قسم کھانے اور نذر (منت) ماننے کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 19 · 77 hadiths · Page 1 of 5

3242Sunan Abu Dawood

جھوٹی قسم کھانے کا گناہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ مَصْبُورَةٍ كَاذِبًا، فَلْيَتَبَوَّأْ بِوَجْهِهِ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ.

عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو کسی دباؤ میں آ کر (یا دیدہ و دانستہ) جھوٹی قسم کھالے تو چاہیئے کہ اس کے سبب وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے ١ ؎۔

Narrated Imran ibn Husayn: The Prophet ﷺ said: If anyone swears a false oath in confinement, he should make his seat in Hell on account of his (act).

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی دنیا میں اس کا کوئی کفارہ نہیں آخرت میں اسے یہ سزا دی جائے گی کہ وہ جہنم میں ڈالا جائے گا۔
Takhrij · تخریج
* تخريج: تفرد بہ أبوداود، ١(تحفة الأشراف: ١٠٨٤٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٣٦، ٤٤١) (صحیح )
3243Sunan Abu Dawood

کسی کا مال مارنے کی خاطر (جھوڑی) قسم کھانے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ الْمَعْنَى قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ، لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ، فَقَالَ الْأَشْعَثُ: فِيَّ وَاللَّهِ كَانَ ذَلِكَ، كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ أَرْضٌ، فَجَحَدَنِي، فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَكَ بَيِّنَةٌ ؟، قُلْتُ: لَا، قَالَ لِلْيَهُودِيِّ: احْلِفْ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذًا يَحْلِفُ وَيَذْهَبُ بِمَالِي، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.

عبداللہ (عبداللہ بن مسعود) ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کسی بات پر جھوٹی قسم کھائے تاکہ اس سے کسی مسلمان کا مال ہڑپ لے تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر غضبناک ہوگا ۔ اشعث ؓ کہتے ہیں: قسم اللہ کی آپ ﷺ نے یہ بات میرے ایک مقدمے میں (جو میرے اور ایک یہودی کے درمیان تھا) فرمائی تھی، میرے اور ایک یہودی کے درمیان ایک زمین مشترک تھی، یہودی نے میرے حصہ کا انکار کیا تو میں اس کو لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، آپ ﷺ نے مجھ سے پوچھا: تمہارے پاس گواہ ہیں؟ میں نے کہا: نہیں، تو آپ ﷺ نے یہودی سے کہا: تم قسم کھاؤ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو قسم کھا کر میرا مال ہڑپ کرلے گا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا بیشک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں، ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں (سورۃ آل عمران: ٧٧) آخیر تک نازل فرمائی ١ ؎۔

Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: He who swears an oath in which he tells a lie to take the property of a Muslim by unfair means, will meet Allah while He is angry with him. Al-Ashath said: I swear by Allah, he said this about me. There was some land between me and a Jew, but he denied it to me; so I presented him to the Prophet ﷺ . The Prophet ﷺ asked me: Have you any evidence? I replied: No. He said to the Jew: Take an oath. I said: Messenger of Allah, now he will take an oath and take my property. So Allah, the Exalted, revealed the verse, As for those who sell the faith they owe to Allah and their own plighted word for a small price, they shall have no portion in the hereafter.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مدعی علیہ جب انکار کرے تو مدعی کے ذمہ گواہ پیش کرنا ہوگا ورنہ مدعی علیہ سے قسم لی جائے گی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المساقاة ٤ (٢٣٥٦)، والخصومات ٤ (٢٤١٦)، والرھن ٦ (٢٥١٥)، والشہادات ١٩ (٢٦٦٦)، ٢٠ (٢٦٦٩)، ٢٣ (٢٦٧٣)، ٢٥ (٢٦٧٦)، تفسیر آل عمران ٣ (٤٥٤٩)، الأیمان ١١ (٦٦٥٩)، ١٧ (٦٦٧٦)، الأحکام ٣٠ (٧١٨٣)، التوحید ٢٤ (٧٤٤٥)، صحیح مسلم/الإیمان ٦١ (١٣٨)، سنن الترمذی/البیوع ٤٢ (١٢٦٩)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٨ (٢٣٢٢)، (تحفة الأشراف: ١٥٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٧٧) (صحیح )
3244Sunan Abu Dawood

