خضر کے تیر انداز بھائی عامر ؓ کہتے ہیں کہ میں اپنے ملک میں تھا کہ یکایک ہمارے لیے جھنڈے اور پرچم لہرائے گئے تو میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کا پرچم ہے، تو میں آپ کے پاس آیا، آپ ﷺ ایک درخت کے نیچے ایک کمبل پر جو آپ کے لیے بچھایا گیا تھا تشریف فرما تھے، اور آپ ﷺ کے اردگرد آپ کے اصحاب اکٹھا تھے، میں بھی جا کر انہیں میں بیٹھ گیا ١ ؎، پھر رسول اللہ ﷺ نے بیماریوں کا ذکر فرمایا: جب مومن بیمار پڑتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اس کو اس کی بیماری سے عافیت بخشتا ہے تو وہ بیماری اس کے پچھلے گناہوں کا کفارہ ہوجاتی ہے اور آئندہ کے لیے نصیحت، اور جب منافق بیمار پڑتا ہے پھر اسے عافیت دے دی جاتی ہے تو وہ اس اونٹ کے مانند ہے جسے اس کے مالک نے باندھ رکھا ہو پھر اسے چھوڑ دیا ہو، اسے یہ نہیں معلوم کہ اسے کس لیے باندھا گیا اور کیوں چھوڑ دیا گیا ۔ آپ ﷺ کے اردگرد موجود لوگوں میں سے ایک شخص نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! بیماریاں کیا ہیں؟ اللہ کی قسم میں کبھی بیمار نہیں ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تو اٹھ جا، تو ہم میں سے نہیں ہے ٢ ؎۔ عامر کہتے ہیں: ہم لوگ بیٹھے ہی تھے کہ ایک کمبل پوش شخص آیا جس کے ہاتھ میں کوئی چیز تھی جس پر کمبل لپیٹے ہوئے تھا، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب میں نے آپ کو دیکھا تو آپ کی طرف آ نکلا، راستے میں درختوں کا ایک جھنڈ دیکھا اور وہاں چڑیا کے بچوں کی آواز سنی تو انہیں پکڑ کر اپنے کمبل میں رکھ لیا، اتنے میں ان بچوں کی ماں آگئی، اور وہ میرے سر پر منڈلانے لگی، میں نے اس کے لیے ان بچوں سے کمبل ہٹا دیا تو وہ بھی ان بچوں پر آ گری، میں نے ان سب کو اپنے کمبل میں لپیٹ لیا، اور وہ سب میرے ساتھ ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ان کو یہاں رکھو ، میں نے انہیں رکھ دیا، لیکن ماں نے اپنے بچوں کا ساتھ نہیں چھوڑا، تب رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا: کیا تم اس چڑیا کے اپنے بچوں کے ساتھ محبت کرنے پر تعجب کرتے ہو؟ ، صحابہ نے عرض کیا: ہاں، اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے سچا پیغمبر بنا کر بھیجا ہے، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے اس سے کہیں زیادہ محبت رکھتا ہے جتنی یہ چڑیا اپنے بچوں سے رکھتی ہے، تم انہیں ان کی ماں کے ساتھ لے جاؤ اور وہیں چھوڑ آؤ جہاں سے انہیں لائے ہو ، تو وہ شخص انہیں واپس چھوڑ آیا۔
Narrated Amir ar-Ram (RA) : We were in our country when flags and banners were raised. I said: What is this? The (the people) said: This is the banner of the Messenger of Allah ﷺ . So I came to him. He was (sitting) under a tree. A sheet of cloth was spread for him and he was sitting on it. His Companions were gathered around him. I sat with them. The Messenger of Allah ﷺ mentioned illness and said: When a believer is afflicted by illness and Allah cures him of it, it serves as an atonement for his previous sins and a warning to him for the future. But when a hypocrite becomes ill and is then cured, he is like a camel which has been tethered and then let loose by its owners, but does not know why they tethered it and why they let it loose. A man from among those around him asked: Messenger of Allah, what are illnesses? I swear by Allah, I never fell ill. The Messenger of Allah ﷺ said: Get up and leave us. You do not belong to our number. When we were with him, a man came to him. He had a sheet of cloth and something in his hand. He turned his attention to him and said: Messenger of Allah, when I saw you, I turned towards you. I saw a group of trees and heard the sound of fledglings. I took them and put them in my garment. Their mother then came and began to hover round my head. I showed them to her, and she fell on them. I wrapped them with my garment. They are now with me. He said: Put them away from you. So I put them away, but their mother stayed with them. The Messenger of Allah ﷺ said to his companions: Are you surprised at the affection of the mother for her young? They said: Yes, Messenger of Allah. He said: I swear by Him Who has sent me with the Truth, Allah is more affectionate to His servants than a mother to her young ones. Take them back put them and where you took them from when their mother should have been with them. So he took them back.