (share of) grandfather, one who leaves no descendants or ascendants as hairs, and the details of usury.
عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو انہوں نے دعا کی: اے اللہ! شراب کے سلسلے میں ہمیں واضح حکم فرما جس سے تشفی ہوجائے تو سورة البقرہ کی یہ آیت اتری: يسألونک عن الخمر والميسر قل فيهما إثم کبير یعنی لوگ آپ سے شراب اور جوئے کے متعلق پوچھتے ہیں تو آپ کہہ دیجئیے ان میں بڑے گناہ ہیں (سورة البقرہ: ٢١٩) ۔ راوی کہتے ہیں: تو عمر ؓ بلائے گئے اور یہ آیت انہیں پڑھ کر سنائی گئی تو انہوں نے پھر دعا کی: اے اللہ! ہمارے لیے شراب کے سلسلے میں صاف اور واضح حکم نازل فرما جس سے تشفی ہو سکے، تو سورة نساء کی یہ آیت نازل ہوئی: يا أيها الذين آمنوا لا تقربوا الصلاة وأنتم سکارى یعنی اے ایمان والو! نشے کی حالت میں نماز کے قریب مت جاؤ (سورة النساء: ٤٣) چناچہ رسول اللہ ﷺ کا منادی جب اقامت کہہ دی جاتی تو آواز لگاتا: خبردار کوئی نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ آئے، پھر عمر ؓ کو بلا کر یہ آیت انہیں پڑھ کر سنائی گئی تو عمر ؓ نے پھر دعا کی: اے اللہ! شراب کے سلسلے میں کوئی واضح اور صاف حکم نازل فرما، تو یہ آیت نازل ہوئی:فهل أنتم منتهون یعنی کیا اب باز آجاؤ گے (سورة المائدہ: ٩١) عمر ؓ نے کہا: ہم باز آگئے۔
Narrated Umar ibn al-Khattab (RA) : When the prohibition of wine (was yet to be) declared, Umar said: O Allah, give us a satisfactory explanation about wine. So the following verse of Surat al-Baqarah revealed; They ask thee concerning wine and gambling. Say: In them is great sin. . . . Umar was then called and it was recited to him. He said: O Allah, give us a satisfactory explanation about wine. Then the following verse of Surat an-Nisa was revealed: O ye who believe! approach not prayers with a mind befogged. . . . Thereafter the herald of the Messenger of Allah ﷺ would call when the (congregational) prayer was performed: Beware, one who is drunk should not come to prayer. Umar was again called and it was recited to him). He said: O Allah, give us a satisfactory explanation about wine. This verse was revealed: Will ye not then abstain? Umar said: We abstained.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/تفسیر سورة المائدة ٨ (٣٠٤٩)، سنن النسائی/الأشربة ١ (٥٥٤٢)، (تحفة الأشراف: ١٠٦١٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٥٣) (صحیح )
علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ انہیں اور عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کو ایک انصاری نے بلایا اور انہیں شراب پلائی اس وقت تک شراب حرام نہیں ہوئی تھی پھر علی ؓ نے مغرب پڑھائی اور سورة قل يا أيها الکافرون کی تلاوت کی اور اس میں کچھ گڈ مڈ کردیا تو آیت: لا تقربوا الصلاة وأنتم سکارى حتى تعلموا ما تقولون نشے کی حالت میں نماز کے قریب تک مت جاؤ یہاں تک کہ تم سمجھنے لگو جو تم پڑھو نازل ہوئی۔
