طلاق کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 8 · 138 hadiths · Page 1 of 7

2175Sunan Abu Dawood

عورت کو مرد کے خلاف برگشتہ کرنا

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْيَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ مِنَّا مَنْ خَبَّبَ امْرَأَةً عَلَى زَوْجِهَا أَوْ عَبْدًا عَلَى سَيِّدِهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی عورت کو اس کے شوہر سے یا غلام کو مالک سے برگشتہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: Anyone who incites a woman against her husband or a slave against his master is not one of us.

Takhrij · تخریج
* تخريج: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٤٨١٧)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری/ عشرة النساء (٩٢١٤)، ویأتی ہذا الحدیث فی الأدب (٥١٧٠)، مسند احمد (٢/٣٩٧) (صحیح )
2176Sunan Abu Dawood

عورت اپنے ہونے والے شوہر سے اسکی پہلی والی بیوی کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَسْتَفْرِغَ صَحْفَتَهَا وَلِتَنْكِحَ، فَإِنَّمَا لَهَا مَا قُدِّرَ لَهَا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عورت اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ اس کا پیالہ خالی کرا لے (یعنی اس کا حصہ خود لے لے) اور خود نکاح کرلے، جو اس کے مقدر میں ہوگا وہ اسے ملے گا ۔

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying “A woman should not ask for the divorce of her sister to make her bowl vacant for her and to marry him. She will have what is decreed for her. ”

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٥٨ (٢١٠٤)، والشروط ٨ (٢٧٢٣)، والنکاح ٤٥ (٥١٤٤)، سنن النسائی/النکاح ٢٠ (٣٢٤٢)، (تحفة الأشراف: ١٣٨١٩)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/النکاح ٤ (١٤٠٨)، سنن الترمذی/الطلاق ١٤ (١١٩٠)، سنن ابن ماجہ/النکاح ١٠ (١٨٦٧)، موطا امام مالک/النکاح ١(١)، مسند احمد (٢/٢٣٨، ٢٧٤، ٣١١، ٣١٨، ٣٩٤) (صحیح )
2177Sunan Abu Dawood

طلاق انتہائی نا پسندیدہ عمل ہے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا مُعَرِّفٌ، عَنْ مُحَارِبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَحَلَّ اللَّهُ شَيْئًا أَبْغَضَ إِلَيْهِ مِنَ الطَّلَاقِ.

محارب کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک حلال چیزوں میں طلاق سے زیادہ ناپسندیدہ کوئی چیز نہیں ۔

Narrated Muharib: The Prophet ﷺ said: Allah did not make anything lawful more abominable to Him than divorce.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٧٤١١، ١٩٢٨١) (ضعیف) (مرسل ہونے کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے )
2178Sunan Abu Dawood

طلاق انتہائی نا پسندیدہ عمل ہے

حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مُعَرِّفِ بْنِ وَاصِلٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَبْغَضُ الْحَلَالِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى الطَّلَاقُ.

عبداللہ بن عمر ؓ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک حلال چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز طلاق ہے ۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ said: Of all the lawful acts the most detestable to Allah is divorce.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطلاق ١ (٢٠١٨)، (تحفة الأشراف: ٧٤١١) (ضعیف) (اس کے راوی کثیر بن عبید لین الحدیث ہیں، اس حدیث کا مرسل ہونا ہی صحیح ہے مرسل کے رواة عدد میں زیادہ اور اوثق ہیں اور مرسل حدیث ضعیف ہوتی ہے )
2179Sunan Abu Dawood

مسنون طریقہ پر طلاق دینے کا بیان

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا، ثُمَّ لِيُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ ثُمَّ تَطْهُرَ، ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ بَعْدَ ذَلِكَ وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ، فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی، تو عمر بن خطاب ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق دریافت کیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے حکم دو کہ وہ اپنی بیوی سے رجوع کرلے، پھر اسے روکے رکھے یہاں تک کہ وہ حیض سے پاک ہوجائے، پھر حیض آجائے، پھر پاک ہوجائے، پھر اس کے بعد اگر چاہے تو رکھے، ورنہ چھونے سے پہلے طلاق دیدے، یہی وہ عدت ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو طلاق دینے کے سلسلے میں حکم دیا ہے ١ ؎۔

