کثیر بن قیس کہتے ہیں کہ میں ابو الدرداء ؓ کے ساتھ دمشق کی مسجد میں بیٹھا تھا کہ اتنے میں ان کے پاس ایک شخص آیا اور ان سے کہنے لگا: اے ابو الدرداء! میں آپ کے پاس رسول اللہ ﷺ کے شہر سے اس حدیث کے لیے آیا ہوں جس کے متعلق مجھے یہ خبر ملی ہے کہ آپ اسے نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں میں آپ کے پاس کسی اور غرض سے نہیں آیا ہوں، اس پر ابوالدرداء نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص طلب علم کے لیے راستہ طے کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اسے جنت کی راہ چلاتا ہے اور فرشتے طالب علم کی بخشش کی دعا کرتے ہیں یہاں تک کہ مچھلیاں پانی میں دعائیں کرتی ہیں، اور عالم کی فضیلت عابد پر ایسے ہی ہے جیسے چودھویں رات کی تمام ستاروں پر، اور علماء انبیاء کے وارث ہیں، اور نبیوں نے اپنا وارث درہم و دینار کا نہیں بنایا بلکہ علم کا وارث بنایا تو جس نے علم حاصل کیا اس نے ایک وافر حصہ لیا ۔
Narrated Kathir ibn Qays: Kathir ibn Qays said: I was sitting with Abud Darda in the mosque of Damascus. A man came to him and said: Abud Darda, I have come to you from the town of the Messenger of Allah ﷺ for a tradition that I have heard you relate from the Messenger of Allah ﷺ . I have come for no other purpose. He said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: If anyone travels on a road in search of knowledge, Allah will cause him to travel on one of the roads of Paradise. The angels will lower their wings in their great pleasure with one who seeks knowledge, the inhabitants of the heavens and the Earth and the fish in the deep waters will ask forgiveness for the learned man. The superiority of the learned man over the devout is like that of the moon, on the night when it is full, over the rest of the stars. The learned are the heirs of the Prophets, and the Prophets leave neither dinar nor dirham, leaving only knowledge, and he who takes it takes an abundant portion.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/العلم ١٩ (٢٦٨٢)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٧ (٢٢٣)، (تحفة الأشراف: ١٠٩٥٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٩٦)، سنن الدارمی/المقدمة ٣٢ (٣٥٤) (صحیح) (متابعات سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ داود اور کثیر دونوں ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: زہد وکیع نمبر: ٥١٩ ب تحقیق الفریوائی )
اس سند سے بھی ابو الدرداء ؓ سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً مروی ہے۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu al-Darda through a different chain of narrators to the same effect from the Holy Prophet ﷺ
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٠٩٥١) (صحیح) (دیکھئے حدیث سابق )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص حصول علم کے لیے کوئی راستہ طے کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کردیتا ہے، اور جس کو اس کے عمل نے پیچھے کردیا تو اسے اس کا نسب آگے نہیں کرسکے گا ۔
Abu Hurairah reported the Prophet ﷺ as saying: If anyone pursues a path in search of knowledge, Allah will thereby make easy for him a path to paradise; and he who is made slow by his actions will not be speeded by his genealogy.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٢٣٧٧)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الذکر والتوبة ١١ (٢٦٩٩)، سنن الترمذی/العلم ٢ (٢٦٤٦)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٧ (٢٢٦)، مسند احمد (٢/٢٥٢)، سنن الدارمی/المقدمة ٣٢ (٣٥٦) (صحیح )
ابونملہ انصاری ؓ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے پاس ایک یہودی بھی تھا کہ اتنے میں ایک جنازہ لے جایا گیا تو یہودی نے کہا: اے محمد! کیا جنازہ بات کرتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ بہتر جانتا ہے یہودی نے کہا: جنازہ بات کرتا ہے (مگر دنیا کے لوگ نہیں سنتے) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو بات تم سے اہل کتاب بیان کریں نہ تو تم ان کی تصدیق کرو نہ تکذیب، بلکہ یوں کہو: ہم ایمان لائے اللہ اور اس کے رسولوں پر، اگر وہ بات جھوٹ ہوگی تو تم نے اس کی تصدیق نہیں کی، اور اگر سچ ہوگی تو تم نے اس کی تکذیب نہیں کی ۔