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی میں بھی ان کے حلقے میں شریک ہوگیا، تاکہ آپ ﷺ کا وعظ اور آپ ﷺ کی نصیحت سنوں اور دیکھوں کہ آپ ﷺ کیا فرماتے ہیں۔ ٢ ؎: آپ ﷺ نے یہ تہدیدا فرمایا، یعنی مومن پر کوئی نہ کوئی مصیبت ضرور آتی ہے، تاکہ آخرت میں اس کے گناہوں کا کفارہ ہو، اس کے برخلاف کافروں کو اکثر دنیا میں راحت رہتی ہے، تاکہ آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہ رہے، جو کچھ انہیں ملنا ہے دنیا ہی میں مل جائے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥٠٥٦) (ضعیف) (اس کے راوی ابو منظور شامی مجہول ہیں )
خالد سلمی اپنے والد سے (جنہیں شرف صحبت حاصل ہے) روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو بیان کرتے ہوئے سنا: جب بندے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسا رتبہ مل جاتا ہے جس تک وہ اپنے عمل کے ذریعہ نہیں پہنچ پاتا تو اللہ تعالیٰ اس کے جسم یا اس کے مال یا اس کی اولاد کے ذریعہ اسے آزماتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اسے صبر کی توفیق دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ بندہ اس مقام کو جا پہنچتا ہے جو اسے اللہ کی طرف سے ملا تھا ۔
Narrated Muhammad ibn Khalid as-Sulami (RA) : on his fathers authority said his grandfather reported: He was a Companion of the Messenger of Allah ﷺ said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: When Allah has previously decreed for a servant a rank which he has not attained by his action, He afflicts him in his body, or his property or his children. Abu Dawud said: Ibn Nufail added in his version: He then enables him to endure that. The agreed version goes: So that He may bring him to the rank previously decreed from him by Allah.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٥٥٦٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٧٢) (صحیح) (شواہد اور متابعات سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح ہے ورنہ اس کے اندر محمد بن خالد اور ان کے والد خالد سلمی دونوں مجہول ہیں، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحہ، نمبر: ٢٥٩٩ )
اگر کوئی شخص پابندی کیساتھ کوئی نیک کام کرتا رہتا ہو اور پھر کسی وقت بیماری یا سفر کی بنا پر اس کو انجام نہ دے سکے تو اس کے باوجود بھی اس کو ثواب ملے گا
ابوموسیٰ ؓ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایک یا دو بار ہی نہیں بلکہ متعدد بار یہ کہتے ہوئے سنا: جب بندہ کوئی نیک عمل (پابندی سے) کر رہا ہو، پھر کوئی مرض، یا سفر اسے مشغول کر دے جس کی وجہ سے اسے وہ نہ کرسکے، تو بھی اس کے لیے اتنا ہی ثواب لکھا جاتا ہے جتنا کہ اس کے تندرست اور مقیم ہونے کی صورت میں عمل کرنے پر اس کے لیے لکھا جاتا تھا ۔
Narrated Abu Musa (RA) : I heard the Prophet ﷺ many times say: When a servant of Allah is accustomed to do a good work, then becomes ill or goes on journey, what was accustomed to do when he was well and staying at home will be recorded for him.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجھاد ١٣٤(٢٩٩٦)، (تحفة الأشراف: ٩٠٣٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤١٠، ٤١٨) (حسن )
ام العلاء ؓ کہتی ہیں رسول اللہ ﷺ نے جب میں بیمار تھی تو میری عیادت کی، آپ نے فرمایا: خوش ہوجاؤ، اے ام العلاء! بیشک بیماری کے ذریعہ اللہ تعالیٰ مسلمان بندے کے گناہوں کو ایسے ہی دور کردیتا ہے جیسے آگ سونے اور چاندی کے میل کو دور کردیتی ہے ۔
Narrated Umm al-Ala (RA) : The Messenger of Allah ﷺ visited me while I was sick. He said: Be glad, Umm al-Ala for Allah removes the sins of a Muslim for his illness as fire removes the dross of gold and silver.