Abdullah bin Umar (RA) said that he divorced his wife while she was menstruating during the time of the Messenger of Allah ﷺ . So Umar bin Al Khattab asked the Messenger of Allah ﷺ about this matter. The Messenger of Allah ﷺ said “Order him, he must take her back and keep her back till she is purified, then has another menstrual period and is purified. Thereafter if he desires he may divorce her before having intercourse with her, for that is the period of waiting which Allaah the Glorified has commanded for the divorce of women. ”

Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث کا مطلب یہ ہے کہ حالت حیض میں طلاق سنت کے خلاف ہے، سنت یہ ہے کہ اس طہر میں طلاق دی جائے جس میں ہمبستری نہ کی ہو تاکہ وہ طہر (یا حیض) عدت کے شمار کئے جاسکیں، حیض سمیت تین طہر گزر جائیں تو اس کی عدت پوری ہوجائے گی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر سورة الطلاق (٤٩٠٨)، والطلاق ٢ (٥٢٥٢)، ٣ (٥٢٥٨)، ٤٥ (٥٣٣٣)، والأحکام ١٣ (٧١٦٠)، صحیح مسلم/الطلاق ١ (١٤٧١)، سنن النسائی/الطلاق ١ (٣٤١٩)، ٥ (٣٤٢٩)، ٧٦ (٣٥٨٥)، (تحفة الأشراف: ٨٣٣٦)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطلاق ١ (١١٧٥)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٢ (٢٠١٩)، موطا امام مالک/الطلاق ٢٠(٥٢)، مسند احمد (٢/٤٣، ٥١، ٧٩، ١٢٤)، سنن الدارمی/الطلاق ١ (٢٣٠٨) (صحیح )
2180Sunan Abu Dawood

مسنون طریقہ پر طلاق دینے کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَةً لَهُ وَهِيَ حَائِضٌ تَطْلِيقَةً، بِمَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ.

نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر ؓ نے اپنی ایک عورت کو حالت حیض میں ایک طلاق دے دی، آگے مالک کی حدیث کے ہم معنی روایت ہے۔

The aforesaid tradition has also been transmitted by Nafi through a different chain of narrators. This version says Ibn Umar divorced a wife of his while she was menstruating pronouncing one divorce. He then narrated the rest of the tradition similar to the one narrated by Malik.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطلاق ٤٥ (٥٣٣٢)، صحیح مسلم/الطلاق ١ (١٤٧١)، (تحفة الأشراف: ٨٢٧٧) (صحیح )
2181Sunan Abu Dawood

مسنون طریقہ پر طلاق دینے کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لِيُطَلِّقْهَا إِذَا طَهُرَتْ، أَوْ وَهِيَ حَامِلٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی تو عمر ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے اس کا ذکر کیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے حکم دو کہ وہ رجوع کرلے پھر جب وہ پاک ہوجائے یا حاملہ ہو تو اسے طلاق دے ١ ؎۔

Ibn Umar said that he divorced his wife while she was menstruating. Umar mentioned the matter to the Prophet ﷺ . He (the Prophet) said “Order him, he must take her back and divorce her when she is purified (from menstrual discharge) or she is pregnant. ”

Notes · وضاحت
١ ؎: اگر حاملہ ہوگی تو اس کی عدت وضع حمل سے ختم ہوگی ورنہ تین حیض سے ختم ہوجائے گی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ الطلاق ١ (١٤٧١)، سنن الترمذی/الطلاق ١ (١١٧٦)، سنن النسائی/الطلاق ٣ (٣٤٢٦)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٣ (٢٠٢٣)، (تحفة الأشراف: ٦٧٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٦، ٥٨) (صحیح )
2182Sunan Abu Dawood

مسنون طریقہ پر طلاق دینے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَغَيَّظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا، ثُمَّ لِيُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ فَتَطْهُرَ، ثُمَّ إِنْ شَاءَ طَلَّقَهَا طَاهِرًا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ، فَذَلِكَ الطَّلَاقُ لِلْعِدَّةِ كَمَا أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی، عمر ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا، تو رسول اللہ ﷺ غصہ ہوگئے پھر فرمایا: اسے حکم دو کہ اس سے رجوع کرلے پھر اسے روکے رکھے یہاں تک کہ وہ حیض سے پاک ہوجائے، پھر حائضہ ہو پھر پاک ہوجائے پھر چاہیئے کہ وہ پاکی کی حالت میں اسے چھوئے بغیر طلاق دے، یہی عدت کا طلاق ہے جیسا کہ اللہ نے حکم دیا ہے ۔

