شکار کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 14 · 17 hadiths

2844Sunan Abu Dawood

شکار وغیرہ کے لئے کُتّا پالنا

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنِ اتَّخَذَ كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ مَاشِيَةٍ أَوْ صَيْدٍ أَوْ زَرْعٍ انْتَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو مویشی کی نگہبانی، یا شکار یا کھیتی کی رکھوالی کے علاوہ کسی اور غرض سے کتا پالے تو ہر روز اس کے ثواب میں سے ایک قیراط کے برابر کم ہوتا جائے گا ١ ؎۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ as saying: If anyone gets a dog, except a sheeping or hunting or a farm dog, a qirat of his reward will be deducted daily.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ چوپایوں کی نگہبانی، زمین و جائیداد کی حفاظت اور شکار کی خاطر کتوں کا پالنا درست ہے۔ نیز حدیث میں مذکورہ غرض کے علاوہ کتا پالنے میں ثواب کم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ کتا نجس ہے، اس کے گھر میں رہنے سے رحمت کے فرشتے نہیں آتے، یا آنے جانے والوں کو تکلیف ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساقاة ١٠ (١٥٧٥)، سنن الترمذی/الصید ٤ (١٤٩٠)، سنن النسائی/الصید ١٤ (٤٢٩٤)، (تحفة الأشراف: ١٥٢٧١، ١٥٣٩٠)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحرث ٣ (٢٣٢٣)، وبدء الخلق ١٧ (٣٣٢٤)، سنن ابن ماجہ/الصید ٢ (٣٢٠٤)، مسند احمد (٢/٢٦٧، ٣٤٥) (صحیح) ولیس عند (خ) ” أو صید “ إلا معلقًا
2845Sunan Abu Dawood

شکار وغیرہ کے لئے کُتّا پالنا

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْلَا أَنَّ الْكِلَابَ أُمَّةٌ مِنَ الأُمَمِ لَأَمَرْتُ بِقَتْلِهَا فَاقْتُلُوا مِنْهَا الأَسْوَدَ الْبَهِيمَ.

عبداللہ بن مغفل ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر یہ بات نہ ہوتی کہ کتے بھی امتوں میں سے ایک امت ہیں ١ ؎ تو میں ان کے قتل کا ضرور حکم دیتا، تو اب تم ان میں سے خالص کالے کتوں کو قتل کرو ۔

Narrated Abdullah ibn Mughaffal (RA) : The Prophet ﷺ said: Were dogs not a species of creature I should command that they all be killed; but kill every pure black one.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اللہ تعالیٰ کی دیگر مخلوقات کی طرح یہ بھی ایک مخلوق ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصید ٣ (١٤٨٦)، سنن النسائی/الصید ١٠ (٤٣٨٥)، سنن ابن ماجہ/الصید ٢ (٣٢٠٥)، (تحفة الأشراف: ٩٦٤٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٨٥، ٨٦، ٥/٥٤، ٥٦، ٥٧)، دی/ الصید ٢ (٢٠٤٩) (صحیح )
2846Sunan Abu Dawood

شکار وغیرہ کے لئے کُتّا پالنا

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أَمَرَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ حَتَّى إِنْ كَانَتِ الْمَرْأَةُ تَقْدَمُ مِنَ الْبَادِيَةِ يَعْنِي بِالْكَلْبِ فَنَقْتُلُهُ، ثُمَّ نَهَانَا عَنْ قَتْلِهَا، وَقَالَ: عَلَيْكُمْ بِالْأَسْوَدِ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے کتوں کے مارنے کا حکم دیا یہاں تک کہ کوئی عورت دیہات سے اپنے ساتھ کتا لے کر آتی تو ہم اسے بھی مار ڈالتے، پھر آپ ﷺ نے کتوں کو مارنے سے منع فرما دیا اور فرمایا کہ صرف کالے کتوں کو مارو۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Prophet of Allah ﷺ ordered to kill dogs, and we were even killing a dog which a woman brought with her from the desert. Afterwards he forbade to kill them, saying: Confine yourselves to the type which is black.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساقاة ١٠ (١٥٧٢)، (تحفة الأشراف: ٢٨١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٣٣) (صحیح )
2847Sunan Abu Dawood