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں قرآن مجید کی سب سے سخت آیت کو جانتی ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: وہ کون سی آیت ہے اے عائشہ!، انہوں نے کہا: اللہ کا یہ فرمان من يعمل سوءا يجز به جو شخص کوئی بھی برائی کرے گا اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا (سورۃ النساء: ١٢٣) ، آپ ﷺ نے فرمایا: عائشہ تمہیں معلوم نہیں جب کسی مومن کو کوئی مصیبت یا تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اس کے برے عمل کا بدلہ ہوجاتی ہے، البتہ جس سے محاسبہ ہو اس کو عذاب ہوگا ۔ ام المؤمنین عائشہ ؓ نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتا ہے فسوف يحاسب حسابا يسيرا اس کا حساب تو بڑی آسانی سے لیا جائے گا (سورۃ الانشقاق: ٨) ، آپ ﷺ نے فرمایا: اس سے مراد صرف اعمال کی پیشی ہے، اے عائشہ! حساب کے سلسلے میں جس سے جرح کرلیا گیا عذاب میں دھر لیا گیا ۔
Narrated Aisha (RA) : I said: Messenger of Allah, I know the severest verse in the Quran. He asked: What is that verse. Aisha (RA) ? She replied: Allahs words: If anyone does evil, he will be requited for it. He said: Do you know Aisha (RA) , that when a believer is afflicted with a calamity or a thorn, it serves as an atonement for his evil deed. He who is called to account will be punished. She said: Does Allah not say: He truly will recieve an easy reckoning. He said: This is the presentation, Aisha (RA) . If anyone criticized in reckoning, he will be punished. Abu Dawud said: This is the version of Ibn Bashshar. He said: Ibn Abi Mulaikah narrated to us.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٦٢٤٠)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العلم ٣٦ (١٠٣)، و تفسیر القرآن ١ (٤٩٣٩)، صحیح مسلم/الجنة وصفة نعیمھا ١٨ (٢٨٧٦)، سنن الترمذی/صفة القیامة ٥ (٢٤٢٦)، و تفسیر القرآن ٧٥ (٣٣٣٧)، مسند احمد (٤/٤٧) (صحیح )
اسامہ بن زید ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ عبداللہ بن ابی کے مرض الموت میں اس کی عیادت کے لیے نکلے، جب آپ ﷺ اس کے پاس پہنچے تو اس کی موت کو بھانپ لیا، فرمایا: میں تجھے یہود کی دوستی سے منع کرتا تھا ، اس نے کہا: عبداللہ بن زرارہ نے ان سے بغض رکھا تو کیا پایا، جب عبداللہ بن ابی مرگیا تو اس کے لڑکے (عبداللہ) آپ کے پاس آئے اور آپ ﷺ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! عبداللہ بن ابی مرگیا، آپ مجھے اپنی قمیص دے دیجئیے تاکہ اس میں میں اسے کفنا دوں، تو آپ ﷺ نے اسے اپنی قمیص اتار کر دے دی۔
Narrated Usamah bin Zaid: The Messenger of Allah ﷺ went out to visit Abdullah bin Ubayy during his illness of which he died. When he entered upon him, he realised death on him. He said: I used to forbid you from the love of Jews. He (Abdullah) said: Asad bin Zurarah hated them. So what (the benefited) ? When he died, his son came and said: Prophet of Allah, Abdullah bin Ubayy has died, give me your shirt, so that I shroud him in it. The Messenger of Allah ﷺ took off his shirt and gave it to him.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٠١) (حسن) (بیہقی نے دلائل النبوة (٥ ؍ ٢٨٥) میں ابن اسحاق کی زہری سے تحدیث نقل کی ہے، نیز قمیص کا جملہ صحیحین میں ابن عمر ؓ کی حدیث سے ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود ٨ ؍ ٤١٠ )
انس ؓ کہتے ہیں کہ ایک یہودی لڑکا بیمار پڑا تو نبی اکرم ﷺ اس کے پاس عیادت کے لیے آئے اور اس کے سرہانے بیٹھ گئے پھر اس سے فرمایا: تم مسلمان ہوجاؤ ، اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا جو اس کے سرہانے تھا تو اس سے اس کے باپ نے کہا: ابوالقاسم ١ ؎ کی اطاعت کرو ، تو وہ مسلمان ہوگیا، آپ ﷺ یہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے: تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے اس کو میری وجہ سے آگ سے نجات دی ٢ ؎۔
Narrated Anas (RA) : A young Jew became ill. The Prophet ﷺ went to visit him. He sat down by his head and said to him: Accept Islam. He looked at his father who was beside him near his head, and he said: Obey Abu al-Qasim. So he accepted Islam, and the Prophet ﷺ stood up saying: Praise be to Allah Who has saved him through me from Hell.