Narrated Abu Namlah al-Ansari (RA) : When he was sitting with the Messenger of Allah ﷺ and a Jew was also with him, a funeral passed by him. He (the Jew) asked (Him): Muhammad, does this funeral speak? The Prophet ﷺ said: Allah has more knowledge. The Jew said: It speaks. The Messenger of Allah ﷺ said: Whatever the people of the Book tell you, do not verify them, nor falsify them, but say: We believe in Allah and His Messenger. If it is false, do not confirm it, and if it is right, do not falsify it.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ، أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٢١٧٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٣٦) (ضعیف) (اس کے راوی ابن ابی نملہ لین الحدیث ہیں )
زید بن ثابت ؓ کہتے ہیں اللہ کے رسول ﷺ نے مجھے حکم دیا تو میں نے آپ کی خاطر یہودیوں کی تحریر سیکھ لی، آپ ﷺ نے فرمایا: قسم اللہ کی میں اپنی خط و کتابت کے سلسلہ میں یہودیوں سے مامون نہیں ہوں تو میں اسے سیکھنے لگا، ابھی آدھا مہینہ بھی نہیں گزرا تھا کہ میں نے اس میں مہارت حاصل کرلی، پھر جب آپ ﷺ کو کچھ لکھوانا ہوتا تو میں ہی لکھتا اور جب کہیں سے کوئی مکتوب آتا تو اسے میں ہی پڑھتا۔
Narrated Zayd ibn Thabit (RA) : The Messenger of Allah ﷺ ordered me (to learn the writing of the Jews), so I learnt for him the writing of the Jews. He said: I swear by Allah, I do not trust Jews in respect of writing for me. So I learnt it, and only a fortnight passed that. I mastered it. I would write for him when he wrote (to them), and read to him when something was written to him.
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں میں ہر اس حدیث کو جو رسول اللہ ﷺ سے سنتا یاد رکھنے کے لیے لکھ لیتا، تو قریش کے لوگوں نے مجھے لکھنے سے منع کردیا، اور کہا: کیا تم رسول اللہ ﷺ سے ہر سنی ہوئی بات کو لکھ لیتے ہو؟ حالانکہ رسول اللہ ﷺ بشر ہیں، غصے اور خوشی دونوں حالتوں میں باتیں کرتے ہیں، تو میں نے لکھنا چھوڑ دیا، پھر رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا، آپ ﷺ نے اپنی انگلی سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: لکھا کرو، قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس سے حق بات کے سوا کچھ نہیں نکلتا ۔
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: I used to write everything which I heard from the Messenger of Allah ﷺ . I intended (by it) to memorise it. The Quraysh prohibited me saying: Do you write everything that you hear from him while the Messenger of Allah ﷺ is a human being: he speaks in anger and pleasure? So I stopped writing, and mentioned it to the Messenger of Allah ﷺ . He signalled with his finger to him mouth and said: Write, by Him in Whose hand my soul lies, only right comes out from it.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٨٩٥٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٦٢، ١٩٢)، سنن الدارمی/المقدمة ٤٣ (٥٠١) (صحیح )
مطلب بن عبداللہ بن حنطب کہتے ہیں کہ زید بن ثابت ؓ معاویہ ؓ کے پاس آئے اور ان سے ایک حدیث کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے ایک شخص کو اس حدیث کے لکھنے کا حکم دیا، تو زید ؓ نے ان سے کہا: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم آپ کی حدیثوں میں سے کچھ نہ لکھیں تو انہوں نے اسے مٹا دیا ١ ؎۔
