Sunan Abu Dawood 2861

شکار کا بیان

2861Sunan Abu Dawood

شکار کو مشغلہ بنالینا کیسا ہے؟

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا رَمَيْتَ الصَّيْدَ فَأَدْرَكْتَهُ بَعْدَ ثَلَاثِ لَيَالٍ وَسَهْمُكَ فِيهِ فَكُلْهُ مَا لَمْ يُنْتِنْ.

ابوثعلبہ خشنی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم کسی شکار کو تیر مارو اور تین دن بعد اس جانور کو اس طرح پاؤ کہ تمہارا تیر اس میں موجود ہو تو جب تک کہ اس میں سے بدبو پیدا نہ ہو اسے کھاؤ ١ ؎۔

Narrated Abu Thalabah al-Khushani (RA) : The Prophet ﷺ said: When you shoot your arrow (and the animal goes out of your sight) and you come three days later on it, and in it there is your arrow, then eat provided it has not stench.

Notes · وضاحت
١ ؎: تیر کے موجود رہنے کی شرط اس لئے ہے کہ شکاری کو یہ یقین ہوجائے کہ شکار کی موت کا سبب شکاری کا تیر ہے نہ کہ کوئی دوسری چیز اس کی موت کا سبب بنی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصید ٢ (١٩٣١)، سنن النسائی/الصید ٢٠ (٤٣٠٨)، (تحفة الأشراف: ١١٨٦٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٩٤) (صحیح )