نکاح کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 7 · 130 hadiths · Page 7 of 7

2165Sunan Abu Dawood

حائضہ عورت سے مباشرت کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ الْيَهُودَ كَانَتْ إِذَا حَاضَتْ مِنْهُمُ امْرَأَةٌ أَخْرَجُوهَا مِنَ الْبَيْتِ وَلَمْ يُؤَاكِلُوهَا وَلَمْ يُشَارِبُوهَا وَلَمْ يُجَامِعُوهَا فِي الْبَيْتِ، فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى: وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ سورة البقرة آية 222 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: جَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ وَاصْنَعُوا كُلَّ شَيْءٍ غَيْرَ النِّكَاحِ، فَقَالَتْ الْيَهُودُ: مَا يُرِيدُ هَذَا الرَّجُلُ أَنْ يَدَعَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِنَا إِلَّا خَالَفَنَا فِيهِ، فَجَاءَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ وَ عَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْيَهُودَ تَقُولُ كَذَا وَكَذَا، أَفَلَا نَنْكِحُهُنَّ فِي الْمَحِيضِ ؟ فَتَمَعَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنْ قَدْ وَجَدَ عَلَيْهِمَا، فَخَرَجَا هَدِيَّةٌ مِنْ لَبَنٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمَا، فَظَنَنَّا أَنَّهُ لَمْ يَجِدْ عَلَيْهِمَا.

انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ یہودیوں میں جب کوئی عورت حائضہ ہوجاتی تو اسے گھر سے نکال دیتے نہ اس کے ساتھ کھاتے پیتے اور نہ ہی اسے گھر میں رکھتے، رسول اللہ ﷺ سے اس سلسلہ میں دریافت کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی يسألونک عن المحيض قل هو أذى فاعتزلوا النساء في المحيض لوگ آپ سے حیض کے متعلق سوال کرتے ہیں تو کہہ دیجئیے کہ وہ گندگی ہے لہٰذا تم حیض کی حالت میں عورتوں سے علیحدہ رہو (سورۃ البقرہ: ٢٢٢) ، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: انہیں گھروں میں رکھو اور جماع کے علاوہ ہر کام کرو ، اس پر یہودیوں نے کہا کہ: یہ شخص تو ہمارے ہر کام کی مخالفت کرتا ہے، چناچہ اسید بن حضیر اور عباد بن بشر ؓ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! یہودی ایسا ایسا کہہ رہے ہیں، تو کیا ہم (ان کی مخالفت میں) عورتوں سے حالت حیض میں جماع نہ کرنے لگیں؟ یہ سن کر اللہ کے رسول ﷺ کا چہرہ متغیر ہوگیا، یہاں تک کہ ہمیں اپنے اوپر آپ کی ناراضگی کا گمان ہونے لگا چناچہ دونوں آپ ﷺ کے پاس سے نکل آئے، اسی اثناء میں آپ کے پاس دودھ کا ہدیہ آگیا، تو آپ ﷺ نے انہیں بلوا بھیجا جس سے ہمیں لگا کہ آپ ان سے ناراض نہیں ہیں۔

Anas bin Malik (RA) said Among the Jews when a woman menstruated, they did not eat with her and drink with her and did not associate with her in their houses, so the Messenger of Allah ﷺ was questioned about it. Hence, Allah the Exalted revealed “And they ask you about menstruation, . Say “It is harmful, so keep aloof from women during menstruation till the end of the verse. The Messenger of Allah ﷺ said “Associate with them in the houses and do everything except sexual intercourse. The Jews thereupon said “This man does not leave anything we do without opposing us in it. Usaid bin Hudair and Abbad bin Bishr came to the Messenger of Allah ﷺ and said, Messenger of Allah ﷺ the Jews are saying such and such. Shall we not have intercourse with them during their menstruation? The face of the Messenger of Allah ﷺ underwent such a change that we thought he was angry with them, so they went out. They were met by a gift of milk which was being brought to the Messenger of Allah ﷺ and he sent after them, whereby we felt that he was not angry with them.