Narrated Ali ibn Abu Talib: A man of the Ansar called him and Abdur Rahman ibn Awf and supplied them wine before it was prohibited. Ali then led them in the evening prayer, and he recited; Say: O ye who reject faith. He was confused in it. Then the following verse came down: O ye who believe! approach not prayers with a mind befogged until you can understand all that ye say.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/تفسیر سورة النساء ١٢ (٣٠٢٦)، (تحفة الأشراف: ١٠١٧٥) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ يا أيها الذين آمنوا لا تقربوا الصلاة وأنتم سکارى (سورة النساء: ٤٣) اور يسألونک عن الخمر والميسر قل فيهما إثم کبير و منافع للناس (سورة البقرہ: ٢١٩) ان دونوں آیتوں کو سورة المائدہ کی آیت إنما الخمر والميسر والأنصاب (سورة المائدة: ٩٠) نے منسوخ کردیا ہے۔
Ibn Abbas said: The Quranic verse: ”O ye who believe, approach not prayer with minds befogged until you can understand all they say, ” and the verse: “They ask thee concerning wine and gambling. Say: In them is great sin and some profit for men, ” were repeated by the verse in Surat al-Ma’idah: ”O ye who believe, intoxicants and gambling, (dedication) stones.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٦٢٦٥) (حسن الإسناد )
انس ؓ کہتے ہیں کہ شراب کی حرمت کے وقت میں ابوطلحہ ؓ کے گھر لوگوں کو شراب پلا رہا تھا، ہماری شراب اس روز کھجور ہی سے تیار کی گئی تھی، اتنے میں ایک شخص ہمارے پاس آیا اور اس نے کہا کہ شراب حرام کردی گئی، رسول اللہ ﷺ کے منادی نے بھی آواز لگائی تو ہم نے کہا: یہ رسول اللہ ﷺ کا منادی ہے۔
Narrated Anas ibn Malik: I was serving wine to the people in the house of Abu Talhah when it was prohibited and that day our wine was made from unripe dates. A man entered upon us and said: The wine has been prohibited, and the herald of the Messenger of Allah ﷺ made an announcement. We then said: This is the herald of the Messenger of Allah ﷺ
عبداللہ بن عمر ؓ کو کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شراب کے پینے اور پلانے والے، اس کے بیچنے اور خریدنے والے، اس کے نچوڑنے اور نچوڑوانے والے، اسے لے جانے والے اور جس کے لیے لے جائی جائے سب پر اللہ کی لعنت ہو ۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ said: Allah has cursed wine, its drinker, its server, its seller, its buyer, its presser, the one for whom it is pressed, the one who conveys it, and the one to whom it is conveyed.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأشربة ٦ (٣٣٨٠)، (تحفة الأشراف: ٧٢٩٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٥، ٧١) (صحیح )
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ابوطلحہ نے رسول اللہ ﷺ سے ان یتیموں کے سلسلے میں پوچھا جنہوں نے میراث میں شراب پائی تھی آپ ﷺ نے فرمایا: اسے بہا دو ابوطلحہ ؓ نے عرض کیا: کیا میں اس کا سرکہ نہ بنا لوں آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں ۔
Anas bin Malik (RA) said: Abu Talhah asked the prophet ﷺ about the orphans who had inherited wine. He replied: Pour it out. He asked: May I not make vinegar of it ? He replied: No.
نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شراب انگور کی بھی ہوتی ہے، کھجور کی بھی، شہد کی بھی ہوتی ہے، گیہوں کی بھی ہوتی ہے، اور جو کی بھی ہوتی ہے ١ ؎۔
Narrated An-Numan ibn Bashir: The Prophet ﷺ said: from grapes wine is made, from dried dates wine is made, from honey wine is made, from wheat wine is made, from barley wine is made.
