فتوی میں احتیاط سے کام لینے کا بیان
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ الصُّنَابِحِيِّ، عَنْمُعَاوِيَةَ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنِ الْغُلُوطَاتِ.
معاویہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایسی باتوں سے منع فرمایا ہے جس میں بکثرت غلطی واقع ہو ١ ؎۔
Narrated Muawiyah (RA) : The Holy Prophet ﷺ forbade the discussion of thorny questions.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ایسے مسائل پوچھنا جس کا مقصد حصول علم نہ ہو، بلکہ دوسروں کا امتحان لینا اور انہیں ذلیل کرنا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١١٤٢٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤٣٥) (ضعیف) ( اس کے راوی عبداللہ بن سعد البجلی لین الحدیث ہیں )