حروف اور قرات کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 27 · 40 hadiths · Page 1 of 2

3969Sunan Abu Dawood

اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل. ح وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ: وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے: واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى اور مقام ابراہیم کو مصلیٰ بنا لو۔۔۔ (سورۃ البقرہ: ١٢٤) (امر کے صیغہ کے ساتھ بکسر خاء) پڑھا۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ read the Quranic verse, And take ye the Station of Abraham as a place of prayer.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/ الحج ٣٣ (٨٥٦)، سنن النسائی/ الحج ١٦٣ (٢٩٦٤)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٥٦ (١٠٠٨)، انظر حدیث رقم: (١٩٠٥)، (تحفة الأشراف: ٢٥٩٥) (صحیح )
3970Sunan Abu Dawood

اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ رَجُلًا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَقَرَأَ فَرَفَعَ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ فَلَمَّا أَصْبَحَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَرْحَمُ اللَّهُ فُلَانًا كَائِنْ مِنْ آيَةٍ أَذْكَرَنِيهَا اللَّيْلَةَ كُنْتُ قَدْ أُسْقِطْتُهَا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک شخص نے رات میں قیام کیا اور (نماز میں) بلند آواز سے قرآت کی، جب صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ فلاں پر رحم کرے کتنی آیتیں جنہیں میں بھول چلا تھا ١ ؎ اس نے آج رات مجھے یاد دلا دیں ۔

Narrated Aisha (RA) : A man got up (for prayer) at night, he read the Quran and raised his voice in reading. When the morning came, the Messenger of Allah ﷺ said: May Allah have mercy on so-and-so! Last night he reminded me a number of verses which I was about to forget.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی یہ میرے ذہن سے نکل چکی تھیں، مگر اللہ تعالیٰ کو ان آیتوں کا بالکل بھلا دینا منظور نہ تھا، اس لیے اس نے اس آدمی کو قرات کے ذریعہ مجھے پھر یاد دلا دیں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (١٣٣١)، (تحفة الأشراف: ١٦٨٧٧) (صحیح )
3971Sunan Abu Dawood

اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ، حَدَّثَنَا مِقْسَمٌ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغُلَّ سورة آل عمران آية 161 فِي قَطِيفَةٍ حَمْرَاءَ، فُقِدَتْ يَوْمَ بَدْرٍ، فَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ: لَعَلّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَهَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغُلَّ سورة آل عمران آية 161 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: يَغُلَّ مَفْتُوحَةُ الْيَاءِ.

مقسم مولیٰ ابن عباس ؓ کا بیان ہے کہ ابن عباس ؓ نے کہا ہے کہ آیت: وما کان لنبي أن يغل نبی کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ خیانت کرے۔۔۔ (سورۃ آل عمران: ١٦١) ایک سرخ چادر کے متعلق نازل ہوئی جو بدر کے دن گم ہوگئی تھی تو کچھ لوگوں نے کہا: شاید رسول اللہ ﷺ نے اسے لے لیا ہو تب اللہ تعالیٰ نے: وما کان لنبي أن يغل نازل کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: يغل یا کے فتحہ کے ساتھ ہے۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The verse And no Prophet could (ever) be false to his trust was revealed about a red velvet. When it was found missing on the day of Badr, some people said; Perhaps the Messenger of Allah ﷺ has taken it. So Allah, the Exalted, sent down And no prophet could (ever) be false to his trust to the end of the verse. Abu Dawud said: In the word yaghulla the letter ya has a short vowel a.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/تفسیر سورة آل عمران ١٧ (٣٠٠٩)، (تحفة الأشراف: ٦٤٨٧) (صحیح )
3972Sunan Abu Dawood

اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبَخَلِ وَالْهَرَمِ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں بخیلی اور بڑھاپے سے ١ ؎۔

Anas bin Malik (RA) reported that Messenger of Allah ﷺ as saying: O Allah, I seek refuge in Thee from niggardliness and old age.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ایسی ضعیفی سے جس میں ہوش و حواس باقی نہ رہیں نہ عبادت کی طاقت رہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٨٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١١٣، ١١٧)، انظر حدیث رقم: (١٥٤٠) (صحیح )
3973Sunan Abu Dawood

اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ، عَنْ أَبِيهِلَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ، قَالَ: كُنْتُ وَافِدَ بَنِي الْمُنْتَفِقِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، فَقَالَ: يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَحْسِبَنَّ وَلَمْ يَقُلْ لَا تَحْسَبَنَّ.