کسی کا مال مارنے کی خاطر (جھوڑی) قسم کھانے کا بیان

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي كُرْدُوسٌ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ: أَنَّ رَجُلًا مِنْ كِنْدَةَ، وَرَجُلًا مِنْ حَضْرَمَوْتَ، اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَرْضٍ مِنَ الْيَمَنِ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَرْضِي اغْتَصَبَنِيهَا أَبُو هَذَا، وَهِيَ فِي يَدِهِ، قَالَ: هَلْ لَكَ بَيِّنَةٌ ؟، قَالَ: لَا، وَلَكِنْ أُحَلِّفُهُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّهَا أَرْضِي، اغْتَصَبَنِيهَا أَبُوهُ، فَتَهَيَّأَ الْكِنْدِيّ لِلْيَمِينِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَقْتَطِعُ أَحَدٌ مَالًا بِيَمِينٍ، إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ أَجْذَمُ، فَقَالَ الْكِنْدِيُّ: هِيَ أَرْضُهُ.

اشعث بن قیس ؓ کہتے ہیں کہ یمن کی ایک زمین کے سلسلے میں کندہ کے ایک آدمی اور حضرموت کے ایک آدمی نے جھگڑا کیا اور دونوں اپنا مقدمہ نبی اکرم ﷺ کے پاس لے گئے، حضرمی نے کہا: اللہ کے رسول! میری زمین کو اس شخص کے باپ نے مجھ سے چھین لی تھی اور اب وہ زمین اس شخص کے قبضہ میں ہے، آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: تمہارے پاس بیّنہ (ثبوت اور دلیل) ہے؟ اس نے کہا: نہیں، لیکن میں اسے قسم دلانا چاہوں گا، اور اللہ کو خوب معلوم ہے کہ یہ میری زمین ہے جسے اس کے باپ نے مجھ سے غصب کرلی تھی، (یہ سن کر) کندی قسم کھانے کے لیے تیار ہوگیا، تو رسول اللہ ﷺ نے (اس وقت) فرمایا: جو شخص کسی کا مال قسم کھا کر ہڑپ کرلے گا تو قیامت کے دن وہ اللہ سے کوڑھی ہو کر ملے گا (یہ سنا تو) کندی نے کہا: یہ اسی کی زمین ہے۔

Narrated Al-Ashath ibn Qays: A man of Kindah and a man of Hadramawt brought their dispute to the Prophet ﷺ about a land in the Yemen. Al-Hadrami said: Messenger of Allah, the father of this (man) usurped my land and it is in his possession. The Prophet asked: Have you any evidence? Al-Hadrami replied: No, but I make him swear (that he should say) that he does not know that it is my land which his father usurped from me. Al-Kindi became ready to take the oath. The Messenger of Allah ﷺ said: If anyone usurps the property by taking an oath, he will meet Allah while his hand is mutilated. Al-Kindi then said: It is his land.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الکبری ٤٧ (٦٠٠٢)، سنن ابن ماجہ/الجھاد ٢٩ (٢٨٣٥)، (تحفة الأشراف: ١٥٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢١١، ٢١٢) ویأتی ہذا الحدیث فی الأقضیة (٣٦٢٢) (صحیح )
3245Sunan Abu Dawood

کسی کا مال مارنے کی خاطر (جھوڑی) قسم کھانے کا بیان

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ، وَرَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا غَلَبَنِي عَلَى أَرْضٍ كَانَتْ لِأَبِي، فَقَالَ الْكِنْدِيُّ: هِيَ أَرْضِي فِي يَدِي أَزْرَعُهَا، لَيْسَ لَهُ فِيهَا حَقٌّ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَضْرَمِيِّ: أَلَكَ بَيِّنَةٌ ؟، قَالَ: لَا، قَالَ: فَلَكَ يَمِينُهُ ؟، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ فَاجِرٌ لَا يُبَالِي مَا حَلَفَ عَلَيْهِ، لَيْسَ يَتَوَرَّعُ مِنْ شَيْءٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ لَكَ مِنْهُ إِلَّا ذَاكَ، فَانْطَلَقَ لِيَحْلِفَ لَهُ، فَلَمَّا أَدْبَرَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَا لَئِنْ حَلَفَ عَلَى مَالٍ لِيَأْكُلَهُ ظَالِمًا، لَيَلْقَيَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ عَنْهُ مُعْرِضٌ.