Narrated Al-Muttalib bin Abdullah bin Hantab (RA) : Al-Muttalib ibn Abdullah ibn Hantab said: Zayd ibn Thabit entered upon Muawiyah and asked him about a tradition. He ordered a man to write it. Zayd said: The Messenger of Allah ﷺ ordered us not to write any of his traditions. So he erased it.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ ممانعت پہلے تھی جب احادیث کے قرآن کے ساتھ خلط ملط ہوجانے کا اندیشہ تھا، بعد میں کتابت حدیث کی اجازت دے دی گئی جیسا کہ پہلی روایت سے واضح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٧٤٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٨٢) (ضعیف الإسناد) (اس کے راواة کثیر اور مطلب متکلم فیہ ہیں )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں ہم لوگ تشہد اور قرآن کے علاوہ کچھ نہیں لکھتے تھے۔
Abu Hurairah said: When Makkah was conquered, the Holy Prophet peace be upon him stood up. He (Abu Hurairah)then mentioned the sermon of the Holy prophet ﷺ . He said: A man of the Yemen, who was called Abu shah, go up and said ; Messenger of Allah! Write it for me. He said: Write for Abu shah.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤٢٥٨) (شاذ) (اس کے راوی ابو شہاب حَنَّاط حافظہ کے کمزور ہیں، اور ابو سعید خدری ؓ سے صحیح روایت تو یہ ہے کہ قرآن کے سوا اور کچھ مت لکھو )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں جب مکہ فتح ہوا تو نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوئے، پھر انہوں نے (ابوہریرہ ؓ نے) نبی اکرم ﷺ کے خطبہ کا ذکر کیا، پھر کہا کہ ایک یمنی شخص کھڑا ہوا جسے ابو شاہ کہا جاتا تھا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے لیے (یہ خطبہ) لکھ دیجئیے، آپ ﷺ نے فرمایا: ابو شاہ کے لیے لکھ دو ۔
It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: We used not to write anything but the Tasha-hud and the Quran.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٢٠١٧)، (تحفة الأشراف: ١٥٣٨٣) (صحیح )
عبداللہ بن زبیر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے زبیر ؓ سے پوچھا: آپ رسول اللہ ﷺ سے اور صحابہ کی طرح حدیثیں کیوں نہیں بیان کرتے؟ تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم مجھ کو رسول اللہ ﷺ سے ایک طرح کی قربت و منزلت حاصل تھی لیکن میں نے آپ کو بیان فرماتے ہوئے سنا ہے: جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھا اس کا ٹھکانہ جہنم ہے ۔
Abdullah bin al-Zubair said on the authority of the father: I asked al-zubair: What prevents you from narrating traditions from the Messenger of Allah ﷺ as his Companions narrate from him. But I heard him say: He who lies about me deliberately will certainly come to his abode in Hell.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٣٨ (١٠٧)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ٤ (٣٦)، (تحفة الأشراف: ٣٦٢٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٦٥، ١٦٦)، سنن الدارمی/المقدمة ٢٥ (٢٣٩) (صحیح )
ابو سلام ایک شخص سے جس نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت کی ہے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب کوئی (اہم) بات بیان کرتے تو اسے تین مرتبہ دہراتے (تاکہ اچھی طرح سامع کی سمجھ میں آجائے) ۔
Abu Salam said on the authority of a man who served the Holy Prophet ﷺ that whenever he talked, he repeated it three times.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٦٧٦) (ضعیف الإسناد) ( اس کے راوی سابق لین الحدیث ہیں، مگر یہ حدیث انس ؓ سے صحیح بخاری میں مروی ہے )
عروہ کہتے ہیں ابوہریرہ ؓ ام المؤمنین عائشہ ؓ کے حجرے کے بغل میں بیٹھے تھے اور وہ نماز پڑھ رہی تھیں تو وہ کہنے لگے: سن اے حجرے والی! دو بار یہ جملہ کہا، جب ام المؤمنین عائشہ ؓ نماز سے فارغ ہوئیں تو کہنے لگیں: کیا تمہیں اس پر اور اس کی حدیث پر تعجب نہیں کہ وہ کیسے جلدی جلدی بیان کر رہا ہے، رسول اللہ ﷺ جب کلام کرتے تو اگر شمار کرنے والا اسے شمار کرنا چاہتا تو شمار کرلیتا (یعنی آپ ﷺ صاف صاف اور بالکل واضح انداز میں بات کرتے تھے) ۔
Urwah said: Abu Hurairah sat beside the apartment of Aisha (RA) while she was praying. He then began to say: Listen, O lady of the apartment, saying twice. When she finish her prayer, she said: Are you not surprised at him and his narrate traditions from the Messenger of the Allah ﷺ gave a talk, a man could count it if he wished to count.