Notes · وضاحت
١ ؎: ابوالقاسم نبی اکرم ﷺ کی کنیت ہے۔ ٢ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ لڑکا جب باشعور ہو تو اس کا اسلام صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٧٩ (١٣٥٦)، والمرضی ١١ (٥٦٥٧)، (تحفة الأشراف: ٢٩٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٧٥، ٢٧٠، ٢٨٠) (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اچھی طرح سے وضو کرے اور ثواب کی نیت سے اپنے مسلم بھائی کی عیادت کرے تو وہ دوزخ سے ستر خریف کی مسافت کی مقدار دور کردیا جاتا ہے ، میں نے کہا! اے ابوحمزہ!خریف کیا ہے؟ انہوں نے کہا: سال۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اہل بصرہ جن چیزوں میں منفرد ہیں ان میں بحالت وضو عیادت کا مسئلہ بھی ہے۔
Narrated Anas ibn Malik: The Prophet ﷺ said: If anyone performs ablution well and pays a sick-visit to his brother Muslim seeking his reward from Allah, he will be removed a distance of sixty years (kharif) from Hell. I asked: What is kharif, Abu Hamzah? He replied: A year. Abu Dawud said: Only the people of Basrah have narrated the tradition on visiting the sick after performing ablution.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤٦١) (ضعیف) (اس کے راوی فضل بن دلہم لین الحدیث ہیں )
علی ؓ کہتے ہیں جو شخص کسی بیمار کی دن کے اخیر حصے میں عیادت کرتا ہے اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے نکلتے ہیں اور فجر تک اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں، اور اس کے لیے جنت میں ایک باغ ہوتا ہے، اور جو شخص دن کے ابتدائی حصے میں عیادت کے لیے نکلتا ہے اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے نکلتے ہیں اور شام تک اس کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں، اور اس کے لیے جنت میں ایک باغ ہوتا ہے۔
Narrated Ali (RA) : If a man visits a patient in the evening, seventy thousand angels come along with him seeking forgiveness from Allah for him till the morning, and he will have a garden in the Paradise.