وائل بن حجر حضرمی ؓ کہتے ہیں کہ حضر موت کا ایک شخص اور کندہ کا ایک شخص دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، حضرمی نے کہا: اللہ کے رسول! اس شخص نے میرے والد کی ایک زمین مجھ سے چھین لی ہے، کندی نے کہا: واہ یہ میری زمین ہے، میرے قبضے میں ہے میں خود اس میں کھیتی کرتا ہوں اس میں اس کا کوئی حق نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم ﷺ نے حضرمی سے پوچھا: کیا تمہارے پاس گواہ ہیں؟ اس نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: پھر تو تمہارے لیے اس کی جانب سے قسم ہے (جیسی وہ قسم کھالے اسی کے مطابق فیصلہ ہوجائے گا) ، حضرمی نے کہا: اللہ کے رسول: وہ تو فاجر ہے کسی بھی قسم کی پرواہ نہیں کرتا، کسی بھی چیز سے نہیں ڈرتا، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: (وہ کچھ بھی ہو) تمہارے لیے تو بس اس سے اتنا ہی حق ہے (یعنی تم اس سے بس قسم کھلا سکتے ہو) پھر وہ قسم کھانے چلا، تو اس کے مڑتے ہی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دیکھو اگر کسی کا مال ہڑپ کرنے کے لیے اس نے جھوٹی قسم کھالی تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس سے منہ پھیرے ہوگا ١ ؎۔

Narrated Alqamah bin Wail bin Hujr al-Hadrami (RA) : On the Authority of his father: A man from Hadramawt and a man of Kindah came to the Messenger of Allah ﷺ . Al-Hadrami said: Messenger of Allah, this (man) took away forcibly from me the land which belongs to my father. Al-Kindi said: It is my land in my possession, and I cultivate it, he has no right to it. The Prophet ﷺ then said to al-Hadrami (RA) : Have you any proof ? He said: No. He then said: So for you is his oath. He said: Messenger of Allah, he is liar, he does not care for which he is taking the oath. He does not refrain himself from anything. The Prophet ﷺ said: You will have nothing from him except that. He went to take an oath for him. When he turned his back, the Messenger of Allah ﷺ said: If he takes an oath on the property to take it away by unfair means, he will meet Allah while He is unmindful of him.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کی طرف التفات نہیں فرمائے گا، بندے کے لئے اس سے بڑھ کر کیا عذاب ہوگا کہ اس کا مالک اس کی طرف متوجہ نہ ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٦١ (١٣٩)، سنن الترمذی/الأحکام ١٢ (١٣٤٠)، (تحفة الأشراف: ١١٧٦٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣١٧) ویأتی ہذا الحدیث فی القضا (٣٦٢٣) (صحیح )
3246Sunan Abu Dawood

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منبر کے سامنے جھوٹی قسم کھانا گناہ عظیم ہے

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نِسْطَاسٍ مِنْ آلِ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَحْلِفُ أَحَدٌ عِنْدَ مِنْبَرِي هَذَا عَلَى يَمِينٍ آثِمَةٍ، وَلَوْ عَلَى سِوَاكٍ أَخْضَرَ، إِلَّا تَبَوَّأَ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ، أَوْ وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص میرے منبر کے پاس جھوٹی قسم کھائے گا اگرچہ ایک تازی مسواک کے لیے کھائے تو سمجھ لو اس نے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لیا یا یہ کہا: جہنم اس پر واجب ہوگئی ١ ؎۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ said: One should not take a false oath at this pulpit of mine even on a green tooth-stick; otherwise he will make his abode in Hell, or Hell will be certain for him.

Notes · وضاحت
١ ؎: گو جھوٹی قسم کھانا بروقت اور ہر جگہ گناہ ہے، پر مقدس جگہوں اور مقدس وقتوں میں ان کی سنگینی اور بڑھ جاتی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأحکام ٩ (٢٣٢٥)، (تحفة الأشراف: ٢٣٧٦)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأقضیة ٨ (١٠)، مسند احمد (٣/٣٤٤) (صحیح )
3247Sunan Abu Dawood

غیر اللہ کی قسم کھانے کا بیان

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَلَفَ، فَقَالَ فِي حَلْفِهِ: وَاللَّاتِ، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ: تَعَالَ أُقَامِرْكَ، فَلْيَتَصَدَّقْ بِشَيْءٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی قسم کھائے اور اپنی قسم میں یوں کہے کہ میں لات کی قسم کھاتا ہوں تو چاہیئے کہ وہ لا إله إلا الله کہے، اور جو کوئی اپنے دوست سے کہے کہ آؤ ہم تم جوا کھیلیں تو اس کو چاہیئے کہ کچھ نہ کچھ صدقہ کرے (تاکہ شرک اور کلمہ شرک کا کفارہ ہوجائے) ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyone swears on oath is the course which he says: By al-Lat he should say: There is no god but Allah, and that if anyone says to his friend: Come and let me play for money with you, he should give something in charity (sadaqah).