Takhrij · تخریج
انظرحدیث رقم (٢٥٨)، ( تحفة الأشراف: ٣٠٨) (صحیح )
2166Sunan Abu Dawood

حائضہ عورت سے مباشرت کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ جَابِرِ بْنِ صُبْحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ خِلَاسًا الْهَجَرِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ: كُنْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيتُ فِي الشِّعَارِ الْوَاحِدِ وَأَنَا حَائِضٌ طَامِثٌ، فَإِنْ أَصَابَهُ مِنِّي شَيْءٌ غَسَلَ مَكَانَهُ وَلَمْ يَعْدُهُ، وَإِنْ أَصَابَ، تَعْنِي ثَوْبَهُ، مِنْهُ شَيْءٌ غَسَلَ مَكَانَهُ وَلَمْ يَعْدُهُ وَصَلَّى فِيهِ.

خلاس بن عمرو ہجری کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ کو کہتے ہوئے سنا: میں اور رسول اللہ ﷺ دونوں ایک ہی کپڑے میں رات گزارتے اور میں حالت حیض میں ہوتی، اگر کہیں آپ ﷺ کو کچھ لگ جاتا تو صرف اس جگہ کو دھو لیتے اس سے آگے نہ بڑھتے، اور کہیں کپڑے میں لگ جاتا تو صرف اتنی ہی جگہ دھو لیتے، اس سے آگے نہ بڑھتے اور اسی کپڑے میں نماز پڑھتے۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : I and the Messenger of Allah ﷺ used to lie in one cloth at night while I was menstruating. If anything from me smeared him, he washed the same place (that was smeared), and did not wash beyond it. If anything from him smeared his clothe, he washed the same place and did not wash beyond that, and prayed with it (i. e. the clothe).

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (٢٦٩)، (تحفة الأشراف: ١٦٠٦٧) (صحیح )
2167Sunan Abu Dawood

حائضہ عورت سے مباشرت کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُبَاشِرَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ وَهِيَ حَائِضٌ، أَمَرَهَا أَنْ تَتَّزِرَ ثُمَّ يُبَاشِرُهَا.

عبداللہ بن شداد اپنی خالہ میمونہ بنت حارث ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی کسی بیوی سے حالت حیض میں مباشرت کرنے کا ارادہ فرماتے تو اسے تہبند باندھنے کا حکم دیتے پھر اس کے ساتھ لیٹ جاتے۔

Maimunah daughter of Al Harith said “When the Messenger of Allah ﷺ intended to associate and lie with any of his wives who was menstruating, he ordered her to wrap up the lower garment (loin-cloth) and then he had association with her.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحیض (٣٠٣)، صحیح مسلم/الحیض ١ (٢٩٤)، ( تحفة الأشراف: ١٨٠٦١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٣٥، ٣٣٦) (صحیح )
2168Sunan Abu Dawood

اگر حالت حیض میں جماع کر بیٹھے تو اس کا کفارہ کیا دے؟

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، وَغَيْرُهُ، عَنْ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْمِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِي يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، قَالَ: يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ أَوْ بِنِصْفِ دِينَارٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اس شخص کے بارے میں جو اپنی بیوی سے حالت حیض میں صحبت کر بیٹھتا ہے فرمایا: وہ ایک یا آدھا دینار (بطور کفارہ) صدقہ ادا کرے ۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ said about a man who has sexual intercourse with a menstruating woman: He should give one or half dinar as sadaqah.

Takhrij · تخریج
انظرحدیث رقم: ٢٦٤، ( تحفة الأشراف: ٦٤٩٠) (صحیح )
2169Sunan Abu Dawood

اگر حالت حیض میں جماع کر بیٹھے تو اس کا کفارہ کیا دے؟

حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ مُطَهَّرٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: إِذَا أَصَابَهَا فِي الدَّمِ فَدِينَارٌ، وَإِذَا أَصَابَهَا فِي انْقِطَاعِ الدَّمِ فَنِصْفُ دِينَارٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ اگر دوران خون صحبت کی تو ایک دینار، اور خون بند ہوجانے پر صحبت کی تو آدھا دینار (کفارہ) ہے۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : If a man has sexual intercourse (with menstruating woman) during her bleeding, he should give one dinar as sadaqah, and if he does so when bleeding has stopped, he should give half a dinar as sadaqah.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (٢٦٥)، ( تحفة الأشراف: ٦٤٩٨) (صحیح )
2170Sunan Abu Dawood

