زید بن ثابت ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ظہر دوپہر کو پڑھا کرتے تھے، اور کوئی نماز رسول اللہ ﷺ کے اصحاب پر اس سے زیادہ سخت نہ ہوتی تھی، تو یہ آیت نازل ہوئی: حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى ١ ؎ زید نے کہا: بیشک اس سے پہلے دو نماز ہیں (ایک عشاء کی، دوسری فجر کی) اور اس کے بعد دو نماز ہیں (ایک عصر کی دوسری مغرب کی) ۔
Zaid bin Thabit said: The Messenger of Allah ﷺ used to offer the Zuhr prayer in midday heat; and no prayer was harder on the Companions of the Messenger of Allah ﷺ that this one. Hence the revelation came down: Be guardians of your prayers, and of the midmost prayer (2: 238). He (the narrator) said: There are two prayers before it and two prayers after it.
Notes · وضاحت
١ ؎: نماز وسطی سے مراد کون سی نماز ہے اس سلسلے میں مختلف حدیثیں وارد ہیں، زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ اس سے عصر مراد ہے، اکثر علماء کا رجحان اسی جانب ہے، واللہ اعلم بالصواب۔
Takhrij · تخریج
تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٧٣١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٨٣)، موطا امام مالک/صلاة الجماعة ٧ (٢٧ موقوفا) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پالی تو اس نے نماز عصر پالی، اور جس شخص نے سورج نکلنے سے پہلے فجر کی ایک رکعت پالی تو اس نے نماز فجر پالی ١ ؎۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyone says a rakah of the Asr prayer before sunset, he has observed (the Asr prayer), and if anyone performs a rakah of the Fajr prayer, he has observed (the Fajr prayer).
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی فجر اور عصر دونوں ادا سمجھی جائیں گی نہ کہ قضا، اس سے معلوم ہوا کہ فجر کا وقت سورج نکلنے تک، اور عصر کا وقت سورج ڈوبنے تک رہتا ہے، البتہ دھوپ میں زردی آجانے کے بعد وقت مکروہ ہوجاتا ہے۔
علاء بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ہم ظہر کے بعد انس بن مالک ؓ کے پاس آئے تو دیکھا کہ وہ عصر پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے ہیں، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے نماز کے جلدی ہونے کا ذکر کیا یا خود انہوں نے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: یہ منافقوں کی نماز ہے، یہ منافقوں کی نماز ہے، یہ منافقوں کی نماز ہے کہ آدمی بیٹھا رہے یہاں تک کہ جب سورج زرد ہوجائے اور وہ شیطان کی دونوں سینگوں کے بیچ ہوجائے یا اس کی دونوں سینگوں پر ہوجائے ١ ؎ تو اٹھے اور چار ٹھونگیں لگالے اور اس میں اللہ کا ذکر صرف تھوڑا سا کرے ۔
Ala bin Abdur-Rahman said: We came upon Anas bin Malik (RA) after the Zuhr prayer. He stood for saying the Asr prayer. When he became free from praying, we mentioned to him about observing prayer in its early period or he himself mentioned it. He said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: This is how hypocrites pray, this is how hypocrites pray, this is how hypocrites pray: He sits (watching the sun), and when it becomes yellow and is between the horns of the devil, or is on the horns of the devil, he rises and prays for rakahs quickly, remembering Allah only seldom during them.
