زید بن ثابت ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ رکھے جس نے ہم سے کوئی بات سنی اور اسے یاد رکھا یہاں تک کہ اسے دوسروں تک پہنچا دیا کیونکہ بہت سے حاملین فقہ ایسے ہیں جو فقہ کو اپنے سے زیادہ فقہ و بصیرت والے کو پہنچا دیتے ہیں، اور بہت سے فقہ کے حاملین خود فقیہ نہیں ہوتے ہیں ۔
Narrated Zayd ibn Thabit (RA) : I heard the Messenger of Allah ﷺ say: May Allah brighten a man who hears a tradition from us, gets it by heart and passes it on to others. Many a bearer of knowledge conveys it to one who is more versed than he is; and many a bearer of knowledge is not versed in it.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/العلم ٧ (٢٦٥٦)، (تحفة الأشراف: ٣٦٩٤)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٨ (١٢٣٠)، مسند احمد (١/٤٣٧، ٥/١٨٣)، سنن الدارمی/المقدمة ٢٤(٢٣٥) (صحیح )
سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قسم اللہ کی، اگر تیری رہنمائی سے اللہ تعالیٰ ایک آدمی کو بھی ہدایت دیدے تو یہ تیرے لیے سرخ اونٹ سے (جو بہت قیمتی اور عزیز ہوتے ہیں) بہتر ہے ۔
Sahl bin Saad reported the prophet ﷺ as saying: I swear on Allah, it will be better for you that Allah should give guidance to one man through your agency than that you should acquire the red ones among the camels.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤٧٣٠)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجھاد ١٠٢(٢٩٤٢)، ١٤٣ (٣٠٠٩)، المناقب ١ (٣٧٠١)، المغازي ٣٨ (٤٢١٠)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٤ (٢٤٠٦)، مسند احمد (١/١٨٥) (صحیح )
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ہم سے بنی اسرائیل کی باتیں اس قدر بیان کرتے کہ صبح ہوجاتی اور صرف فرض نماز ہی کے لیے اٹھتے۔
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Prophet ﷺ used to relate to us traditions from the children of Israil till morning came; he would not get up except for obligatory prayer.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٨٩٣٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٣٧) (صحیح الإسناد )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے ایسا علم صرف دنیاوی مقصد کے لیے سیکھا جس سے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کی جاتی ہے تو وہ قیامت کے دن جنت کی خوشبو تک نہیں پائے گا ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone acquires knowledge of things by which Allahs good pleasure is sought, but acquires it only to get some worldly advantage, he will not experience the arf, i. e. the odour, of Paradise.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ٢٣ (٢٥٢)، (تحفة الأشراف: ١٣٣٨٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٣٨) (صحیح )
عوف بن مالک اشجعی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: وعظ و نصیحت وہی کرتا ہے جو امیر ہو یا مامور ہو یا فریبی ۔
Narrated Awf ibn Malik al-Ashjai: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Only a ruler, or one put in charge, or one who is presumptuous, gives instructions.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٠٩١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٣، ٢٧، ٢٩) (حسن صحیح )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں میں غریب و خستہ حال مہاجرین کی جماعت میں جا بیٹھا، ان میں بعض بعض کی آڑ میں برہنگی کے سبب چھپتا تھا اور ایک قاری ہم میں قرآن پڑھ رہا تھا، اتنے میں رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور ہمارے درمیان آ کر کھڑے ہوگئے، جب آپ ﷺ کھڑے ہوگئے تو قاری خاموش ہوگیا، آپ نے ہمیں سلام کیا پھر فرمایا: تم لوگ کیا کر رہے تھے؟ ہم نے عرض کیا: ہمارے یہ قاری ہیں ہمیں قرآن پڑھ کر سنا رہے تھے اور ہم اللہ کی کتاب سن رہے تھے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سبھی تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے میری امت میں ایسے لوگوں کو پیدا کیا کہ مجھے حکم دیا گیا کہ میں اپنے آپ کو ان کے ساتھ روکے رکھوں ۔ پھر آپ ﷺ ہمارے درمیان میں آ کر بیٹھ گئے تاکہ اپنے آپ کو ہمارے برابر کرلیں، آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے حلقہ بنا کر بیٹھنے کا اشارہ کیا، تو سبھی لوگ حلقہ بنا کر بیٹھ گئے اور ان سب کا رخ آپ کی طرف ہوگیا۔ ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں: تو میرے علاوہ رسول اللہ ﷺ نے کسی کو نہیں پہچانا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اے فقرائے مہاجرین کی جماعت! تمہارے لیے قیامت کے دن نور کامل کی بشارت ہے، تم لوگ جنت میں مالداروں سے آدھے دن پہلے داخل ہو گے، اور یہ پانچ سو برس ہوگا ١ ؎۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : I was sitting in the company of the poor members of the emigrants. Some of them were sitting together because of lack of clothing while a reader was reciting to us. All of a sudden the Messenger of Allah ﷺ came along and stood beside us. When the Messenger of Allah ﷺ stood, the reader stopped and greeted him. He asked: What were you doing? We said: Messenger of Allah! We had a reader who was reciting to us and we were listening to the Book of Allah, the Exalted. The Messenger of Allah ﷺ then said: Praise be to Allah Who has put among my people those with whom I have been ordered to stay. The Messenger of Allah ﷺ then sat among us so as to be like one of us, and when he had made a sign with his hand they sat in a circle with their faces turned towards him. The narrator said: I think that the Messenger of Allah ﷺ did not recognize any of them except me. The Messenger of Allah ﷺ then said: Rejoice, you group of poor emigrants, in the announcement that you will have perfect light on the Day of Resurrection. You will enter Paradise half a day before the rich, and that is five hundred years.
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ ایسے فقراء و مساکین کا مقام و مرتبہ اغنیاء اور مالداروں سے بڑھ کر ہوگا، اور قیامت کے دن کے طویل ہونے میں جو اختلاف آیات و احادیث میں مذکور ہے تو یہ لوگوں کے اختلاف حال پر محمول ہے، یعنی جس پر جتنی سختی ہوگی اسے قیامت کا دن اتنا ہی لمبا معلوم ہوگا، اور اس پر جس قدر تکلیف کم ہوگی اسے اتنا ہی کم معلوم ہوگا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٩٧٨)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/ الزہد ٦ (١٤٢٢)، (قولہ: فقراء المہاجرون یدخلون الجنة قبل أغنیاء الناس ۔۔۔ ) مسند احمد (٣/٦٣، ٩٦) (ضعیف) ( اس کے راوی العلاء مجہول ہیں، لیکن آخری ٹکڑا متابعات کے سبب حسن ہے )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرا ایسی قوم کے ساتھ بیٹھنا جو فجر سے لے کر طلوع شمس تک اللہ کا ذکر کرتی ہو میرے نزدیک اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد سے چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ پسندیدہ امر ہے، اور میرا ایسی قوم کے ساتھ بیٹھنا جو نماز عصر سے غروب آفتاب تک اللہ کے ذکرو اذکار میں منہمک رہتی ہو میرے نزدیک چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ محبوب ہے ۔
Narrated Anas ibn Malik: The Prophet ﷺ said: That I sit in the company of the people who remember Allah the Exalted from morning prayer till the sun rises is clearer to me than that I emancipate four slaves from the children of Israil, and that I sit with the people who remember Allah from afternoon prayer till the sun sets is dearer to me than that I emancipate four slaves.
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم مجھ پر سورة نساء پڑھو میں نے عرض کیا: کیا میں آپ کو پڑھ کے سناؤں؟ جب کہ وہ آپ پر اتاری گئی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ میں اوروں سے سنوں پھر میں نے آپ کو فكيف إذا جئنا من کل أمة بشهيد اس وقت کیا ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے (سورة النساء: ٤١) تک پڑھ کر سنایا، اور اپنا سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ آپ کی دونوں آنکھوں سے آنسو جاری ہے۔
Abd Allah (bin Masud) said: The Messenger of Allah ﷺ said to me: recite Surat al-Nisa’. I asked: Shail I recite to you what was sent down to you ? He replied: I like to here it from someone else. So I recite (it) until I reached this verse “How then shall it be when We bring from every people a witness ?”. Then raised my head and saw tears falling from his eyes.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر القرآن ٩ (٤٥٨٢)، فضائل القرآن ٣٢ (٥٠٤٩)، ٣٣ (٥٠٥٠)، ٣٥ (٥٠٥٥)، صحیح مسلم/المسافرین ٤٠ (٨٠٠)، سنن الترمذی/تفسیر سورة النساء ٥ (٣٠٢٥)، (تحفة الأشراف: ٩٤٠٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٨٠، ٤٣٢) (صحیح )