عزل کا بیان

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ قَزَعَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، ذُكِرَ ذَلِكَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْنِي الْعَزْلَ، قَالَ: فَلِمَ يَفْعَلُ أَحَدُكُمْ، وَلَمْ يَقُلْ: فَلَا يَفْعَلْ أَحَدُكُمْ، فَإِنَّهُ لَيْسَتْ مِنْ نَفْسٍ مَخْلُوقَةٍ إِلَّا اللَّهُ خَالِقُهَا. قَالَ أَبُو دَاوُد: قَزَعَةُ مَوْلَى زِيَادٍ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے عزل ١ ؎ کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: تم میں سے کوئی ایسا کیوں کرتا ہے؟ (یہ آپ ﷺ نے نہیں فرمایا کہ وہ ایسا نہ کرے) ، کیونکہ اللہ تعالیٰ جس نفس کو پیدا کرنا چاہتا ہے تو وہ اسے پیدا کر کے ہی رہے گا ٢ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: قزعہ، زیاد کے غلام ہیں۔

Abu Saeed reported “The people mentioned about withdrawing the penis before the Prophet ﷺ . He said “Why one of you does so? He did not say “One of you should not do so”. Every soul that is to be born, Allaah will create it. Abu Dawud said “Qaza’ah is a client of Ziyad”

Notes · وضاحت
١ ؎: عضو تناسل کو عورت کی شرمگاہ سے باہر نکال کر منی گرانے کا نام عزل ہے۔ ٢ ؎: اس سے مطلقاً عزل کی کراہت ثابت ہوتی ہے اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ آزاد عورت سے بغیر اس کے اذن کے مکروہ ہے اور لونڈیوں سے بغیر اذن کے بھی درست ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ والتوحید ١٨ (٧٤٠٩) تعلیقًا، صحیح مسلم/النکاح ٢٢ (١٤٣٨)، سنن الترمذی/النکاح ٤٠ (١١٣٨)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٣٠ (١٩٢٦)، ( تحفة الأشراف: ٤١٤١، ٤٢٨٠)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/النکاح ٥٥ (٣٣٢٩)، موطا امام مالک/الطلاق ٣٤ (٩٥)، مسند احمد (٣/٢٢، ٢٦، ٤٧، ٤٩، ٥١، ٥٣، ٥٩، ٦٨)، سنن الدارمی/النکاح ٣٦ (٢٢٦٩) (صحیح )
2171Sunan Abu Dawood

عزل کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ حَدَّثَهُ، أَنَّ رِفَاعَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ َأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي جَارِيَةً وَأَنَا أَعْزِلُ عَنْهَا، وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ وَأَنَا أُرِيدُ مَا يُرِيدُ الرِّجَالُ، وَإِنَّ الْيَهُودَ تُحَدِّثُ أَنَّ الْعَزْلَ مَوْءُودَةُ الصُّغْرَى، قَالَ: كَذَبَتْ يَهُودُ، لَوْ أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَخْلُقَهُ مَا اسْتَطَعْتَ أَنْ تَصْرِفَهُ.

ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! میری ایک لونڈی ہے جس سے میں عزل کرتا ہوں، کیونکہ اس کا حاملہ ہونا مجھے پسند نہیں اور مرد ہونے کے ناطے مجھے شہوت ہوتی ہے، حالانکہ یہود کہتے ہیں کہ عزل زندہ درگور کرنے کی چھوٹی شکل ہے، یہ سن کر آپ ﷺ نے فرمایا: یہود جھوٹ کہتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ کو پیدا کرنا منظور ہوگا، تو تم اسے پھیر نہیں سکتے ۔

Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : A man said: Messenger of Allah, I have a slave-girl and I withdraw the penis from her (while having intercourse), and I dislike that she becomes pregnant. I intend (by intercourse) what the men intend by it. The Jews say that withdrawing the penis (azl) is burying the living girls on a small scale. He (the Prophet) said: The Jews told a lie. If Allah intends to create it, you cannot turn it away.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٤٠٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٣، ٥١، ٥٣) (صحیح )
2172Sunan Abu Dawood

عزل کا بیان

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَرَأَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْعَزْلِ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ، فَأَصَبْنَا سَبْيًا مِنْ سَبْيِ الْعَرَبِ فَاشْتَهَيْنَا النِّسَاءَ وَاشْتَدَّتْ عَلَيْنَا الْعُزْبَةُ وَأَحْبَبْنَا الْفِدَاءَ فَأَرَدْنَا أَنْ نَعْزِلَ، ثُمَّ قُلْنَا: نَعْزِلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا قَبْلَ أَنْ نَسْأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: مَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا، مَا مِنْ نَسَمَةٍ كَائِنَةٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا وَهِيَ كَائِنَةٌ.