Abdullah (bin Umar) said that he divorced his wife while she was menstruating. Umar mentioned the matter to the Messenger of Allah ﷺ . The Messenger of Allah ﷺ became angry and said “Command him, he must take her back and keep her back till she is purified, then has another menstrual period and is purified. Then if he desires he may divorce her during the period of purity before he has intercourse with her. This is the divorce for waiting period as commanded by Allaah, the Exalted.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأحکام ١٣ (٧١٦٠)، (تحفة الأشراف: ٦٩٩٦) (صحیح )
2183Sunan Abu Dawood

مسنون طریقہ پر طلاق دینے کا بیان

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ جُبَيْرٍ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: كَمْ طَلَّقْتَ امْرَأَتَكَ ؟فَقَالَ: وَاحِدَةً.

ابن سیرین کہتے ہیں کہ مجھے یونس بن جبیر نے خبر دی کہ انہوں نے ابن عمر ؓ سے دریافت کیا کہ آپ نے اپنی بیوی کو کتنی طلاق دی؟ تو انہوں نے کہا: ایک۔

Yunus bin Jubair said that he asked Ibn Umar “How many times did you pronounce divorce to your wife? He replied, once. ”

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢١٧٩، (تحفة الأشراف: ٨٥٧٣) (صحیح )
2184Sunan Abu Dawood

مسنون طریقہ پر طلاق دینے کا بیان

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ جُبَيْرٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ: قُلْتُ: رَجُلٌ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، قَالَ: تَعْرِفُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَر طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَأَتَى عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لِيُطَلِّقْهَا فِي قُبُلِ عِدَّتِهَا، قَالَ: قُلْتُ: فَيَعْتَدُّ بِهَا، قَالَ: فَمَهْ، أَرَأَيْتَ إِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَ.

محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ مجھے یونس بن جبیر نے بتایا کہ میں نے عبداللہ بن عمر ؓ سے مسئلہ دریافت کیا، میں نے کہا کہ جس آدمی نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی ہے (تو اس کا کیا حکم ہے؟ ) کہنے لگے کہ تم عبداللہ بن عمر ؓ کو پہچانتے ہو؟ میں نے کہا: ہاں، تو انہوں نے کہا: عبداللہ بن عمر ؓ نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی تو عمر ؓ نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر مسئلہ دریافت کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: اسے حکم دو کہ وہ رجوع کرلے اور عدت کے آغاز میں اسے طلاق دے ۔ میں نے پوچھا: کیا اس طلاق کا شمار ہوگا؟ انہوں نے کہا: تم کیا سمجھتے ہو اگر وہ عاجز ہوجائے یا دیوانہ ہوجائے ١ ؎۔

Yunus bin Jubair said “I asked Abdullah bin Umar (RA) “A man divorced his wife while she was menstruating? He said do you know Abdullah bin Umar (RA) ? He said, yes. Abdullah bin Umar (RA) divorced his wife while she was menstruating. So, Umar came to the Prophet ﷺ and asked him (about this matter). He said Command him to take her back in marriage he may the divorce her in the beginning of the waiting period. I (Ibn Jubair) asked him “Will this divorce be counted? He said “Why not?” If he was helpless and showed his foolishness (that would have been counted).

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جب رجعت سے عاجز ہوجانے یا دیوانہ ہوجانے کی صورت میں بھی وہ طلاق شمار کی جائے گی تو رجعت کے بعد بھی ضرور شمار کی جائے گی اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حیض کی حالت میں دی گئی طلاق واقع ہوجائے گی کیونکہ اگر وہ واقع نہ ہوتی تو آپ ﷺ کا مره فليراجعها کہنا بےمعنی ہوگا، جمہور کا یہی مسلک ہے کہ اگرچہ حیض کی حالت میں طلاق دینا حرام ہے لیکن اس سے طلاق واقع ہوجائے گی اور اس سے رجوع کرنے کا حکم دیا جائے گا لیکن اہل ظاہر کا مذہب ہے کہ طلاق نہیں ہوگی ابن القیم نے زادالمعاد میں اس پر لمبی بحث کی ہے اور ثابت کیا ہے کہ طلاق واقع نہیں ہوگی، کیونکہ ابوداود کی اگلی حدیث کے الفاظ ہیں ولم يرها شيئا۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢١٧٩، (تحفة الأشراف: ٨٥٧٣) (صحیح )
2185Sunan Abu Dawood