لقیط بن صبرہ ؓ کہتے ہیں میں بنی منتفق کی طرف سے رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تھا، یا بنی منتفق کے وفد میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تھا پھر انہوں نے حدیث بیان کی کہ آپ نے یعنی نبی اکرم ﷺ نے لا تحسبن (سین کے زیر کے ساتھ) پڑھا اور لا تحسبن (سین کو زبر کے ساتھ) نہیں پڑھا۔

Narrated Laqit ibn Sabirah (RA) : I came in the deputation of Banu al-Muntafiq to the Messenger of Allah ﷺ . He then narrated the rest of the tradition. The Prophet ﷺ said: la tahsibanna (do not think) and did not say: la tahsabanna (do not think).

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (١٤٢)، (تحفة الأشراف: ١١١٧٢) (صحیح )
3974Sunan Abu Dawood

اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَحِقَ الْمُسْلِمُونَ رَجُلًا فِي غُنَيْمَةٍ لَهُ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، فَقَتَلُوهُ وَأَخَذُوا تِلْكَ الْغُنَيْمَةَ فَنَزَلَتْ: وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا سورة النساء آية 94 تِلْكَ الْغُنَيْمَةَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں مسلمان ایک شخص سے ملے جو اپنی بکریوں کے چھوٹے سے ریوڑ میں تھا اس نے السلام علیکم کہا پھر بھی مسلمانوں نے اسے قتل کردیا اور وہ ریوڑ لے لیا تو یہ آیت کریمہ: ولا تقولوا لمن ألقى إليكم السلام لست مؤمنا تبتغون عرض الحياة الدنيا جو شخص تمہیں سلام کہے اسے یہ نہ کہو کہ تو مسلمان نہیں ہے تم لوگ دنیاوی زندگی کا ساز و سامان یعنی ان بکریوں کو چاہتے ہو (سورۃ النساء: ٩٤) نازل ہوئی۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : The Muslims met a man with some sheep of his. He said: Peace be upon you. But they killed him and took those few sheep. Thereupon the following Quranic verse was revealed: . . . And say to anyone who offers you a salutation: Thou art none of believer, coveting the perishable good of this life. meaning these few sheep.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر سورة النساء ١٧ (٤٥٩١)، صحیح مسلم/التفسیر (٣٠٢٥)، (تحفة الأشراف: ٥٩٤٠)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/تفسیر القرآن النساء ٥ (٣٠٣٠) (صحیح )
3975Sunan Abu Dawood

اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ وَهُوَ أَشْبَعُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ: غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95 وَلَمْ يَقُلْ سَعِيدٌ كَانَ يَقْرَأُ.

زید بن ثابت انصاری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ لا يستوي القاعدون من المؤمنين کے بعد غير أولي الضرر پڑھتے تھے۔ اور سعید بن منصور نے اپنی روایت میں كان يقرأ نہیں کہا ہے ١ ؎۔

Narrated Zayd ibn Thabit (RA) : The Prophet ﷺ used to read: Not equal are those believers who sit (at home) and receive no hurt (ghayru ulid-darari) but the narrator Saeed did not say the words used to read

Notes · وضاحت
١ ؎: پہلے صرف لا يستوي القاعدون من المؤمنين نازل ہوئی تھی پھر جب لوگوں کو پریشانی ہوئی تو اللہ نے غير أولي الضرر نازل فرما کر آسانی کردی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٧٠٩) (حسن صحیح )
3976Sunan Abu Dawood

اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: 0 وَالْعَيْنُ بِالْعَيْنِ 0.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے: والعين بالعين (رفع کے ساتھ) پڑھا ١ ؎۔

Narrated Anas ibn Malik: The Messenger of Allah ﷺ red the verse: eye for eye (al-aynu bil-ayn).

Notes · وضاحت
١ ؎: جیسا کہ کسائی کی قرات ہے اور اکثر کے نزدیک نصب کے ساتھ ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/القراء ات ١ (٢٩٢٩)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢١٥) (ضعیف) (ابوعلی بن یزید مجہول راوی ہیں )
3977Sunan Abu Dawood

اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنْالزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ: 0 وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنُ بِالْعَيْنِ 0.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ وکتبنا عليهم فيها أن النفس بالنفس والعين بالعين اور ہم نے یہودیوں کے ذمہ تورات میں یہ بات مقرر کردی تھی کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ ہے (سورۃ المائدہ: ٤٥) (عین کے رفع کے ساتھ) پڑھا۔

Narrated Anas ibn Malik: The Prophet ﷺ read the verse: We ordained therein for them: Life for life and eye for eye (an-nafsa bin-nafsi wal-aynu bil-ayn).