عبداللہ بن محیریز کہتے ہیں کہ مسجد میں داخل ہوا تو میں نے ابو سعید خدری ؓ کو دیکھا اور ان کے پاس بیٹھ گیا، ان سے عزل کے متعلق سوال کیا، تو آپ نے جواب دیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہم راہ غزوہ بنی مصطلق میں نکلے تو ہمیں کچھ عربی لونڈیاں ہاتھ لگیں، ہمیں عورتوں کی خواہش ہوئی اور عورتوں سے الگ رہنا ہم پر گراں گزرنے لگا ہم ان لونڈیوں کو فدیہ میں لینا چاہ رہے تھے اس لیے حمل کے ڈر سے ہم ان سے عزل کرنا چاہ رہے تھے، پھر ہم نے اپنے (جی میں) کہا کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان موجود ہیں تو آپ سے اس بارے میں پوچھنے سے پہلے ہم عزل کریں (تو یہ کیونکر درست ہوگا) چناچہ ہم نے آپ سے اس بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ نہ کرو تو تمہارا کیا نقصان ہے؟ قیامت تک جو جانیں پیدا ہونے والی ہیں وہ تو ہو کر رہیں گی ۔

Muhairiz said “I entered the mosque and saw Abu Saeed Al Khudri. I sat with him and asked about withdrawing the penis (while having intercourse). Abu Saeed said We went out with the Messenger of Allah ﷺ on the expedition to Banu Al Mustaliq and took some Arab women captive and we desired the women for we were suffering from the absence of our wives and we wanted ransom, so we intended to withdraw the penis (while having intercourse with the slave women). But we asked ourselves “can we draw the penis when the Messenger of Allah ﷺ is among us before asking him about it? So we asked him about it. He said “it does not matter if you do not do it, for very soul that is to be born up to the Day of Resurrection will be born. ”

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ١٠٩ (٢٢٢٩)، العتق ١٣ (٢٥٤٢)، المغازی ٣٢ (٤١٣٨)، النکاح ٩٦ (٥٢١٠)، القدیر ٦ (٦٦٠٣)، التوحید ١٨ (٧٤٠٩)، صحیح مسلم/النکاح ٢٢ (١٤٣٨)، ( تحفة الأشراف: ٤١١١)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری/العتق (٥٠٤٤)، مسند احمد (٣/٦٣، ٦٨، ٧٢، ٨٨) (صحیح )
2173Sunan Abu Dawood

عزل کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ لِي جَارِيَةً أَطُوفُ عَلَيْهَا وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ، فَقَالَ: اعْزِلْ عَنْهَا إِنْ شِئْتَ فَإِنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا، قَالَ: فَلَبِثَ الرَّجُلُ، ثُمَّ أَتَاهُ، فَقَالَ: إِنَّ الْجَارِيَةَ قَدْ حَمَلَتْ، قَالَ: قَدْ أَخْبَرْتُكَ أَنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ انصار کا ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا کہ: میری ایک لونڈی ہے جس سے میں صحبت کرتا ہوں اور اس کا حاملہ ہونا مجھے پسند نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: چاہو تو عزل کرلو، جو اس کے مقدر میں ہے وہ تو ہو کر رہے گا ، ایک مدت کے بعد وہ شخص آ کر کہنے لگا، کہ لونڈی حاملہ ہوگئی، آپ ﷺ نے فرمایا کہ: میں نے تو کہا ہی تھا کہ جو اس کے مقدر میں ہے وہ ہو کر رہے گا ۔

Jabir said “A man from the Ansar came to the Messenger of Allah ﷺ and said “I have a slave girl and I have intercourse with her. But I dislike her to conceive. He replied “Withdraw your penis from her if you wish for what is decreed for her will come to her. ” After a time the man came to him and said “The girl has become pregnant”. He said “I told you that what was decreed for her would come to her. ”

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النکاح ٢٢ (١٤٣٩)، (تحفة الأشراف: ٢٧١٩)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٠ (٨٩)، مسند احمد (٣/٣١٢، ٣٨٦) (صحیح )
2174Sunan Abu Dawood

