طلحہ بن عبیداللہ ؓ کہتے ہیں کہ اہل نجد کا ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، جس کے بال پراگندہ تھے، اس کی آواز کی گنگناہٹ تو سنی جاتی تھی لیکن بات سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ وہ کیا کہہ رہا ہے، یہاں تک کہ وہ قریب آیا، تب معلوم ہوا کہ وہ اسلام کے متعلق پوچھ رہا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (اسلام) دن رات میں پانچ وقت کی نماز پڑھنی ہے ، اس نے پوچھا: ان کے علاوہ اور کوئی نماز مجھ پر واجب ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں ١ ؎ إلا یہ کہ تم نفل پڑھو ۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے ماہ رمضان کے روزے کا ذکر کیا، اس نے پوچھا: اس کے سوا کوئی اور بھی روزے مجھ پر فرض ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، إلا یہ کہ تم نفلی روزے رکھو ۔ آپ ﷺ نے اس سے زکاۃ کا ذکر کیا، اس نے پوچھا: اس کے علاوہ کوئی اور بھی صدقہ مجھ پر واجب ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، إلایہ کہ تم نفلی صدقہ کرو ۔ پھر وہ شخص پیٹھ پھیر کر یہ کہتے ہوئے چلا: قسم اللہ کی! میں نہ اس سے زیادہ کروں گا اور نہ کم، آپ ﷺ نے فرمایا: بامراد رہا اگر اس نے سچ کہا ۔
Talhah bin Ubaid Allah said: A man from among the people of Najd with disheveled hair came to the Messenger of Allah ﷺ . The humming sound of his voice could be heard but what he was suing could not be understood he came near and it was then known that he was asking about Islam. The Messenger of Allah ﷺ said: Five times of prayer each day and night: He asked: Must I observe any more than them ? He replied: No, unless you do it voluntarily. He (Talhah) said that the Messenger of Allah ﷺ mentioned fasting during the month of Ramadan. He asked: Must I observe anything else ? He replied: No, unless you do it voluntarily. The Messenger of Allah ﷺ mentioned Zakat to him. He asked: Must I pay anything else ? He replied: No, unless you do it voluntarily. The man then turned away saying: I swear any Allah, I shall not add anything to this or fall short of it. The Messenger of Allah ﷺ said: The man will be successful if he speaks truth.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ وتر اور عیدین کی نماز واجب نہیں جیسا کہ علماء محققین کی رائے ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٣٤ (٤٦)، والصوم ١ (١٨٩١)، والشہادات ٢٦ (٢٦٧٨)، والحیل ٣ (٦٩٥٦)، صحیح مسلم/الإیمان ٢ (١١)، سنن النسائی/الصلاة ٤ (٤٥٩)، والصوم ١ (٢٠٩٢)، الإیمان ٢٣ (٥٠٣١)، (تحفة الأشراف: ٥٠٠٩)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ قصر الصلاة ٢٥(٩٤)، مسند احمد (١/١٦٢)، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٨ (١٦٩١) (صحیح )
اس سند سے بھی ابوسہیل نافع بن مالک بن ابی عامر سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس کے باپ کی قسم! ١ ؎ اگر اس نے سچ کہا تو وہ بامراد رہا، اور اس کے باپ کی قسم! اگر اس نے سچ کہا تو وہ جنت میں جائے گا ۔
This tradition has also been reported by Abu Suhail Nafi bin Malik bin Abi Amir through a different chain of narrators. It adds: He will be successful, by his father, if he speaks the truth; he will enter Paradise, by his father, if he speaks the truth.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ قسم عادت کے طور پر ہے، بالارادہ نہیں، یا غیر اللہ کی قسم کی ممانعت سے پہلے کی ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جبرائیل (علیہ السلام) نے خانہ کعبہ کے پاس دو بار میری امامت کی، ظہر مجھے اس وقت پڑھائی جب سورج ڈھل گیا اور سایہ جوتے کے تسمے کے برابر ہوگیا، عصر اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے مثل ١ ؎ ہوگیا، مغرب اس وقت پڑھائی جب روزے دار روزہ کھولتا ہے (سورج ڈوبتے ہی) ، عشاء اس وقت پڑھائی جب شفق ٢ ؎ غائب ہوگئی، اور فجر اس وقت پڑھائی جب صائم پر کھانا پینا حرام ہوجاتا ہے یعنی جب صبح صادق طلوع ہوتی ہے۔ دوسرے دن ظہر مجھے اس وقت پڑھائی، جب ہر چیز کا سایہ اس کے مثل ٣ ؎ ہوگیا، عصر اس وقت پڑھائی، جب ہر چیز کا سایہ اس کے دو مثل ہوگیا، مغرب اس وقت پڑھائی جب روزے دار روزہ کھولتا ہے، عشاء تہائی رات میں پڑھائی، اور فجر اجالے میں پڑھائی، پھر جبرائیل (علیہ السلام) میری جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے محمد ﷺ! یہی وقت آپ سے پہلے انبیاء کا بھی رہا ہے، اور نماز کا وقت ان دونوں وقتوں کے درمیان ہے ٤ ؎۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: Gabriel ﷺ led me in prayer at the House (i. e. the Kabah). He prayed the noon prayer with me when the sun had passed the meridian to the extent of the thong of a sandal; he prayed the afternoon prayer with me when the shadow of everything was as long as itself; he prayed the sunset prayer with me when one who is fasting breaks the fast; he prayed the night prayer with me when the twilight had ended; and he prayed the dawn prayer with me when food and drink become forbidden to one who is keeping the fast. On the following day he prayed the noon prayer with me when his shadow was as long as himself; he prayed the afternoon prayer with me when his shadow was twice as long as himself; he prayed the sunset prayer at the time when one who is fasting breaks the fast; he prayed the night prayer with me when about the third of the night had passed; and he prayed the dawn prayer with me when there was a fair amount of light. Then turning to me he said: Muhammad, this is the time observed by the prophets before you, and the time is anywhere between two times.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ ایک مثل پر عصر کا وقت شروع ہوجاتا ہے۔ ٢ ؎: شفق اس سرخی کو کہتے ہیں جو سورج ڈوب جانے کے بعد مغرب (پچھم) میں باقی رہتی ہے۔ ٣ ؎: یعنی برابر ہونے کے قریب ہوگیا۔ ٤ ؎: پہلے دن جبرئیل (علیہ السلام) نے ساری نمازیں اوّل وقت میں پڑھائیں، اور دوسرے دن آخری وقت میں تاکہ ہر نماز کا اوّل اور آخر وقت معلوم ہوجائے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١ (١٤٩)، (تحفة الأشراف: ٦٥١٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٣٣، ٣٥٤) (حسن صحیح )
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز منبر پر بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے عصر میں کچھ تاخیر کردی، اس پر عروہ بن زبیر نے آپ سے کہا: کیا آپ کو معلوم نہیں کہ جبرائیل (علیہ السلام) نے محمد ﷺ کو نماز کا وقت بتادیا ہے؟ تو عمر بن عبدالعزیز نے کہا: جو تم کہہ رہے ہو اسے سوچ لو ١ ؎۔ عروہ نے کہا: میں نے بشیر بن ابی مسعود کو کہتے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں نے ابومسعود انصاری ؓ کو کہتے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ جبرائیل (علیہ السلام) اترے، انہوں نے مجھے اوقات نماز کی خبر دی، چناچہ میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی ، آپ اپنی انگلیوں پر پانچوں (وقت کی) نماز کو شمار کرتے جا رہے تھے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے سورج ڈھلتے ہی ظہر پڑھی، اور جب کبھی گرمی شدید ہوتی تو آپ ﷺ ظہر دیر کر کے پڑھتے۔ اور میں نے آپ ﷺ کو عصر اس وقت پڑھتے دیکھا جب سورج بالکل بلند و سفید تھا، اس میں زردی نہیں آئی تھی کہ آدمی عصر سے فارغ ہو کر ذوالحلیفہ ٢ ؎ آتا، تو سورج ڈوبنے سے پہلے وہاں پہنچ جاتا، آپ ﷺ مغرب سورج ڈوبتے ہی پڑھتے اور عشاء اس وقت پڑھتے جب آسمان کے کناروں میں سیاہی آجاتی، اور کبھی آپ ﷺ عشاء میں دیر کرتے تاکہ لوگ اکٹھا ہوجائیں، آپ ﷺ نے ایک مرتبہ فجر غلس (اندھیرے) میں پڑھی، اور دوسری مرتبہ آپ نے اس میں اسفار ٣ ؎ کیا یعنی خوب اجالے میں پڑھی، مگر اس کے بعد آپ ﷺ فجر ہمیشہ غلس میں پڑھتے رہے یہاں تک کہ آپ کی وفات ہوگئی اور آپ ﷺ نے پھر کبھی اسفار میں نماز نہیں ادا کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث زہری سے: معمر، مالک، ابن عیینہ، شعیب بن ابوحمزہ، لیث بن سعد وغیرہم نے بھی روایت کی ہے لیکن ان سب نے (اپنی روایت میں) اس وقت کا ذکر نہیں کیا، جس میں آپ نے نماز پڑھی، اور نہ ہی ان لوگوں نے اس کی تفسیر کی ہے، نیز ہشام بن عروہ اور حبیب بن ابی مرزوق نے بھی عروہ سے اسی طرح روایت کی ہے جس طرح معمر اور ان کے اصحاب نے روایت کی ہے، مگر حبیب نے (اپنی روایت میں) بشیر کا ذکر نہیں کیا ہے۔ اور وہب بن کیسان نے جابر ؓ سے، جابر نے نبی اکرم ﷺ سے مغرب کے وقت کی روایت کی ہے، اس میں ہے کہ جبرائیل (علیہ السلام) دوسرے دن مغرب کے وقت سورج ڈوبنے کے بعد آئے یعنی دونوں دن ایک ہی وقت میں آئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ ابوہریرہ ؓ نے بھی اسی طرح نبی اکرم ﷺ سے نقل کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: جبرائیل نے مجھے دوسرے دن مغرب ایک ہی وقت میں پڑھائی ۔ اسی طرح عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے بھی مروی ہے یعنی حسان بن عطیہ کی حدیث جسے وہ عمرو بن شعیب سے، وہ ان کے والد سے، وہ اپنے دادا عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے، اور عبداللہ بن عمرو نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔
Ibn Shihab said: Umar bin Abdul Aziz was sitting on the pulpit and he somewhat postponed the afternoon prayer. Urwah bin al-Zubair said to him: Gabriel informed Muhammed ﷺ of the time of prayer. So Umar said to him: Be sure of what you are saying. Urwah then replied: I heard Bashir bin Abu Masud say that he heard Abu Masud al-Ansari say that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: Gabriel came down and informed me of the time of prayer, and I prayed along with him, then prayed along with him, then I prayed along with him, then I prayed along with him, then I prayed along with him, reckoning with his fingers five times of the prayer. I saw the Messenger of Allah ﷺ offering the Duhr prayer when the sun had passed the meridian. Sometimes he would delay it when it was sever heat ; and I witnessed that he prayer the Asr prayer when the sun was high and bright before the yellowness had overcome it; then a man could go off after the prayer and reach Dhul-Hulaifah before the sunset, and he would pray Maghrib when the sun had set ; and he would pray the Isha prayer when darkness prevailed over the horizon; sometime he would delay it until the people assembled; and once he prayer the fair prayer in the darkness of dawn and at another time he prayed it when it became fairly light; but later on he continued to pray in the darkness of dawn until his death; he never prayed it again in the light of the dawn. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted from al-Zuhri by Mamar, Malik, Ibn Uyainah, Shuaib bin Abi Hamzah, and al-Laith bin Saad and others; but they did not mention the time in which he (the Prophet) had prayer, nor did they explain it. And similarly it has been narrated by Hisham bin Urwah and Habib bin Abu Mazruq from Urwah like the report of Mamar and his companions. But Habib did not make a mention of Bashir. And Wahb bin Kaisan reported on the authority of Jabir from the Prophet ﷺ the time of the Maghrib prayer. He said: Next day he (Gabriel) came to him at the time of the Maghrib prayer when the sun had already set. (He came both days) at the same time. Abu Dawud said: Similarly, this tradition has been transmitted by Abu Hurairah from the Prophet ﷺ . He said: Then he (Gabriel) led me in the sunset prayer next day at the same time. Similarly, this tradition has been narrated through a different chain by Abdullah bin Amr bin al-As, through a chain from Hassan bin Atiyyah, from Amr bin Shuaib, from his father, on the authority from the Prophet ﷺ .