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر سورة النجم ٢ (٤٨٦٠)، الأدب ٧٤ (٦١٠٧)، الاستئذان ٥٢ (٦٣٠١)، الأیمان ٥ (٦٦٥٠)، صحیح مسلم/الأیمان ٢ (١٦٤٨)، سنن الترمذی/الأیمان ١٧ (١٥٤٥)، سنن النسائی/الأیمان ١٠ (٣٨٠٦)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ٢ (٢٠٩٦)، (تحفة الأشراف: ١٢٢٧٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٠٩) (صحیح )
3248Sunan Abu Dawood

غیر اللہ کی قسم کھانے کا بیان

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ، وَلَا بِأُمَّهَاتِكُمْ، وَلَا بِالْأَنْدَادِ، وَلَا تَحْلِفُوا إِلَّا بِاللَّهِ، وَلَا تَحْلِفُوا بِاللَّهِ إِلَّا وَأَنْتُمْ صَادِقُونَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے باپ دادا کی قسم نہ کھاؤ، نہ اپنی ماؤں کی قسم کھانا، اور نہ ان کی قسم کھانا جنہیں لوگ اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں، تم صرف اللہ کی قسم کھانا، اور اللہ کی بھی قسم اسی وقت کھاؤ جب تم سچے ہو ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: Do not swear by your fathers, or by your mothers, or by rivals to Allah; and swear by Allah only, and swear by Allah only when you are speaking the truth.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الأیمان ٥ (٣٨٠٠)، (تحفة الأشراف: ١٤٤٨٣) (صحیح )
3249Sunan Abu Dawood

باپ داداکی قسم کھانے کی ممانعت

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَدْرَكَهُ وَهُوَ فِي رَكْبٍ، وَهُوَ يَحْلِفُ بِأَبِيهِ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ، فَمَنْ كَانَ حَالِفًا، فَلْيَحْلِفْ بِاللَّهِ أَوْ لِيَسْكُتْ.

عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اس حال میں پایا کہ وہ ایک قافلہ میں تھے اور اپنے باپ کی قسم کھا رہے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے باپ دادا کی قسم کھانے سے روکتا ہے اگر کسی کو قسم کھانی ہی ہے تو اللہ کی قسم کھائے ورنہ خاموش رہے ۔

Narrated Ibn Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ found Umar al-Khattab in a caravan while he was swearing by his father. So he said: Allah forbids you to swear by forefathers. If anyone swears, he must swear by Allah or keep silence.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأیمان ١ (١٦٤٦)، (تحفة الأشراف: ١٠٥٥٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأدب ٧٤ (٦١٠٧)، الأیمان ٤ (٦٦٤٧)، سنن الترمذی/الأیمان ٨ (١٥٣٣)، سنن النسائی/الأیمان ٤ (٣٣٩٩)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ٢ (٢٠٩٤)، موطا امام مالک/النذور ٩ (١٤)، مسند احمد (٢/١١، ٣٤، ٦٩، ٨٧، ١٢٥، ١٤٢) (صحیح )
3250Sunan Abu Dawood

باپ داداکی قسم کھانے کی ممانعت

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ مَعْنَاهُ إِلَى بِآبَائِكُمْ زَادَ، قَالَ عُمَرُ: فَوَاللَّهِ مَا حَلَفْتُ بِهَذَا ذَاكِرًا وَلَا آثِرًا.