Notes · وضاحت
١ ؎: علماء نے اس کی تاویل میں اختلاف کیا ہے، بعض علماء نے کہا ہے کہ شیطان سورج ڈوبنے کے وقت اپنا سر سورج پر رکھ دیتا ہے کہ سورج کے پجاریوں کا سجدہ اسی کو واقع ہو اور بعض نے کہا ہے کہ شیطان کی سینگ سے مراد اس کے وہ پیروکار ہیں جو سورج کو پوجتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٣٤ (٦٢٢)، سنن الترمذی/الصلاة ٦ (١٦٠)، سنن النسائی/المواقیت ٨ (٥١٢)، (تحفة الأشراف: ١١٢٢)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القرآن ١٠(٤٦)، مسند احمد (٣/١٠٢، ١٠٣، ١٤٩، ١٨٥، ٢٤٧) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص کی عصر چھوٹ گئی گویا اس کے اہل و عیال تباہ ہوگئے اور اس کے مال و اسباب لٹ گئے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبیداللہ بن عمر نے وتر (واؤ کے ساتھ) کے بجائے أتر (ہمزہ کے ساتھ) کہا ہے (دونوں کے معنی ہیں: لوٹ لیے گئے) ۔ اس حدیث میں وتر اور أتر کا اختلاف ایوب کے تلامذہ میں ہوا ہے۔ اور زہری نے سالم سے، سالم نے اپنے والد عبداللہ بن عمر ؓ سے اور عبداللہ بن عمر نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ نے وتر فرمایا ہے۔
Ibn Umar reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Anyone who loses his Asr prayer is like a person whose family has perished and whose property has been plundered. Abu Dawud said: Abdullah bin Umar (RA) narrated the word utira (instead of wutira, meaning perished). The dispute on this point goes back to Ayyub. Al-Zuhri reported from Salim on the authority of this father from the Prophet ﷺ the word wutira.
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ مغرب پڑھتے تھے، پھر تیر مارتے تو ہم میں سے ہر شخص اپنے تیر کے گرنے کی جگہ دیکھ لیتا تھا۔
Anas bin Malik (RA) said: We used to offer the Maghrib prayer with the Prophet ﷺ and then shoot arrows, one of us could see the place where arrow would fall.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٧٤) وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٧٠) (صحیح )
مرثد بن عبداللہ کہتے ہیں کہ جب ابوایوب ؓ ہمارے پاس جہاد کے ارادے سے آئے، ان دنوں عقبہ بن عامر ؓ مصر کے حاکم تھے، تو عقبہ نے مغرب میں دیر کی، ابوایوب نے کھڑے ہو کر ان سے کہا: عقبہ! بھلا یہ کیا نماز ہے؟ عقبہ نے کہا: ہم مشغول رہے، انہوں نے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے نہیں سنا کہ: میری امت ہمیشہ بھلائی یا فطرت پر رہے گی جب تک وہ مغرب میں اتنی تاخیر نہ کرے گی کہ ستارے چمکنے لگ جائیں ۔
Narrated Abu Ayyub (RA) : Marthad ibn Abdullah said: When Abu Ayyub came upon us to fight the infidels and in those days Uqbah ibn Amir was the Governor of Egypt, he (Uqbah) delayed the sunset prayer. Hence Abu Ayyub stood and said: What kind of prayer is this, Uqbah? He said: We were busy. He said: Did you not hear the Messenger of Allah ﷺ say: My community will remain well, or he said: will remain on its natural condition, so long as it would not delay the evening prayer until the stars shine brightly just like a network.
Takhrij · تخریج
تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٤٨٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٤٧) (حسن صحیح )
نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ میں لوگوں میں سب سے زیادہ اس نماز یعنی عشاء کے وقت کو جانتا ہوں، رسول اللہ ﷺ یہ نماز تیسری رات کا چاند ڈوب جانے کے وقت پڑھتے تھے۔
Narrated An-Numan ibn Bashir: I am the one who is best informed of the time of this prayer, i. e. the night prayer. The Messenger of Allah ﷺ used to offer it at the hour when the moon went down on its third night.
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک رات ہم عشاء کے لیے رسول اللہ ﷺ کی آمد کا انتظار کرتے رہے، آپ ﷺ اس وقت تشریف لائے جب تہائی رات یا اس سے زیادہ گزر گئی، ہم نہیں جانتے کہ کسی چیز نے آپ ﷺ کو مشغول کر رکھا تھا یا کوئی اور بات تھی، جس وقت آپ ﷺ نکل کر آئے تو فرمایا: کیا تم لوگ اس نماز کا انتظار کر رہے ہو؟ اگر میری امت پر گراں نہ گزرتا تو میں انہیں یہ نماز اسی وقت پڑھاتا ، پھر آپ ﷺ نے مؤذن کو حکم دیا، اس نے نماز کے لیے تکبیر کہی۔
Abdullah bin Umar (RA) said: We remained one night waiting for the Messenger of Allah ﷺ to offer the Isha prayer. He came out to us when one-third of the night has passed or even after it. We did not know whether anything kept him occupied or there was some other matter. When he came out, he said: Are you waiting for this prayer ? Were it not that it would impose a burden on my people, I would normally pray with them at this time. He then gave orders to the muadhdhin who declared that the time of the prayer had come.