مسنون طریقہ پر طلاق دینے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَيْمَنَ مَوْلَى عُرْوَةَ يَسْأَلُ ابْنَ عُمَرَ وَ أَبُو الزُّبَيْرِ يَسْمَعُ، قَالَ: كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ حَائِضًا ؟ قَالَ: طَلَّقَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَرَدَّهَا عَلَيَّ وَلَمْ يَرَهَا شَيْئًا، وَقَالَ: إِذَا طَهُرَتْ فَلْيُطَلِّقْ أَوْ لِيُمْسِكْ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَقَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ فِي قُبُلِ عِدَّتِهِنَّ 0. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ يُونُسُ بْنُ جُبَيْرٍ وَ أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ وَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ وَ زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ وَ أَبُو الزُّبَيْرِ وَ مَنْصُورٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، مَعْنَاهُمْ كُلُّهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ إِنْ شَاءَ طَلَّقَ وَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَ، قالَ أَبُو دَاوُدَ: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَأَمَّا رِوَايَةُ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، وَ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ ثُمَّ تَطْهُرَ ثُمَّ إِنْ شَاءَ طَلَّقَ وَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَ، قالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرُوِيَ عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، نَحْوَ رِوَايَةِ نَافِعٍ وَ الزُّهْرِيِّ، وَالْأَحَادِيثُ كُلُّهَا عَلَى خِلَافِ مَا قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ.

ابن جریج کہتے ہیں کہ ہمیں ابوالزبیر نے خبر دی ہے کہ انہوں نے عروہ کے غلام عبدالرحمٰن بن ایمن کو ابن عمر ؓ سے پوچھتے سنا اور وہ سن رہے تھے کہ آپ اس شخص کے متعلق کیا کہتے ہیں جس نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دیدی ہو؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ عبداللہ بن عمر ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی، تو عمر ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا، اور کہا کہ عبداللہ بن عمر نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی ہے، عبداللہ ؓ کہتے ہیں: تو آپ ﷺ نے اس عورت کو مجھ پر لوٹا دیا اور اس طلاق کو شمار نہیں کیا اور فرمایا: جب وہ پاک ہوجائے تو وہ طلاق دے یا اسے روک لے ، ابن عمر ؓ کہتے ہیں: اور نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی يا أيها النبي إذا طلقتم النساء فطلقوهن اے نبی! جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو تم انہیں ان کی عدت کے شروع میں طلاق دو (سورۃ الطلاق: ١) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو ابن عمر ؓ سے یونس بن جبیر، انس بن سیرین، سعید بن جبیر، زید بن اسلم، ابوالزبیر اور منصور نے ابو وائل کے طریق سے روایت کیا ہے، سب کا مفہوم یہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ وہ رجوع کرلیں یہاں تک کہ وہ پاک ہوجائے پھر اگر چاہیں تو طلاق دیدیں اور چاہیں تو باقی رکھیں ۔ اسی طرح اسے محمد بن عبدالرحمٰن نے سالم سے، اور سالم نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے البتہ زہری کی جو روایت سالم اور نافع کے طریق سے ابن عمر سے مروی ہے، اس میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اس سے رجوع کرلیں یہاں تک کہ وہ پاک ہوجائے، پھر اسے حیض آئے اور پھر پاک ہو، پھر اگر چاہیں تو طلاق دیں اور اگر چاہیں تو رکھے رہیں، اور عطاء خراسانی سے روایت کیا گیا ہے انہوں نے حسن سے انہوں نے ابن عمر سے نافع اور زہری کی طرح روایت کی ہے، اور یہ تمام حدیثیں ابوالزبیر کی بیان کردہ روایت کے مخالف ہیں ١ ؎۔