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٥٧٢) (ضعیف )
3978Sunan Abu Dawood

اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ الْعَوْفِيِّ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: اللَّهُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ ضَعْفٍ سورة الروم آية 54، فَقَالَ: 0 مِنْ ضُعْفٍ 0 قَرَأْتُهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا قَرَأْتَهَا عَلَيَّ، فَأَخَذَ عَلَيَّ كَمَا أَخَذْتُ عَلَيْكَ.

عطیہ بن سعد عوفی کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر ؓ کے سامنے: الله الذي خلقکم من ضعف اللہ وہی ہے جس نے تمہیں کمزوری کی حالت میں پیدا کیا (سورۃ الروم: ٥٤) (ضاد کے زبر کے ساتھ) پڑھا تو انہوں نے کہا مِنْ ضُعْفٍ (ضاد کے پیش کے ساتھ) ہے میں نے بھی اسی طرح رسول اللہ ﷺ کے سامنے پڑھا تھا جیسے تم نے پڑھا ہے تو آپ ﷺ نے میری گرفت فرمائی جیسے میں نے تمہاری گرفت کی ہے۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : Atiyyah ibn Saad al-Awfi said: I recited to Abdullah ibn Umar the verse: It is Allah Who created you in a state of (helplessness) weakness (min daf). He said: (Read) min duf. I recited it to the Messenger of Allah ﷺ as you recited it to me, and he gripped me as I gripped you.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/القراء ات سورة الروم ٤ (٢٩٣٦)، (تحفة الأشراف: ٧٣٣٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٥٨) (حسن )
3979Sunan Abu Dawood

اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ عَقِيلٍ، عَنْ هَارُونَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْأَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِنْ ضُعْفٍ.

ابو سعید خدری ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے مِنْ ضُعْفٍ روایت کی ہے۔

Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : The Prophet ﷺ read the verse mentioned above, min duf.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤٢١١) (حسن )
3980Sunan Abu Dawood

اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَسْلَمَ الْمِنْقَرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، قَالَ: قَالَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ: 0 بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْتَفْرَحُوا 0، قَالَ أَبُو دَاوُد: بِالتَّاءِ.

عبدالرحمٰن بن ابزی کہتے ہیں کہ ابی بن کعب ؓ نے بفضل الله وبرحمته فبذلک فلتفرحوا لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے اس انعام اور رحمت پر خوش ہونا چاہیئے (سورۃ یونس: ٥٨) پڑھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: (تاء کے ساتھ) ہے۔

Narrated Ubayy bin Kab (RA) : Say, in the bounty of Allah, and in His mercy- in that let you rejoice.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٥٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٢٣) (حسن صحیح )
3981Sunan Abu Dawood

اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ الْأَجْلَحِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَيٍّ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ: 0 بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْتَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِمَّا تَجْمَعُونَ 0.

ابی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے بفضل الله وبرحمته فبذلک فليفرحواء هو خير مما تجمعون پڑھا ١ ؎۔

Narrated Ibn Abzi (RA) : Ubayy ibn Kab) said: The Prophet ﷺ read the verse: Say: In the bounty of Allah and in His mercy--in that let you rejoice: that is better than the wealth you hoard.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی دونوں جگہ تاء کے ساتھ پڑھا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥٧) (حسن صحیح )
3982Sunan Abu Dawood

اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ: أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ: 0 إِنَّهُ عَمِلَ غَيْرَ صَالِحٍ 0.

اسماء بنت یزید ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو إنه عمل غير صالح (بصیغہ ماضی) یعنی: اس نے ناسائشہ کام کیا (سورۃ ہود: ٤٦) پڑھتے سنا ہے۔

Narrated Asma daughter of Yazid: She heard the Prophet ﷺ read the verse: He acted unrighteously. (innahu amila ghayra salih).

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/القراء ات سورة ھود ٢ (٢٩٣١)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٦٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٩٤، ٣٢٢، ٤٥٤، ٤٥٩، ٤٦٠) (صحیح )
3983Sunan Abu Dawood

اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ الْمُخْتَارِ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، قَالَ: سَأَلْتُ أُمَّ سَلَمَةَكَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ: إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ سورة هود آية 46، فَقَالَتْ: قَرَأَهَا: 0 إِنَّهُ عَمِلَ غَيْرَ صَالِحٍ 0، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ هَارُونُ النَّحْوِيُّ، وَمُوسَى بْنُ خَلَفٍ، عَنْ ثَابِتٍ، كَمَا قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ.