سدھائے ہوئے کتے اور تیر سے شکار کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: إِنِّي أُرْسِلُ الْكِلَابَ الْمُعَلَّمَةَ فَتُمْسِكُ عَلَيَّ أَفَآكُلُ، قَالَ: إِذَا أَرْسَلْتَ الْكِلَابَ الْمُعَلَّمَةَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ، قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلْنَ، قَالَ: وَإِنْ قَتَلْنَ مَا لَمْ يَشْرَكْهَا كَلْبٌ لَيْسَ مِنْهَا، قُلْتُ: أَرْمِي بِالْمِعْرَاضِ فَأُصِيبُ أَفَآكُلُ، قَالَ: إِذَا رَمَيْتَ بِالْمِعْرَاضِ، وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَأَصَابَ فَخَرَقَ فَكُلْ وَإِنْ أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَلَا تَأْكُلْ.

عدی بن حاتم ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا کہ میں سدھائے ہوئے کتے کو شکار پر چھوڑتا ہوں تو وہ میرے لیے شکار پکڑ کر لاتا ہے تو کیا میں اسے کھاؤں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم اپنے سدھائے ہوئے کتوں کو چھوڑو، اور اللہ کا نام اس پر لو تو ان کا شکار جس کو وہ تمہارے لیے روکے رکھیں کھاؤ ۔ عدی بن حاتم ؓ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اگرچہ وہ شکار کو قتل کر ڈالیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں اگرچہ وہ قتل کر ڈالیں جب تک دوسرا غیر شکاری کتا اس کے قتل میں شریک نہ ہو ، میں نے پوچھا: میں لاٹھی یا بےپر اور بےکانسی کے تیر سے شکار کرتا ہوں (جو بوجھ اور وزن سے جانور کو مارتا ہے) تو کیا اسے کھاؤں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم لاٹھی، یا بےپر، اور بےکانسی کے تیر اللہ کا نام لے کر مارو، اور وہ تیر شکار کے جسم میں گھس کر پھاڑ ڈالے تو کھاؤ، اور اگر وہ شکار کو چوڑا ہو کر لگے تو مت کھاؤ ۔

Narrated Adi bin Hatim: I asked the Prophet ﷺ , and said: I set off my trained dogs, and they catch (something) for me: may I eat (it)? He said: When you set off trained dogs and mention Allahs name, eat what they catch for you. I said: Even if they killed (the game)? He said: Even if they killed (the game) as long as another dog does not join it. I said: I shoot with a featherless arrow, and it strikes the target, may I eat (it) ? He said: If you shoot with a featherless arrow and mention Allahs name, and it strikes the aim, and pierce it, eat it ; and if it strikes with its middle, do not eat (it).

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے کئی مسئلے معلوم ہوئے: (پہلا) یہ کہ سدھائے ہوئے کتے کا شکار مباح اور حلال ہے، ( دوسرا) یہ کہ کتا مُعَلَّم ہو یعنی اسے شکار کی تعلیم دی گئی ہو، (تیسرا) یہ کہ اس سدھائے ہوئے کتے کو شکار کے لئے بھیجا گیا ہو پس اگر وہ خود سے بلا بھیجے شکار کر لائے تو اس کا کھانا حلال نہیں یہی جمہور علماء کا قول ہے، ( چوتھا) یہ کہ کتے کو شکار پر بھیجتے وقت ” بسم الله “ کہا گیا ہو، (پانچواں) یہ کہ معلّم کتے کے ساتھ کوئی دوسرا کتا شکار میں شریک نہ ہو، اگر دوسرا شریک ہے تو حرمت کا پہلو غالب ہوگا اور یہ شکار حلال نہ ہوگا، (چھٹواں) یہ کہ کتا شکار میں سے کچھ نہ کھائے بلکہ اپنے مالک کے لئے محفوظ رکھے تب یہ شکار حلال ہوگا ورنہ نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٣٣ (١٧٥)، والبیوع ٣ (٢٠٥٤)، والصید ١ (٥٤٧٥)، ٢ (٥٤٧٦)، ٣ (٥٤٧٧)، ٧ (٥٤٨٣)، ٩ (٥٤٨٤)، ١٠ (٥٤٨٥)، صحیح مسلم/الصید ١ (١٩٢٩)، سنن الترمذی/الصید ١ (١٤٦٥)، ٣ (١٤٦٧)، ٤ (١٤٦٨)، ٥ (١٤٧٩)، ٦ (١٤٧٠)، ٧ (١٤٧١)، سنن النسائی/الصید ١ (٤٢٧٤)، ٢ (٤٢٧٥)، ٣ (٤٢٧٠)، ٨ (٤٢٨٥)، ٢١ (٤٣١٧)، سنن ابن ماجہ/الصید ٣ (٣٢٠٨)، ٥ (٣٢١٢)، ٦ (٣٢١٣)، ٧ (٣٢١٥)، (تحفة الأشراف: ٢٠٤٥، ٩٨٥٥، ٩٨٧٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٥٦، ٢٥٧، ٢٥٨، ٣٧٧، ٣٧٩، ٣٨٠)، سنن الدارمی/الصید ١ (٢٠٤٥) (صحیح )
2848Sunan Abu Dawood