Abdur Rahman ibn Ayman, the client of Urwah, asked Ibn Umar and Abu al-Zubayr was was listening: What do you think if a man divorces his wife while she is menstruating? He said: Abdullah ibn Umar divorced his wife while she was menstruating during the time of the Messenger of Allah ﷺ . So Umar asked the Messenger of Allah ﷺ saying: Abdullah ibn Umar divorced his wife while she was menstruating. Abdullah said: He returned her to me and did not count it (the pronouncement) anything. He said: When she is purified, he may divorce her or keep her with him. Ibn Umar said: The Prophet ﷺ recited the Quranic verse: O Prophet, when you divorce women, divorce them in the beginning of their waiting period. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by Yunus bin Jubair, Anas bin Sirin bin Jubair, Zaid bin Aslam, Abu al-Zubair and Mansur from Abu Wail on the authority of Ibn Umar. They all agreed on the theme that the Prophet ﷺ commanded him to take her back (and keep her) till she was purified. Then if he desired, he might divorce her or keep her with him if he wanted to do so. The version narrated by al-Zuhri from Salim from Nafi on the authority of Ibn Umar has: The Prophet ﷺ commanded him to take her back (and keep her) till she is purified, and then has menstrual discharge, and then she is purified. Then if he desires, he may divorce her and if he desires he may keep her. Abu Dawud said: A version like that of Nafi and al-Zuhri has also been transmitted by Ata al-Khurasani from al-Hasan on the authority of Ibn Umar. All the versions of this tradition contradict the one narrated by Abu al-Zubair.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کسی کی روایت میں یہ لفظ نہیں ہے کہ ” اور اس طلاق کو شمار نہیں کیا “
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطلاق ١ (١٤٧١)، سنن النسائی/الطلاق ١ (٣٤٢١)، (ولیس عندہما قولہ ” لَمْ یَرَہَا شَیْئاً “ ) (تحفة الأشراف: ٧٤٤٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٦١، ٨٠، ٨١، ١٣٩) (صحیح )
2186Sunan Abu Dawood

تین طلاقوں کے بعد رجعت نہیں ہو سکتی

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ، أَنَّ جَعْفَرَ بْنَ سُلَيْمَانَ حَدَّثَهُمْ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ ثُمَّ يَقَعُ بِهَا وَلَمْ يُشْهِدْ عَلَى طَلَاقِهَا وَلَا عَلَى رَجْعَتِهَا، فَقَالَ: طَلَّقْتَ لِغَيْرِ سُنَّةٍ وَرَاجَعْتَ لِغَيْرِ سُنَّةٍ، أَشْهِدْ عَلَى طَلَاقِهَا وَعَلَى رَجْعَتِهَا، وَلَا تَعُدْ.

مطرف بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عمران بن حصین ؓ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو اپنی بیوی کو طلاق دیدے پھر اس کے ساتھ صحبت بھی کرلے اور اپنی طلاق اور رجعت کے لیے کسی کو گواہ نہ بنائے تو انہوں نے کہا کہ تم نے سنت کے خلاف طلاق دی اور سنت کے خلاف رجعت کی، اپنی طلاق اور رجعت دونوں کے لیے گواہ بناؤ اور پھر اس طرح نہ کرنا۔

Narrated Mutarrif ibn Abdullah (RA) : Imran ibn Husayn was asked about a person who divorces his wife, and then has intercourse with her, but he does not call any witness to her divorce nor to her restoration. He said: You divorced against the sunnah and took her back against the sunnah. Call someone to bear witness to her divorce, and to her return in marriage, and do not repeat it.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطلاق ٥ (٢٠٢٥)، (تحفة الأشراف: ١٠٨٦٠) (صحیح )
2195Sunan Abu Dawood

تین طلاقوں کے بعد رجعت نہیں ہو سکتی

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلاثَةَ قُرُوءٍ وَلا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ سورة البقرة آية 228 الْآيَةَ، وَذَلِكَ أَنَّ الرَّجُلَ كَانَ إِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ، فَهُوَ أَحَقُّ بِرَجْعَتِهَا، وَإِنْ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا فَنُسِخَ ذَلِكَ، وَقَالَ: الطَّلاقُ مَرَّتَانِ سورة البقرة آية 229.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء ولا يحل لهن أن يکتمن ما خلق الله في أرحامهن اور جن عورتوں کو طلاق دے دی گئی ہے وہ تین طہر تک ٹھہری رہیں اور ان کے لیے حلال نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے رحم میں جو پیدا کردیا ہے اسے چھپائیں (سورۃ البقرہ: ٢٢٨) یہ اس وجہ سے کہ جب آدمی اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا تھا تو رجعت کا وہ زیادہ حقدار رہتا تھا گرچہ اس نے تین طلاقیں دے دی ہوں پھر اسے منسوخ کردیا گیا اور ارشاد ہوا الطلاق مرتان یعنی طلاق کا اختیار صرف دو بار ہے۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : Divorced women shall wait concerning themselves for three monthly periods. Nor is it lawful for them to hide what Allah hath created in their wombs. This means that if a man divorced his wife he had the right to take her back in marriage though he had divorced her by three pronouncements. This was then repealed (by a Quranic verse). Divorce is only permissible twice.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطلاق ٥٤ (٣٥٢٩)، ٧٥ (٣٥٨٤)، (تحفة الأشراف: ٦٢٥٣) ویأتی ہذا الحدیث برقم (٢٢٨٢) (حسن صحیح )
2187Sunan Abu Dawood