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ نے کہا: کیا تمہیں ابوہریرہ ؓ پر تعجب نہیں کہ وہ آئے اور میرے حجرے کے ایک جانب بیٹھے اور مجھے سنانے کے لیے رسول اللہ ﷺ سے حدیث بیان کرنے لگے، میں نفل نماز پڑھ رہی تھی، تو وہ قبل اس کے کہ میں اپنی نماز سے فارغ ہوتی اٹھے (اور چلے گئے) اور اگر میں انہیں پاتی تو ان سے کہتی کہ رسول اللہ ﷺ تمہاری طرح جلدی جلدی باتیں نہیں کرتے تھے۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : Are you not surprised at Abu Hurairah? He came and sat beside my apartment, and began to narrate traditions from the Messenger of Allah ﷺ making me hear them. I am saying supererogatory prayer. He got up (and went away) before I finished my prayer. Had I found him, I would have replied to him. The Messenger of Allah ﷺ did not narrate traditions quickly one after another as you narrate quickly.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الناقب ٢٣ (٣٥٦٨ تعلیقًا)، م فضائل الصحابة ٣٥ (٢٤٩٣)، (تحفة الأشراف: ١٦٦٩٨)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/ المناقب ٩ (٢٦٤٣)، مسند احمد (٦/ ١١٨، ١٥٧) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے فتوی دیا اور سلیمان بن داود مہری کی روایت میں ہے جس کو بغیر علم کے فتوی دیا گیا۔ تو اس کا گناہ فتوی دینے والے پر ہوگا ۔ سلیمان مہری نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ جس نے اپنے بھائی کو کسی ایسے امر کا مشورہ دیا جس کے متعلق وہ یہ جانتا ہو کہ بھلائی اس کے علاوہ دوسرے میں ہے تو اس نے اس کے ساتھ خیانت کی۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone is given a legal decision ignorantly, the sin rests on the one who gave it. Sulayman al-Mahri added in his version: If anyone advises his brother, knowing that guidance lies in another direction, he has deceived him. These are the wordings of Sulayman.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ٨ (٥٣)، (تحفة الأشراف: ١٤٦١١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٢١، ٣٦٥)، سنن الدارمی/المقدمة ٢٠ (١٦١) (حسن )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے فتوی دیا اور سلیمان بن داود مہری کی روایت میں ہے جس کو بغیر علم کے فتوی دیا گیا۔ تو اس کا گناہ فتوی دینے والے پر ہوگا ۔ سلیمان مہری نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ جس نے اپنے بھائی کو کسی ایسے امر کا مشورہ دیا جس کے متعلق وہ یہ جانتا ہو کہ بھلائی اس کے علاوہ دوسرے میں ہے تو اس نے اس کے ساتھ خیانت کی۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone is given a legal decision ignorantly, the sin rests on the one who gave it. Sulayman al-Mahri added in his version: If anyone advises his brother, knowing that guidance lies in another direction, he has deceived him. These are the wordings of Sulayman.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ٨ (٥٣)، (تحفة الأشراف: ١٤٦١١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٢١، ٣٦٥)، سنن الدارمی/المقدمة ٢٠ (١٦١) (حسن )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس سے کوئی دین کا مسئلہ پوچھا گیا اور اس نے اسے چھپالیا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائے گا ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: He who is asked something he knows and conceals it will have a bridle of fire put on him on the Day of Resurrection.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/العلم ٣ (٢٦٤٩)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ٢٤ (٢٦١)، (تحفة الأشراف: ١٤١٩٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٦٣، ٣٠٥، ٣٤٤، ٣٥٣، ٤٩٥، ٤٩٦، ٤٩٩، ٥٠٨) (حسن صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ (علم دین) مجھ سے سنتے ہو اور لوگ تم سے سنیں گے اور پھر جن لوگوں نے تم سے سنا ہے لوگ ان سے سنیں گے ۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ said: You hear (from me), and others will hear from you; and people will hear from them who heard from you.