Notes · وضاحت
١ ؎: عمر بن عبدالعزیز کو اس حدیث کے متعلق شبہہ ہوا کہ کہیں یہ ضعیف نہ ہو کیونکہ عروہ نے اسے بغیر سند بیان کیا تھا، یا یہ شبہہ ہوا کہ اوقات نماز کی نشاندہی تو اللہ تعالیٰ نے معراج کی رات میں خود براہ راست کردی ہے اس میں جبرئیل (علیہ السلام) کا واسطہ کہاں سے آگیا، یا جبرئیل (علیہ السلام) نے رسول اللہ ﷺ کی امامت کیسے کی جبکہ وہ مرتبہ میں آپ ﷺ سے کمتر ہیں، چناچہ انہیں شبہات کے ازالہ کے لئے عروہ نے اسے مع سند بیان کرنا شروع کیا۔ ٢ ؎: ذوالحلیفہ مدینہ سے مکہ کے راستہ میں دو فرسخ (چھ میل یا ساڑھے نو کیلو میٹر) کی دوری پر ہے، اس وقت یہ بئر علی یا ابیار علی سے معروف ہے، یہ اہل مدینہ اور مدینہ کے راستہ سے گزرنے والے حجاج اور معتمرین کی میقات ہے۔ ٣ ؎: نبی اکرم ﷺ کا سفر میں یہ پڑھنا جواز کے بیان کے لئے تھا، اس کے بعد آپ ﷺ نے ہمیشہ غلس ہی میں فجر ادا کی۔
Takhrij · تخریج
م /المساجد ٣١ (٦١٠)، سنن النسائی/ المواقیت ١ (٤٩٥)، سنن ابن ماجہ/ الصلاة ١ (٦٦٨)، (تحفة الأشراف: ٩٩٧٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/ المواقیت ١ (٥٢١)، وبدء الخلق ٦ (٣٢٢١)، والمغازي ١٢ (٤٠٠٧)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة ١(١)، مسند احمد (٤/١٢٠)، سنن الدارمی/الصلاة ٣ (١٢٢٣) (حسن )
ابوموسیٰ ؓ کہتے ہیں کہ ایک سائل نے نبی اکرم ﷺ سے (اوقات نماز کے بارے میں) پوچھا تو آپ ﷺ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے بلال ؓ کو حکم دیا تو انہوں نے فجر کی اقامت اس وقت کہی جب صبح صادق کی پو پھٹ گئی، اور آپ ﷺ نے نماز فجر اس وقت پڑھی جب آدمی اپنے ساتھ والے کا چہرہ (اندھیرے کی وجہ سے) نہیں پہچان سکتا تھا، یا آدمی کے پہلو میں جو شخص ہوتا اسے نہیں پہچان سکتا تھا، پھر آپ ﷺ نے بلال کو حکم دیا تو انہوں نے ظہر کی اقامت اس وقت کہی جب آفتاب ڈھل گیا یہاں تک کہ کہنے والے نے کہا: (ابھی تو) ٹھیک دوپہر ہوئی ہے، اور آپ کو خوب معلوم تھا (کہ زوال ہوچکا ہے) ، پھر آپ ﷺ نے بلال کو حکم دیا تو انہوں نے عصر کی اقامت کہی، اس وقت سورج بلند و سفید تھا، پھر آپ ﷺ نے بلال کو حکم دیا تو انہوں نے مغرب کی اقامت سورج ڈوبنے پر کہی، پھر آپ ﷺ نے بلال کو حکم دیا تو انہوں نے عشاء کی اقامت اس وقت کہی جب شفق غائب ہوگئی، پھر جب دوسرا دن ہوا تو آپ ﷺ نے فجر پڑھی اور نماز سے فارغ ہوئے، تو ہم لوگ کہنے لگے: کیا سورج نکل آیا؟ پھر ظہر آپ ﷺ نے اس وقت پڑھی جس وقت پہلے روز عصر پڑھی تھی اور عصر اس وقت پڑھی جب سورج زرد ہوگیا یا کہا: شام ہوگئی، اور مغرب شفق غائب ہونے سے پہلے پڑھی، اور عشاء اس وقت پڑھی جب تہائی رات گزر گئی، پھر فرمایا: کہاں ہے وہ شخص جو نماز کے اوقات پوچھ رہا تھا؟ نماز کا وقت ان دونوں کے بیچ میں ہے ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سلیمان بن موسیٰ نے عطاء سے، عطاء نے جابر ؓ سے، جابر نے نبی اکرم ﷺ سے مغرب کے بارے میں اسی طرح روایت کی ہے، اس میں ہے: پھر آپ ﷺ نے عشاء پڑھی ، بعض نے کہا: تہائی رات میں پڑھی ، بعض نے کہا: آدھی رات میں ، اور اسی طرح یہ حدیث ابن بریدہ نے اپنے والد (بریدہ) سے، بریدہ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے۔
Abu Musa reported: A man asked the Prophet ﷺ [about the prayer times] but he did reply to him but he commanded Bilal, who made the announcement for the beginning of the time of the the fair prayer prayer when the dawn broke. He offered (the fair prayer) when a man (due to darkness) could not recognize the face of his companion ; or a man could not know the person who stood by his side. He then commanded Bilal who made announcement for the beginning of the time of the Zuhr prayer when the sun had passed the meridian until some said: Has the noon come ? While he (the Prophet) knew (the time) well. He the commanded Bilal who announced the beginning of the time of the Asr prayer when the sun was white and high. When the sunset he commanded Bilal who announced beginning of the time of the Maghrib prayer. When the twilight disappeared he commanded Bilal who announced the beginning of the Isha prayer. Next day he offered the Fajr prayer and returned until we said: Has the sun rise ? He observed the Zuhr prayer at the time he has previously observed the Asr prayer. He offered the Asr prayer at the time when the sun had become yellow or the evening had come. He offered the Maghrib prayer before the twilight had ended. He observed the Isha prayer when a third of the night had passed. He then asked: Where is the man who was asking me about the time of prayer. (Then replying to him he said): The time (of your prayer) lies within these two limits. Abu Dawud said: Sulaiman bin Musa has narrated this tradition about the time of the Maghrib prayer from Musa from Ata on the authority of Jabir from the Prophet ﷺ . This version adds: He then offered the Isha prayer when a third of the night had passed, as narrated (he said the Isha prayer) when half the night had passed. This tradition has been transmitted by Ibn Buraidah on the authority of his father from the Prophet ﷺ in a similar way.