شہر بن حوشب کہتے ہیں میں نے ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ آیت کریمہ إنه عمل غير صالح کیسے پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: آپ اسے إنه عمل غير صالح (فعل ماضی کے ساتھ) پڑھتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نیز اسے ہارون نحوی اور موسیٰ بن خلف نے ثابت سے ایسے ہی روایت کیا ہے جیسے عبدالعزیز نے کہا ہے۔

Narrated Umm Salamah, Ummul Muminin (RA) : Shahr ibn Hawshab said: I asked Umm Salamah (RA) : How did the Messenger of Allah ﷺ read this verse: For his conduct is unrighteous (innahu amalun ghayru salih. She replied: He read it: He acted unrighteously (innahu amila ghayra salih). Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Harun al-Nahwi and Musa bin Khalaf from Thabit as reported by the narrator Abd al-Aziz.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/القراء ات سورة ھود ٢ (٢٩٣٢)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٦٨) (صحیح )
3984Sunan Abu Dawood

اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنْ حَمْزَةَ الزَّيَّاتِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَعَا بَدَأَ بِنَفْسِهِ، وَقَالَ: رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْنَا وَعَلَى مُوسَى لَوْ صَبَرَ لَرَأَى مِنْ صَاحِبِهِ الْعَجَبَ، وَلَكِنَّهُ قَالَ: إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلا تُصَاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي سورة الكهف آية 76 طَوَّلَهَا حَمْزَةُ.

ابی بن کعب ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ جب دعا فرماتے تو پہلے اپنی ذات سے شروعات کرتے یوں کہتے: اللہ کی رحمت ہو ہم پر اور موسیٰ پر اگر وہ صبر کرتے تو اپنے ساتھی (خضر) کی طرف سے عجیب عجیب چیزیں دیکھتے، لیکن انہوں نے تو کہہ دیا إن سألتک عن شىء بعدها فلا تصاحبني قد بلغت من لدني اگر اب اس کے بعد میں آپ سے کسی چیز کے بارے میں سوال کروں تو بیشک آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھنا یقیناً آپ میری طرف سے حد عذر کو پہنچ چکے (سورۃ الکہف: ٧٦) ۔ حمزہ نے لدنی کے نون کو کھینچ کر بتایا کہ آپ یوں پڑھا کرتے۔

Narrated Ubayy ibn Kab (RA) :: When the Messenger of Allah ﷺ prayed, he began with himself and said: May the mercy of Allah be upon us and upon Moses. If he had patience, he would have seen marvels from his Companion. But he said: (Moses) said: If ever I ask thee about anything after this, keep me not in they company: then wouldst thou have received (full) excuse from my side. Hamzah lengthened it.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/القراء ات سورة الکھف ٣ (٢٩٣٣)، الدعوات ٩ (٣٣٨٥)، (تحفة الأشراف: ٤١)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العلم ٤٤ (١٢٢)، أحادیث الأنبیاء ٢٧ (٣٤٠٠)، تفسیر القرآن ٢ (٤٧٢٥)، صحیح مسلم/الفضائل ٤٦ (٢٣٨٠) (صحیح) دون قولہ: ولکنہ قال …
3985Sunan Abu Dawood

اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَارِيَةِ الْعَبْدِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ سَعِيدِ بْنِ حُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَنَّهُ قَرَأَهَا قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي سورة الكهف آية 76 وَثَقَّلَهَا.

ابی بن کعب ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے قد بلغت من لدني (نون کی تشدید کے ساتھ پڑھا) اور انہوں نے اسے مشدّد پڑھ کے بتایا۔

Narrated Ubayy ibn Kab (RA) : The Prophet ﷺ read the Quranic verse: Thou hast received (full) excuse from me (min ladunni) and put tashdid (doubling of consonants) on nun (n).

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٤٢) (ضعیف )
3986Sunan Abu Dawood

اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْعُودٍ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ، عَنْ مِصْدَعٍ أَبِي يَحْيَى، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: أَقْرَأَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ كَمَا أَقْرَأَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِي عَيْنٍ حَمِئَةٍ سورة الكهف آية 86مُخَفَّفَةً.