علی ؓ نبی اکرم ﷺ سے اسی معنی کی حدیث روایت کرتے ہیں لیکن انہوں نے اس میں خریف کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے منصور نے حکم سے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے شعبہ نے۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ali from the Prophet ﷺ through a different chain of narrators to the same effect. This version does not mention the word garden (khartf). Abu Dawud said: This tradition has been narrated by Mansur from al-Hakkam as narrated by Shubah.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الجنائز ٢ (١٤٤٢)، (تحفة الأشراف: ١٠٢١١)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجنائز ٢ (٩٦٩)، مسند احمد (١/٨١، ١٢٠) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں جب جنگ خندق کے دن سعد بن معاذ ؓ زخمی ہوئے ان کے بازو میں ایک شخص نے تیر مارا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے مسجد میں ایک خیمہ نصب کردیا تاکہ آپ ﷺ قریب سے ان کی عیادت کرسکیں۔
Narrated Abu Jafar Abdullah bin Nafi, the slave of al-Hasan bin Ali (RA) : Abu Musa paid a sick visit to al-Hasan bin Ali. Abu Dawud said: He narrated the tradition to the same effect as narrated by Shubah. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Ali from the Prophet ﷺ without any sound manner. Narrated Aisha (RA) : When Saad bin Muadh suffered affliction on the day of Trench (i. e. the battle of Trench) a man shot an arrow in the vein of his hand. The Messenger of Allah ﷺ pitched a tent for him the mosque so that he might visit him from near.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٧٧ (٤٦٣)، والمغازي ٣٠ (٤١٢٢)، صحیح مسلم/الجھاد ٢٢ (١٧٦٩)، سنن النسائی/المساجد ١٨ (٧١١)، (تحفة الأشراف: ١٦٧٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٥٦، ١٣١، ٢٨٠) (صحیح )
ابوجعفر عبداللہ بن نافع سے روایت ہے، راوی کہتے ہیں اور نافع حسن بن علی کے غلام تھے وہ کہتے ہیں: ابوموسیٰ حسن بن علی ؓ کے پاس ان کی عیادت کے لیے آئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: راوی نے اس کے بعد شعبہ کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث بواسطہ علی ؓ نبی اکرم ﷺ سے ضعیف طریق سے مروی ہے۔
انظر ماقبلہ، (تحفة الأشراف: ١٠٢١١) (صحیح مرفوع )
عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم کسی زمین کے بارے میں سنو کہ وہاں طاعون ١ ؎ پھیلا ہوا ہے تو تم وہاں نہ جاؤ ٢ ؎، اور جس سر زمین میں وہ پھیل جائے اور تم وہاں ہو تو طاعون سے بچنے کے خیال سے وہاں سے بھاگ کر (کہیں اور) نہ جاؤ ٣ ؎۔
Narrated Abdullah bin Abbas (RA) : That Abdur-Rahman bin Awf said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: When you hear that it is breaking out in a certain territory, do not go there. It it breaks out in the territory you are in, do not go out flying away from it. By it he referred to plague.
Notes · وضاحت
١ ؎: طاعون ایک وبائی بیماری ہے (جلد میں پھوڑے کی طرح خطرناک ورم ہو کر انسان مرجاتا ہے)، اکثر بغل میں یا پیٹھ میں نکلتا ہے۔ ٢ ؎: کیونکہ طاعون زدہ علاقہ یا بستی میں جانا اپنے آپ کو موت کے سپرد کرنا اور ہلاکت میں ڈالنا ہے، جبکہ اللہ رب العزت کا فرمان ہے: ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة (سورۃ البقرۃ: ١٩٥) اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو، اور نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ دشمن سے مدبھیڑ کی تمنا نہ کرو اور اس میں طاعون بھی داخل ہے۔ ٣ ؎: طاعون زدہ زمین سے نہ نکلنے کا مقصد یہ ہے کہ پورا پورا توکل اللہ رب العزت پر ثابت ہوجائے، اور اللہ تعالیٰ کے قضاء و قدر کو پورے طور سے تسلیم کرلیا جائے، کیونکہ وہاں سے بھاگنا اللہ کی تقدیر سے بھاگنا ہے، یا یہ کہ اگر وہ اس سر زمین سے نکل جائے اور جہاں وہ پناہ لے وہاں کے لوگوں کو طاعون آپکڑے، پھر یہ لوگوں کی نظر میں طعن و تشنیع کا نشانہ بنے، حالانکہ اللہ رب العزت نے ان لوگوں کے حق میں بھی اس بیماری کا فیصلہ کرچکا ہوتا ہے، اس بناء پر اس شہر سے یا جگہ سے نکلنے سے منع کیا گیا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطب ٣٠ (٥٧٢٩)، والحیل ١٣ (٦٩٧٣)، صحیح مسلم/السلام ٣٢ (٢٢١٩)، (تحفة الأشراف: ٩٧٢١)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجامع ٧ (٢٢)، مسند احمد (١/١٩٢، ١٩٣، ١٩٤) (صحیح )
سعد بن ابی وقاص ؓ نے کہا میں مکے میں بیمار ہوا تو نبی اکرم ﷺ میری عیادت کے لیے تشریف لائے اور اپنا ہاتھ آپ ﷺ نے میری پیشانی پر رکھا پھر میرے سینے اور پیٹ پر ہاتھ پھیرا پھر دعا کی: اللهم اشف سعدا وأتمم له هجرته اے اللہ! سعد کو شفاء دے اور ان کی ہجرت کو مکمل فرما ١ ؎۔
Narrated Aisha daughter of Saad (RA) : That her father said: I had a complaint at Makkah. The Messenger of Allah ﷺ came to pay a sick-visit to me. He put his hand on my forehead, wiped my chest and belly, and then said: O Allah! heal up Saad and complete his immigration.