غلام کی طلاق کا بیان

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ مُعَتِّبٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا حَسَنٍ مَوْلَى بَنِي نَوْفَلٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ اسْتَفْتَى ابْنَ عَبَّاسٍ فِي مَمْلُوكٍ كَانَتْ تَحْتَهُ مَمْلُوكَةٌ فَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَتَيْنِ ثُمَّ عُتِقَا بَعْدَ ذَلِكَ، هَلْ يَصْلُحُ لَهُ أَنْ يَخْطُبَهَا ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَضَى بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

بنی نوفل کے غلام ابوحسن نے ابن عباس ؓ سے اس غلام کے بارے میں فتویٰ پوچھا جس کے نکاح میں کوئی لونڈی تھی تو اس نے اسے دو طلاق دے دی اس کے بعد وہ دونوں آزاد کردیئے گئے، تو کیا غلام کے لیے درست ہے کہ وہ اس لونڈی کو نکاح کا پیغام دے؟ ابن عباس ؓ نے کہا: ہاں رسول اللہ ﷺ نے اسی کا فیصلہ دیا ہے۔

Narrated Umar ibn Mutab (RA) : Abu Hasan, a client of Banu Nawfal asked Ibn Abbas (RA) : A slave had a wife who was a slave-girl. He divorced her by two pronouncements. Afterwards both of them were freed. Is it permissible for him to ask her in marriage again? He said: Yes. This is a decision given by the Messenger of Allah ﷺ .

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطلاق ١٩ (٣٤٥٧)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٣٢ (٢٠٨٢)، (تحفة الأشراف: ٦٥٦١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٢٩، ٣٣٤) (ضعیف )
2188Sunan Abu Dawood

غلام کی طلاق کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا عَلِيٌّ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ بِلَا إِخْبَارٍ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: بَقِيَتْ لَكَ وَاحِدَةٌ، قَضَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ لِمَعْمَرٍ: مَنْ أَبُو الْحَسَنِ هَذَا ؟ لَقَدْ تَحَمَّلَ صَخْرَةً عَظِيمَةً، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو الْحَسَنِ هَذَا رَوَى عَنْهُ الزُّهْرِيُّ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَكَانَ مِنَ الْفُقَهَاءِ، رَوَى الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ أَحَادِيثَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو الْحَسَنِ مَعْرُوفٌ وَلَيْسَ الْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ.

عثمان بن عمر کہتے ہیں کہ ہمیں علی نے خبر دی ہے آگے سابقہ سند سے اسی مفہوم کی روایت مذکور ہے لیکن عنعنہ کے صیغے کے ساتھ ہے نہ کہ أخبرنا کے صیغے کے ساتھ، اس میں ہے کہ ابن عباس ؓ نے کہا: تیرے لیے ایک طلاق باقی رہ گئی ہے، اللہ کے رسول اللہ ﷺ نے اسی کا فیصلہ فرمایا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل کو کہتے سنا کہ عبدالرزاق کہتے ہیں کہ ابن مبارک نے معمر سے پوچھا کہ یہ ابوالحسن کون ہیں؟ انہوں نے ایک بھاری چٹان اٹھا لی ہے؟ ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوالحسن وہی ہیں جن سے زہری نے روایت کی ہے، زہری کہتے ہیں کہ وہ فقہاء میں سے تھے، زہری نے ابوالحسن سے کئی حدیثیں روایت کی ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوالحسن معروف ہیں اور اس حدیث پر عمل نہیں ہے۔