سدھائے ہوئے کتے اور تیر سے شکار کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: إِنَّا نَصِيدُ بِهَذِهِ الْكِلَابِ، فَقَالَ لِي: إِذَا أَرْسَلْتَ كِلَابَكَ الْمُعَلَّمَةَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ، وَإِنْ قَتَلَ إِلَّا أَنْ يَأْكُلَ الْكَلْبُ فَإِنْ أَكَلَ الْكَلْبُ فَلَا تَأْكُلْ فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا أَمْسَكَهُ عَلَى نَفْسِهِ.

عدی بن حاتم ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا: ہم ان کتوں سے شکار کرتے ہیں (آپ کیا فرماتے ہیں؟ ) تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: جب تم اپنے سدھائے ہوئے کتوں کو اللہ کا نام لے کر شکار پر چھوڑو تو وہ جو شکار تمہارے لیے پکڑ کر رکھیں انہیں کھاؤ گرچہ وہ انہیں مار ڈالیں سوائے ان کے جنہیں کتا کھالے، اگر کتا اس میں سے کھالے تو پھر نہ کھاؤ کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ اس نے اسے اپنے لیے پکڑا ہو ۔

Narrated Adi bin Hatim: I asked the Messenger of Allah. I said: We hunt with these dogs. He replied: When you set off your dog and mention Allahs name over it, eat what it catches for you, even if it kills it, except that the dog has eaten (any of it); if the dog has eaten (any of it), do not eat, for Im afraid it has caught it only for itself.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ الصید ٧ (٥٤٨٣)، ١٠ (٥٤٨٧)، صحیح مسلم/ الصید ١ (١٩٢٩)، سنن ابن ماجہ/ الصید ٣ (٣٢٠٨)، (تحفة الأشراف: ٩٨٥٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٥٨، ٣٧٧) (صحیح )
2849Sunan Abu Dawood

سدھائے ہوئے کتے اور تیر سے شکار کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا رَمَيْتَ بِسَهْمِكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَوَجَدْتَهُ مِنَ الْغَدِ، وَلَمْ تَجِدْهُ فِي مَاءٍ وَلَا فِيهِ أَثَرٌ غَيْرَ سَهْمِكَ فَكُلْ، وَإِذَا اخْتَلَطَ بِكِلَابِكَ كَلْبٌ مِنْ غَيْرِهَا فَلَا تَأْكُلْ لَا تَدْرِي لَعَلَّهُ قَتَلَهُ الَّذِي لَيْسَ مِنْهَا.

عدی بن حاتم ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم بسم اللہ کہہ کر تیر چلاؤ، پھر اس شکار کو دوسرے روز پاؤ (یعنی شکار تیر کی چوٹ کھا کر نکل گیا پھر دوسرے روز ملا) اور وہ تمہیں پانی میں نہ ملا ہو ١ ؎، اور نہ تمہارے تیر کے زخم کے سوا اور کوئی نشان ہو تو اسے کھاؤ، اور جب تمہارے کتے کے ساتھ دوسرا کتا بھی شامل ہوگیا ہو (یعنی دونوں نے مل کر شکار مارا ہو) تو پھر اس کو مت کھاؤ، کیونکہ تمہیں معلوم نہیں کہ اس جانور کو کس نے قتل کیا ہے؟ ہوسکتا ہے کہ دوسرے کتے نے اسے قتل کیا ہو ۔

Narrated Adi bin Hatim: The Prophet ﷺ as saying: When you shoot your arrow and mention Allahs name, and you find it (the game) after a day, and you do not find it in water, and you find in it only the mark of you arrow, eat (it). But if another dog joins your dogs, do not eat it, for you do not know maybe the one which was not yours has killed it.

Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ اس بات کا امکان ہے کہ کتے کے قتل کرنے کے سبب وہ ہلاک ہوا ہو بلکہ پانی ہی اس کے ہلاک ہونے کا سبب بنا ہو۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٢٨٤٧)، (تحفة الأشراف: ٩٨٦٢) (صحیح )
2850Sunan Abu Dawood

سدھائے ہوئے کتے اور تیر سے شکار کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، أَخْبَرَنِي عَاصِمٌ الأَحْوَلُ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا وَقَعَتْ رَمِيَّتُكَ فِي مَاءٍ فَغَرِقَ فَمَاتَ فَلَا تَأْكُلْ.

عدی بن حاتم ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تمہارے تیر کا شکار پانی میں گرپڑے اور ڈوب کر مرجائے تو اسے مت کھاؤ ۔

Narrated Adi bin Hatim: The Prophet ﷺ as saying: When the animal at which you shot falls in water, is drowned, and dies, do not eat.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الذبائح ٨ (٥٤٨٤)، صحیح مسلم/الصید ١ (١٩٢٩)، سنن الترمذی/الصید ٣ (١٤٦٩)، سنن ابن ماجہ/ الصید ٦ (٣٢١٣)، (تحفة الأشراف: ٩٨٦٢) (صحیح )
2851Sunan Abu Dawood

سدھائے ہوئے کتے اور تیر سے شکار کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا عَلَّمْتَ مِنْ كَلْبٍ أَوْ بَازٍ ثُمَّ أَرْسَلْتَهُ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكَ عَلَيْكَ، قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلَ قَالَ: إِذَا قَتَلَهُ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ شَيْئًا فَإِنَّمَا أَمْسَكَهُ عَلَيْكَ، قَالَ أَبُو دَاوُد الْبَازُ: إِذَا أَكَلَ فَلَا بَأْسَ بِهِ وَالْكَلْبُ إِذَا أَكَلَ كُرِهَ، وَإِنْ شَرِبَ الدَّمَ فَلَا بَأْسَ بِهِ.

عدی بن حاتم ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس کتے یا باز کو تم سدھا رکھو اور اسے اللہ کا نام لے کر یعنی (بسم اللہ کہہ کر) شکار کے لیے چھوڑو تو جس شکار کو اس نے تمہارے لیے روک رکھا ہو اسے کھاؤ ۔ عدی ؓ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اگرچہ اس نے مار ڈالا ہو؟ آپ نے فرمایا: جب اس نے مار ڈالا ہو اور اس میں سے کچھ کھایا نہ ہو تو سمجھ لو کہ اس نے شکار کو تمہارے لیے روک رکھا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: باز جب کھالے تو اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں اور کتا جب کھالے تو وہ مکروہ ہے اگر خون پی لے تو کوئی حرج نہیں۔

Narrated Adi ibn Hatim: The Prophet ﷺ said: Eat what ever is caught for you by a dog or a hawk you have trained and set off when you have mentioned Allahs name. I said: (Does this apply) if it killed (the animal)? He said: When it kills it without eating any of it, for it caught it only for you. Abu Dawud said: If a hawk eats any of it, there is no harm (in eating it). If a dog eats it, it is disapproved (to eat the meat). If it drinks blood, there is no harm (in eating it).

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصید ٣ (١٤٦٧)، (تحفة الأشراف: ٩٨٦٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٥٧، ٣٧٩) (صحیح) (مگر باز کا اضافہ منکر ہے )
2852Sunan Abu Dawood

سدھائے ہوئے کتے اور تیر سے شکار کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَيْدِ الْكَلْبِ: إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَكُلْ وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ وَكُلْ مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ يَدَاكَ.