Notes · وضاحت
١ ؎: مکہ سے مدینہ پہنچا دے ایسا نہ ہو کہ مکہ ہی میں انتقال ہوجائے اور ہجرت ناقص رہ جائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ المرضی ١٣ (٥٦٥٩)، سنن النسائی/ الوصایا ٣ (٣٦٥٦)، (تحفة الأشراف: ٣٩٥٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٧١) (صحیح )
ابوموسی اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بھوکے کو کھانا کھلاؤ، مریض کی عیادت کرو اور (مسلمان) قیدی کو (کافروں کی) قید سے آزاد کراؤ ۔ سفیان کہتے ہیں: العاني سے مرا داسیر (قیدی) ہے۔
Narrated Abu Musa Al-Ashari (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: Feed the hungry, sick the sick and free the captive. Sufyan said: al-ani means captive.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجھاد ١٧١ (٣٠٤٦)، النکاح ٧١ (٥١٧٤)، الأطعمة ١ (٥٣٧٣)، الطب ٤ (٥٦٤٩)، الأحکام ٢٣ (٧١٧٣)، (تحفة الأشراف: ٩٠٠١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٩٤)، سنن الدارمی/السیر ٢٧ (٢٥٠٨) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص کسی ایسے شخص کی عیادت کرے جس کی موت کا وقت ابھی قریب نہ آیا ہو اور اس کے پاس سات مرتبہ یہ دعا پڑھے: أسأل الله العظيم رب العرش العظيم میں عظمت والے اللہ جو عرش عظیم کا مالک ہے سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تم کو شفاء دے تو اللہ اسے اس مرض سے شفاء دے گا ۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone visits a sick whose time (of death) has not come, and says with him seven times: I ask Allah, the Mighty, the Lord of the mighty Throne, to cure you, Allah will cure him from that disease.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطب ٣٢ (٢٠٨٣)، (تحفة الأشراف: ٥٦٢٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣٩، ٢٤٣) (صحیح )
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب کوئی بیمار کے پاس عیادت کے لیے جائے تو اسے چاہیئے کہ وہ کہے: اللهم اشف عبدک ينكأ لک عدوا أو يمشي لك إلى جنازة اے اللہ! اپنے بندے کو شفاء دے تاکہ تیری راہ میں دشمن سے قتال و خوں ریزی کرے یا تیری خوشی کی خاطر جنازے کے ساتھ جائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن سرح نے اپنی روایت میں إلى جنازة کے بجائے إلى صلاة کہا ہے یعنی نماز جنازہ پڑھنے جائے۔
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Prophet ﷺ said: When a man comes to visit a sick person, he should say: O Allah, cure Thy servant, who may then wreak havoc on an enemy for your sake, or walk at a funeral for your sake. Abu Dawud said: Ibn As-Sarh (one of the narrators) said: Ilas-salat (To the Salat).
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٨٨٦٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٧٢) (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی کسی پریشانی سے دوچار ہوجانے کی وجہ سے (گھبرا کر) موت کی دعا ہرگز نہ کرے لیکن اگر کہے تو یہ کہے: اللهم أحيني ما کانت الحياة خيرا لي وتوفني إذا کانت الوفاة خيرا لي اے اللہ! تو مجھ کو زندہ رکھ جب تک کہ زندگی میرے لیے بہتر ہو، اور مجھے موت دیدے جب مرجانا ہی میرے حق میں بہتر ہو ۔
Narrated Anas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: No one of you should wish for death for any calamity that befalls him, but he should say: O Allah! cause me to live so long as my life is better for me ; and cause me to die where death is better for me.
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی ہرگز موت کی تمنا نہ کرے ، پھر راوی نے اسی کے مثل ذکر کیا۔
Narrated Anas bin Malik (RA): The Prophet ﷺ as saying: No one of you should wish for death. He then mentioned the rest of the tradition in a similar manner.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، وانظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: ١٢٧٤) (صحیح )