عمر ؓ کہتے ہیں کہ مجھے رسول ﷺ نے (غیر اللہ کی قسم کھاتے ہوئے) سنا، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث:بآبائكم تک بیان کی، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ عمر ؓ نے کہا: قسم اللہ کی پھر میں نے نہ جان بوجھ کر اس کی قسم کھائی، اور نہ ہی کسی کی بات نقل کرتے ہوئے۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn Umar through a different chain of narrators to the same effect up to the words by your fathers. This version adds: Umar said: I swear by Allah, I never swore by it personally or reporting it from others.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ الإیمان ٤ (٦٦٤٧)، صحیح مسلم/ الأیمان ١ (١٦٤٦)، سنن النسائی/ الأیمان ٤ (٣٧٩٨، ٣٧٩٩)، سنن ابن ماجہ/ الکفارات ٢ (٢٠٩٤)، (تحفة الأشراف: ١٠٥١٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٨، ٣٦) (صحیح )
3251Sunan Abu Dawood

باپ داداکی قسم کھانے کی ممانعت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، قَالَ: سَمِعَابْنُ عُمَرَ رَجُلًا يَحْلِفُ لَا وَالْكَعْبَةِ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللَّهِ فَقَدْ أَشْرَكَ.

سعد بن عبیدہ کہتے ہیں عبداللہ بن عمر ؓ نے ایک شخص کو کعبہ کی قسم کھاتے ہوئے سنا تو ابن عمر ؓ نے اس سے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جس نے اللہ کے سوا کسی اور کے نام کی قسم کھائی تو اس نے شرک کیا ۔

Saeed ibn Ubaydah said: Ibn Umar heard a man swearing: No, I swear by the Kabah. Ibn Umar said to him: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: He who swears by anyone but Allah is polytheist.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأیمان ٨ (١٥٣٥)، (تحفة الأشراف: ٧٠٤٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٤، ٥٨، ٦٠، ٦٩، ٨٦، ١٢٥) (صحیح )
3252Sunan Abu Dawood

باپ داداکی قسم کھانے کی ممانعت

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ نَافِعِ بْنِ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ يَعْنِي فِي حَدِيثِ قِصَّةِ الْأَعْرَابِيِّ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفْلَحَ وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ.

مالک بن ابی عامر کہتے ہیں کہ طلحہ بن عبیداللہ ؓ نے سنا (یعنی اعرابی کے واقعہ میں) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قسم ہے اس کے باپ کی، وہ کامیاب ہوگیا اگر وہ سچا ہے، قسم ہے اس کے باپ کی وہ جنت میں داخل ہوگیا اگر وہ سچا ہے ۔

Referring to the story of a bedouin, Talhah bin Ubaid Allah reported the Prophet ﷺ as saying: He became successful, by his father, if he speaks the truth, he will enter paradise, by his father, if he speaks truth.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٣٤ (٤٦)، والصوم ١ (١٨٩١)، والشھادات ٢٦ (٢٦٧٨)، والحیل ٣ (٦٩٥٦)، صحیح مسلم/الإیمان ٢، (١١)، سنن النسائی/الصلاة ٤ (٤٥٩)، الصوم ١ (٢٠٩٢)، (تحفة الأشراف: ٥٠٠٩)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصر الصلاة ٢٥ (٩٤) (وهو قطعة من حديث تقدم في أول الصلاة برقم (391) وليس فيه ” وأبيه “ (اس حدیث میں یہ ٹکڑا ” أفلح وأبيه إن صدق “ شاذ ہے )
3253Sunan Abu Dawood(3254)

لفظ امانت پر قسم کھانے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ ثَعْلَبَةَ الطَّائِيُّ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَلَفَ بِالْأَمَانَةِ، فَلَيْسَ مِنَّا. حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ الشَّامِيُّ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي الصَّائِغَ، عَنْ عَطَاءٍ فِي اللَّغْوِ فِي الْيَمِينِ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: هُوَ كَلَامُ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ، كَلَّا وَاللَّهِ، وَبَلَى وَاللَّهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: كَانَ إِبْرَاهِيمُ الصَّائِغُ رَجُلًا صَالِحًا، قَتَلَهُ أَبُو مُسْلِمٍ بِعَرَنْدَسَ، قَالَ: وَكَانَ إِذَا رَفَعَ الْمِطْرَقَةَ فَسَمِعَ النِّدَاءَ سَيَّبَهَا، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ، عَنِ إِبْرَاهِيمَ الصَّائِغِ، مَوْقُوفًا عَلَى عَائِشَةَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، وَمَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، وَكُلُّهُمْ عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ مَوْقُوفًا.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو امانت کی قسم کھائے وہ ہم میں سے نہیں ١ ؎۔

Narrated Buraydah ibn al-Hasib: The Prophet ﷺ said: He who swears by Amanah (faithfulness) is not one of our number. Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said about the futile oath: It is mans speech in his house: No, by Allah, and Yes, by Allah. Abu Dawud said: Ibrahim al-Saigh, the narrator of this tradition, was a pious man. Abu Muslim killed him at Aranda. When he raised a hammed and heard the call to prayer, he gave it up. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Dawud bin Abi al-Furat from Ibrahim al-Saigh as a statement of Aisha (RA) (not attributed to the Prophet). Similarly, it has been transmitted by al-Zuhri, Abd al-Malik bin Abi Sulaiman and Malik bin Mughul. All of them transmitted it from Ata on the authority of Aisha (RA) on her own statement.

Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ قسم اللہ کے اسماء وصفات کی کھانی چاہیے، اور امانت اس کے اسماء وصفات میں سے نہیں ہے بلکہ اس کے اوامر میں سے ایک امر ہے، اس لیے امانت کی قسم کھانا جائز کام ہوگا، اور اس میں کفارہ نہ ہوگا، امام ابوحنیفہ کے نزدیک امانت کی قسم صحیح ہے، اور اس میں کفارہ واجب ہوگا، کیونکہ امین اللہ کا نام ہے۔ عطاء سے یمین لغو کے بارے میں روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یمین لغو یہ ہے کہ آدمی اپنے گھر میں (تکیہ کلام کے طور پر) كلا والله وبلى والله (ہرگز نہیں قسم اللہ کی، ہاں قسم اللہ کی) کہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابراہیم صائغ ایک نیک آدمی تھے، ابومسلم نے عرندس میں انہیں قتل کردیا تھا، ابراہیم صائغ کا حال یہ تھا کہ اگر وہ ہتھوڑا اوپر اٹھائے ہوتے اور اذان کی آواز آجاتی تو (مارنے سے پہلے) اسے چھوڑ دیتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو داود بن ابوالفرات نے ابراہیم صائغ سے ام المؤمنین عائشہ ؓ پر موقوفاً روایت کیا ہے اور اسے اسی طرح زہری، عبدالملک بن ابی سلیمان اور مالک بن مغول نے روایت کیا ہے اور ان سب نے عطاء سے انہوں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے موقوفاً روایت کیا ہے۔ ١ ؎: یمین لغو ایسے قسمیہ الفاظ کو کہا جاتا ہے جو دوران گفتگو لوگوں کی زبان سے بلا قصد و ارادہ جاری ہوجاتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٢٠٠٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٥٢) (صحیح ) تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧٣٧٥) (صحیح )
3255Sunan Abu Dawood

قسم کھانے میں اپنا بچاؤ کرلینا فائدہ نہیں بخشتا

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَمِينُكَ عَلَى مَا يُصَدِّقُكَ عَلَيْهَا صَاحِبُكَ. قَالَ مُسَدَّدٌ: قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هُمَا وَاحِدٌ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، وَعَبَّادُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہاری قسم کا اعتبار اسی چیز پر ہوگا جس پر تمہارا ساتھی تمہاری تصدیق کرے ۔ مسدد کی روایت میں: أخبرني عبد الله بن أبي صالح ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عباد بن ابی صالح اور عبداللہ بن ابی صالح دونوں ایک ہی ہیں۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: Your oath should be about something regarding which your companion will believe you. Musaddad said: Abdullah bin Abi Salih narrated to me. Abu Dawud said: Both of them refer to the same person: Abbad bin Abu Salih and Abdullah bin Abi Salih.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأیمان ٤ (١٦٥٣)، سنن الترمذی/الأحکام ١٩ (١٣٥٤)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ١٤ (٢١٢٠)، (تحفة الأشراف: ١٢٨٢٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٢٨)، سنن الدارمی/النذور ١١ (٢٣٩٤) (صحیح )
3256Sunan Abu Dawood

قسم کھانے میں اپنا بچاؤ کرلینا فائدہ نہیں بخشتا

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ جَدَّتِهِ، عَنْ أَبِيهَا سُوَيْدِ بْنِ حَنْظَلَةَ، قَالَ: خَرَجْنَا نُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَنَا وَائِلُ بْنُ حُجْرٍ، فَأَخَذَهُ عَدُوٌّ لَهُ، فَتَحَرَّجَ الْقَوْمُ أَنْ يَحْلِفُوا، وَحَلَفْتُ أَنَّهُ أَخِي، فَخَلَّى سَبِيلَهُ، فَأَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّ الْقَوْمَ تَحَرَّجُوا أَنْ يَحْلِفُوا، وَحَلَفْتُ أَنَّهُ أَخِي، قَالَ: صَدَقْتَ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ.

