Sunan Abu Dawood 3252

قسم کھانے اور نذر (منت) ماننے کا بیان

3252Sunan Abu Dawood

باپ داداکی قسم کھانے کی ممانعت

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ نَافِعِ بْنِ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ يَعْنِي فِي حَدِيثِ قِصَّةِ الْأَعْرَابِيِّ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفْلَحَ وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ.

مالک بن ابی عامر کہتے ہیں کہ طلحہ بن عبیداللہ ؓ نے سنا (یعنی اعرابی کے واقعہ میں) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قسم ہے اس کے باپ کی، وہ کامیاب ہوگیا اگر وہ سچا ہے، قسم ہے اس کے باپ کی وہ جنت میں داخل ہوگیا اگر وہ سچا ہے ۔

Referring to the story of a bedouin, Talhah bin Ubaid Allah reported the Prophet ﷺ as saying: He became successful, by his father, if he speaks the truth, he will enter paradise, by his father, if he speaks truth.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٣٤ (٤٦)، والصوم ١ (١٨٩١)، والشھادات ٢٦ (٢٦٧٨)، والحیل ٣ (٦٩٥٦)، صحیح مسلم/الإیمان ٢، (١١)، سنن النسائی/الصلاة ٤ (٤٥٩)، الصوم ١ (٢٠٩٢)، (تحفة الأشراف: ٥٠٠٩)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصر الصلاة ٢٥ (٩٤) (وهو قطعة من حديث تقدم في أول الصلاة برقم (391) وليس فيه ” وأبيه “ (اس حدیث میں یہ ٹکڑا ” أفلح وأبيه إن صدق “ شاذ ہے )