دوسروں کے سامنے جماع کا حال بیان کرنا جائز نہیں

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ. ح وحَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل. ح وحَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، كُلُّهُمْ عَنْ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، حَدَّثَنِي شَيْخٌ مِنْ طُفَاوَةَ، قَالَ: تَثَوَّيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ بِالْمَدِينَةِ، فَلَمْ أَرَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ تَشْمِيرًا وَلَا أَقْوَمَ عَلَى ضَيْفٍ مِنْهُ، فَبَيْنَمَا أَنَا عِنْدَهُ يَوْمًا وَهُوَ عَلَى سَرِيرٍ لَهُ وَمَعَهُ كِيسٌ فِيهِ حَصًى أَوْ نَوًى وَأَسْفَلَ مِنْهُ جَارِيَةٌ لَهُ سَوْدَاءُ وَهُوَ يُسَبِّحُ بِهَا حَتَّى إِذَا أَنْفَدَ مَا فِي الْكِيسِ، أَلْقَاهُ إِلَيْهَا فَجَمَعَتْهُ فَأَعَادَتْهُ فِي الْكِيسِ فَدَفَعَتْهُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَلَا أُحَدِّثُكَ عَنِّي وَعَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: بَيْنَا أَنَا أُوعَكُ فِي الْمَسْجِدِ، إِذْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَقَالَ: مَنْ أَحَسَّ الْفَتَى الدَّوْسِيَّثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هُوَ ذَا يُوعَكُ فِي جَانِبِ الْمَسْجِدِ، فَأَقْبَلَ يَمْشِي حَتَّى انْتَهَى إِلَيَّ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيَّ، فَقَالَ لِي: مَعْرُوفًا، فَنَهَضْتُ فَانْطَلَقَ يَمْشِي حَتَّى أَتَى مَقَامَهُ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِمْ وَمَعَهُ صَفَّانِ مِنْ رِجَالٍ وَصَفٌّ مِنْ نِسَاءٍ، أَوْ صَفَّانِ مِنْ نِسَاءٍ وَصَفٌّ مِنْ رِجَالٍ، فَقَالَ: إِنْ أَنْسَانِي الشَّيْطَانُ شَيْئًا مِنْ صَلَاتِي فَلْيُسَبِّحْ الْقَوْمُ وَلْيُصَفِّقْ النِّسَاءُ، قَالَ: فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَنْسَ مِنْ صَلَاتِهِ شَيْئًا، فَقَالَ: مَجَالِسَكُمْ مَجَالِسَكُمْ، زَادَ مُوسَى هَا هُنَا، ثُمَّ حَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُثُمَّ اتَّفَقُوا، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الرِّجَالِ، فَقَالَ: هَلْ مِنْكُمُ الرَّجُلُ إِذَا أَتَى أَهْلَهُ فَأَغْلَقَ عَلَيْهِ بَابَهُ وَأَلْقَى عَلَيْهِ سِتْرَهُ وَاسْتَتَرَ بِسِتْرِ اللَّهِ ؟قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: ثُمَّ يَجْلِسُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَيَقُولُ: فَعَلْتُ كَذَا فَعَلْتُ كَذَا ؟قَالَ: فَسَكَتُوا، قَالَ: فَأَقْبَلَ عَلَى النِّسَاءِ، فَقَالَ: هَلْ مِنْكُنَّ مَنْ تُحَدِّثُ ؟فَسَكَتْنَ، فَجَثَتْ فَتَاةٌ، قَالَ مُؤَمَّلٌ فِي حَدِيثِهِ: فَتَاةٌ كَعَابٌ عَلَى إِحْدَى رُكْبَتَيْهَا، وَتَطَاوَلَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَرَاهَا وَيَسْمَعَ كَلَامَهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُمْ لَيَتَحَدَّثُونَ وَإِنَّهُنَّ لَيَتَحَدَّثْنَهُ، فَقَالَ: هَلْ تَدْرُونَ مَا مَثَلُ ذَلِكَ ؟فَقَالَ: إِنَّمَا مَثَلُ ذَلِكَ مَثَلُ شَيْطَانَةٍ لَقِيَتْ شَيْطَانًا فِي السِّكَّةِ فَقَضَى مِنْهَا حَاجَتَهُ وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ، أَلَا وَإِنَّ طِيبَ الرِّجَالِ مَا ظَهَرَ رِيحُهُ وَلَمْ يَظْهَرْ لَوْنُهُ، أَلَا إِنَّ طِيبَ النِّسَاءِ مَا ظَهَرَ لَوْنُهُ وَلَمْ يَظْهَرْ رِيحُهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَمِنْ هَا هُنَا حَفِظْتُهُ عَنْ مُؤَمَّلٍ وَ مُوسَى، أَلَا لَا يُفْضِيَنَّ رَجُلٌ إِلَى رَجُلٍ وَلَا امْرَأَةٌ إِلَى امْرَأَةٍ إِلَّا إِلَى وَلَدٍ أَوْ وَالِدٍ، وَذَكَرَ ثَالِثَةً فَأُنْسِيتُهَا، وَهُوَ فِي حَدِيثِ مُسَدَّدٍ، وَلَكِنِّي لَمْ أُتْقِنْهُ كَمَا أُحِبُّ، وقَالَ مُوسَى: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ الطُّفَاوِيِّ.

