فیصلوں کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 21 · 70 hadiths · Page 4 of 4

3631Sunan Abu Dawood

آدمی کو اپنے حق پر قسم کھانی چاہیے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، وَمُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ ابْنُ قُدَامَةَ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيل، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْجَدِّهِ، قَالَ ابْنُ قُدَامَةَ: إِنَّ أَخَاهُ أَوْ عَمَّهُ، وَقَالَ مُؤَمَّل: إِنَّهُ قَامَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ، فَقَالَ: جِيرَانِي بِمَا أُخِذُوا، فَأَعْرَضَ عَنْهُ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ ذَكَرَ شَيْئًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَلُّوا لَهُ عَنْ جِيرَانِهِ، لَمْ يَذْكُرْ مُؤَمَّلٌ وَهُوَ يَخْطُبُ.

معاویہ بن حیدہ ؓ روایت کرتے ہیں ابن قدامہ کی روایت میں ہے کہ ان کے بھائی یا ان کے چچا اور مومل کی روایت میں ہے وہ خود نبی اکرم ﷺ کے پاس کھڑے ہوئے اور آپ خطبہ دے رہے تھے تو یہ کہنے لگے: کس وجہ سے میرے پڑوسیوں کو پکڑ لیا گیا ہے؟ تو آپ نے ان سے دو مرتبہ منہ پھیرلیا پھر انہوں نے کچھ ذکر کیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس کے پڑوسیوں کو چھوڑ دو اور مومل نے یہ ذکر نہیں کیا ہے کہ آپ خطبہ دے رہے تھے۔

Bahz ibn Hakim reported from his grandfather: (Ibn Qudamahs version has: His grandfathers brother or uncle reported:) - the narrator Muammal said: - He (his grandfather Muawiyah) got up before the Holy Prophet ﷺ who was giving sermon: and he said: Why have your companions arrested my neighbours? He turned away from him twice. He (his grandfather Muawiyah) then mentioned something. The Holy Prophet ﷺ then said: Let his neighbours go. (Muammal did not mention the words He was giving sermon. )

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١٣٨٩) (حسن الإسناد )
3632Sunan Abu Dawood

وکالت کا بیان

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَمِّي، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاق، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ، قَالَ: أَرَدْتُ الْخُرُوجَ إِلَى خَيْبَرَ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، وَقُلْتُ لَهُ: إِنِّي أَرَدْتُ الْخُرُوجَ إِلَى خَيْبَرَ، فَقَالَ: إِذَا أَتَيْتَ وَكِيلِي فَخُذْ مِنْهُ خَمْسَةَ عَشَرَ وَسْقًا، فَإِنِ ابْتَغَى مِنْكَ آيَةً فَضَعْ يَدَكَ عَلَى تَرْقُوَتِهِ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے خیبر کی جانب نکلنے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام کیا پھر میں نے عرض کیا: میں خیبر جانے کا ارادہ رکھتا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم میرے وکیل کے پاس جانا تو اس سے پندرہ وسق کھجور لے لینا اور اگر وہ تم سے کوئی نشانی طلب کرے تو اپنا ہاتھ اس کے گلے پر رکھ دینا ١ ؎۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : I intended to go (on expedition) to Khaybar. So I came to the Holy Prophet ﷺ , greeted him and said: I am intending to go to Khaybar. He said: When you come to my agent, you should take from him fifteen wasqs (of dates). If he asks you for a sign, then place your hand on his collar-bone.

Notes · وضاحت
١ ؎: شاید یہی نشانی آپ ﷺ نے اپنے وکیل کو بتائی ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣١٣١) (ضعیف) (اس کے راوی ابن اسحاق مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں )
3633Sunan Abu Dawood

قضاء کے بعض امور کا بیان

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا تَدَارَأْتُمْ فِي طَرِيقٍ فَاجْعَلُوهُ سَبْعَةَ أَذْرُعٍ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم کسی راستہ کے متعلق جھگڑو تو سات ہاتھ راستہ چھوڑ دو ١ ؎۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: If you dispute over a pathway, leave the margin of seven yards.

Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ راہ چلنے والوں اور جانوروں کے لئے اتنا کافی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأحکام ٢٠ (١٣٥٦)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ١٦ (٢٣٣٨)، (تحفة الأشراف: ١٢٢٢٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المظالم ٢٩ (٢٤٧٣)، صحیح مسلم/المساقاة ٣١ (١٦١٣)، مسند احمد (٢/٤٦٦، ٤٧٤) (صحیح )
3634Sunan Abu Dawood

قضاء کے بعض امور کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَةً فِي جِدَارِهِ فَلَا يَمْنَعُهُ، فَنَكَّسُوا، فَقَالَ: مَا لِي أَرَاكُمْ قَدْ أَعْرَضْتُمْ ؟ لَأُلْقِيَنَّهَا بَيْنَ أَكْتَافِكُمْ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا حَدِيثُ ابْنِ أَبِي خَلَفٍ وَهُوَ أَتَمُّ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے اس کی دیوار میں لکڑی گاڑنے کی اجازت طلب کرے تو وہ اسے نہ روکے یہ سن کر لوگوں نے سر جھکا لیا تو ابوہریرہ ؓ نے کہا: کیا بات ہے جو میں تمہیں اس حدیث سے اعراض کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں، میں تو اسے تمہارے شانوں کے درمیان ڈال ہی کر رہوں گا (یعنی اسے تم سے بیان کر کے ہی چھوڑوں گا) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ابن ابی خلف کی حدیث ہے اور زیادہ کامل ہے۔

Abu Hurairah reported the Holy Prophet ﷺ as saying: When one of you asks permission for inserting a wooden peg in his wall, he should not prevent him. So they (the people) lowered down their heads. Then he (Abu Hurairah) said: What is the matter ? I am seeing you are neglecting (to hear this tradition), I shall spread it among you. Abu Dawud said: This is the tradition of Ibn Abi Khalaf is more perfect.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المظالم ٢٠ (٢٤٦٣)، صحیح مسلم/المساقاة ٢٩ (١٦٠٩)، سنن الترمذی/الأحکام ١٨ (١٣٥٣)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ١٥ (٢٣٣٥)، (تحفة الأشراف: ١٣٩٥٤)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأقضیة ٢٦ (٣٢)، مسند احمد (٢/٢٤٠، ٢٧٤، ٣٩٦، ٤٦٣) (صحیح )
3635Sunan Abu Dawood

قضاء کے بعض امور کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ لُؤْلُؤَةَ، عَنْ أَبِي صِرْمَةَ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: غَيْرُ قُتَيْبَةَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، عَنْ أَبِي صِرْمَةَ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: مَنْ ضَارَّ أَضَرَّ اللَّهُ بِهِ، وَمَنْ شَاقَّ شَاقَّ اللَّهُ عَلَيْهِ.

ابوصرمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی کو تکلیف پہنچائی تو اللہ تعالیٰ اسے تکلیف پہنچائے گا، اور جس نے کسی سے دشمنی کی تو اللہ تعالیٰ اس سے دشمنی کرے گا ۔

Narrated Abu Sirmah (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone harms (others), Allah will harm him, and if anyone shows hostility to others, Allah will show hostility to him.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البر والصلة ٢٧ (١٩٤٠)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ١٧ (٢٣٤٢)، (تحفة الأشراف: ١٢٠٦٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٥٣) (حسن )
3636Sunan Abu Dawood

قضاء کے بعض امور کا بیان

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّيُحَدِّثُ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍأَنَّهُ كَانَتْ لَهُ عَضُدٌ مِنْ نَخْلٍ فِي حَائِطِ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، قَالَ: وَمَعَ الرَّجُلِ أَهْلُهُ، قَالَ: فَكَانَ سَمُرَةُ يَدْخُلُ إِلَى نَخْلِهِ فَيَتَأَذَّى بِهِ وَيَشُقُّ عَلَيْهِ، فَطَلَبَ إِلَيْهِ أَنْ يَبِيعَهُ، فَأَبَى، فَطَلَبَ إِلَيْهِ أَنْ يُنَاقِلَهُ، فَأَبَى، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَطَلَبَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعَهُ، فَأَبَى، فَطَلَبَ إِلَيْهِ أَنْ يُنَاقِلَهُ، فَأَبَى، قَالَ: فَهِبْهُ لَهُ وَلَكَ كَذَا وَكَذَا أَمْرًا رَغَّبَهُ فِيهِ، فَأَبَى، فَقَالَ: أَنْتَ مُضَارٌّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَنْصَارِيِّ: اذْهَبْ فَاقْلَعْ نَخْلَهُ.

سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ ایک انصاری کے باغ میں ان کے کھجور کے کچھ چھوٹے چھوٹے درخت تھے، اور اس شخص کے ساتھ اس کے اہل و عیال بھی رہتے تھے۔ راوی کا بیان ہے کہ سمرہ ؓ جب اپنے درختوں کے لیے جاتے تو انصاری کو تکلیف ہوتی اور ان پر شاق گزرتا اس لیے انصاری نے ان سے اسے فروخت کردینے کا مطالبہ کیا، لیکن انہوں نے انکار کردیا، پھر اس نے ان سے یہ گزارش کی کہ وہ درخت کا تبادلہ کرلیں وہ اس پر بھی راضی نہیں ہوئے تو وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور اس نے آپ سے اس واقعہ کو بیان کیا، تو آپ نے بھی ان سے فرمایا: اسے بیچ ڈالو پھر بھی وہ نہ مانے تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے درخت کے تبادلہ کی پیش کش کی لیکن وہ اپنی بات پر اڑے رہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: پھر تم اسے ہبہ کر دو، اس کے عوض فلاں فلاں چیزیں لے لو بہت رغبت دلائی مگر وہ نہ مانے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم مضار یعنی ایذا دینے والے ہو تب رسول اللہ ﷺ نے انصاری سے فرمایا: جاؤ ان کے درختوں کو اکھیڑ ڈالو ۔

Abu Jafar Muhammad bin Ali reported from Samurah ibn Jundub that he had a row of palm-trees in the garden of a man of the Ansar. The man had his family with him. Samurah used to visit his palm-trees, and the man was annoyed by that and felt it keenly. So he asked him (Samurah) to sell them to him, but he refused. He then asked him to take something else in exchange, but he refused. So he came to the Holy Prophet ﷺ and mentioned it to him. The Holy Prophet ﷺ asked him to sell it to him, but he refused. He asked him to take something else in exchange, but he refused. He then said: Give it to him and you can have such and such, mentioning something with which he tried to please him, but he refused. He then said: You are a nuisance. The Messenger of Allah ﷺ then said to the Ansari: Go and uproot his palm-trees.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤٦٣٣) (ضعیف) (محمد بن علی باقر نے سمرة ؓ کو نہیں پایا ہے )
3637Sunan Abu Dawood

قضاء کے بعض امور کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ: أَنَّ رَجُلًا خَاصَمَ الزُّبَيْرَ فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِهَا، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: سَرِّحْ الْمَاءَ يَمُرُّ، فَأَبَى عَلَيْهِ الزُّبَيْرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ: اسْقِ يَا زُبَيْرُ، ثُمَّ أَرْسِلْ إِلَى جَارِكَ، فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيُّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ ؟، فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: اسْقِ، ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ، فَقَالَ الزُّبَيْرُ: فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَحْسَبُ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي ذَلِكَ: فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ سورة النساء آية 65.

عبداللہ بن زبیر ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے زبیر ؓ سے حرۃ کی نالیوں کے سلسلہ میں جھگڑا کیا جس سے وہ سینچائی کرتے تھے، انصاری نے زبیر ؓ سے کہا: پانی کو بہنے دو، لیکن زبیر ؓ نے اس سے انکار کیا تو رسول اللہ ﷺ نے زبیر ؓ سے فرمایا: تم اپنے کھیت سینچ لو پھر پانی کو اپنے پڑوسی کے لیے چھوڑ دو یہ سن کر انصاری کو غصہ آگیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! یہ آپ کے پھوپھی کے لڑکے ہیں نا؟ تو رسول اللہ ﷺ کے چہرے کا رنگ متغیر ہوگیا اور آپ نے زبیر ؓ سے فرمایا: تم اپنے کھیت سینچ لو اور پانی روک لو یہاں تک کہ کھیت کے مینڈھوں تک بھر جائے ۔ زبیر ؓ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں سمجھتا ہوں یہ آیت فلا وربک لا يؤمنون حتى يحكموك قسم ہے تیرے رب کی وہ اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ آپ کو اپنا فیصل نہ مان لیں (سورة النساء: ٦٥) اسی بابت اتری ہے۔

Narrated Abdullah ibn az-Zubayr: A man disputed with az-Zubayr about streamlets in the lava plain which was irrigated by them. The Ansari said: Release the water and let it run, but az-Zubayr refused. The Holy Prophet ﷺ said to az-Zubayr: Water (your ground), Zubayr, then let the water run to your neighbour. The Ansari then became angry and said: Messenger of Allah! it is because he is your cousin! Thereupon the face of the Messenger of Allah ﷺ changed colour and he said: Water (your ground), then keep back the water till it returns to the embankment. Az-Zubayr said: By Allah! I think this verse came down about that: But no, by thy Lord! they can have no (real) faith, until they make thee judge. . . . .