ابوثعلبہ خشنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے شکاری کتے کے سلسلہ میں فرمایا: جب تم اپنے (شکاری) کتے کو چھوڑو، اور اللہ کا نام لے کر (یعنی بسم اللہ کہہ) کر چھوڑو تو (اس کا شکار) کھاؤ اگرچہ وہ اس میں سے کھالے ١ ؎ اور اپنے ہاتھ سے کیا ہوا شکار کھاؤ ١ ؎۔

Narrated Abu Thalabah al-Khushani (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said about the game hunted by a dog: If you set off your dog and have mentioned Allahs name, eat (it), even if it eats any of it; and eat what your hands return you.

Notes · وضاحت
١ ؎: ابوثعلبہ خشنی ؓ کی اس حدیث اور عدی بن حاتم ؓ کی روایت کردہ اس سے ماقبل کی حدیث کے مابین تطبیق کی صورت یہ ہے کہ ابوثعلبہ ؓ کی روایت کو بیان جواز پر، اور عدی بن حاتم ؓ کی روایت کو نہی تنزیہی پر محمول کیا جائے گا، ایک تاویل یہ بھی کی جاتی ہے کہ عدی بن حاتم ؓ کی حدیث حرمت کے سلسلہ میں اصل ہے، اور ابوثعلبہ ؓ کی روایت میں وإن أكل کے معنی ہیں اگرچہ وہ اس سے پہلے کھاتا رہا ہو مگر اس شکار میں اس نے نہ کھایا ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، وانظر ما یأتي برقم: (٢٨٥٥)، (تحفة الأشراف: ١١٨٧٨) (منکر) (اس میں وإن أَکَلَ مِنْہ کا جملہ منکر ہے اور کسی راوی کے یہاں نہیں ہے، مسند احمد میں اس کی جگہ وإنّ قَتَلَ (اگرچہ قتل کر ڈالا ہو) کا جملہ ہے، اور یہ حدیث عدی ؓ کی حدیث کے مطابق ہے
2853Sunan Abu Dawood

سدھائے ہوئے کتے اور تیر سے شکار کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُعَاذِ بْنِ خُلَيْفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَدُنَا يَرْمِي الصَّيْدَ فَيَقْتَفِي أَثَرَهُ الْيَوْمَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ، ثُمَّ يَجِدُهُ مَيِّتًا وَفِيهِ سَهْمُهُ أَيَأْكُلُ، قَالَ: نَعَمْ إِنْ شَاءَ، أَوْ قَالَ: يَأْكُلُ إِنْ شَاءَ.

عدی بن حاتم ؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم میں سے کوئی اپنے شکار کو تیر مارتا ہے پھر اسے دو دو تین تین دن تک تلاش کرتا پھرتا ہے، پھر اسے مرا ہوا پاتا ہے، اور اس کا تیر اس میں پیوست ہوتا ہے تو کیا وہ اسے کھائے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں اگر چاہے یا فرمایا: کھا سکتا ہے اگر چاہے ۔

Narrated Adi ibn Hatim: Messenger of Allah, one of us shoots at the game, and follows its mark for two or three days, and then finds it dead, and there is his arrow (pierced) in it, may he eat it? He said: Yes, if he wishes, or he said: he may eat if he wishes.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٩٨٥٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/ الصید ٨ (٥٤٨٥ تعلیقًا) (صحیح )
2854Sunan Abu Dawood

سدھائے ہوئے کتے اور تیر سے شکار کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: قَالَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِعْرَاضِ فَقَالَ: إِذَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ وَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّهُ وَقِيذٌ، قُلْتُ: أُرْسِلُ كَلْبِي، قَالَ: إِذَا سَمَّيْتَ فَكُلْ وَإِلَّا فَلَا تَأْكُلْ، وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّمَا أَمْسَكَ لِنَفْسِهِ، فَقَالَ: أُرْسِلُ كَلْبِي فَأَجِدُ عَلَيْهِ كَلْبًا آخَرَ، فَقَالَ: لَا تَأْكُلْ لِأَنَّكَ إِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ.