Notes · وضاحت
١ ؎: پہلے دن نبی اکرم ﷺ نے ساری نمازیں اوّل وقت میں پڑھیں، اور دوسرے دن آخری وقت میں، ایسا آپ ﷺ نے لوگوں کو بتانے کے لئے کیا تھا، اس کے بعد آپ ﷺ نے کبھی بھی فجر اسفار میں نہیں پڑھی اور نہ ہی کبھی بلاوجہ ظہر، عصر اور مغرب میں تاخیر کی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٣١ (٦١٣)، سنن النسائی/المواقیت ١٥ (٥٢٢)، (تحفة الأشراف: ٩١٣٧)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ١ (١٥٢)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ١ (٦٦٧)، مسند احمد (٥/٢٤٩) (صحیح )
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ظہر کا وقت اس وقت تک ہے جب تک کہ عصر کا وقت نہ آجائے، عصر کا وقت اس وقت تک ہے جب تک کہ سورج زرد نہ ہوجائے، مغرب کا وقت اس وقت تک ہے جب تک کہ شفق کی سرخی ختم نہ ہوجائے، عشاء کا وقت آدھی رات تک ہے، اور فجر کا وقت اس وقت تک ہے جب تک کہ سورج نہ نکل آئے ۔
Abdullah bin Amr reported the Prophet ﷺ as saying: The time of the Zuhr prayer is as along as the time of the Asr prayer has not come; the time of the Asr prayer is as long as the sun has not become yellow ; the time of the Maghrib prayer is as long as the twilight has not ended; the time of the Isha prayer is up to midnight; and the time of the Fajr prayer is as long as the sun has not risen.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٣١ (٦١٢)، سنن النسائی/المواقیت ١٤ (٥٢٣)، (تحفة الأشراف: ٨٩٤٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢١٠، ٢١٣، ٢٢٣) (صحیح )
محمد بن عمرو سے روایت ہے ( اور وہ حسن بن علی بن ابی طالب ؓ کے لڑکے ہیں) وہ کہتے ہیں کہ ہم نے جابر ؓ سے نبی اکرم ﷺ کی نماز کے اوقات کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ ﷺ ظہر سورج ڈھل جانے پر پڑھتے تھے، عصر ایسے وقت پڑھتے کہ سورج زندہ رہتا، مغرب سورج ڈوب جانے پر پڑھتے، اور عشاء اس وقت جلدی ادا کرتے جب آدمی زیادہ ہوتے، اور جب کم ہوتے تو دیر سے پڑھتے، اور فجر غلس (اندھیرے) میں پڑھتے تھے۔
Muhammad bin Amr bin al-Hasan reported: We asked Jabir about the time of the prayer of the Messenger of Allah ﷺ . He said: He used to offer the Zuhr prayer in the midday heat, the Asr prayer when the sun was bright, the Maghrib prayer when the sun had completely set, the Isha prayer early when many people were present, but late if there were few, and the Fajr prayer in the darkness (of the dawn).
Notes · وضاحت
اس سے پہلے والے باب میں مطلق وقت کا بیان تھا اور اس باب میں مستحب اوقات کا بیان ہے جن میں نماز پڑھنی افضل ہے۔
ابوبرزہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ظہر سورج ڈھل جانے پر پڑھتے اور عصر اس وقت پڑھتے کہ ہم میں سے کوئی آدمی مدینہ کے آخری کنارے پر جا کر وہاں سے لوٹ آتا، اور سورج زندہ رہتا (یعنی صاف اور تیز رہتا) اور مغرب کو میں بھول گیا، اور عشاء کو تہائی رات تک مؤخر کرنے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے، پھر انہوں نے کہا: آدھی رات تک مؤخر کرنے میں (کوئی حرج محسوس نہیں کرتے) فرمایا: آپ ﷺ عشاء سے پہلے سونے ١ ؎ کو اور عشاء کے بعد بات چیت کو برا جانتے تھے ٢ ؎، اور فجر پڑھتے اور حال یہ ہوتا کہ ہم میں سے ایک اپنے اس ساتھی کو جسے وہ اچھی طرح جانتا ہوتا، اندھیرے کی وجہ سے پہچان نہیں پاتا، اس میں آپ ﷺ ساٹھ آیتوں سے لے کر سو آیتوں تک پڑھتے تھے۔
Abu Barzah reported: The Messenger of Allah ﷺ would offer the Zuhr prayer when the sun had passed the meridian; he would offer Asr prayer after which one of us would visit the skirts of Madina and return him while the sun was still bright; I forgot what he said about the Maghrib prayer; he did not fear postponing the Isha prayer until a third of night had passed, or he said: until the midnight had passed. He would dislike sleeping before it or talking after it. And he would offer the Fajr prayer when a man could recognize his neighbor whom he recognized well; and he would recite from sixty to a hundred verses during it.