مصدع ابویحییٰ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس ؓ سے سنا وہ کہہ رہے تھے مجھے ابی ابن کعب ؓ نے في عين حمئة دلدل کے چشمہ میں (سورۃ الکہف: ٨٦) تخفیف کے ساتھ پڑھایا جس طرح رسول اللہ ﷺ نے انہیں مخفف پڑھایا تھا۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : Ubayy ibn Kab made me read the following verse as the Messenger of Allah ﷺ made him read: in a spring of murky water (fi aynin hamiatin) with short vowel a after h.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/القراء ات سورة الکھف ٣ (٢٩٣٤)، (تحفة الأشراف: ٤٣) (ضعیف )
3987Sunan Abu Dawood

اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو النَّمَرِيَّ، أَخْبَرَنَا هَارُونُ، أَخْبَرَنِي أَبَانُ بْنُ تَغْلِبَ، عَنْ عَطِّيَةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِ عِلِّيِّينَ لَيُشْرِفُ عَلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ فَتُضِيءُ الْجَنَّةُ لِوَجْهِهِ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ، قَالَ: وَهَكَذَا جَاءَ الْحَدِيثُ دُرِّيٌّ مَرْفُوعَةٌ الدَّالُ لَا تُهْمَزُ وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ لَمِنْهُمْ وَأَنْعَمَا.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: علیین والوں میں سے ایک شخص جنتیوں کو جھانکے گا تو جنت اس کے چہرے کی وجہ سے چمک اٹھے گی گویا وہ موتی سا جھلملاتا ہوا ستارہ ہے ۔ راوی کہتے ہیں: اسی طرح دري دال کے پیش اور یا کی تشدید کے ساتھ حدیث وارد ہے دال کے زیر اور ہمزہ کے ساتھ نہیں اور آپ نے فرمایا ابوبکرو عمر ؓ بھی انہیں میں سے ہیں بلکہ وہ دونوں ان سے بھی بہتر ہیں۔

Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : The Prophet ﷺ said: A man from the Illiyyun will look downwards at the people of Paradise and Paradise will be glittering as if it were a brilliant star. He (the narrator) said: In this way the word durri (brilliant) occurs in this tradition, i. e. the letter dal (d) has short vowel u and it has no hamzah (). Abu Bakr and Umar will be of them and will have some additional blessings.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤١٩٠)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/المناقب ١٤ (٣٦٥٨)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (٩٦)، مسند احمد (3/٥٠، ٦١) (ضعیف) (دوسرے الفاظ سے یہ صحیح ہے )
3988Sunan Abu Dawood

اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ الْحَكَمِ النَّخَعِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو سَبْرَةَ النَّخَعِيُّ،عَنْ فَرْوَةَ بْنِ مُسَيْكٍ الْغُطَيْفِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنَا عَنْ سَبَأٍ مَا هُوَ أَرْضٌ أَمْ امْرَأَةٌ ؟ فَقَالَ: لَيْسَ بِأَرْضٍ وَلَا امْرَأَةٍ وَلَكِنَّهُ رَجُلٌ وَلَدَ عَشْرَةً مِنْ الْعَرَبِ فَتَيَامَنَ سِتَّةٌ وَتَشَاءَمَ أَرْبَعَةٌ، قَالَ: عُثْمَانُ الْغَطَفَانِيُّ مَكَانَ الْغُطَيْفِيِّ، وَقَالَ: حَدَّثَنَا: الْحَسَنُ بْنُ الْحَكَمِ النَّخَعِيُّ.

فروہ بن مسیک غطیفی ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا پھر انہوں نے پوری حدیث ذکر کی اس میں ہے تو ہم میں ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! سبا کے متعلق مجھے بتائیے کہ وہ کیا ہے؟ کسی کا نام ہے یا کوئی عورت ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ نہ کوئی سر زمین ہے نہ عورت ہے بلکہ ایک شخص کا نام ہے جس کے دس عرب لڑکے ہوئے جس میں سے چھ نے یمن میں رہائش اختیار کرلی اور چار نے شام میں ١ ؎۔ عثمان نے غطیفی کے بجائے غطفانی کہا ہے اور حدثني الحسن بن الحکم النخعي کے بجائے حدثنا الحسن بن الحکم النخعي کہا ہے۔

Narrated Farwah ibn Musayk al-Ghutayfi (RA) : I came to the Prophet ﷺ . He then narrated the rest of the tradition. A man from the people said: Messenger of Allah! tell us about Saba; what is it: land or woman? He replied: It is neither land nor woman; it is a man to whom ten children of the Arabs were born: six of them lived in the Yemen and four lived in Syria. The narrator Uthman said al-Ghatafani instead of al-Ghutayfi. He said: It has been transmitted to us by al-Hasan ibn al-Hakam an-Nakhai.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس طرح رفتہ رفتہ ان کی اولاد بڑھی اور وہ ایک قوم بن گئی پھر وہ قوم جس ملک میں رہتی تھی اسے بھی لوگ سبا کہنے لگے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/تفسیر القرآن سورة سبأ ١ (٣٢٢٢)، (تحفة الأشراف: ١١٠٢٣) (حسن صحیح )