The aforesaid tradition (No. 2182) has also been transmitted by Ali (ibn al-Mubarak) through a different chain of narrators to the same effect. This version adds: Ibn Abbas said: There remained one more pronouncement of divorce for you. The Messenger of Allah ﷺ took the same decision. Abu Dawud said: I heard Ahmad bin Hanbal say: Abd al-Razzaq said that Ibn al-Mubarak said to Mamar: Who is this Abu al-Hasan ? He bore a big rock. Abu Dawud said: Al-Zuhri has narrated (traditions) on the authority of this Abu al-Hasan. Al-Zuhri said: He was lawyer, and al-Zuhri narrated many traditions from Abu al-Hasan. Abu Dawud said: Abu al-Hasan is well known narrator. This tradition is not practiced.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس جملہ سے اس روایت میں جو کچھ ہے اس کا انکار مقصود ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٦٥٦١، ١٨٩٣٤) (ضعیف) (عمر بن معتب کی وجہ سے یہ روایت بھی ضعیف ہے )
2189Sunan Abu Dawood

غلام کی طلاق کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْعُودٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُظَاهِرٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: طَلَاقُ الْأَمَةِ تَطْلِيقَتَانِ، وَقُرْؤُهَا حَيْضَتَانِ. قَالَ أَبُو عَاصِمٍ: حَدَّثَنِي مُظَاهِرٌ، حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَعِدَّتُهَا حَيْضَتَانِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهُوَ حَدِيثٌ مَجْهُولٌ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: الْحَدِيثَانِ جَمِيعًا لَيْسَ الْعَمَلُ عَلَيْهِمَا. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: مُظَاهِرٌ لَيْسَ بِمَعْرُوفٍ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: هَذَا حَدِيثٌ مَجْهُولٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: لونڈی کی طلاق دو ہیں اور اس کے قروء دو حیض ہیں ۔ ابوعاصم کہتے ہیں: مجھ سے مظاہر نے بیان کیا وہ کہتے ہیں: مجھ سے قاسم نے انہوں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اسی کے مثل روایت کیا ہے، لیکن اس میں ہے کہ اس کی عدت دو حیض ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مجہول حدیث ہے۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Prophet ﷺ said: The divorce of a slave-woman consists in saying it twice and her waiting period is two menstrual courses (qur) Abu Asim said: A similar tradition has been narrated to me by Muzahir and al-Qasim on the authority of Aisha (RA) from the Prophet ﷺ , except that he said: And her waiting period (iddah) is two courses. Abu Dawud said: This tradition is obscure.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطلاق ٧ (١١٨٢)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٣٠ (٢٠٨٠)، (تحفة الأشراف: ١٧٥٥٥)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الطلاق ١٧ (٢٣٤٠) (ضعیف )
2190Sunan Abu Dawood

نکاح سے پہلے طلاق دینے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، قَالَا: حَدَّثَنَامَطَرٌ الْوَرَّاقُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا طَلَاقَ إِلَّا فِيمَا تَمْلِكُ، وَلَا عِتْقَ إِلَّا فِيمَا تَمْلِكُ، وَلَا بَيْعَ إِلَّا فِيمَا تَمْلِكُ، زَادَ ابْنُ الصَّبَّاحِ: وَلَا وَفَاءَ نَذْرٍ إِلَّا فِيمَا تَمْلِكُ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: طلاق صرف انہیں میں ہے جو تمہارے نکاح میں ہوں، اور آزادی صرف انہیں میں ہے جو تمہاری ملکیت میں ہوں، اور بیع بھی صرف انہیں چیزوں میں ہے جو تمہاری ملکیت میں ہوں ۔ ابن صباح کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ (تمہارے ذمہ) صرف اسی نذر کا پورا کرنا ہے جس کے تم مالک ہو۔

Amr bin Shuaib on his fathers authority said that his grandfather (Abdullah ibn Amr ibn al-As): The Prophet ﷺ said: There is no divorce except in what you possess; there is no possession, there is no sale transaction till you possess. The narrator Ibn as-Sabbah added: There is no fulfilling a vow till you possess.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٧٣٦، ٨٨٠٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٨٩، ١٩٠)، سنن الترمذی/الطلاق ٦ (١١٨١)، ق ١٧ (٢٠٤٧) (حسن )
2191Sunan Abu Dawood

نکاح سے پہلے طلاق دینے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، زَادَ: مَنْ حَلَفَ عَلَى مَعْصِيَةٍ فَلَا يَمِينَ لَهُ، وَمَنْ حَلَفَ عَلَى قَطِيعَةِ رَحِمٍ فَلَا يَمِينَ لَهُ.