Notes · وضاحت
١ ؎: عشاء سے پہلے سونے کو اکثر علماء نے مکروہ کہا ہے، بعضوں نے اس کی اجازت دی ہے، امام نووی نے کہا ہے کہ اگر نیند کا غلبہ ہو اور نماز کی قضا کا اندیشہ نہ ہو تو سونے میں کوئی حرج نہیں۔ ٢ ؎: مراد لایعنی باتیں ہیں جن سے دنیا و آخرت کا کوئی مفاد وابستہ نہ ہو۔
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ظہر پڑھتا تو ایک مٹھی کنکری اٹھا لیتا تاکہ وہ میری مٹھی میں ٹھنڈی ہوجائے، میں اسے گرمی کی شدت کی وجہ سے اپنی پیشانی کے نیچے رکھ کر اس پر سجدہ کرتا تھا۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : I would offer my noon prayer with the Messenger of Allah ﷺ and took a handful of gravels so that they might become cold in my hand and I placed them (before me) so that I may put my forehead on them at the time when I would prostrate. I did this due to the intensity of heat.
Takhrij · تخریج
وقد تفرد بہ أبو داود: (تحفة الأشراف: ٢٢٥٢)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/التطبیق ٣٣ (١٠٨٠)، مسند احمد (٣/٣٢٧) (حسن )
اسود کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کی (نماز ظہر) کا اندازہ گرمی میں تین قدم سے پانچ قدم تک اور جاڑے میں پانچ قدم سے سات قدم تک تھا ١ ؎۔
Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : The extent of the shadow when the Messenger of Allah prayed (the noon prayer) was three to five feet in summer and five to seven feet in winter.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اصلی سایہ اور زائد دونوں کا مجموعہ ملا کر اس مقدار کو پہنچتا تھا نہ کہ صرف زائد، یہ بات سارے ملکوں اور شہروں کے حق میں یکساں نہیں، ملکوں اور علاقوں کے اختلاف سے اس کا معاملہ مختلف ہوگا، مکہ اور مدینہ دوسری اقلیم میں واقع ہیں، جو شہر اس اقلیم میں واقع ہوں گے انہیں کے لئے یہ حکم ہوگا، رہے دوسرے شہر جو دوسرے اقالیم میں واقع ہیں تو ان کا معاملہ دوسرا ہوگا۔
ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے، مؤذن نے ظہر کی اذان کہنے کا ارادہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: (ظہر) ٹھنڈی کرلو ، پھر اس نے اذان کہنے کا ارادہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ٹھنڈی کرلو ، اسی طرح دو یا تین بار فرمایا یہاں تک کہ ہم نے ٹیلوں کے سائے دیکھ لیے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: گرمی کی شدت جہنم کے جوش مارنے سے ہوتی ہے لہٰذا جب گرمی کی شدت ہو تو نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھو ۔
Abu Dharr said: We were in the company of the Prophet ﷺ . The muadhdhin intended to call for the Zuhr prayer. He said: Make it cooler. He then intended to call for prayer. He said twice or thrice: Make it cooler. We then witnessed the shadow of the mounds. He then said: The intensity of heat comes from the bubbling over of the Hell ; so when the heat is violent, offer (the Zuhr) prayer when it becomes cooler.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب گرمی کی شدت ہو تو نماز کو ٹھنڈی کر کے پڑھو، (ابن موہب کی روایت میں فأبردوا عن الصلاة کے بجائے فأبردوا بالصلاة ہے) ، کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی لپٹ سے ہے ١ ؎۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: When the heat is violent, offer (the Zuhr) prayer when it becomes fairly cool, for the violent heat comes from the bubbling over the Hell.
