شکار وغیرہ کے لئے کُتّا پالنا
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنِ اتَّخَذَ كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ مَاشِيَةٍ أَوْ صَيْدٍ أَوْ زَرْعٍ انْتَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو مویشی کی نگہبانی، یا شکار یا کھیتی کی رکھوالی کے علاوہ کسی اور غرض سے کتا پالے تو ہر روز اس کے ثواب میں سے ایک قیراط کے برابر کم ہوتا جائے گا ١ ؎۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ as saying: If anyone gets a dog, except a sheeping or hunting or a farm dog, a qirat of his reward will be deducted daily.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ چوپایوں کی نگہبانی، زمین و جائیداد کی حفاظت اور شکار کی خاطر کتوں کا پالنا درست ہے۔ نیز حدیث میں مذکورہ غرض کے علاوہ کتا پالنے میں ثواب کم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ کتا نجس ہے، اس کے گھر میں رہنے سے رحمت کے فرشتے نہیں آتے، یا آنے جانے والوں کو تکلیف ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساقاة ١٠ (١٥٧٥)، سنن الترمذی/الصید ٤ (١٤٩٠)، سنن النسائی/الصید ١٤ (٤٢٩٤)، (تحفة الأشراف: ١٥٢٧١، ١٥٣٩٠)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحرث ٣ (٢٣٢٣)، وبدء الخلق ١٧ (٣٣٢٤)، سنن ابن ماجہ/الصید ٢ (٣٢٠٤)، مسند احمد (٢/٢٦٧، ٣٤٥) (صحیح) ولیس عند (خ) ” أو صید “ إلا معلقًا