Notes · وضاحت
١ ؎: چونکہ اکثر شراب مذکورہ بالا چیزوں سے بنتی تھی اس لیے انہیں کا ذکر فرمایا، ورنہ شراب کا بننا انہیں چیزوں پر منحصر اور موقوف نہیں بلکہ اور چیزوں سے بھی شراب بنتی ہے، شراب ہر اس مشروب کو کہتے ہیں جو نشہ آور ہو اور عقل کو ماؤوف کر دے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأشربة ٨ (١٨٧٢، ١٨٧٣)، سنن ابن ماجہ/الأشربة ٥ (٣٣٧٩)، (تحفة الأشراف: ١١٦٢٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٦٧، ٢٧٣) (صحیح )
نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے ہوئے سنا: شراب انگور کے رس، کشمش، کھجور، گیہوں، جو اور مکئی سے بنتی ہے، اور میں تمہیں ہر نشہ آور چیز سے منع کرتا ہوں ۔
Narrated An-Numan ibn Bashir: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Wine is made from grape-syrup, raisins, dried dates, wheat, barley, millet, and I forbid you from every intoxicant.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شراب ان دو درختوں کھجور اور انگور سے بنتی ہے ١ ؎۔
Abu Hurairah bin Bashir reported the Apostel of Allah ﷺ as saying: Wine comes from these two trees, the date-palm and the grapes-vine. Abu Dawud said: The name of Abu KAthir al-Ubari is Yazid bin Abdur-Rahman bin Ghufailat al-Sahmi. Some said: Uzainah. What is correct is Ghufailah.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی خاص طور سے کھجور اور انگور سے بنائی جاتی ہے، ورنہ دیگر چیزوں سے بھی بنتی ہے جیسا کہ اگلی حدیث میں گزرا۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز شراب ہے، اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے ١ ؎، اور جو مرگیا اور وہ شراب پیتا تھا اور اس کا عادی تھا تو وہ آخرت میں اسے نہیں پئے گا (یعنی جنت کی شراب سے محروم رہے گا) ۔
Ibn Umar reported the Apostel of Allah ﷺ as saying: Every intoxicant is forbidden. He who drinks wine in this world, and dies when he is addiction to it, will not drink it in the next.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بدمست کردینے والی اور نشہ لانے والی چیزوں کو شراب کہا جاتا ہے اور یہ حرام ہے، یہ نشہ آور شراب کھجور سے ہو یا منقی، شہد، گیہوں اور جوار باجرہ سے، یا کسی درخت کا نچوڑا ہوا عرق ہو جیسے تاڑی یا کوئی گھاس ہو جیسے بھانگ وغیرہ۔
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے، اور جس نے کوئی نشہ آور چیز استعمال کی تو اس کی چالیس روز کی نماز کم کردی جائے گی، اگر اس نے اللہ سے توبہ کرلی تو اللہ اسے معاف کر دے گا اور اگر چوتھی بار پھر اس نے پی تو اللہ کے لیے یہ روا ہوجاتا ہے کہ اسے طینہ الخبال پلائے عرض کیا گیا: طینہ الخبال کیا ہے؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: جہنمیوں کی پیپ ہے، اور جس شخص نے کسی کمسن لڑکے کو جسے حلال و حرام کی تمیز نہ ہو شراب پلائی تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور جہنمیوں کی پیپ پلائے گا ۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: Every intoxicant is khamr (wine) and every intoxicant is forbidden. If anyone drinks wine, Allah will not accept prayer from him for forty days, but if he repents, Allah will accept his repentance. If he repeats it a fourth time, it is binding on Allah that He will give him tinat al-khabal to drink. He was asked: What is tinat al-khabal, Messenger of Allah? He replied: Discharge of wounds, flowing from the inhabitants of Hell. If anyone serves it to a minor who does not distinguish between the lawful and the unlawful, it is binding on Allah that He will give him to drink the discharge of wounds, flowing from the inhabitants of Hell.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٥٧٥٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٧٤) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے شہد کی شراب کا حکم پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ہر شراب جو نشہ آور ہو حرام ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے یزید بن عبدربہ جرجسی پر اس روایت کو یوں پڑھا: آپ سے محمد بن حرب نے بیان کیا انہوں نے زبیدی سے اور زبیدی نے زہری سے یہی حدیث اسی سند سے روایت کی، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ بتع شہد کی شراب کو کہتے ہیں، اہل یمن اسے پیتے تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل کو کہتے ہوئے سنا: لا إله إلا الله جرجسی کیا ہی معتبر شخص تھا، اہل حمص میں اس کی نظیر نہیں تھی۔
Aishah said: The Messenger of Allah ﷺ was asked about bit’. He replied: Every liquor which intoxicates is forbidden. Abu Dawud said: I read out this tradition to Yazid bin Abd Rabbihi al-Jurjisi. Muhammad bin Hard told you this tradition from al-Zabidi from al-Zuhri through his chain of narrators. This version added: Bit is the nabidh from honey, which the people of the Yemen would drink. Abu Dawud said: I heard Ahmad bin Hanbal say: There is no god but Allah. there was none stronger in memory and like al-Jurjisi among the people of Hims.