Takhrij · تخریج
* تخريج: صحیح مسلم/المساجد ٣٩ (٦٣٩)، سنن النسائی/المواقیت ٢٠ (٥٣٨)، (تحفة الأشراف: ٧٦٤٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/مواقیت الصلاة ٢٤ (٥٧١)، مسند احمد (٢/٢٨، ٩٥، ١٢٦) (صحیح )
معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے عشاء میں نبی اکرم ﷺ کا انتظار کیا لیکن آپ نے تاخیر کی، یہاں تک کہ گمان کرنے والوں نے گمان کیا کہ آپ ﷺ نہیں نکلیں گے، اور ہم میں سے بعض کہنے والے یہ بھی کہہ رہے تھے کہ آپ نماز پڑھ چکے ہیں، ہم اسی حال میں تھے کہ نبی اکرم ﷺ نکلے، لوگوں نے آپ سے بھی وہی بات کہی جو پہلے کہہ رہے تھے، آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: تم لوگ اس نماز کو دیر کر کے پڑھو، کیونکہ تمہیں اسی کی وجہ سے دوسری امتوں پر فضیلت دی گئی ہے، تم سے پہلے کسی امت نے یہ نماز نہیں پڑھی ۔
Narrated Muadh ibn Jabal (RA) : We waited for the Prophet ﷺ to offer the night prayer. He delayed until people thought that he would not come out and some of us said that he had offered the prayer. At the moment when we were in this condition the Prophet ﷺ came out. People said to him as they were already saying. He said: Observe this prayer when it is dark, for by it you have been made superior to all the peoples, no people having observed it before you.
Takhrij · تخریج
تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١٣١٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٣٧) (صحیح )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عشاء پڑھنی چاہی تو آپ باہر نکلے ہی نہیں یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی (اس کے بعد نکلے) اور فرمایا: تم لوگ اپنی اپنی جگہ بیٹھے رہو، ہم لوگ اپنی اپنی جگہ بیٹھے رہے ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: لوگوں نے نماز پڑھ لی اور اپنی خواب گاہوں میں جا کر سو رہے، اور تم برابر نماز ہی میں رہے جب تک کہ تم نماز کا انتظار کرتے رہے، اگر مجھے کمزور کی کمزوری، اور بیمار کی بیماری کا خیال نہ ہوتا تو میں اس نماز کو آدھی رات تک مؤخر کرتا ۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : We observed the prayer after nightfall with the Messenger of Allah ﷺ , and he did not come out till about half the night had passed. He then said: Take your places. We then took our places. Then he said: The people have prayed and gone to bed, but you are still engaged in prayer as long as you wait for the prayer. Were it not for the weakness of the weak and for the sickness of the sick. I would delay this prayer till half the night had gone.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/المواقیت ٢٠ (٥٣٩)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ٨ (٦٩٣)، (تحفة الأشراف: ٤٣١٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٥) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز صبح (فجر) ادا فرماتے، پھر عورتیں اپنی چادروں میں لپٹی واپس لوٹتیں تو اندھیرے کی وجہ سے وہ پہچانی نہیں جاتی تھیں۔
Aishah reported: The Messenger of Allah ﷺ would say the Fajr prayer after which the women would depart wrapped up their woolen garments, being unrecognizable because of the darkness before dawn.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ الصلاة ١٣ (٣٧٢)، المواقیت ٢٧ (٥٧٨)، والأذان ١٦٣ (٨٦٧)، ١٦٥ (٨٧٢)، صحیح مسلم/المساجد ٤٠ (٦٤٥)، سنن الترمذی/الصلاة ٢ (١٥٣)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ٢ (٦٦٩)، سنن النسائی/المواقیت ٢٤ (٥٤٧)، (تحفة الأشراف: ١٧٩٣١)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/وقوت الصلاة ١(٤)، مسند احمد (٦/٣٣، ٣٦، ١٧٩، ٢٤٨، ٢٥٩)، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠ (١٢٥٢) (صحیح )
رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فجر (نماز صبح) اس وقت پڑھو جب اچھی طرح صبح (صادق) ہوجائے، کیونکہ یہ چیز تمہارے ثوابوں کو زیادہ کرنے والی ہے (یا کہا: ثواب کو زیادہ کرنے والی ہے) ١ ؎۔
Rafi bin Khadij reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Offer Fajr prayer at dawn, for it is most productive of rewards to you or most productive of reward.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی فجر طلوع صبح کے وقت پڑھو کیونکہ اصبح الرجل اس وقت کہا جاتا ہے جب آدمی صبح کرے اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ جن لوگوں نے أسفروا بالفجر کی روایت کی ہے، وہ روایت بالمعنی ہے اور یہ غلس میں پڑھنے کی فضیلت کی دلیل ہے نہ کہ اسفار کی۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٣ (١٥٤)، سنن النسائی/المواقیت ٢٦ (٥٥٠)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ٢ (٦٧٢)، تحفة الأشراف (٣٥٨٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٦٠، ٤/١٤٠)، سنن الدارمی/الصلاة ٢١ (١٢٥٣) (حسن صحیح )
عبداللہ بن صنابحی نے کہا کہ ابومحمد کا کہنا ہے کہ وتر واجب ہے تو اس پر عبادہ بن صامت ؓ نے کہا: ابومحمد نے غلط کہا ١ ؎، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: اللہ تعالیٰ نے پانچ نماز فرض کی ہیں، جو شخص ان کے لیے اچھی طرح وضو کرے گا، اور انہیں ان کے وقت پر ادا کرے گا، ان کے رکوع و سجود کو پورا کرے گا تو اللہ تعالیٰ کا اس سے وعدہ ہے کہ اسے بخش دے گا، اور جو ایسا نہیں کرے گا تو اللہ کا اس سے کوئی وعدہ نہیں چاہے تو اس کو بخش دے، چاہے تو عذاب دے ۔
Narrated Abdullah ibn Sunabihi (RA) : Abu Muhammad fancies that witr prayer is essential. (Hearing this) Ubadah ibn as-Samit said: Abu Muhammad was wrong. I bear witness that I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Allah, the Exalted, has made five prayers obligatory. If anyone performs ablution for them well, offers them at their (right) time, and observes perfectly their bowing and submissiveness in them, it is the guarantee of Allah that He will pardon him; if anyone does not do so, there is no guarantee for him on the part of Allah; He may pardon him if He wills, and punish him if He wills.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان سے غلطی ہوئی ہے نہ کہ انہوں نے جان بوجھ کر جھوٹ کہا ہے ( اور یہ ابومحمد کا اجتہادی فتویٰ تھا جس کی تردید عبادہ نے اس حدیث سے کی )
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥١٠١)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الصلاة ٦ (٤٦٢)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٩٤ (١٤٠١)، مسند احمد (٥/٣١٧) (صحیح )
ام فروہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نماز کو اس کے اول وقت میں ادا کرنا ۔ خزاعی کی روایت میں ہے کہ انہوں نے (قاسم نے) اپنی پھوپھی (جنہیں ام فروہ کہا جاتا تھا اور جنہوں نے نبی اکرم ﷺ سے بیعت کی تھی) سے روایت کی ہے، اس میں سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم کی بجائے أن النبي صلى الله عليه وسلم سئل ہے۔
Narrated Umm Farwah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ was asked: Which of the actions is best? He replied: Observing prayer early in its period. Al-Khuzai narrated in his version from his aunt named Umm Farwah who took the oath of allegiance to the Prophet ﷺ : He was questioned.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٣(١٧٠)، (تحفة الأشراف: ١٨٣٤١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٧٥، ٣٧٤، ٤٤٠) (صحیح) (اس کے راوی قاسم مضطرب الحدیث اور عبداللہ بن عمر سیٔ الحفظ ہیں، نیز بعض أمھاتہ مجہول راوی ہیں) لیکن یہ حدیث شواہد کی بنا پر اس باب میں صحیح ہے، عبداللہ بن مسعود ؓ کی حدیث متفق علیہ (بخاری و مسلم) میں ہے
فضالہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے جو باتیں سکھائیں ان میں یہ بات بھی تھی کہ پانچوں نماز پر محافظت کرو، میں نے کہا: یہ ایسے اوقات ہیں جن میں مجھے بہت کام ہوتے ہیں، آپ مجھے ایسا جامع کام کرنے کا حکم دیجئیے کہ جب میں اس کو کروں تو وہ مجھے کافی ہوجائے، آپ ﷺ نے فرمایا: عصرین پر محافظت کرو ، عصرین کا لفظ ہماری زبان میں مروج نہ تھا، اس لیے میں نے پوچھا: عصرین کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: دو نماز: ایک سورج نکلنے سے پہلے، اور ایک سورج ڈوبنے سے پہلے (فجر اور عصر) ١ ؎۔
Narrated Fudalah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ taught me and what he taught me is this: Observe the five prayers regularly. He said: I told (him): I have many works at these times; so give me a comprehensive advice which, if I follow, should be enough for me. He said: Observe the two afternoon prayers (al-asrayn). But the term al-asrayn (two afternoon prayers) was not used in our language. Hence I said: What is al-asrayn? He said: A prayer before the sunrise and a prayer before the sunset (i. e. the dawn and the afternoon prayers).
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جو بہت زیادہ مصروف ہو اس کے لئے فقط دو وقت کی نماز کافی ہوجائے گی، بلکہ مطلب یہ ہے کہ کم سے کم ان دو وقتوں کی نماز کو اول وقت پر پابندی سے پڑھ لیا کرے (بیہقی، عراقی)۔
Takhrij · تخریج
تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١٠٤٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٤٤) (صحیح )
عمارہ بن رویبہ کہتے ہیں کہ اہل بصرہ میں سے ایک آدمی نے ان سے پوچھا اور کہا: آپ مجھے ایسی بات بتائیے جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: وہ آدمی جہنم میں داخل نہ ہوگا جس نے سورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈوبنے سے پہلے نماز پڑھی ، اس شخص نے کہا: کیا آپ نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے؟ یہ جملہ اس نے تین بار کہا، انہوں نے کہا: ہاں، ہر بار وہ یہی کہتے تھے: میرے دونوں کانوں نے اسے سنا ہے اور میرے دل نے اسے یاد رکھا ہے، پھر اس شخص نے کہا: میں نے بھی رسول اللہ ﷺ کو اسے فرماتے سنا ہے۔
Narrated Umarah ibn Ruwaybah (RA) : A man from Basrah said: Tell me what you heard from the Messenger of Allah ﷺ . He said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: No one will enter Hell who has prayed before the rising of the sun and before its setting (meaning the dawn and the afternoon prayers). He said three times: Have you heard it from him? He replied: Yes, each time saying: My ears heard it and my heart memorised it. The man then said: And I heard him (the Prophet) say that.
ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ابوذر! تم اس وقت کیا کرو گے جب تمہارے اوپر ایسے حاکم و سردار ہوں گے جو نماز کو مار ڈالیں گے؟ یا فرمایا: نماز کو تاخیر سے پڑھیں گے ، میں نے کہا: اللہ کے رسول! اس سلسلے میں آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم نماز وقت پر پڑھ لو، پھر اگر تم ان کے ساتھ یہی نماز پاؤ تو (دوبارہ) پڑھ لیا کرو ١ ؎، یہ تمہارے لیے نفل ہوگی ۔
Abu Dharr said: The Messenger of Allah ﷺ asked me: How will you act, Abu Dharr, when you are under rulers who kill prayer or delay it (beyond its proper time) ? I said: Messenger of Allah, what do you command me ? He replied: Offer the prayer at its proper time, and if you say it along with them, say it, for it will be a supererogatory prayer for you.