اس سند سے بھی عبداللہ بن عمرو ؓ سے اسی مفہوم کی روایت مروی ہے اس میں اتنا اضافہ ہے: جس نے گناہ کرنے کی قسم کھالی تو اس قسم کا کوئی اعتبار نہیں نیز جس نے رشتہ توڑنے کی قسم کھالی اس کا بھی کوئی اعتبار نہیں ۔

The above tradition has also been transmitted by Amr bin Shuaib through a different chain of narrators to the same effect. This version adds “If anyone swears an oath to do an act of disobedience to GOD, his oath is not valid, and if anyone swears an oath to sever relationship, his oath is not valid (i. e., he must not fulfill it)

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/ الطلاق ١٧ (٢٠٤٧)، (تحفة الأشراف: ٨٧٣٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٨٥) (حسن )
2192Sunan Abu Dawood

نکاح سے پہلے طلاق دینے کا بیان

حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي هَذَا الْخَبَرِ: زَادَ: وَلَا نَذْرَ إِلَّا فِيمَا ابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُ اللَّهِ تَعَالَى ذِكْرُهُ.

اس سند سے بھی عبداللہ بن عمرو ؓ سے یہی روایت آئی ہے اس میں اتنا اضافہ ہے کہ وہی نذر ماننا درست ہے جس کے ذکر سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہو ۔

The above tradition has also been transmitted by Amr bin Shuaib through a different chain of narrators. This version adds The Prophet ﷺ said “There is no vow except in an act which seeks the pleasure of Allah, the Exalted.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: ٨٧٣٦)، ویأتی ہذا الحدیث فی الأیمان برقم: (٣٢٧٣) (حسن )
2193Sunan Abu Dawood

غصہ کی حالت میں طلاق دینا

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ الزُّهْرِيُّ، أَنَّ يَعْقُوبَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَهُمْ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ الْحِمْصِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ الَّذِي كَانَ يَسْكُنُ إِيلِيَا، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ عَدِيِّ بْنِ عَدَيٍّ الْكِنْدِيِّ حَتَّى قَدِمْنَا مَكَّةَ فَبَعَثَنِي إِلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ وَكَانَتْ قَدْ حَفِظَتْ مِنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا طَلَاقَ وَلَا عَتَاقَ فِي غِلَاقٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد: الْغِلَاقُ أَظُنُّهُ فِي الْغَضَبِ.

محمد بن عبید بن ابوصالح (جو ایلیاء میں رہتے تھے) کہتے ہیں کہ میں عدی بن عدی کندی کے ساتھ نکلا یہاں تک کہ میں مکہ آیا تو انہوں نے مجھے صفیہ بنت شیبہ کے پاس بھیجا، اور انہوں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے حدیثیں یاد کر رکھی تھیں، وہ کہتی ہیں: میں نے عائشہ ؓ کو کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: زبردستی کی صورت میں طلاق دینے اور آزاد کرنے کا اعتبار نہیں ہوگا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ غلاق کا مطلب غصہ ہے ١ ؎۔

Muhammad ibn Ubayd ibn Abu Salih who lived in Ayliya said: I went out with Adi ibn Adi al-Kindi till we came to Makkah. He sent me to Safiyyah daughter of Shaybah who remembered a tradition (that she had heard) from Aisha (RA) . She said: I heard Aisha (RA) say: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: There is no divorce or emancipation in case of constraint or duress (ghalaq). Abu Dawud said: I think ghalaq means anger.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس باب کے الفاظ کی روایت تین طرح ہے: على غيظ، على غضب، على غلطٍ اور حدیث میں غلاق،إغلاق جس کے معنی مؤلف نے غضب کے لئے ہیں، حالانکہ کوئی بھی آدمی بغیر غیظ و غضب کے طلاق نہیں دیتا، اس طرح تو کوئی طلاق واقع ہی نہیں ہوگی، اس لئے إغلاق کا معنی ” زبردستی “ لینا بہتر ہے، اور تحقیقی بات یہی ہے کہ زبردستی لی گئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧٨٥٥)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطلاق ١٦ (٢٠٤٦)، مسند احمد (٦/٢٧٦) (حسن) (اس کے راوی محمد بن عبید ضعیف ہیں، لیکن دوسرے رواة کی متابعت و تقویت سے یہ حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو: ا رواء الغلیل: ٢٠٤٧، و صحیح ابی داود: ٦ ؍ ٣٩٦ )