دیلم حمیری ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ سرد علاقے میں رہتے ہیں اور سخت محنت و مشقت کے کام کرتے ہیں، ہم لوگ اس گیہوں سے شراب بنا کر اس سے اپنے کاموں کے لیے طاقت حاصل کرتے ہیں اور اپنے ملک کی سردیوں سے اپنا بچاؤ کرتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا وہ نشہ آور ہوتا ہے؟ میں نے عرض کیا: ہاں آپ ﷺ نے فرمایا: پھر تو اس سے بچو ۔ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: لوگ اسے نہیں چھوڑ سکتے، آپ نے فرمایا: اگر وہ اسے نہ چھوڑیں تو تم ان سے لڑائی کرو ۔
Narrated Daylam al-Himyari (RA) : I asked the Prophet ﷺ and said: Messenger of Allah! we live in a cold land in which we do heavy work and we make a liquor from wheat to get strength from if for our work and to stand the cold of our country. He asked: Is it intoxicating? I replied: Yes. He said: You must avoid it. I said: The people will not abandon it. He said: If they do not abandon it, fight with them.
Takhrij · تخریج
* تخريج: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٣٥٤١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٣١، ٢٣٢) (صحیح )
ابوموسیٰ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے شہد کی شراب کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: وہ بتع ہے میں نے کہا: جو اور مکئی سے بھی شراب بنائی جاتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ مزر ہے پھر آپ نے فرمایا: اپنی قوم کو بتادو کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔
Abu Musa said: I asked the prophet ﷺ about wine made from honey. He said: That is bit. I said: And the one made from barley and millet ? He said: That is mizr. He then said: Tell your people that every intoxicant is prohibited.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٩١٠٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المغازي ٦٠ (٤٣٤٣)، الأدب ٨٠ (٦١٢٤)، الأحکام ٢٢ (٧١٧٢)، صحیح مسلم/الأشربة ٧ (١٧٣٣)، سنن النسائی/الأشربة ٢٣ (٥٥٩٨)، سنن ابن ماجہ/الأشربة ٩ (٣٣٩١)، مسند احمد (٤/٤١٠، ٤١٦، ٤١٧) (صحیح )
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے شراب، جوا، کو بہ (چوسر یا ڈھولک) اور غبیراء سے منع کیا، اور فرمایا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن سلام ابو عبید نے کہا ہے: غبیراء ایسی شراب ہے جو مکئی سے بنائی جاتی ہے حبشہ کے لوگ اسے بناتے ہیں۔
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Prophet ﷺ forbade wine (khamr), game of chance (maysir), drum (kubah), and wine made from millet (ghubayrah), saying: Every intoxicant is forbidden. Abu Dawud said: Ibn Sallam Abu Ubaid said: Ghubairah was an intoxicant liquor made from millet. This wine was made by the Abyssinians
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٨٩٤٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٥٨، ١٧١) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور جو چیز فرق ١ ؎ بھر نشہ لاتی ہے اس کا ایک چلو بھی حرام ہے ۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Every intoxicant is forbidden; if a faraq of anything causes intoxication, a handful of it is forbidden.
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک پیمانہ ہے جو (١٦) رطل کے برابر ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأشربة ٣ (١٨٦٦)، (تحفة الأشراف: ١٧٥٦٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٧١، ٧٢، ١٣١) (صحیح )
مالک بن ابی مریم کہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن غنم ہمارے پاس آئے تو ہم نے ان سے طلاء ١ ؎ کا ذکر کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے ابو مالک اشعری ؓ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا: میری امت کے کچھ لوگ شراب پئیں گے لیکن اس کا نام شراب کے علاوہ کچھ اور رکھ لیں گے ٢ ؎۔
Narrated Abdur Rahman ibn Ghanam (RA) : Malik ibn Abu Maryam said: Abdur Rahman ibn Ghanam entered upon us and we discussed tila and he said: Abu Malik al-Ashari told me that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: Some of my people will assuredly drink wine calling it by another name.
Notes · وضاحت
١ ؎: طلاء: انگور سے بنا ہوا ایک قسم کا شیرہ ہے۔ ٢ ؎: جیسے اس زمانے میں تاڑی اور بھانگ استعمال کرنے والے اسے شراب نہیں سمجھتے حالانکہ ہر نشہ لانے والی چیز شراب ہے اور وہ حرام ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الفتن ٢٢ (٤٠٢٠)، (تحفة الأشراف: ١٢١٦٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٤٢) (صحیح )