ابونضرہ کہتے ہیں: مجھ سے قبیلہ طفاوہ کے ایک شیخ نے بیان کیا کہ مدینہ میں میں ایک بار ابوہریرہ ؓ کا مہمان ہوا میں نے صحابہ کرام ؓ میں کسی کو بھی مہمانوں کے معاملے میں ان سے زیادہ چاق و چوبند اور ان کی خاطر مدارات کرنے والا نہیں دیکھا، ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ میں ان کے پاس تھا، وہ اپنے تخت پر بیٹھے تھے ان کے ساتھ ایک تھیلی تھی جس میں کنکریاں یا گٹھلیاں تھیں، نیچے ایک کالی کلوٹی لونڈی تھی، آپ ؓ ان کنکریوں پر تسبیح پڑھ رہے تھے، جب (پڑھتے پڑھتے) تھیلی ختم ہوجاتی تو انہیں لونڈی کی طرف ڈال دیتے، اور وہ انہیں دوبارہ تھیلی میں بھر کردیتی ابوہریرہ ؓ کہنے لگے: کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اپنا ایک واقعہ نہ بتاؤں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور بتائیے، انہوں نے کہا: میں مسجد میں تھا اور بخار میں مبتلا تھا کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے یہاں تک کہ مسجد میں داخل ہوئے اور کہنے لگے: کس نے دوسی جوان (ابوہریرہ) کو دیکھا ہے؟ یہ جملہ آپ نے تین بار فرمایا، تو ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! وہ یہاں مسجد کے کونے میں ہیں، انہیں بخار ہے، چناچہ آپ ﷺ تشریف لائے اور اپنا دست مبارک میرے اوپر رکھا، اور مجھ سے بھلی بات کی تو میں اٹھ گیا، اور آپ چل کر اسی جگہ واپس آگئے، جہاں نماز پڑھاتے تھے، اور لوگوں کی جانب متوجہ ہوئے، آپ ﷺ کے ساتھ دو صف مردوں اور ایک صف عورتوں کی تھی یا دو صف عورتوں کی اور ایک صف مردوں کی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: اگر نماز میں شیطان مجھے کچھ بھلا دے تو مرد سبحان اللہ کہیں، اور عورتیں تالی بجائیں ، رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھائی اور نماز میں کوئی چیز بھولے نہیں اور فرمایا: اپنی جگہوں پر بیٹھے رہو، اپنی جگہوں پر بیٹھے رہو ، پھر آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر امابعد کہا اور پہلے مردوں کی جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا: کیا تم میں کوئی ایسا ہے جو اپنی بیوی کے پاس آ کر، دروازہ بند کرلیتا ہے اور پردہ ڈال لیتا ہے اور اللہ کے پردے میں چھپ جاتا ہے؟ ، لوگوں نے جواب دیا: ہاں، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اس کے بعد وہ لوگوں میں بیٹھتا ہے اور کہتا ہے: میں نے ایسا کیا میں نے ایسا کیا ، یہ سن کر لوگ خاموش رہے، مردوں کے بعد آپ ﷺ عورتوں کی جانب متوجہ ہوئے اور ان سے بھی پوچھا کہ: کیا کوئی تم میں ایسی ہے، جو ایسی باتیں کرتی ہے؟ ، تو وہ بھی خاموش رہیں، لیکن ایک نوجوان عورت اپنے ایک گھٹنے کے بل کھڑی ہو کر اونچی ہوگئی تاکہ آپ ﷺ اسے دیکھ سکیں اور اس کی باتیں سن سکیں، اس نے کہا: اللہ کے رسول! اس قسم کی گفتگو مرد بھی کرتے ہیں اور عورتیں بھی کرتی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: جانتے ہو ایسے شخص کی مثال کیسی ہے؟ ، پھر خود ہی فرمایا: اس کی مثال اس شیطان عورت کی سی ہے جو گلی میں کسی شیطان مرد سے ملے، اور اس سے اپنی خواہش پوری کرے، اور لوگ اسے دیکھ رہے ہوں۔ خبردار! مردوں کی خوشبو وہ ہے جس کی بو ظاہر ہو رنگ ظاہر نہ ہو اور خبردار! عورتوں کی خوشبو وہ ہے جس کا رنگ ظاہر ہو بو ظاہر نہ ہو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے موسیٰ اور مومل کے یہ الفاظ یاد ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: خبردار! کوئی مرد کسی مرد اور کوئی عورت کسی عورت کے ساتھ ایک بستر میں نہ لیٹے مگر اپنے باپ یا بیٹے کے ساتھ لیٹا جاسکتا ہے ۔ راوی کا بیان ہے کہ بیٹے اور باپ کے علاوہ ایک تیسرے آدمی کا بھی ذکر آپ ﷺ نے کیا جو میں بھول گیا وہ مسدد والی روایت میں ہے، لیکن جیسا یاد رہنا چاہیئے وہ مجھے یاد نہیں۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : Abu Nadrah reported: An old man of Tufawah said to me: I was a guest of Abu Hurairah at Madina. I did not find any one of the companions of the Prophet ﷺ more devoted to worship and more hospitable than Abu Hurairah. One day I was with him when he was sitting on his bed. He had a purse which contained pebbles or kernels. A black slave-girl of his was sitting below. Counting them he was glorifying Allah. When the pebbles or the kernels in the purse were finished, she gathered them and put them again in the purse, and gave it to him. He said: Should I not tell you about me and about the Messenger of Allah ﷺ ? I said: Yes. He said: Once when I was laid up with fever in the mosque, the Messenger of Allah ﷺ came and entered the mosque, and said: Who saw the youth of ad-Daws. He said this three times. A man said: Messenger of Allah, there he is, laid up with fever on one side of the mosque. He moved, walking forward till he reached me. He placed his hand on me. He had a kind talk with me, and I rose. He then began to walk till he reached the place where he used to offer his prayer. He paid his attention to the people. There were two rows of men and one row of women, or two rows of women and one row of men (the narrator is doubtful). He then said: If Satan makes me forget anything during the prayer, the men should glorify Allah, and the women should clap their hands. The Messenger of Allah ﷺ then prayed and he did not forget anything during the prayer. He said: Be seated in your places, be seated in your places. The narrator, Musa, added the word here. He then praised Allah and exalted Him, and said: Now to our topic. The agreed version begins: He then said: Is there any man among you who approaches his wife, closes the door, covers himself with a curtain, and he is concealed with the curtain of Allah? They replied: Yes. He said: later he sits and says: I did so-and-so; I did so-and-so. The people kept silence. He then turned to the women and said (to them): Is there any woman among you who narrates it? They kept silence. Then a girl fell on one of her knees. The narrator, Muammil, said in his version: a buxom girl. She raised her head before the Messenger of Allah ﷺ so that he could see her and listen to her. She said: Messenger of Allah, they (the men) describe the secrets (of intercourse) and they (the women) also describe the secrets (of intercourse) to the people. He said: Do you know what the similitude is? He said: The likeness of this act is the likeness of a female Satan who meets the male Satan on the roadside; he fulfils his desire with her while the people are looking at him. Beware! The perfume of men is that whose smell becomes visible and its colour does not appear. Beware! The perfume of women is that whose colour becomes visible and whose smell is not obvious. Abu Dawud said: From here I remembered this tradition from Muammil and Musa: Beware! No man should lie with another man, no woman should lie with another woman except with ones child or father. He also mentioned a third which I have forgotten. This has been mentioned in the version of Musaddad, but I do not remember it as precisely as I like. The narrator, Musa, said: Hammad narrated this tradition from al-Jarir from Abu Nadrah from at-Tufawi.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأدب ٣٦ (٢٧٨٧)، سنن النسائی/الزینة ٣٢ (٥١٢٠، ٥١٢١)، (تحفة الأشراف: ١٥٤٨٦) ویأتی ہذا الحدیث فی الحمام (٤٠١٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٥٤١) (حسن لغیرہ) (اس کا ایک راوی شیخ طفاوة مبہم ہے، لیکن شاہد کی وجہ سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: صحیح الترغیب ٤٠٢٤ )