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المساقاة ٦ (٢٣٦٠)، ٨ (٢٣٦٢)، الصلح ١٢ (٢٧٠٨)، تفسیر سورة النساء ١٢ (٤٥٨٥)، صحیح مسلم/الفضائل ٣٦ (٢٣٥٧)، سنن الترمذی/الأحکام ٢٦ (١٣٦٣)، تفسیر النساء (٣٢٠٧)، سنن النسائی/القضاة ٢٦ (٥٤١٨)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ٢ (١٥)، الرھون ٢٠ (٢٤٨٠)، (تحفة الأشراف: ٥٢٧٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٦٥) (صحیح )
3638Sunan Abu Dawood

قضاء کے بعض امور کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي مَالِكِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، عَنْ أَبِيهِ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ كُبَرَاءَهُمْ يَذْكُرُونَ: أَنَّ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ كَانَ لَهُ سَهْمٌ فِي بَنِي قُرَيْظَةَ، فَخَاصَمَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَهْزُورٍ يَعْنِي السَّيْلَ الَّذِي يَقْتَسِمُونَ مَاءَهُ، فَقَضَى بَيْنَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْمَاءَ إِلَى الْكَعْبَيْنِ لَا يَحْبِسُ الْأَعْلَى عَلَى الْأَسْفَلِ.

ثعلبہ بن ابی مالک قرظی کہتے ہیں انہوں نے اپنے بزرگوں سے بیان کرتے ہوئے سنا کہ قریش کے ایک آدمی نے جو بنو قریظہ کے ساتھ (پانی میں) شریک تھا رسول اللہ ﷺ کے پاس مہزور کے نالے کے متعلق جھگڑا لے کر آیا جس کا پانی سب تقسیم کرلیتے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ کیا کہ جب تک پانی ٹخنوں تک نہ پہنچ جائے اوپر والا نیچے والے کے لیے نہ روکے۔

Narrated Thalabah ibn Abu Malik: Thalabah heard his elders say that a man from the Quraysh had his share with Banu Qurayzah (in water). He brought the dispute to the Messenger of Allah ﷺ about al-Mahzur, a stream whose water they shared together. The Messenger of Allah ﷺ then decided that when water reached the ankles waters should not be held back to flow to the lower.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٥٣٨)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الرہون ٢٠ (٢٤٨١) (صحیح )
3639Sunan Abu Dawood

قضاء کے بعض امور کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَضَى فِي السَّيْلِ الْمَهْزُورِ أَنْ يُمْسَكَ حَتَّى يَبْلُغَ الْكَعْبَيْنِ، ثُمَّ يُرْسِلُ الْأَعْلَى عَلَى الْأَسْفَلِ.

عبداللہ بن عمر و ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مہزور کے نالے کے متعلق یہ فیصلہ کیا کہ پانی اس وقت تک روکا جائے جب تک کہ ٹخنے کے برابر نہ پہنچ جائے، پھر اوپر والا نیچے والے کے لیے چھوڑ دے۔

Amr bin Shuaib on his fathers authority said that his grandfather told that the Messenger of Allah ﷺ decided regarding the stream al-Mahzur that its water should be held back till it reached the ankles, and that the upper waters should then be allowed to flow to the lower.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الرہون ٢٠(٢٤٨٢)، (تحفة الأشراف: ٨٧٣٥) (حسن صحیح )
3640Sunan Abu Dawood

قضاء کے بعض امور کا بیان

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عُثْمَانَ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي طُوَالَةَ، وَعَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: اخْتَصَمَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ فِي حَرِيمِ نَخْلَةٍ فِي حَدِيثِ أَحَدِهِمَا، فَأَمَرَ بِهَا فَذُرِعَتْ، فَوُجِدَتْ سَبْعَةَ أَذْرُعٍ، وَفِي حَدِيثِ الْآخَرِ، فَوُجِدَتْ خَمْسَةَ أَذْرُعٍ، فَقَضَى بِذَلِكَ، قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ: فَأَمَرَ بِجَرِيدَةٍ مِنْ جَرِيدِهَا فَذُرِعَتْ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ دو شخص ایک کھجور کے درخت کی حد کے سلسلے میں جھگڑا لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، ایک روایت میں ہے آپ نے اس کے ناپنے کا حکم دیا جب ناپا گیا تو وہ سات ہاتھ نکلا، اور دوسری روایت میں ہے وہ پانچ ہاتھ نکلا تو آپ نے اسی کا فیصلہ فرما دیا۔ عبدالعزیز کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے اسی درخت کی ایک ٹہنی سے پیمائش کرنے کے لیے کہا تو پیمائش کی گئی۔

Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : Two men brought their dispute about the precincts of a palm-tree to the Messenger of Allah ﷺ . According to a version of this tradition, he ordered to measure and it was measured. It was found seven yards. According to another version, it was found five yards. He made a decision according to that. Abdul Aziz said: He ordered to measure with a branch of its branches. It was then measured.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤٤٠٨) (صحیح )