عدی بن حاتم ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے بےپر کے تیر کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: جب وہ اپنی تیزی سے پہنچے تو کھاؤ (یعنی جب وہ تیزی سے گھس گیا ہو) ، اور جو تیر چوڑائی میں لگا ہو تو مت کھاؤ کیونکہ وہ چوٹ کھایا ہوا ہے ۔ پھر میں نے کہا: میں اپنے کتے کو شکار پر چھوڑتا ہوں (اس بارے میں کیا حکم ہے؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا: جب بِسْمِ اللهِ پڑھ کر چھوڑو تو کھاؤ، ورنہ نہ کھاؤ، اور اگر کتے نے اس میں سے کھایا ہو تو اس کو مت کھاؤ، اس لیے کہ اس نے اسے اپنے لیے پکڑا ہے ۔ پھر میں نے پوچھا: میں اپنے کتے کو شکار پر چھوڑتا ہوں کہ دوسرا کتا بھی آ کر اس کے ساتھ لگ جاتا ہے (تب کیا کروں؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا: مت کھاؤ، اس لیے کہ بِسْمِ اللهِ تم نے صرف اپنے ہی کتے پر کہا ہے ۔

Narrated Adi bin Hatim: I asked Prophet ﷺ about featherless arrow. He said: If it strikes with its end, eat, and if it strikes with the middle part of it, do not eat, for it died by a violent blow. I said: I set off my dog? He replies: If you mention Allahs name, eat, otherwise do not eat. If it eats any of it, do not eat, for it caught for itself. He asked: I set off my dog, and I find with it another dog ? He replied: Do not eat, because you mentioned Allahs name on your dog.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ الوضوء ٣٣ (١٧٥)، البیوع ٣ (٢٠٥٤)، الصید ٢ (٥٤٧٦)، صحیح مسلم/ الصید ١٩ (١٩٢٩)، سنن النسائی/الصید ٧ (٤٢٧٧)، (تحفة الأشراف: ٩٨٦٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٨٠)، دی/ الصید ١ (٢٠٤٥) (صحیح )
2855Sunan Abu Dawood

سدھائے ہوئے کتے اور تیر سے شکار کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيَّ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ عَائِذُ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ يَقُولُ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصِيدُ بِكَلْبِي الْمُعَلَّمِ وَبِكَلْبِي الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ، قَالَ: مَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ الْمُعَلَّمِ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ، وَكُلْ وَمَا أَصَّدْتَ بِكَلْبِكَ الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْ.

ابوثعلبہ خشنی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سدھائے اور بےسدھائے ہوئے کتوں سے شکار کرتا ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: جو شکار تم سدھائے ہوئے کتے سے کرو اس پر اللہ کا نام لو (یعنی بِسْمِ اللهِ کہو) اور کھاؤ، اور جو شکار اپنے غیر سدھائے ہوئے کتے کے ذریعہ کرو اور اس کے ذبح کو پاؤ (یعنی زندہ پاؤ) تو ذبح کر کے کھاؤ (ورنہ نہ کھاؤ کیونکہ وہ کتا جو تربیت یافتہ نہیں ہے تو اس کا مار ڈالنا ذبح کے قائم مقام نہیں ہوسکتا) ۔

Narrated Abu Taalabat bin al-Khushani (RA) : I said: Messenger of Allah, I hunt with my trained dog, and with my untrained dog? He said: What you hunt with your trained dog, mention Allahs names (on it) and eat; and what you hunt with your untrained dog, and you find in a position that you slaughter it, then eat.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصید ٤ (٥٤٧٨)، ١٠ (٥٤٨٨)، ١٤ (٥٤٩٦)، صحیح مسلم/الصید ١ (١٩٣٠)، سنن الترمذی/ السیر ١١ (١٥٦٠)، سنن النسائی/الصید ٤ (٤٢٧١) سنن ابن ماجہ/الصید ٣ (٣٢٠٧)، (تحفة الأشراف: ١١٨٧٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٩٣، ١٩٤، ١٩٥)، سنن الدارمی/السیر ٥٦ (٢٥٤١) (صحیح )
2856Sunan Abu Dawood

سدھائے ہوئے کتے اور تیر سے شکار کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ، حَدَّثَنَايُونُسُ بْنُ سَيْفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيُّ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أَبَا ثَعْلَبَةَ كُلْ مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ قَوْسُكَ وَكَلْبُكَ زَادَ عَنْ ابْنِ حَرْبٍ الْمُعَلَّمُ وَيَدُكَ فَكُلْ ذَكِيًّا وَغَيْرَ ذَكِيٍّ.