Notes · وضاحت
١ ؎: بظاہر حدیث عام ہے ساری نمازیں اس حکم میں داخل ہیں خواہ وہ فجر کی ہو یا عصر کی یا مغرب کی، اور بعض لوگوں نے اس حدیث کو ظہر اور عشاء کے ساتھ خاص کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ فجر اور عصر کے بعد نفل پڑھنا درست نہیں اور مغرب کو دوبارہ پڑھنے سے وہ جفت ہوجائے گی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٤١ (٦٤٨)، سنن الترمذی/الصلاة ١٥ (١٧٦)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٥٠ (١٢٥٦)، (تحفة الأشراف: ١١٩٥٠)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الإمامة ٢ (٧٨٠)، ٥٥ (٨٦٠)، مسند احمد (٥/١٦٨، ١٦٩)، سنن الدارمی/الصلاة ٢٥ (١٢٦٤) (صحیح )
عمرو بن میمون اودی کہتے ہیں کہ معاذ بن جبل ؓ رسول اللہ ﷺ کے قاصد بن کر ہمارے پاس یمن آئے، میں نے فجر میں ان کی تکبیر سنی، وہ ایک بھاری آواز والے آدمی تھے، مجھ کو ان سے محبت ہوگئی، میں نے ان کا ساتھ نہیں چھوڑا یہاں تک کہ میں نے ان کو شام میں دفن کیا، پھر میں نے غور کیا کہ ان کے بعد لوگوں میں سب سے بڑا فقیہ کون ہے؟ (تو معلوم ہوا کہ عبداللہ بن مسعود ؓ ہیں) چناچہ میں عبداللہ بن مسعود ؓ کے پاس آیا اور ان کے ساتھ چمٹا رہا یہاں تک کہ وہ بھی انتقال فرما گئے، انہوں نے مجھ سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: تم اس وقت کیا کرو گے جب تمہارے اوپر ایسے حکمراں مسلط ہوں گے جو نماز کو وقت پر نہ پڑھیں گے؟ ، تو میں نے کہا: اللہ کے رسول! جب ایسا وقت مجھے پائے تو آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: نماز کو اول وقت میں پڑھ لیا کرنا اور ان کے ساتھ اپنی نماز کو نفل بنا لینا ١ ؎۔
Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : Amr ibn Maymun al-Awdi said: Muadh ibn Jabal, the Messenger of the Messenger of Allah ﷺ came to us in Yemen, I heard his takbir (utterance of AllahuAkbar) in the dawn prayer. He was a man with loud voice. I began to love him. I did depart from him until I buried him dead in Syria (i. e. until his death). Then I searched for a person who had deep understanding in religion amongst the people after him. So I came to Ibn Masud and remained in his company until his death. He (Ibn Masud) said: The Messenger of Allah ﷺ said to me: How will you act when you are ruled by rulers who say prayer beyond its proper time? I said: What do you command me, Messenger of Allah, if I witness such a time? He replied: Offer the prayer at its proper time and also say your prayer along with them as a supererogatory prayer. Abu al-Darda reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: There are five thing, if anyone observe them with faith, he will enter Paradise. He who prays the five times prayer regularly, with the ablution for them, with their bowing, with their prostration and their (right) times ; keeps fast during Ramadan ; performs Hajj (pilgrimage) to the House (Kabah), provided he has the ability for its passage; pays Zakat happily ; and fulfills the trust (he will enter Paradise). People said: Abu al-Darda, what is fulfilling the trust ? He replied: Washing because of sexual defilement.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے کئی باتیں معلوم ہوئیں: ایک تو یہ کہ نماز اوّل وقت میں پڑھنا افضل ہے، دوسرے یہ کہ جماعت کے لئے اسے مؤخر کرنا جائز نہیں، تیسرے یہ کہ جو نماز پڑھ چکا ہو اس کا اسی دن اعادہ (دہرانا) جائز ہے بشرطیکہ اس اعادہ کا کوئی سبب ہو، ایک ہی نماز کو ایک ہی دن میں دوبارہ پڑھنے کی جو ممانعت آئی ہے وہ اس صورت میں ہے جب کہ اس کا کوئی سبب نہ ہو، چوتھے یہ کہ پہلی نماز فرض ہوگی اور دوسری جو اس نے امام کے ساتھ پڑھی ہے نفل ہوگی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٩٤٨٧)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد ٥ (٥٣٤)، سنن النسائی/الإمامة ٢ (٧٨٠)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٥٠ (١٢٥٥)، مسند احمد (١/٣٧٩، ٤٥٥، ٤٥٩) (حسن صحیح )