سوید بن حنظلہ ؓ کہتے ہیں ہم نکلے، رسول اللہ ﷺ کے پاس جانے کا ارادہ کر رہے تھے، اور ہمارے ساتھ وائل بن حجر ؓ بھی تھے، انہیں ان کے ایک دشمن نے پکڑ لیا تو اور ساتھیوں نے انہیں جھوٹی قسم کھا کر چھڑا لینے کو برا سمجھا (لیکن) میں نے قسم کھالی کہ وہ میرا بھائی ہے تو اس نے انہیں آنے دیا، پھر جب ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو میں نے آپ ﷺ کو بتایا کہ اور لوگوں نے تو قسم کھانے میں حرج و قباحت سمجھی، اور میں نے قسم کھالی کہ یہ میرے بھائی ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے سچ کہا، ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے ۔

Narrated Suwayd ibn Hanzalah (RA) : We went out intending (to visit) the Messenger of Allah ﷺ and Wail ibn Hujr was with us. His enemy caught him. The people desisted from swearing an oath, but I took an oath that he was my brother. So he left him. We then came to the Messenger of Allah ﷺ , and I informed him that the people desisted from taking the oath, but I swore that he was my brother. He said: You spoke the truth: A Muslim is a brother of a Muslim.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الکفارات ١٤ (٢١١٩)، (تحفة الأشراف: ٤٨٠٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٧٩) (صحیح )
3257Sunan Abu Dawood

اسلام کے سوا کسی اور ملت میں ہوجا نے کی قسم کھانا

حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو قِلَابَةَ، أَنَّ ثَابِتَ بْنَ الضَّحَّاكِ، أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ غَيْرِ مِلَّةِ الْإِسْلَامِ كَاذِبًا فَهُوَ كَمَا قَالَ، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ عُذِّبَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَيْسَ عَلَى رَجُلٍ نَذْرٌ فِيمَا لَا يَمْلِكُهُ.

ثابت بن ضحاک ؓ نے خبر دی کہ انہوں نے درخت کے نیچے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی ١ ؎، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص ملت اسلام کے سوا کسی اور ملت میں ہونے کی جھوٹی قسم کھائے تو وہ ویسے ہی ہوجائے گا جیسا اس نے کہا ہے، اور جو شخص اپنے آپ کو کسی چیز سے ہلاک کر ڈالے (یعنی خودکشی کرلے) تو قیامت میں اس کو اسی چیز سے عذاب دیا جائے گا، اور اس آدمی کی نذر نہیں مانی جائے گی جو کسی ایسی چیز کی نذر مانے جو اس کے اختیار میں نہ ہو ٢ ؎۔

Narrated Thabit bin Adh-Dahhak (RA) : That he took oath of allegiance to the Messenger of Allah ﷺ under the tree. The Messenger of Allah ﷺ said: If anyone swears by religion other than Islam falsely, he is like what has has said. If anyone kills himself with something, he will be punished with it on the Day of Resurrection. A vow over which a man has no control is not binding on him.

Notes · وضاحت
١ ؎: بیعت سے مراد بیعت رضوان ہے، جو صلح حدیببہ کے موقع پر لی گئی۔ ٢ ؎: مثلا یوں کہتے ہیں کہ اگر میں یہ کروں تو یہودی ہوجاؤں، مثلاً دوسرے کے غلام یا لونڈی کو آزاد کرنے کی نذر مانے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٨٣ (١٣٦٣)، الأدب ٤٤ (٦٠٤٧)، ٧٣ (٦١٠٥)، الایمان ٧ (٦٦٥٢)، صحیح مسلم/الإیمان ٤٧ (١١٠)، سنن الترمذی/الأیمان ١٥ (١٥٤٣)، سنن النسائی/الأیمان ٦ (٣٨٠١)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ٣ (٢٠٩٨)، (تحفة الأشراف: ٢٠٦٢، ٢٠٦٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٣، ٣٤) (صحیح )
3258Sunan Abu Dawood

اسلام کے سوا کسی اور ملت میں ہوجا نے کی قسم کھانا

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَلَفَ، فَقَالَ: إِنِّي بَرِيءٌ مِنَ الْإِسْلَامِ، فَإِنْ كَانَ كَاذِبًا، فَهُوَ كَمَا قَالَ، وَإِنْ كَانَ صَادِقًا، فَلَنْ يَرْجِعَ إِلَى الْإِسْلَامِ سَالِمًا.