ابوثعلبہ خشنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے عرض کیا: ابوثعلبہ! جس جانور کو تم اپنے تیر و کمان سے یا اپنے کتے سے مارو اسے کھاؤ ۔ ابن حرب کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ: وہ کتا سدھایا ہوا (شکاری) ہو، اور اپنے ہاتھ سے (یعنی تیر سے) شکار کیا ہوا جانور ہو تو کھاؤ خواہ اس کو ذبح کرسکو یا نہ کرسکو ۔

Narrated Abu Thalabah al-Khushani (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said to me: Abu Thalabah, eat what returns to you by your bow and your dog. Ibn Harbs version adds: The trained (dog), and your hand, then eat, whether it has been slaughtered or not slaughtered.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١٨٧٧)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/ الصید ١ (١٩٣١)، سنن الترمذی/ الصید ١٦ (١٤٤٦) (صحیح )
2857Sunan Abu Dawood

سدھائے ہوئے کتے اور تیر سے شکار کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا يُقَالُ لَهُ أَبُو ثَعْلَبَةَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي كِلَابًا مُكَلَّبَةً فَأَفْتِنِي فِي صَيْدِهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ كَانَ لَكَ كِلَابٌ مُكَلَّبَةٌ فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ، قَالَ: ذَكِيًّا أَوْ غَيْرَ ذَكِيٍّ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ، قَالَ: وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفْتِنِي فِي قَوْسِي، قَالَ: كُلْ مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ قَوْسُكَ، قَالَ: ذَكِيًّا أَوْ غَيْرَ ذَكِيٍّ، قَالَ: وَإِنْ تَغَيَّبَ عَنِّي، قَالَ: وَإِنْ تَغَيَّبَ عَنْكَ مَا لَمْ يَصِلَّ أَوْ تَجِدَ فِيهِ أَثَرًا غَيْرَ سَهْمِكَ، قَالَ: أَفْتِنِي فِي آنِيَةِ الْمَجُوسِ إِنِ اضْطُرِرْنَا إِلَيْهَا، قَالَ: اغْسِلْهَا وَكُلْ فِيهَا.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ ابوثعلبہ ؓ نامی ایک دیہاتی نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس شکار کے لیے تیار سدھائے ہوئے کتے ہیں، ان کے شکار کے سلسلہ میں مجھے بتائیے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر تمہارے پاس سدھائے ہوئے کتے ہیں تو جو شکار وہ تمہارے لیے پکڑ رکھیں انہیں کھاؤ ۔ ابو ثعلبہ نے کہا: خواہ میں ان کو ذبح کرسکوں یا نہ کرسکوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں ۔ ابو ثعلبہ نے کہا: اگرچہ وہ کتے اس جانور میں سے کھا لیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اگرچہ وہ اس جانور میں سے کھا لیں ۔ پھر انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے تیر کمان سے شکار کے متعلق بتائیے، آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارا تیر کمان جو تمہیں لوٹا دے اسے کھاؤ، خواہ تم اسے ذبح کر پاؤ یا نہ کر پاؤ ۔ انہوں نے کہا: اگرچہ وہ شکار تیر کھا کر میری نظروں سے اوجھل ہوجائے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں اگرچہ وہ تمہاری نظروں سے اوجھل ہوجائے جب تک کہ گلے سڑے نہیں، اور تمہارے تیر کے سوا اس کی ہلاکت کا کوئی اور اثر معلوم نہ ہو سکے ۔ پھر انہوں نے کہا: مجوسیوں (پارسیوں) کے برتن کے متعلق بتائیے جب کہ ہمیں اس کے سوا دوسرا برتن نہ ملے، آپ ﷺ نے فرمایا: دھو ڈالو اور اس میں کھاؤ ۔