Notes · وضاحت
١ ؎: اسے حقیقی اور ظاہری معنی میں لینا زیادہ صحیح ہے، کیونکہ بخاری و مسلم کی (متفق علیہ) حدیث میں ہے کہ جہنم کی آگ نے اللہ رب العزت سے شکایت کی کہ میرے بعض حصے گرمی کی شدت اور گھٹن سے بعض کو کھا گئے ہیں، تو اللہ رب العزت نے اسے دو سانسوں کی اجازت دی، ایک جاڑے کے موسم میں، اور ایک گرمی کے موسم میں، جہنم جاڑے میں سانس اندر کو لیتی ہے، اور گرمی میں باہر کو، اس حدیث سے یہ ثابت ہوا کہ گرمی کی شدت میں ظہر کو دیر سے پڑھنا جلدی پڑھنے سے بہتر ہے، اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایک مثل کے بعد پڑھے، اس سے مقصود صرف اتنا ہے کہ بہ نسبت دوپہر کے کچھ ٹھنڈک ہوجائے اور جب سورج زیادہ ڈھل جاتا ہے تو دوپہر کی بہ نسبت کچھ ٹھنڈک آ ہی جاتی ہے۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عصر ایسے وقت میں پڑھتے تھے کہ سورج سفید، بلند اور زندہ ہوتا تھا، اور جانے والا (عصر پڑھ کر) عوالی مدینہ تک جاتا اور سورج بلند رہتا تھا۔
Anas bin Malik (RA) said the Messenger of Allah ﷺ used to say the Asr prayer when the sun was high and bright and living, then one would go off to al-Awali and get there while the sun was still high.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٣٤ (٦٢١)، سنن النسائی/المواقیت ٧ (٥٠٨)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ٥ (٦٨٢)، (تحفة الأشراف: ١٥٢٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المواقیت ١٣ (٥٥٠)، والاعتصام ١٦ (٧٣٢٩)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة ١(١١)، مسند احمد (٣/٢٢٣)، سنن الدارمی/الصلاة ١٥ (١٢٤٤) (صحیح )
علی بن شیبان ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس مدینہ آئے تو دیکھا کہ آپ عصر کو مؤخر کرتے جب تک کہ سورج سفید اور صاف رہتا تھا۔
Narrated Ali ibn Shayban (RA) : We came upon the Messenger of Allah ﷺ in Madina. He would postpone the afternoon prayer as long as the sun remained white and clear.
Takhrij · تخریج
تفرد به أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٠٠١٩) (ضعیف) (اس کے دو راوی محمد بن یزید اور یزید مجہول ہیں )
علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ خندق کے روز فرمایا: ہم کو انہوں نے (یعنی کافروں نے) نماز وسطیٰ (یعنی عصر) سے روکے رکھا، اللہ ان کے گھروں اور قبروں کو جہنم کی آگ سے بھر دے ۔
Ali (may Allah be pleased with him) reported the Messenger of Allah ﷺ as saying on the day of Battle of Khandaq (Trench). They (the unbelievers) prevented is from offering the middle prayer i. e. Asr prayer. May Allah fill their houses and their graves with Hell-fire.
قعقاع بن حکیم ام المؤمنین عائشہ ؓ کے آزاد کردہ غلام ابویونس سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ نے مجھے حکم دیا کہ میں ان کے لیے ایک مصحف لکھوں اور کہا کہ جب تم آیت کریمہ: حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وصلاة العصر وقوموا لله قانتين پر پہنچنا تو مجھے بتانا، چناچہ جب میں اس آیت پر پہنچا تو انہیں اس کی خبر دی، تو انہوں نے مجھ سے اسے یوں لکھوایا: حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وصلاة العصر وقوموا لله قانتين ١ ؎ ٢ ؎، پھر عائشہ ؓ نے کہا: میں نے اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے۔
Abu Yunus, the freed slave of Aisha (RA) said: Aisha (RA) commanded me to write for her come passage from the Quran. She also added: When you reach the following verse, inform me: Be guardian of your prayers and of the midmost prayer (2: 238). When I reached it, I informed her. She asked me to write: Be guardians of your prayers, and of the midmost prayer, and of the Asr prayer, and stand up with devotion of Allah (2: 238). Aisha (RA) then said: I heard it from the Messenger of Allah ﷺ .
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز وسطیٰ ( درمیانی نماز) نماز عصر نہیں کوئی اور نماز ہے لیکن یہ قرأت شاذ ہے اس سے استدلال صحیح نہیں، یا یہ عطف عطف تفسیری ہے۔ ٢ ؎: نمازوں کی حفاظت کرو خصوصی طور پر درمیان والی نماز کی اور عصر کی اور اللہ کے سامنے باادب کھڑے رہا کرو۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٣٦ (٦٢٩)، سنن الترمذی/تفسیر البقرة (٢٩٨٢)، سنن النسائی/الصلاة ١٤ (٤٧٣)، (تحفة الأشراف: ١٧٨٠٩)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صلاة الجماعة ٧ (٢٥)، مسند احمد (٦/٧٣) (صحیح )