بریدہ ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص قسم کھائے اور کہے میں اسلام سے بری ہوں (اگر میں نے فلاں کام کیا) اب اگر وہ جھوٹا ہے تو اس نے جیسا ہونے کو کہا ہے ویسا ہی ہوجائے گا، اور اگر سچا ہے تو بھی وہ اسلام میں سلامتی سے ہرگز واپس نہ آسکے گا ۔

Narrated Buraydah ibn al-Hasib: The Prophet ﷺ said: If anyone takes an oath and says: I am free from Islam; now if he is a liar (in his oath), he will not return to Islam with soundness.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الأیمان ٧ (٣٨٠٣)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ٣ (٢١٠٠)، (تحفة الأشراف: ١٩٥٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٥٥، ٣٥٦) (صحیح )
3259Sunan Abu Dawood

جو شخص سالن نہ کھانے کی قسم کھالے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْعَلَاءِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَ تَمْرَةً عَلَى كِسْرَةٍ، فَقَالَ: هَذِهِ إِدَامُ هَذِهِ.

یوسف بن عبداللہ بن سلام کہتے ہیں میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا آپ نے روٹی کے ٹکڑے پر کھجور رکھا اور کہا یہ اس کا سالن ہے ١ ؎۔

Narrated Yusuf ibn Abdullah ibn Salam (RA) : I saw that the Prophet ﷺ put a date on a loaf and said: This is a thing eaten with bread (condiments).

Notes · وضاحت
١ ؎: اس روایت سے معلوم ہوا کہ جس نے سالن نہ کھانے کی قسم کھائی ہو اگر وہ روٹی کے ساتھ کھجور کھائے تو وہ حانث شمار ہوگا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١٨٥٤) ویأتی ہذا الحدیث فی الأطعمة (٣٨٣٠) (ضعیف) (اس کے راوی یحییٰ بن العلاء ضعیف ہیں )
3260Sunan Abu Dawood

جو شخص سالن نہ کھانے کی قسم کھالے

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى، عَنْ يَزِيدَ الْأَعْوَرِ، عَنْيُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، مِثْلَهُ.

اس سند سے بھی یوسف بن عبداللہ بن سلام سے اسی کے مثل مروی ہے۔

A similar tradition has also been transmitted by Yusuf bin Abdullah bin Salam through a different chain of narrators.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١١٨٥٤) (ضعیف) (اس کے راوی یزیدا لا عور مجہول ہیں )
3261Sunan Abu Dawood

قسم میں انشاء اللہ لگا دینا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ، فَقَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَقَدِ اسْتَثْنَى.

عبداللہ بن عمر ؓ سے مرفوعاً روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی کام پر قسم کھائی پھر انشاء اللہ کہا تو اس نے استثناء کرلیا ١ ؎۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone says when swearing an oath: If Allah wills, he makes an exception.

Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ اب وہ اپنی قسم میں جھوٹا نہ ہوگا اس لئے کہ اس کی قسم اللہ کی مشیت و مرضی پر معلق ہوگئی۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأیمان ٧ (١٥٣١)، سنن النسائی/الأیمان ١٨ (٣٨٢٤)، ٣٩ (٣٨٥٩)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ٦ (٢١٠٦)، (تحفة الأشراف: ٧٥١٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٦، ١٠، ٤٨، ٤٩، ٦٨، ١٢٦، ١٢٧، ١٥٣)، دی/ النذور ٧ (٢٣٨٨) (صحیح )
3262Sunan Abu Dawood

قسم میں انشاء اللہ لگا دینا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، وَمُسَدَّدٌ، وَهَذَا حَدِيثُهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَلَفَ فَاسْتَثْنَى، فَإِنْ شَاءَ رَجَعَ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ غَيْرَ حِنْثٍ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے قسم کھائی اور انشاء اللہ کہا تو وہ چاہے قسم کو پورا کرے چاہے نہ پورا کرے وہ حانث (قسم توڑنے والا) نہ ہوگا ۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone swears an oath and makes an exception, he may fulfil it if he wishes and break it if he wishes without any accountability for breaking.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٧٥١٧) (صحیح )