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: There was a bedouin called Abu Thalabah. He said: Messenger of Allah, I have trained dogs, so tell me your opinion about (eating) the animal they hunt. The Prophet ﷺ said: If you have trained dogs, then eat what they catch for you. He asked: Whether it is slaughtered or not? He replied: Yes. He asked: Does it apply even if it eats any of it? He replied: Even if it eats any of it. He again asked: Messenger of Allah, tell me your opinion about my bow (i. e. the game hunted by arrow). He said: Eat what your bow returns to you, whether it is slaughtered or not. He asked: If it goes out of my sight? He replied: Even if it goes out of your sight, provided it has no stench, or you find a mark on it other than the mark of your arrow. He asked: Tell me about the use of the vessels of the Magians when we are forced to use them. He replied: Wash them and eat in them.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٨٦٧١)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الصید ١٦ (٤٣٠١)، مسند احمد (٢/١٨٤) (حسن) (مگر وإن اَکَلَ منہ کا جملہ منکر ہے جو عدی کی حدیث (٢٨٥٤) کے مخالف ہے، اور نسائی کی روایت میں یہ جملہ ہے تو مگر اس میں اس کی جگہ وإن قتلنَ ہے جو عدی کی حدیث کے مطابق ہے )
2858Sunan Abu Dawood

زندہ جانور کے جسم کے گوشت کا ٹکڑا حرام ہے

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ،عَنْ أَبِي وَاقِدٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا قُطِعَ مِنَ الْبَهِيمَةِ وَهِيَ حَيَّةٌ فَهِيَ مَيْتَةٌ.

ابو واقد لیثی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: زندہ جانور کے بدن سے جو چیز کاٹی جائے وہ مردار ہے ۔

Narrated Abu Waqid: The Prophet ﷺ said: Whatever is cut off of an animal when it is alive is dead.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصید ٤ (١٤٨٠) أتم منہ، (تحفة الأشراف: ١٥٥١٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢١٨)، سنن الدارمی/الصید ٩ (٢٠٦١) (صحیح )
2861Sunan Abu Dawood

شکار کو مشغلہ بنالینا کیسا ہے؟

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا رَمَيْتَ الصَّيْدَ فَأَدْرَكْتَهُ بَعْدَ ثَلَاثِ لَيَالٍ وَسَهْمُكَ فِيهِ فَكُلْهُ مَا لَمْ يُنْتِنْ.

ابوثعلبہ خشنی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم کسی شکار کو تیر مارو اور تین دن بعد اس جانور کو اس طرح پاؤ کہ تمہارا تیر اس میں موجود ہو تو جب تک کہ اس میں سے بدبو پیدا نہ ہو اسے کھاؤ ١ ؎۔

Narrated Abu Thalabah al-Khushani (RA) : The Prophet ﷺ said: When you shoot your arrow (and the animal goes out of your sight) and you come three days later on it, and in it there is your arrow, then eat provided it has not stench.

Notes · وضاحت
١ ؎: تیر کے موجود رہنے کی شرط اس لئے ہے کہ شکاری کو یہ یقین ہوجائے کہ شکار کی موت کا سبب شکاری کا تیر ہے نہ کہ کوئی دوسری چیز اس کی موت کا سبب بنی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصید ٢ (١٩٣١)، سنن النسائی/الصید ٢٠ (٤٣٠٨)، (تحفة الأشراف: ١١٨٦٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٩٤) (صحیح )
2860Sunan Abu Dawood

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحَكَمِ النَّخَعِيُّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ شَيْخٍ مِنَ الأَنْصَارِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى مُسَدَّدٍ، قَالَ: وَمَنْ لَزِمَ السُّلْطَانَ افْتُتِنَ زَادَ، وَمَا ازْدَادَ عَبْدٌ مِنَ السُّلْطَانِ دُنُوًّا إِلَّا ازْدَادَ مِنَ اللَّهِ بُعْدًا .

اس میں ہے: جو شخص بادشاہ کے ساتھ چمٹا رہے گا وہ فتنے میں پڑے گا اور اتنا اضافہ ہے: جو شخص بادشاہ کے جتنا قریب ہوتا جائے گا اتنا ہی وہ اللہ سے دور ہوتا جائے گا۔

Narrated Abu Hurairah: The Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said: He said: He who sticks to a king is perverted. This version adds: The nearer a servant (of Allah) goes to a king, the farther he keeps away from Allah.